طب و علاج سے متعلق نئے مسائل:

انسان کا وجود اور اس کی زندگی ایک ’’امانت‘‘ ہے ، اور اس کی حفاظت میں کسی قسم کی کوتاہی ’’خیانت‘‘ ہے، اللہ عز وجل کی نگاہ میں توانا اور تندرست مومن ایک کمزور مومن سے بہتر ہے۔(صحیح مسلم :2664) یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ کسی مسلمان کے لئے اپنی صحت کی طرف سے غفلت مناسب نہیں ہے کہ صحت عافیت ایک بیش بہا نعمتِ ہے، جس کی قدر دانی اور حفاظت مطلوب ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"نعمتان مغبون فیهما کثیر من الناس: الصحة والفراغ”.
’’دو نعمتوں کے سلسلے میں لوگ عام طور پر دھوکے میں مبتلا ہوتے ہیں: صحت اور فراغت‘‘۔(بخاری و مسلم)
اور حضرت عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا:
يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ. قَالَ : ” سَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ "، فَمَكَثْتُ أَيَّامًا، ثُمَّ جِئْتُ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللَّهَ، فَقَالَ لِي : ” يَا عَبَّاسُ يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ، سَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ". هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ۔
یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئے جسے میں اللہ عزوجل سے مانگا کروں۔آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے عافیت کی دعا مانگو۔کچھ دنوں کے بعد انھوں نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: عباس ! میرے چچا! اللہ تعالی سے دنیا و آخرت کی عافیت مانگا کرو۔(ترمذي: 3514.احمد : 1783)

1-دوا علاج کا حکم:

دوا علاج ایک سبب اور ذریعہ ہے اور اس طرح کے اسباب کی تین قسمیں ہیں:ایک وہ جو یقینی طور پر فائدہ مند ہوتی ہیں جیسے کہ بھوک پیاس دور کرنے کے لئے کھانا پانی ۔
دوسری وہ ہے جس کا مفید ہونا ظن غالب کے درجے میں ہے اور تیسری قسم وہ ہے جس کا نفع بخش ہونا وہم کے درجے میں ہے ۔
اس تفصیل کے مطابق اگر مرض مہلک ہو یا اس کی وجہ سے فرائض واجبات اور دوسروں کے حقوق ادا کرنا ممکن نہ ہو اور اس کی کوئی ایسی دوا موجود ہو جس کا فائدہ یقنی یا ظن غالب کے درجے میں ہو تو وسعت کے ہوتے ہوئے علاج کرنا واجب ہوگا ۔اور اگر عمومی نوعیت کا مرض ہو تو علاج کرنا سنت ہے اور اگر مرض کا علاج وہم کے درجے میں ہو تو وہ جائز مگر توکل کے خلاف ہے ۔(دیکھئے:الھندیہ 355/5)
توکل یہ ہے کہ ان اسباب وسائل کو اختیار کیا جائے جن کی تاثیر یقینی یا ظن غالب کے درجے میں ہو مگر اصل اعتماد اسباب و وسائل پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر ہو کہ وہی موثر حقیقی ہے اور اسی کے حکم سے دوائیں فائدہ پہنچاتی ہیں ۔اسباب اختیار کئے بغیر توکل کرنا جہالت اور حماقت ہے۔حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
” مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً ”
اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں پیدا کی ہے جس کی شفا نہ اُتاری ہو۔ ‘‘(صحیح بخاري: 5678)
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
” لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ، فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
ہر بیماری کی دوا ہے،پس جب دوا بیماری کے مطابق ہوتی ہے تو اللہ عزوجل کے حکم سے مریض تندرست ہوجاتا ہے۔ ‘‘(صحیح مسلم: 2204)
حضرت اسامہ بن شریک کہتے ہیں:
قَالَتِ الْأَعْرَابُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَتَدَاوَى ؟ قَالَ : ” نَعَمْ. يَا عِبَادَ اللَّهِ، تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ شِفَاءً – أَوْ قَالَ – دَوَاءً، إِلَّا دَاءً وَاحِدًا ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : ” الْهَرَمُ ". وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
رسول اللہ ﷺ سے دیہات کے لوگوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! کیا ہم دوا علاج کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں: اللہ کے بندو! علاج کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیدا کی ہے اس کی دوا بھی ضرور پیدا کی ہے، سوائے ایک بیماری کے، لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سی بیماری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بڑھاپا ۔‘‘
(ترمذي: 2038.ابو داؤد: 3855)
اور حضرت ابو خزامہ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا:
يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَدَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَتُقَاةً نَتَّقِيهَا، هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا ؟ قَالَ : ” هِيَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ ". هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
یارسول اللہ! جھاڑ پھونک، دوا اور پرہیز کے سلسلہ میں آپ ؐ کا کیا خیال ہے؟ کیا یہ چیزیں اللہ کی تقدیر کو لوٹا سکتی ہیں ؟ ارشاد ہوا یہ بھی اللہ کی تقدیر ہی سے ہے۔(ترمذي: 2065)

2-علاج سے واقفیت:

دوا علاج کے لئے فن طب سے واقفیت ضروری ہے اس کے بغیر اگر کوئی علاج کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں مریض کو کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے تو وہ ذمہ دار ہوگا چنانچہ عمرو بن شعیب کی سند سے منقول حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:
” مَنْ تَطَبَّبَ وَلَا يُعْلَمُ مِنْهُ طِبٌّ فَهُوَ ضَامِنٌ۔
(ابوداؤد: 4586.نسائی: 4830)
اور عوام کو تکلیف، مشقت، پریشانی، فریب اور دھوکہ دہی سے بچانے کے لیے اسلامی قانون ایسے افراد پر پابندی لگاتا ہے، چنانچہ درمختار میں ہے کہ تین قسم کے افراد پر پابندی عائد کی جائے گی : ناجائز حیلے بتانے والا مفتی،طبیب جاہل اور وہ مفلس جو کرایہ کی سواری مہیا کرنے کی ذمہ داری لے ۔
علامہ ابن عابدین اس کی تشریح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ یہ تینوں شخص دین، بدن اور مال کو فاسد اور خراب کرنے والے ہیں، اس لیے ان پر پابندی لگائی گئی، کیونکہ عمومی نقصان کے مقابلہ میں انفراد ی نقصان کو گوارا کرلیا جاتا ہے، گویا یہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے قبیل سے ہے۔(درمختارمع الرد 146/6)
وہ ڈاکٹر جو فن طب سے واقف ہے لیکن اس کے پاس کسی میڈیکل کالج کی سرٹیفکیٹ نہیں ہے تو اس کا شمار ’’طبیب جاہل‘‘میں ہوگا، اس لیے سرٹیفکیٹ کے بغیر اس کی مہارت اور حذاقت کا علم نہیں ہوسکتا ہے اور ہر شخص دعوا کرسکتا ہے کہ وہ ماہر ڈاکٹر ہے حالانکہ اس فن سے وہ ناواقف ہے ۔

3-ناواقفیت کے باجود علاج:

