بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(12)کھیل کود سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
4-تعلیمی تاش:
تعلیمی طریقوں کو سہل اور آسان بنانے کی غرض سے نیز بچوں کی نفسیات کے پیش نظر کھیل کود اور سیر و تفریح کی چیزوں میں بھی ذہنی اور فکری تربیت کے سامان مہیا کردئے گئے ہیں، انھیں طریقوں میں سے ایک تعلیمی تاش بھی ہے جس سے لغت اور زبان کے سیکھنے میں کافی مدد ملتی ہے ، اس لیے علماء نے لکھاہے کہ تعلیمی تاش کھیلناجائز ہے ، چنانچہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ لکھتے ہیں:
اگر ہار جیت نہ ہو تو جائز ہے بلکہ مبتدیوں کے حق میں شاید مفید ہو۔(امداد الفتاویٰ252/4)
اس کے جواز پر شامی کی درج ذیل عبارت سے بھی استدلال کیاجاسکتاہے:
اور یہ معلوم کرنا کہ مٹھی میں کیا ہے ؟ جفت ہے یا طاق؟ اور انگوٹھی سے کھیلنا ، میں نے بعض فقہاء شوافع سے سنا ہے کہ یہ ان کے یہاں اس وقت جائز ہے جبکہ وہ حسابی قواعد پر مبنی ہو نہ کہ محض اٹکل اور چانس پر مدار ہو، میں کہتا ہوں ہمارے یہاں بھی اسی وقت جائز ہے جبکہ اس سے حساب دانی کی مشق مقصود ہو۔(رد المحتار 259/5، نعمانیہ دیوبند)
5-معمہ:
آج کل رسائل و جرائد کا ایک گوشہ معمہ کے لئے خاص ہوتا ہے ، معمہ ادبی بھی ہوتا ہے ، سیاسی اور سماجی بھی نیز دینی اور مذہبی بھی، غرضیکہ اس سے کوئی نہ کوئی دینی یا دنیوی مفاد وابستہ ہے، اس وقت عام طور سے معمہ کی دو صورتیں رائج ہیں:
1-اخبار و رسائل میں کوپن ہوتے ہیں اور معمہ کے حل کے ساتھ کوپن بھیجنا ضروری ہوتاہے۔
2-معمہ کے حل کے ساتھ کچھ فیس بھی مطلوب ہوتی ہے۔
پہلی صورت میں تفصیل یہ ہے کہ اگر خریدار کو کوپن کے ساتھ بھی رسالہ و اخبار اتنی ہی قیمت میں ملتاہے جتنا کہ عام طور پر مارکٹ میں بغیر کوپن کے اس قسم کا رسالہ و اخبار دستیاب ہے تو یہ صورت جائز ہے کیونکہ خریدار کو اپنی رقم کا پورا معاوضہ رسالہ و اخبار کی شکل میں مل چکا ہے ، اس کی رقم کا کوئی حصہ داؤ پر نہیں لگا، اس لئے انعام نہ ملنے کی صورت میں کوئی نقصان نہں، لیکن کوپن والے رسالہ کی قیمت اس جیسے عام رسالوں سے زائد ہو تو یہ درست نہیں کیونکہ سمجھاجائے گا کہ وہ کوپن کی وجہ سے اس کی قیمت زیادہ لے رہاہے اور لوگ انعام کی لالچ میں زائد رقم گوارا کرلیتے ہیں اور اس زائد رقم کو داؤ پر لگادیتے ہیں اور کسی رقم کو داؤ پر لگانا اور انجام سے بے خبری، یہی ’’جوا‘‘ ہے ، دوسری صورت صریح جوا ہے۔ اس لیے بہر صورت ناجائز اور حرام ہے۔