ناواقف اور نا اہل ڈاکٹر نے کسی کا علاج کیا اور مریض اس کی جہالت سے نا آشنا ہے تو اس علاج کے نتیجے میں پہنچنے والے نقصان کا یہ شخص ذمہ دار ہوگا، چنانچہ حدیث نبوی ہے :جس ڈاکٹر نے کسی قوم کا علاج کیا حالانکہ وہ پہلے سے اس فن میں مشہور نہیں تھا اور اس کے نتیجہ میں کوئی نقصان ہوجائے تو وہ ضامن ہوگا۔( أَيُّمَا طَبِيبٍ تَطَبَّبَ عَلَى قَوْمٍ لَا يُعْرَفُ لَهُ تَطَبُّبٌ قَبْلَ ذَلِكَ فَأَعْنَتَ فَهُوَ ضَامِنٌ ". ابوداؤد :4587)
علامہ ابن قیم اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں:اگرمریض نے اسے ڈاکٹر سمجھ کر علاج کی اجازت دی ہے تو اس علاج سے پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار ڈاکٹر ہوگا، یہی حکم اس وقت بھی ہے جب اس کے لیے کوئی دوا تجویز کرے کہ وہ اسے استعمال کرے اور مریض نے اس خیال سے کہ یہ شخص واقف ہونے اور اس فن میں مہارت کی وجہ سے رہنمائی کر رہاہے یہاں تک کہ وہ اس دوا کی وجہ سے ہلاک ہوجائے تو طبیب اس کا ضامن ہوگا، حدیث اس سلسلہ میں ظاہر اور بالکل صریح ہے۔(زادالمعاد140/4)
لیکن چونکہ اس میں ایک گونہ مریض کی رضا اور اجازت بھی شامل ہے اس لیے ہلاکت کی وجہ سے اس سے قصاص نہیں لیاجائے گا بلکہ خوں بہا واجب ہے اور اس رقم کی ادائیگی میں اس کے خاندان والے یا شریک کار (عاقلہ) بھی شامل ہوں گے، علامہ خطابی کا بیان ہے:
’’جب ڈاکٹر زیادتی کربیٹھے اور اس کی وجہ سے مریض ہلاک ہوجائے تو وہ ضامن ہوگا، میں نہیں جانتا کہ اس مسئلہ میں کوئی اختلاف ہے اور جو شخص ایسے علم یا عمل کو اختیار کئے ہوئے ہے جس سے وہ واقف نہیں تو ایسا شخص زیادتی کرنے والا ہے ، لہٰذا اگر اس کے فعل سے کوئی ہلاک ہوجائے یا کوئی عضو تلف ہوجائے تو وہ خوں بہا کا ضامن ہوگا اور اس سے قصاص ساقط ہے ، کیونکہ یہ علاج مریض کی اجازت سے خالی نہیں اور نا اہل ڈاکٹر کے جرم کا تاوان اکثر فقہاء کے نزدیک اس کے متعلقین (عاقلہ) پر ہے۔‘‘(حوالہ سابق 139/4)
حنفیہ کا بھی یہی مذہب ہے کیونکہ ان کے یہاں جو شخص قتل کا بالواسطہ ذریعہ بنا ہو (متسبب) تو خوں بہا اس کے متعلقین پر واجب ہوتا ہے۔(ہدایہ مع فتح القدیر 299/10)
ناواقف ڈاکٹر پر صرف تاوان کا واجب ہونا مریض کے حق کی وجہ سے ہے ، لیکن اگر قاضی مناسب سمجھے تو اس کی تنبیہ اور سرزش و فہمائش بھی کرسکتاہے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو اور کوئی اس طرح کے علاج پر اقدام نہ کرے۔ علامہ ابن رشد فرماتے ہیں؛
’’اور اگر وہ اس کا اہل نہ ہو تو اس کی پٹائی کی جائے اور قید میں ڈال دیاجائے اور اس پر تاوان واجب ہے، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تاوان صرف اسی کے مال سے لیاجائے گا اور کہا گیا ہے کہ اس کے متعلقین بھی اس میں شریک ہوں گے۔‘‘(بدایۃ المجتہد233/2)
اگر مریض ڈاکٹر کی جہالت سے واقف ہے اور اس کے باوجود علاج کی اجازت دے دیتاہے تو ڈاکٹر نقصان کا ذمہ دار نہ ہوگا۔(وان علم المجنی علیہ انہ جاہل واذن لہ فی طبہ لم یضمن۔ زاد المعاد 140/1)

4-علاج کی وجہ سے نقصان:

اپنے فن میں مہارت اور قانونی طور سے علاج کی اجازت کے ساتھ ایک ڈاکٹر کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ علاج میں ہر ممکن تدبیر کو ملحوظ رکھے، مریض کی مکمل دیکھ ریکھ ، جانچ اور اس میں ڈاکٹری آلات سے مدد لینا اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے، ڈاکٹری اصول کا لحاظ کرتے ہوئے اور کسی کو تاہی ولاپرواہی کے بغیر اس علاج سے کوئی نقصان پہنچ جائے تو وہ ماخوذ نہیں ہوگا، اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے، علامہ ابن قیم لکھتے ہیں:
’’ماہر ڈاکٹر جس نے علاج میں فن کا حق ادا کردیا اور اس نے کوئی لاپرواہی نہیں کی تو اس کے اس فعل کی وجہ سے جس میں شریعت اور مریض کی اجازت شامل ہے کوئی عضو تلف ہوجائے یا جان چلی گئی یا کوئی صلاحیت زائل ہوگئی تو اس پر ضمان بہ اتفاق واجب نہیں ہے۔‘‘(زاد المعاد 139/1)
لیکن اگر اس نے اس سلسلہ میں کوتاہی اور بے احتیاطی سے کام لیا ہے تو وہ اپنے فعل کا ذمہ دار ہوگا اور اس پر تاوان واجب ہے، علامہ ابن قدامہ حنبلیؓ نے اس سے متعلق بڑی عمدہ بحث کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اجازت کے بعد تاوان واجب نہ ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں، وہ اپنے فن میں ماہر ، واقف کار اور صاحب بصیرت ہو ۔ دوسرے کوئی بے احتیاطی نہ کرے۔ اگر وہ اپنے فن میں مہارت کے باوجود کوتاہی کرجائے مثلاً ختنہ کرنے میں ’’حشفہ‘‘یا اس کے بعض حصہ کو کاٹ دے یا ایسے آلات سے آپریشن کیا کہ اس کی وجہ سے تکلیف بڑھ گئی یا ایسے وقت میں آپریشن کیا کہ اس وقت آپریشن مناسب نہ تھا ان تمام صورتوں میں وہ ضامن ہوگا، امام شافعی اور اصحاب رائے کا بھی یہی مذہب ہے اور میں نہیں جانتا کہ اس مسئلہ میں کوئی اختلاف ہے۔(المغنی 313/5کتاب الاجارۃ)

5- بے اجازت علاج:

جرمانہ اور تاوان سے بری ہونے کے لئے یہ بھی لازمی ہے کہ ڈاکٹر مریض کی اجازت سے علاج کرے۔ اور اگر وہ اجازت دینے کی پوزیشن میں نہ ہو مثلاً پاگل،بے ہوش یا نابالغ ہے تو اس کے سرپرستوں سے اجازت لینا واجب ہے ، اس اجازت میں کسی بھی طرح کا ذہنی اور نفسیاتی دباؤ نہ ہو، اگر اس نے ایسا نہیں کیا اور بے اجازت علاج شروع کردیا اور اس علاج سے فائدہ کے بجائے نقصان ہوا تو ڈاکٹر ذمہ دار ہوگا، گرچہ وہ علاج اس کی نظر میں ضروری ہی کیوں نہ ہو۔ مشہور محقق اور بالغ نظر فقیہہ علامہ ابن نجیم مصری حنفی لکھتے ہیں:
’’دونوں روایتوں کے مجموعہ سے پتہ چلتا ہے کہ تاوان واجب نہ ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں ، حد سے آگے نہ بڑھنا اور اجازت کا ہونا، اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں شرطیں نہیں پائی گئیں تو تاوان واجب ہے۔(البحر الرائق 29/8)
اس مسئلے میں بھی تقریباً تمام فقہاء کا اتفاق ہے۔(دیکھئے کتاب الام للامام الشافعی 176/6)، امام احمد کے متبعین کا بھی یہی خیال ہے۔( وان ختن صبیا بغیر اذن ولیہ فسرت جنایتہ ضمن لانہ قطع غیر ماذون۔ المغنی 313/5،)، لیکن علامہ ابن قیم حنبلی کو اس سے اختلاف ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ یہ ڈاکٹر کا احسان ہے اور احسان کرنے والے پر کوئی الزام نہیں، لہٰذا اس کی طرف سے علاج میں کوئی لاپرواہی نہ ہوئی ہو تو اسے ضامن قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں۔(زاد المعاد 141/4)
تاوان کے واجب ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف اس صورت میں ہے جب کہ مریض اجازت دینے کی پوزیشن میں ہو یا اس کے سرپرست موجود ہوں، اگر وہ اجازت دینے کا اہل نہیں مثلاً بے ہوش ہو اور جائے حادثہ پر اس کے متعلقین اور رشتہ دار موجود نہ ہوں اور نہ ہی ان سے ربط قائم کیا جاسکتا ہو تو اس صورت میں اگر آپریشن یا علاج ضروری ہو کہ اس کے بغیر مریض کی زندگی یا جسم کے کسی حصہ کو خطرہ لاحق ہے، علاج کے بغیر کوئی چارہ نہیں تو اس وقت بے اجازت علاج درست ہے اور ناکامی کی صورت میں وہ ذمہ دار نہ ہوگا، کیونکہ ہر انسان کا فریضہ ہے کہ وہ دوسرے کو نقصان اور ہلاکت سے بچانے کی بھرپور کوشش کرے، یہ اس کی ذمہ داری ہے اور اس کے واجبات میں شامل ہے، ایک انسانی جان کی کس قدر وقعت ہے اور اس سلسلہ میں وہ کس درجہ ماخوذ ہوگا؟ اس کا اندازہ اس مسئلہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ علامہ ابن قدامہ حنبلی نے لکھاہے:
’’اگرکوئی اس حالت میں پہنچ گیاکہ دوسرے کا کھانا اور پانی لئے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتاہے اور دوسرے سے اس نے مانگا لیکن دوسرے شخص نے اس کھانے سے اس وقت بے نیاز ہونے کے باوجود انکار کردیا اور اس کی وجہ سے یہ شخص مرگیا تو دوسرا جس سے کھانا مانگا تھا ضامن ہوگا ، نیز وہ فرماتے ہیں کہ کسی کو ہلاک ہوتے ہوئے دیکھ کر قدرت کے باوجود بچانے کی کوشش نہیں کی تو وہ گنہ گار ہوگا بلکہ بعض فقہاء کے یہاں ایک فرض سے غفلت کی بناپر تاوان بھی واجب ہے۔‘‘(المغنی238/8)
گویا ڈاکٹر اس حالت میں شریعت کی طرف سے اجازت یافتہ ہوتا ہے نیز دلالتا سرپرستوں کی طرف سے بھی اجازت ہوتی ہے کہ اگر وہ موقع پر موجود ہوتے تو ضرور اجازت دے دیتے۔

6- نقصان دہ چیزوں سے علاج:

ہر طرح کے جمادات ،نباتات اور حیوانات سے علاج جائز ہے بشرطیکہ کہ وہ حلال، پاک اور صحت کے لئے فائدہ مند ہوں ،لہذا حرام، ناپاک ،نشہ آور اور زہر سے علاج جائز نہیں ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے:
نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ. يَعْنِي : السُّمَّ.
رسول اللہ ﷺ نے خبیث دوا یعنی زہر کے ذریعے علاج سے منع فرمایا ہے ۔(ترمذي: 2045.ابن ماجه: 3459.ابوداؤد:3870).
مذکورہ حدیث میں خبیث کی وضاحت زہر کے ذریعے کی گئی ہے ،شاید یہ تشریح حدیث کے راوی حضرت ابوھریرہ یا ان کے بعد کے کسی شخص سے منقول ہے اور حافظ ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں کہ حدیث کے بعض طریق میں جو وضاحت منقول ہے اسے مراد لینا زیادہ بہتر ہے .(تحفة الاحوذي ۔رقم الحدیث: 2045)
زہر حرام ہے ، لیکن حرمت کی وجہ انسانی جان کی ہلاکت اور ضیاع ہے ، لہٰذا اگر زہر خورانی سے مقصود علاج اور کسی انسانی جان کو بچانا ہو تو اب اس کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں۔ علامہ شوکانی رقم طراز ہیں:
’’ماوردی اور دوسرے لوگوں نے کہا ہے کہ زہر کی چند قسمیں ہیں؛کچھ وہ ہیں جن کی زیادہ اور کم مقدار ہلاک کردیتی ہے، ایسے زہر کا استعمال دوا وغیرہ کے لیے درست نہیں ، اس لیے قرآن میں ہے کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔(’’ولاتلقوا ایدیکم الی التھلکۃ) بعض وہ ہیں کہ ان کی زیادہ مقدار قاتل ہے مگر کم مقدار نہیں، ایسے زہر کا دوا وغیرہ کے لیے زیادہ مقدار میں استعمال حرام ہے ، کم مقدار میں بغرض علاج جائز ہے۔ کچھ وہ ہیں کہ اکثر قاتل ثابت ہوتے ہیں اور کبھی نہیں۔ایسے زہر کا استعمال بھی حرام ہے اور بعض زہر ایسے ہوتے ہیں کہ عام طور پر مہلک نہیں ہوتے لیکن کبھی کبھار ہو بھی سکتے ہیں تو اگر یہ بطور علاج استعمال کیاجائے تو جائز ہے ، ورنہ نہیں۔‘‘(نیل الاوطار204/8)
البتہ اگر زہر کسی ناپاک چیز سے بنایا گیا ہو تو اب اس کا استعمال بدرجہ مجبوری ہی جائز ہوگا ،ورنہ نہیں۔(یحرم شرب التریاق لنجاستہ الا اذا لم یقم غیرہ فقامہ۔ التیسیر شرح الجامع الصغیر للمناوی 327/2)

7- ناپاک چیزوں سے علاج:

ناپاک چیزوں کو بطور دوا استعمال کرنا بھی ناجائز ہے ،چنانچہ قرآن حکیم میں خون کو ناپاکی کی بنیاد پر حرام کہا گیا ہے ،ارشاد ربانی ہے:
حُرِّمَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃُ وَ الدَّمُ وَ لَحۡمُ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ ۔۔۔
تم پر مردار جانور اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور حرام کردیا گیا ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو ۔۔۔ (سورہ المآئدۃ: 3)
اور حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے :
نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ.
رسول اللہ ﷺ نے خبیث دوا سے منع فرمایا ہے ۔(ابوداؤد:3870)
علامہ سندھی کہتے ہیں کہ کہا گیا ہے کہ خبیث سے مراد ناپاک یا حرام یا ایسی دوا ہے جس سے انسانی طبیعت نفرت کرے اور ترمذی کی روایت میں اس کی تشریح زہر کے ذریعے کی گئی ہے ۔ (حاشیہ سندی علی مسند احمد:8048)
اور علامہ خطابی لکھتے ہیں کہ دوا میں خباثت کی ایک وجہ نجاست ہے جیسے کہ اس میں شراب یا ایسے جانور کے گوشت کو ملایا گیا ہو جس کا کھانا حلال نہیں ہے مثلاً بعض اطباء کچھ بیماریوں میں پیشاب پینے اور بعض جانوروں کی گندگی کھانے کو کہتے ہیں ۔یہ سب خبیث اور ناپاک ہیں اور ان کو تناول کرنا حرام ہے.البتہ حدیث میں خصوصی طور پر اونٹ کے پیشاب کی رخصت دی گئی ہے اور احادیث کے سلسلے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کی جگہ میں رکھا جائے اور آپس میں انہیں ٹکرایا نہ جائے ۔( تحفۃ الاحوذی ،رقم الحدیث: 2045 )
اور حضرت عبد الرحمن بن عثمان بیان کرتے ہیں:
أَنَّ طَبِيبًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضِفْدِعٍ يَجْعَلُهَا فِي دَوَاءٍ، فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا.
رسول اللہ ﷺ سے ایک طبیب نے دوا میں مینڈک شامل کرنے کے بارے میں پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے اس کو مارنے سے منع فرمایا۔(ابوداؤد: 3871. نسائی:4355)
یعنی اسے مارنے اور دوا میں ملانے سے منع فرمایا کیونکہ اس سے دوا بنانا اسکے مارنے پر موقوف ہے اور جب اس کو قتل کرنے کی ممانعت ہے تو اس سے علاج کرنا بھی ممنوع ہے ۔اور ممانعت کی وجہ ناپاک یا گھناؤنا ہونا ہے۔
علامہ خطابی کہتے ہیں کہ مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مینڈک کھانا حرام ہے اور وہ پانی کے جانوروں میں سے حلال جانوروں میں داخل نہیں ہے اور کسی جانور کے قتل سے ممانعت کی دو میں سے ایک وجہ ہوتی ہے یا تو بذات خود اسے قتل کرنا حرام ہے جیسے کہ انسان یا اس کا گوشت حرام ہے اور مینڈک انسان کی طرح حرام نہیں ہے اس لئے ممانعت کی دوسری وجہ اس میں موجود ہے ۔(عون المعبود ۔رقم الحدیث: 3871)

8- شراب سے علاج:

شراب کو علاج کے لئے بھی استعمال کرنا جائز نہیں ہے چنانچہ حضرت وائل کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک صاحب نے خمر کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے منع فرمایا ،انھوں نے عرض کیا کہ ہم اسے دوا کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا :
إِنَّهُ لَيْسَ بِدَوَاءٍ، وَلَكِنَّهُ دَاءٌ ".
وہ دوا نہیں بلکہ بیماری ہے۔ (صحیح مسلم: 1984)
امام نووی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ اس میں صراحت ہے کہ خمر دوا نہیں ہے لہذا بطور دوا اسے استعمال کرنا حرام ہے گویا کہ بلا وجہ اسے تناول کر رہا ہے، ہمارے اصحاب (شافعیہ) کے یہاں یہی صحیح ہے۔ اسی طرح سے پیاس بجھانے کے لئے بھی اسے پینا حرام ہے الا یہ کہ لقمہ اٹک جائے اور اسے نگلنے کے لئے خمر کے علاوہ کوئی دوسری چیز موجود نہ ہو تو اس کے ذریعے لقمہ نگلنا ضروری ہے (تاکہ جان بچ سکے )اس لئے کہ اس وقت خمر سے شفاء یابی یقینی ہے برخلاف بطور دوا استعمال کرنا کہ اس میں شفاء یقینی نہیں ہے ۔(حاشیہ نووی علی صحیح مسلم ۔رقم الحدیث:1984)
حاصل یہ ہے کہ فاقہ کشی سے جان جانے کا اندیشہ ہو تو مردار وغیرہ کھانے سے اور شراب کے ذریعے لقمہ نگلنے سے جان کی حفاظت یقینی ہے لیکن اس بات کا یقین نہیں ہے کہ واقعی شراب سے مرض کا ازالہ ہو جائیگا بلکہ رسول اللہ ﷺ نے تو فرمایا ہے کہ یہ بجائے خود بیماری ہے ، دوا نہیں ، لہٰذا اس سے علاج کا طریقہ متعین نہیں ہے۔
‏‏ اور علامہ مبارکپوری لکھتے ہیں :
بعض لوگوں نے دوا کے طور پر شراب پینے کی اجازت دی ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ عرینہ کے لوگوں کو اونٹ کے پیشاب سے علاج کرنے کی رخصت دی ہے حالانکہ پیشاب حرام ہے البتہ بعض بیماریوں میں اس سے فائدہ ہوتا ہے اس لئے آپ ﷺ نے اس کو پینے کی رخصت مرحمت فرمائی ۔
علامہ خطابی اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے پیشاب اور خمر کو برابر قرار دیا حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے دونوں کے درمیان فرق کیا ہے اور ایک کو صراحتاً جائز قرار دیا اور دوسرے سے واضح الفاظ میں منع کیا ہے اور جن دو چیزوں کے درمیان حدیث میں فرق کیا گیا ہے انہیں یکساں قرار دینا صحیح نہیں ہے ۔(تحفۃ الاحوذی ۔رقم الحدیث:2046)
واضح رہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک انگور اور کھجور کی شراب کو خمر کہتے ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں ہے:
الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ ؛ النَّخْلَةِ، وَالْعِنَبَةِ.
کھجور اور انگور کے درخت سے خمر بنتا ہے۔
(صحيح مسلم 1985)
اور ان کے یہاں اس کی معمولی مقدار بھی حرام ہے گرچہ اس سے نشہ نہ ہو اور وہ ناپاک ہے، ان دو کے علاوہ دوسری نشہ اور چیزیں پاک ہیں ۔
اور ان کے علاوہ دوسرے اماموں کے نزدیک ہر طرح کی نشہ آور چیز ناپاک اور حرام ہے خواہ کم مقدار پینے کی وجہ سے نشہ نہ ہو چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.
ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور حرام ہے۔ (صحیح مسلم :2003)
آج کل دوا اور خوشبو میں استعمال ہونے والی الکحل عام طورپر انگور اور کھجور سے نہیں بنائی جاتی ہے اس لئے امام ابوحنیفہ ؒ کے قول کے مطابق بعض علماء اس کے استعمال کی اجازت دیتے ہیں ۔

9- حرام سے علاج:

دوا اور علاج میں بھی حلال اور پاکیزہ چیزوں کو استعمال کرنا اور حرام چیزوں سے بچنا چاہئے خواہ حرمت کی وجہ نجاست و خباثت ہو یا مضرت یا نشہ آور ہونا۔حکیم الامت حضرت ابو درداء سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
” إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ الدَّاءَ وَالدَّوَاءَ، وَجَعَلَ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءً ؛ فَتَدَاوَوْا، وَلَا تَدَاوَوْا بِحَرَامٍ ".
یقینا اللہ تعالی نے بیماری کے ساتھ اس کی دوا بھی پیدا کی ہے ،اس نے ہر بیماری کی دوا بنائی ہے ،لہذا علاج کرو لیکن اس میں حرام دوا استعمال مت کرو۔(ابوداؤد:3874)
اور حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إنَّ اللهَ لم يَجعَل شِفاءَكُم فيما حَرَّمَ عليكم۔
اللہ تعالیٰ نے حرام کردہ چیزوں میں تمہارے لئے شفاء نہیں رکھی ہے
(أخرجه البخاري معلقاً بصيغة الجزم قبل حديث :5614. وأخرجه موصولاً الطبراني فی الکبیر:9717 ۔483/9، والحاكم: 7509. موقوفاً۔ واخرجه البيهقي وصححه ابن حبان عن ام سلمة مرفوعا.بلوغ المرام:379)
اور حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
من تداوى بحرامٍ لم يجعلِ اللهُ له فيه شفاءً۔
جس نے حرام سے علاج کیا اللہ اس کو شفا نہیں دے گا۔
(أخرجه أبو نعيم في الطب النبوي:53 .قال
الألباني :حسن. بجموع الطرق . السلسلة الصحيحة :2881)
اور حضرت عبداللہ بن عمر کے بارے میں منقول ہے :
كان ابن عمر اذا دعاطبيبا يعالج بعض اصحابه يشترط عليه الا يداوي بشيء مما حرم الله عز و جل.
حضرت عبداللہ بن عمر جب اپنے ساتھیوں میں سے کسی کے علاج کے لیے حکیم کو بلاتے تو اس سے یہ شرط لگا دیتے کہ وہ ان چیزوں سے علاج نہیں کرے گا جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔(المستدرک:7717 .السنن الکبری للبیہقی 5/10)
مذکورہ احادیث کے الفاظ بالکل عام ہیں جن سے تمام محرمات سے علاج کا ناجائز ہونا معلوم ہوتا ہے، بعض لوگوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت کو شراب کے ساتھ خاص کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ صحیح ہے کہ اس کا پس منظر شراب سے متعلق ہے لیکن الفاظ عام ہیں جس کے ذریعہ ایک عمومی ضابطہ بیان کیا گیا ہے کہ کسی حرام چیز میں شفاء نہیں ہے۔
امام بیہقی کہتے ہیں کہ مذکورہ اور خبیث دوا سے ممانعت کی حدیث سے نشہ آور اور بے ضرورت حرام دوا استعمال کرنا مراد ہے تاکہ ان احادیث اور قبیلہ عرینہ کی حدیث میں تضاد نہ رہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے بطور دوا انہیں اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم دیا تھا۔
اور ابن رسلان کہتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ امام شافعی کے نزدیک نشہ آور کے علاوہ تمام نجاسات سے علاج جائز ہے اور اس کی دلیل قبیلہ عرینہ سے متعلق حدیث ہے جسے امام بخاری اور مسلم وغیرہ نے نقل کیا ہے ،جس میں رسول اللہ ﷺ نے انہیں دوا کے طور پر اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم دیا اور جس حدیث میں حرام اور نجاست سے علاج کی ممانعت ہے تو اس سے مراد وہ صورت ہے جس میں اس کی ضرورت نہ ہو اور اس کے قائم مقام پاک دوا موجود ہو۔
علامہ شوکانی اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ دونوں طرح کی احادیث میں موافقت پیدا کرنے کے لیے جو بات کہی گئی ہے وہ وہ تکلف سے خالی نہیں ہے اس لیے کہ جو لوگ اس کے قائل نہیں ہیں وہ اونٹ کے پیشاب کو حرام اور ناپاک کہتے ہی نہیں ہیں بلکہ ان کے نزدیک اونٹ کا پیشاب پاک ہے ۔اور اگر ناپاکی مان لی جائے تو عام حدیث جس میں حرام سے علاج سے منع کیا گیا ہے اور خاص حدیث جس میں اونٹ کے پیشاب سے دوا کی اجازت دی گئی ہے موافقت کا طریقہ یہ ہے کہ کہا جائے کہ ہر حرام سے علاج ناجائز ہے سوائے اونٹ کے پیشاب کے کہ صرف اس سے علاج جائز ہے، قانونی اور اصولی طریقہ یہی ہے.
(عون المعبود ،رقم الحدیث :3874)
لیکن اس کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ نجاست کی حلت کی وجہ دوا علاج ہے اور اسی بنیاد پر عام حالات کی بہ نسبت اس کا حکم الگ بیان کیا گیا ہے اور جہاں یہ علت یہ پائی جائے گی وہاں دوسری حرام کردہ چیزیں بھی جائز ہونگی ،ایک حرام کو بوقت ضرورت جائز قرار دینا اور دوسرے کو حرام قرار دینا ناقابل فہم ہے ،رہی وہ احادیث جس میں حرام کے ذریعے علاج سے منع کیا گیا ہے تو وہ عام حالات سے متعلق ہیں جب کہ اس کا کوئی حلال متبادل موجود ہو ۔
اور اس سلسلے میں ضابطہ یہ ہے کہ جو چیزیں حرام لعینہ ہیں اور ان کی حرمت قرآنی آیت یا متواتر روایت سے بہ صراحت ثابت ہو تو اس کی اجازت اسی وقت ہوگی جب کہ اس کا کوئی متبادل موجود نہ ہو اور اس کے استعمال نہ کرنے کی وجہ سے جان جانے یا جسم کے کسی حصے کے ضائع ہوجانے کا خطرہ ہو اور اس کے استعمال سے شفاء یقینی یا ظن غالب ہو بالفاظ دیگر اضطراری حالت میں اس کی اجازت ہوگی جس میں حرام چیزیں حلال ہوجاتی ہیں جیسے کہ خمر ( انگوری اور کھجوری شراب) اور خون چنانچہ علامہ عینی لکھتے ہیں:
قبیلہ عرینہ سے متعلق حدیث کی اطمینان بخش توجیہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو وحی کے ذریعے شفاء کا یقین ہوگیا تھا اور شفا کے یقین ہونے کے وقت حرام سے علاج جائز ہے جیسے کہ شدید فاقے کی حالت میں مردار کھانا اور پیاس کی شدت کی حالت میں اور لقمہ نگلنے کے لیے خمر پینا۔ اور حرام سے علاج اس وقت جائز نہیں ہوگا جبکہ شفا کا حصول یقینی نہ ہو ،اور ابن حزم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے یقینی طور پر ثابت ہے کہ آپ نے پیشاب پینے کا بطور علاج حکم دیا تھا اور اس کی وجہ سے وہ ٹھیک بھی ہو گئے اور دوا علاج ضرورت کے درجے میں ہے ، اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا ہے:
وَ قَدۡ فَصَّلَ لَکُمۡ مَّا حَرَّمَ عَلَیۡکُمۡ اِلَّا مَا اضۡطُرِرۡتُمۡ اِلَیۡہِ ؕ .
حالانکہ اس نے وہ چیزیں تمہیں تفصیل سے بتا دی ہیں جو اس نے تمہارے لیے (عام حالات میں) حرام قرار دی ہیں، البتہ جن کو کھانے پر تم بالکل مجبور ہی ہوجاؤ (تو ان حرام چیزوں کی بھی بقدر ضرورت اجازت ہوجاتی ہے)( سورہ الانعام : 119)
لہذا مجبوری کی حالت میں حرام چیزوں کا کھانا اور پینا حرام نہیں رہ جاتا ہے۔
علامہ عینی کہتے ہیں کہ جب ہم فرض کر لیں کہ کسی شخص نے اپنے علم کے ذریعے سے کسی کے مرض کے بارے میں جان لیا ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ یہ مرض زائل نہیں ہوگا مگر حرام چیز کے کھانے پینے سے تو اس وقت اس کے لیے اس کا تناول کرنا جائز ہے جیسا کہ شدید پیاس کے وقت خمر پینا اور شدید فاقہ کے وقت مردار کھانا۔
(عمدۃ القاری 155/3)
بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے لکھا ہے کہ خمر کے ذریعے پیاس کا بجھنا اور پھنسے ہوئے لقمہ کا اندر داخل ہوجانا یقینی ہے لیکن دوا کے ذریعے شفاء کا حصول گرچہ وہ حلال ہو یقینی نہیں ہے لہذا دوا علاج کو اس پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے چنانچہ شیخ ابن عابدین نے اس سلسلے میں” رد المحتار ” میں جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ خمر کے ذریعے لقمہ نگلنے اور پیاس بجھانے کا فائدہ یقینی ہے اور اسی بنیاد پر اگر کوئی شخص خمر کے ذریعے لقمہ نہ نگلے یا پیاس نہ بجھائے جس کے نتیجے میں موت واقع ہوجائے تو وہ گنہ گار ہوگا ،اس کے برخلاف علاج کا نفع بخش ہونا یقینی نہیں بلکہ ظنی ہے اس لئے اگر کوئی شخص علاج نہ کرے اور اس کی وجہ سے وفات پاجائے تو گنہ گار نہیں ہوگا ۔اور ابن عربی نے عارضۃ الاحوذی میں لکھا ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ علاج ایک مجبوری کی حالت ہے اور ضرورت و مجبوری میں حرام چیزیں جائز ہو جاتی ہیں لہذا حرام سے علاج جائز ہے۔ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ علاج کی حالت مجبوری اور ضرورت کی حالت نہیں ہے مجبوری تو اس وقت ہے جب بھوک کی وجہ سے موت کا خطرہ ہو اور علاج اصلا واجب ہی نہیں تو کیسے اس کی وجہ سے حرام جائز ہو جائے گا۔(تحفة الاحوذي.حديث:2046)
لیکن ظاہر ہے کہ علامہ عینی کی بات یہ فرض کر کے ہے کہ علاج سے فائدہ یقینی ہو اور دواء نہ کرنے کی صورت میں موت کا خطرہ بھی یقینی ہو ۔
اور موجودہ دور میں دوا علاج کی بہت سی شکلیں ہیں جس میں فائدے کا یقین یا ظن غالب ہوتا ہے اور علاج نہ کرنے کی صورت میں موت کا بھی یقین یا ظن غالب ہوتا ہے اور ظن غالب کو بھی عام طور پر یقین کے درجے میں رکھا جاتا ہے ۔
نیز اصل چیز اضطرار ،اگر وہ ثابت ہوجائے تو پھر اس کو زائل کرنے والی چیز کا یقین کے درجے میں ہونا ضروری نہیں ہے چنانچہ اگر کوئی شخص بھوک کی وجہ سے جاں بلب ہو اور کوئی حلال چیز موجود نہ ہو تو وہ حرام کے ذریعے اپنی بھوک مٹانے کی کوشش کرسکتا ہے گرچہ اس کے کھانے کی وجہ سے بچنے کا یقین نہ ہو نیز اضطرار کی ایک شکل کسی ظالم کی طرف سے حرام کے کھانے پر مجبور کرنا بھی ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ حرام کے کھانے کے بعد اس کی جان بخش دی جائے گی بلکہ اس کے باوجود وہ اسے قتل کرسکتا ہے ،لہذا اس حالت میں مردار وغیرہ کے کھانے پر جاں بخشی یقینی نہیں ہے بلکہ زیادہ سے زیادہ ظن غالب ہے اور اس طرح کا ظن غالب بہت سی دواؤں میں بھی پایا جاتا ہے ۔
اور جو چیزیں حرام لغیرہ ہیں مثلاً سد ذریعہ کے طور پر ممنوع ہیں یا ان کی حرمت قرآنی آیت یا متواتر روایت سے صراحتاً ثابت نہیں ہے جیسے کہ مردوں کے لئے سونے چاندی اور ریشم کی حرمت تو وہ حاجت کے وقت بلکہ بسا اوقات خوبصورتی کے لئے بھی جائز ہوجاتی ہیں علامہ ابن قیم لکھتے ہیں:
وتحريم الحرير انما كان سدا للذريعة… وهذه قاعده ما حرم لسد الذرائع فانه يباح عند الحاجة والمصلحة الراجحة(زاد المعاد 78/4)
جیسے کہ رسول اللہ ﷺ نے نے بعض صحابہ کو خارش کی وجہ سے ریشم پہننے کی اجازت دی.
حضرت انس کہتے ہیں:
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرِ فِي قَمِيصٍ مِنْ حَرِيرٍ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا.
نبی کریم ﷺ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت زبیر کو کجھلی کی وجہ سے ریشمی قمیص پہننے کی رخصت مرحمت فرمائی ۔(صحیح بخاري: 2919 ۔صحیح مسلم: 2076)
اور اسی طرح سے ایک صحابی کو چاندی اور پھر سونے کی ناک لگانے کی اجازت مرحمت فرمائی چنانچہ حضرت عبد الرحمن بن طرفہ کہتے ہیں:
أَنَّ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ بْنَ أَسْعَدَ قُطِعَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ ، فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ، فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ.
ان کے دادا حضرت عرفجہ کی ناک جنگ کلاب کے موقع پر کٹ گئی تھی ،انھوں نے چاندی کی ناک لگوالی لیکن اس میں بدبو پیدا ہوجاتی تھی تم نبی کریم ﷺ نے انہیں سونے کی ناک لگانے کیلئے فرمایا. (ابوداؤد : 4232 .ترمذي: 1770۔نسائي:5161 )
ظاہر ہے کہ ناک کے اوپری حصے کے نہ ہونے کی وجہ سے انھیں کوئی بہت زیادہ پریشانی نہیں تھی البتہ ظاہری طور پر بدنما معلوم ہوتا تھا ۔
اور حضرت انس بیان کرتے ہیں :
أَنَّ نَاسًا اجْتَوَوْا فِي الْمَدِينَةِ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْحَقُوا بِرَاعِيهِ – يَعْنِي الْإِبِلَ – فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَلَحِقُوا بِرَاعِيهِ، فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا حَتَّى صَلَحَتْ أَبْدَانُهُمْ۔۔۔
کچھ لوگوں کو مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ وہ آپ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے چرواہے کے ہاں چلے جائیں، یعنی اونٹوں کے پاس ، اور ان کا دودھ اور پیشاب پئیں، چنانچہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کے پاس چلے گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا، یہاں تک کہ صحت یاب ہوگئے ۔۔۔
(صحیح بخاری: 5686.صحیح مسلم: 1671)
حافظ ابن حجر عسقلانی مذکورہ حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو حلال جانوروں کے پیشاب کو پاک کہتے ہیں ،اونٹ کے پیشاب کا تذکرہ اس حدیث میں ہے اور دوسرے جانور جن کا گوشت حلال ہے اس کو اونٹ پر قیاس کر لیا جاتا ہے،امام مالک، احمد اور سلف کی ایک جماعت اسی کی قائل ہے، شافعیہ میں سے ابن خزیمہ ،ابن منذر اور ابن حبان وغیرہ کی بھی یہی رائے ہے۔اس کے برخلاف امام شافعی اور جمہور کے نزدیک تمام جانوروں کے بول و براز ناپاک ہیں خواہ وہ حلال ہوں یا حرام ، ابن منذر نے حلال ہونے کی یہ دلیل دی ہے کہ اشیاء میں اصل طہارت ہے یہاں تک کہ اس کی نجاست ثابت ہوجائے، وہ کہتے ہیں جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہ حکم انہی لوگوں کے ساتھ خاص ہے ان کی بات درست نہیں ہے اس لیے کہ خصوصیت کے ثبوت کے لیے دلیل کی ضرورت پڑتی ہے اور بازاروں میں بکری کی میگنیاں بیچی جاتی ہیں اور اونٹ کے پیشاب دواؤں میں قدیم زمانے سے استعمال ہوتا رہا ہے اور اہل علم نے اس پر کوئی نکیر نہیں فرمائی ہے جو اس کی طہارت کی دلیل ہے،حافظ ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں کہ یہ ایک کمزور دلیل ہے اس لیے کہ جن مسائل میں علماء کے درمیان اختلاف ہے اس پر نکیر ضروری نہیں ہے۔ لہذا ترک انکار اس کے جواز کی دلیل نہیں ہے، طہارت کی بات تو بہت دور کی ہے اور ہر طرح کے جانور کے بول و براز کے ناپاک ہونے کی دلیل حضرت ابو ہریرہ کی حدیث ہے جسے ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔اور ابن عربی کہتے ہیں کہ اس حدیث سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جو اونٹ کے پیشاب کے پاک ہونے کے قائل ہیں اور اس کا جواب یہ ہے کہ ان کو بطور علاج پینے کے لیے اجازت دی گئی تھی۔ اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ علاج ضرورت کی حالت نہیں ہے اس لئے کہ علاج کرنا واجب نہیں ہے لہذا کیسے حرام چیز جائز ہو جائے گی ایک ایسی چیز کے لیے جو واجب نہیں ہے۔اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ علاج کی حالت ضرورت کی حالت نہیں ہے بلکہ وہ ضرورت کی حالت ہے جبکہ اس کے بارے میں خبر دے وہ شخص جس کی خبر پر اعتماد کیا جا سکتا ہے اور جو چیزیں ضرورت کی وجہ سے مباح ہو جائیں وہ استعمال کے وقت حرام نہیں رہتی ہیں چنانچہ اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:
وَ قَدۡ فَصَّلَ لَکُمۡ مَّا حَرَّمَ عَلَیۡکُمۡ اِلَّا مَا اضۡطُرِرۡتُمۡ اِلَیۡہِ ؕ .
حالانکہ اس نے وہ چیزیں تمہیں تفصیل سے بتا دی ہیں جو اس نے تمہارے لیے (عام حالات میں) حرام قرار دی ہیں، البتہ جن کو کھانے پر تم بالکل مجبور ہی ہوجاؤ (تو ان حرام چیزوں کی بھی بقدر ضرورت اجازت ہوجاتی ہے)( سورہ الانعام : 119)
اور جس چیز کے لیے آدمی مجبور ہو جائے وہ استعمال کے وقت حرام نہیں رہتی جیسے کہ حالت اضطرار میں مردار کا کھانا حرام نہیں ہوتا۔(فتح الباری ۔رقم الحدیث: 233)

فقہاء کے اقوال:

امام ابوحنیفہ کے نزدیک حرام سے علاج کسی صورت میں جائز نہیں ہے ،مالکیہ بھی اسی کے قائل ہیں، شافعیہ کے یہاں نشہ آور کے علاوہ دیگر حرام چیزوں سے علاج جائز ہے،حنفیہ میں سے امام محمد کے نزدیک حلال جانوروں کا پیشاب پاک ہے اس لئے اس کے ذریعے علاج جائز ہے اور امام ابویوسف کے نزدیک اونٹ وغیرہ کا پیشاب ناپاک ہے البتہ قبیلہ عرینہ سے متعلق حدیث کی بنیاد پر بطور علاج استعمال جائز ہے۔ (ردالمحتار 405/1)
یہاں اس بات کی تحقیق کی ضرورت ہے کہ امام ابویوسف کی رائے صرف حلال جانور کے پیشاب سے متعلق ہے یا دوسرے محرمات کا بھی ان کے نزدیک یہی حکم ہے ۔

10-زخم‌ داغنا:

قدیم زمانے سے علاج کا ایک طریقہ داغنا بھی ہے جو عصر حاضر میں بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے ۔ چنانچہ آج بھی بعض اوقات سرجری کے بعد جسم کی شریانوں کو بجلی کے آلے سے جلا کر خون بہنے سے روکا جاتا ہے جسے طبی اصطلاح میں cauterization کہا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں مذکور احادیث میں بظاہر تضاد محسوس ہوتا ہے جس کی تفصیل یہ ہے :
حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
” الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثَةٍ : شَرْبَةِ عَسَلٍ، وَشَرْطَةِ مِحْجَمٍ ، وَكَيَّةِ نَارٍ، وَأَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَيِّ ".
شفاء تین چیزوں میں ہے : شہد پینے ،پچھنا لگوانے اور آگ سے داغنے میں ،اور میں اپنی امت کو داغنے کے ذریعے علاج کرنے سے منع کرتا ہوں ۔ (صحیح بخاري: 5680)
اس سلسلے کی بعض روایات کے الفاظ یہ ہیں:
وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ ".
میں آگ سے داغنے کو پسند نہیں کرتا ۔(صحيح بخاري:5683)
علامہ سندھی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ آگ سے داغنے کے ذریعہ علاج بہت تکلیف دہ ہے اس لئے ضرورت کے وقت ہی اس کو رو بعمل لانا مناسب ہے اور اس سے متعلق ممانعت تنزیہی ہے ۔(شرح سندي على ابن ماجه.رقم الحدیث:3491)
اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ میرے سامنے تمام انبیاء کرام کی امتیوں کو لایا گیا ۔۔۔۔میرے سامنے سے ایک بہت بڑی تعداد گزری میں نے کہا : جبرئیل! کیا یہ میری امت ہے ؟ عرض کیا: نہیں ۔لیکن افق پر نظر ڈالئے میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی تعداد ہے جس نے افق کو ڈھانک لیا تھا ۔انھوں نے عرض کیا یہ آپ کی امت ہے اور ان کے آگے ستر ہزار لوگ ہیں جن سے کوئی حساب کتاب نہیں ہوگا ۔میں نے پوچھا کیوں؟ انہوں نے کہا:
یہ لوگ داغنے کے ذریعے علاج نہیں کرتے اور نہ جھاڑ پھونک کرتے اور نہ بد‌فالی لیتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۔(صحیح بخاري: 6541)
اس کے برخلاف صحیح احادیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب ،حضرت سعد بن معاذ اور اسعد بن زرارہ وغیرہ کے زخم کو آگ سے داغنے کا حکم دیا یا دست مبارک سے خود اس عمل کو انجام دیا.( دیکھئے : صحیح مسلم:2207. ابوداؤد : 3866.ترمذی: 2050)
دونوں طرح کی احادیث میں موافقت پیدا کرنے کے لئے کہا جائے گا کہ چونکہ اس طریقہ علاج میں شدید تکلیف ہوتی ہے اور جلانے کی وجہ سے جسم پر داغ پڑ جاتا ہے نیز بے احتیاطی کی وجہ سے نقصان پہونچنے کا شدید خطرہ ہوتا ہے اس لئے اگر علاج کا دوسرا طریقہ موجود ہو تو اسے اختیار نہیں کرنا چاہئے اور ایسی حالت میں اسے اپنانا غیر مناسب اور مکروہ تنزیہی ہے۔ اور اگر متبادل موجود نہ ہو اور ماہر حکیم کی نگاہ میں یہی طریقہ متعین ہو تو اسے اختیار کرنا بلا کراہت درست ہے ۔
نیز یہ کہ زمانہ جاہلیت میں عرب کے لوگ داغنے کو آخری اور یقینی ذریعے علاج سمجھتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اگر اس طریقے سے علاج نہ کیا جائے تو موت واقع ہوجائے گی یہاں تک کہ وہ کہتے تھے کہ داغنا آخری علاج ہے. (آخر الدواء الکی)
ظاہر کوئی بھی دوا علاج خواہ کتنا ہی مجرب کیوں نہ ہو یقین کا درجہ حاصل نہیں کرسکتا بلکہ وہ صرف ظاہری سبب کے درجے میں ہوتا ہے اور شفا یابی صرف اللہ تعالیٰ کے حکم پر موقوف ہے ۔
نبی کریم ﷺ نے اس سوچ کے تحت اسے اپنانے سے منع فرمایا اور کہا کہ یہ توکل کے خلاف ہے کیونکہ توکل کا تقاضا ہے کہ کسی بھی چیز کو بذات خود نفع یا ضرر رساں نہ سمجھا جائے، بلکہ سبب کے درجے میں اسے اختیار کیا جائے اور نفع و ضرر کی امید اللہ تعالیٰ سے رکھی جائے کہ وہی موثر حقیقی ہے ۔لھذا اللہ تعالیٰ سے شفایابی کی امید کرتے ہوئے بطور سبب آگ سے داغنے کو اختیار کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
( دیکھئے:مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الطب ، الفصل الاول ، جلد7، صفحہ2862، بیروت)

11- انسانی اجزاء سے علاج:

انسان کے سوا دیگر جاندار کے اعضاء سے استفادہ کرنا جائز ہے مثلاً بندر ، بن مانس وغیرہ کے جسم کے کسی حصہ کو انسانی جسم میں منتقل کرنا درست ہے۔
شرط یہ ہے کہ جانور حلال ہو اور شرعی طریقے پر ذبح کرکے ’’عضو‘‘ کو حاصل کیاگیا ہو اس لئے کہ تمام جانور انسان کی خدمت اور آرام و آسانی ہی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں، جب بطور خوراک عام حالت میں انھیں استعمال کرنے کی اجازت ہے تو بغرض علاج ان کے جسم کے کسی عضو سے فائدہ اٹھانا بدرجہ اولیٰ جائز ہے ، حلال جانور کو زندہ باقی رکھ کر اس کے جسم کے کسی حصہ کو نکال لینا اور اسے استعمال کرنا جائز نہیں اس لئے کہ حدیث میں ہے کہ زندہ جانور سے جو حصہ کاٹ کر علاحدہ کرلیاجائے وہ مردار ہے ۔(ترمذی)
مردہ حیوان کی خشک ہڈی اور بال سے استفادہ بغیر کسی تفصیل کے جائز ہے ، صرف خنزیر کا اس سے استثناء ہے کہ وہ سراپا نجس اور ناپاک ہے ۔ ہندیہ میں ہے:
’’امام محمد نے کہاکہ دوا کے طور پر ہڈی کا استعمال جائز ہے جبکہ بکری ، گائے، اونٹ یا گھوڑے یا دیگر جانوروں کی ہڈی ہو ، سوا خنزیر اور آدمی کے ، کیونکہ ان دونوں کے ہڈی سے علاج مکروہ ہے ، (یہ حکم اس وقت ہے جبکہ جانور کو شرعی طریقہ پر ذبح کیا ہو) اگر وہ مردار ہو تو خشک ہڈی سے علاج درست ہے اور تر سے نہیں اور کتے کی ہڈی بھی دوا کے لئے جائز ہے۔‘‘(ہندیہ 354/5)
لیکن یہ تمام تفصیلات عام حالات میں ہیں، اضطرار یا مشقت شدیدہ کے وقت جبکہ اس کے سوا کوئی متبادل نہ ہو مردار اور خنزیر کے جسم کے کسی حصہ سے پیوند کاری جائز اور درست ہے ، اس لئے کہ فقہی اصول ہے کہ ضرورت حرام کو بھی جائز کردیتی ہے۔( الضرورات تبیح المخطورات)
انسانی جسم کے کسی حصہ کو خود اسی کے جسم میں پیوندکاری کرنا جیسے منھ پر آئے ہوئے زخم کو بھرنے کے لئے ران کا گوشت لگانا ،یہ صورت امام ابویوسف کے نزدیک جائز ہے ، اس لئے کہ اس میں جسم انسانی کی کوئی توہین نہیں. (ولا اھانۃ فی استعمال جزء منہ) امام ابوحنیفہ و محمد کے نزدیک اس کی اجازت نہیں اس لئے کہ جسم سے علاحدہ کئے ہوئے حصہ کو دفن کرنا واجب ہے تو اسے دوبارہ اس جسم میں لگانا اس کے خلاف کرنا ہے.( فاذاانفصل استحق الدفن والاعادۃ صرف لہ عن جھۃ الاستحقاق)(بدائع 132/5)
اس مسئلہ میں عام طور سے لوگوں نے امام ابویوسف کے رائے کو ترجیح دی ہے اور یہی صحیح ہے ، لیکن تراش و خراش کی اجازت اسی وقت ہوگی جبکہ کوئی دوسری تدبیر کار گرنہ ہو اور ضرورت کے لئے ہو، زینت کے لئے نہیں۔
ایک زندہ یا مردہ انسان کے کسی عضو کو دوسرے انسان میں لگانا ۔ یہ صورت درست نہیں ہے ۔ناجائز ہونے کی دو وجہیں ہیں:
انسان اپنے جسم کا مالک و مختار نہیں بلکہ ’’جسم‘‘ اللہ کی طرف سے ایک ’’امانت‘‘ ہے ، جس میں ایک حد تک تصرف کا اختیار تو ہے مگر اس میں غیر امانت دارانہ تصرف کرنے اور دوسروں کو دینے کا مجاز نہیں ، یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامی میں خودکشی ایک عظیم جرم ہے اور جسم میں کسی قسم کے مالکانہ تصرف اور تبدیلی کو قرآن حکیم میں’’تغییر خلق اللہ‘‘(اللہ کی ساخت و بناوٹ کو بدلنا )سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کو سخت مذموم اور شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے۔
اور ایک حدیث میں ہے :
۔۔۔ فَلَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ هَاجَرَ إِلَيْهِ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، وَهَاجَرَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ، فَمَرِضَ، فَجَزِعَ، فَأَخَذَ مَشَاقِصَ لَهُ، فَقَطَعَ بِهَا بَرَاجِمَهُ، فَشَخَبَتْ يَدَاهُ حَتَّى مَاتَ، فَرَآهُ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فِي مَنَامِهِ، فَرَآهُ وَهَيْئَتُهُ حَسَنَةٌ، وَرَآهُ مُغَطِّيًا يَدَيْهِ، فَقَالَ لَهُ : مَا صَنَعَ بِكَ رَبُّكَ ؟ فَقَالَ : غَفَرَ لِي بِهِجْرَتِي إِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : مَا لِي أَرَاكَ مُغَطِّيًا يَدَيْكَ. قَالَ : قِيلَ لِي : لَنْ نُصْلِحَ مِنْكَ مَا أَفْسَدْتَ. فَقَصَّهَا الطُّفَيْلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ ".
نبی کریم ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے آئے تو حضرت طفیل اور ان کے خاندان کا ایک شخص بھی مدینہ ہجرت کر کے آگیا لیکن مدینہ کی آب وہوا راس نہ آنے کی وجہ سے وہ شخص بیمار ہوگیا اور بیماری کی شدت برداشت نہ کر سکا اور گھبراہٹ میں اُس نے اپنے تیر کے پھل سے اپنی انگلیوں کی جوڑ کاٹ ڈالے، یہاں تک کہ اس کے ہاتھ سے خون بہتا رہا اور وہ مر گیا۔
حضرت طفیل بن عمرو نے اسے خواب میں دیکھا۔ وہ اچھی حالت میں تھا، لیکن اپنے ہاتھ چھپائے ہوئے تھا۔ حضرت طفیل نے اس سے پوچھا: ’’تیرے رب نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا؟‘‘ اس نے جواب دیا: ’’اللہ نے نبی ﷺ کی طرف ہجرت کی وجہ سے مجھے بخش دیا۔‘‘ طفیل نے پوچھا: ’’تم اپنا ہاتھ کیوں چھپائے ہوئے ہو؟‘‘ اس نے کہا: ’’مجھ سے کہا گیا: جس چیز کو تم نے بگاڑا ہے ہم اسے درست نہیں کریں گے ۔
حضرت طفیل نے یہ سارا واقعہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اے اللہ! اس کے ہاتھوں کو بھی بخش دے۔
(صحیح مسلم:116)
اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے جسم کا کوئی حصہ دوسرے کو دے دے تو قیامت کے دن بطور سزا اس کے جسم کا وہ حصہ ناقص رکھا جائے گا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان:
"لن نصلح ماافسدت” (جسے تم نے خراب کیا ہے ہم اسے ٹھیک نہیں کریں گے)کا تعلق خودکشی سے نہیں ہے بلکہ وہ پوروں کو زخمی کرنے اور کاٹنے سے متعلق ہے۔
اور حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق کہتی ہیں:
سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي أَصَابَتْهَا الْحَصْبَةُ، فَامَّرَقَ شَعَرُهَا، وَإِنِّي زَوَّجْتُهَا، أَفَأَصِلُ فِيهِ ؟ فَقَالَ : ” لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ۔
ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: یا رسول اللہ! چیچک کی وجہ سے میری بیٹی کے بال جھڑ گئے ہیں اور میں نے اس کا نکاح کر دیا ہے تو کیا میں اس کے بال میں دوسرے کے بالوں کو جوڑ سکتی ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے لعنت فرمائی ہے بال جوڑنے والی پر اور جڑوانے والی پر.(صحیح بخاري 5941)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی دوسری عورت کے بال سے استفادہ کرنا حرام ہے ؛کیونکہ وہ اس کے جسم کا ایک حصہ ہے لہذا انسان کے جسم کے کسی بھی حصے سے انتفاع جائز نہیں ہے اگرچہ اس کے لینے کی وجہ سے دینے والے کو کوئی نقصان نہ ہو۔
تمام فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر کوئی بھوک کی وجہ سے جاں بلب ہو، موت
و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہو اور کوئی اس سے کہے کہ میرے جسم سے کاٹ کر کھالو تو ایسی حالت میں بھی نہ تو اس شخص کو اجازت دینا جائز ہے اور نہ ہی دوسرے کے لئے کھاکر جان بچانا جائز ہے۔(دیکھئے فتاوی الخانیہ404/3، رد المحتار 215/5بلغۃ السالک 483/1، المجموع 45/9 کشاف القناع 198/6، المحلی 137/8)
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے جسم کا مالک نہیں ہے ، وہ اس کے پاس ایک امانت ہے، جس سے صرف فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے۔چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی خودکشی کی ممانعت سے متعلق حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
وَيُؤْخَذُ مِنْهُ أَنَّ جِنَايَةَ الْإِنْسَانِ عَلَى نَفْسِهِ كَجِنَايَتِهِ عَلَى غَيْرِهِ فِي الْإِثْمِ لِأَنَّ نَفْسَهُ لَيْسَتْ مِلْكًا لَهُ مُطْلَقًا بَلْ هِيَ لِلَّهِ تَعَالَى فَلَا يَتَصَرَّفُ فِيهَا إِلَّا بِمَا أُذِنَ لَهُ فِيهِ۔
مذکورہ حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا اپنے جسم کے سلسلے میں کسی جرم کا ارتکاب کرنا ایسے ہی ہے جیسے کہ دوسرے کے جسم پر۔دونوں کا گناہ یکساں ہے ۔اس لئے کہ اس کا جسم مطلقاً اس کی ملکیت نہیں ہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے لہذا اس میں صرف وہی تصرف کرسکتا ہے جس کی اجازت دی گئی ہے ۔(فتح الباری 539/11)
نیز یہ کہ کسی چیز کی خرید و فروخت ، ھبہ اور وصیت کے لئے ضروری ہے کہ وہ مال ہو اور جسم انسانی مال نہیں ہے لہذا اسے کسی کو ہبہ کرنا اور مرنے کے بعد کسی کے لئے اس کی وصیت کرنا جائز نہیں ہے اور تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ انسانی جسم کے کسی حصے کی خرید و فروخت درست نہیں ہے اور اسی طرح سے اس ضابطے پر بھی اتفاق ہے کہ:
ما جازه بيعه جازت هبته وما لا فلا.
جسے بیچنا جائز ہے اس کا ھبہ بھی درست ہے اور جسے بیچنا جائز نہیں اس کا ھبہ بھی صحیح نہیں ہے۔(المنثور من القواعد للزركشي/238)
اور علامہ ابن رشد مالکی لکھتے ہیں:
اما الواهب فانهم اتفقوا على انه تجوز هبته اذا كان مالكا للموهوب صحيح الملك.
تمام فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ ہبہ کرنے والے کا ہبہ اسی وقت جائز ہے جب کہ وہ ہبہ کردہ چیز کا صحیح طور پر مالک ہو۔( بداية المجتهد7/5)
اور علامہ کاسانی رقم طراز ہیں:
ومنها ان يكون مالا متقوما فلا تجوز هبة ما ليس بمال اصلا كالحر والميتة والدم …
ہبہ کی شرطوں میں سے یہ بھی ہے کہ ہبہ کردہ چیز مال متقوم ہو لہذا کسی ایسی چیز کا ھبہ جائز نہیں ہے جو اصلا مال نہ ہو جیسے آزاد انسان ،مردار اور خون۔(بدائع الصنائع179/5)
اور فتاوی ہندیہ میں ہے :
وَشَرْطُهَا كَوْنُ الْمُوصِي أَهْلًا لِلتَّمْلِيكِ وَالْمُوصَى لَهُ أَهْلًا لِلتَّمَلُّكِ وَالْمُوصَى بِهِ بَعْدَ الْمُوصِي مَالًا قَابِلًا لِلتَّمْلِيكِ۔
وصیت کے لیے شرط یہ ہے کہ وصیت کرنے والا مالک بنانے کا اہل ہو اور جس کے لیے وصیت کی گئی ہو اس کے اندر مالک بننے کی صلاحیت ہو اور جس چیز کی وصیت کی گئی ہو وہ وصیت کرنے والے کی وفات کے بعد قابل تملیک مال ہو ۔(الھندیہ 90/6)
اس کے ناجائز ہونے کی دوسری وجہ انسان کی عزت و تکریم ہے ، اللہ نے انسان کو مکرم و محترم بنایاہے، (ولقد کرمنا بنی آدم) جسم انسانی کی تراش خراش اور چیر پھاڑ اس کی تکریم کے خلاف ہے، یہ درست ہے کہ شریعت نے احترام انسانیت کا کوئی بے لچک اصول مقرر نہیں کیاہے ، بلکہ مبہم رکھا ہے اور اس قسم کے مسائل میں عرف اور حالات ہی کو فیصل مانا جاتا ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے اور اہل علم کی نظروں سے پوشیدہ نہیں کہ اس سلسلہ میں اسی زمانے کا عرف معتبر ہوگا جس وقت قرآن نازل ہو رہا تھا، بعد کے کسی عرف و عادت سے قرآن کے کسی مبہم لفظ کی تشریح نہیں کی جاسکتی ہے، اس لئے کہ اگر حرام و حلال جیسے مسائل میں ہر زمانہ کے عرف کو معیار بنایاجائے تو پھر شریعت کی دیوار کو برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا۔
رہی بات ضرورت کی کہ اس حالت میں قابل احترام چیزوں کی اہانت گوارا کی جاسکتی ہے ، لہٰذا اضطراری حالت میں تکریم انسانیت کا پہلو نظر انداز کیاجاسکتا ہے، تویہ بھی صحیح ہے، لیکن جیساکہ بارہا آچکا ہے کہ اصل بنیادی وجہ مالک و مختار نہ ہونا ہے، احترام انسانیت ایک ضمنی وجہ ہے ، اس پر مسئلہ کا دارومدار نہیں اور فقہاء کی تصریحات گذرچکی ہیں کہ انسانی جان کے تحفظ کے مقصد سے بھی اعضا ء انسانی سے استفادہ درست نہیں۔
اس مسئلہ میں جو حکم ایک زندہ انسان کا ہے وہی مردہ کا بھی ہے ، اس لئے کہ اپنے جسم کا مالک نہ ہونے اور احترام انسانیت میں دونوں یکساں ہیں۔ چنانچہ حدیث میں ہے:
’’مردہ انسان کی ہڈی کو توڑنا زندہ کی ہڈی توڑنے کی طرح ہے۔‘‘
نیز آپ ﷺ نے فرمایا:
’’مومن کو اس کے مرنے کے بعد اذیت پہنچانا اس کی زندگی میں اذیت پہنچانے کی طرح ہے۔‘‘
زندگی میں ایک گونہ تصرف کا حق بھی ہے ، مرنے کے بعد تو یہ حق بھی ختم ہوجاتاہے، لہٰذا اگر کوئی اس طرح کی کوئی وصیت کر جاتا ہے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں اور نہ ہی ورثاء کے لئے اس کی وصیت پر عمل کرنا جائز ہے ، بلکہ موت کے بعد صحیح حالت میں دفن کرنا ان کی ذمہ داری اور ایک اسلامی فریضہ ہے اور اس میں کسی قسم کی تراش خراش، خرد برد’’مثلہ‘‘ہے، جس کی حدیث میں ممانعت آئی ہے ۔(ونھی عن المثلۃ.بخاری 602/2، رشیدیہ دہلی)
کسی انسان کے عضو کی چھانٹ کاٹ کو مثلہ کہاجاتاہے۔( انما المثلۃ قطع عضو ونحوہ . حاشیہ ابوداؤد 244/1)
علامہ ابن عابدین شامی حنفی نے لکھا ہے اور خوب لکھاہے کہ :
’’ذمی(وہ کافر جو دارالاسلام میں سکونت پذیر ہو) کی ہڈی بھی قابل احترام ہے ، لہٰذا اگر وہ کسی قبرمیں پائی جائے تو اسے توڑا نہ جائے، کیونکہ یہ ’’مثلہ‘‘کی قبیل سے ہے ، لہٰذاجس طرح اس کو زندگی میں اذیت پہنچانا حرام ہے ، اسی طرح موت کے بعد ٹوٹنے سے اس کی حفاظت واجب ہے ۔(رد المحتار 246/2)
بعض حالات میں مردہ کے جسم کو چیرنے کی جو اجازت بعض فقہی کتابوں میں مذکور ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے ایک دوسرے کا حق متعلق ہوچکا ہے ، اس حق کی رعایت میں احترام انسانیت کے پہلو کو نظر انداز کردیا گیا ہے، مگر انسانی جسم کے کسی حصہ کو کاٹ کر دوسرے میں لگانے میں ایسی کوئی وجہ موجود نہیں ہے ، لہٰذا ان جیسے مسائل کو اعضاء کی پیوندکاری کے لئے نظیر بنانا درست نہیں۔

12-متعدی امراض:

بعض بیماریوں کے بارے میں قدیم زمانے سے یہ تصور چلا آرہا ہے کہ ان میں منتقل ہونے کی صلاحیت ہے ، یہ چھوا چھوت کی بیماری ہے ، مریض کے ساتھ میل جول سے تندرست انسان بھی اس مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے، فن طب میں بھی بعض بیماریوں کو متعدی خیال کیاجاتا ہے، لیکن کیا اسلام بھی اس نظریہ سے متفق ہے؟ احادیث سے اس کا جواب ’’ہاں‘‘میں ملتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الْأَسَدِ ".
کوڑھی سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔(صحيح بخاری:5707)
نیز ارشاد ہے:
لَا يُورِدَنَّ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ
جس کے اونٹ بیمار ہوں وہ ان کو پانی پلانے کے لئے اس گھاٹ پر ہرگز نہ لے جائے جہاں تندرست اونٹ پانی پیتے ہیں۔‘(صحيح بخاري: 5770.صحيح مسلم:2221)
جن احادیث سے اس کے برخلاف معلوم ہوتاہے اس کی توجیہ کرتے ہوئے ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگوں کا عقیدہ تھا کہ مرض میں اپنے طور پر منتقل ہونے کی صلاحیت ہے۔ خاصیت طبعی لازمی ہے کہ ضرور متعدی ہوتا ہے۔اور مرض کے پھیلنے میں اللہ تعالیٰ کے حکم اور فیصلہ کا کوئی دخل نہیں ہے ۔رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشاد وعمل سے اس عقیدہ کی تردید فرمائی کہ مرض کے اندر ذاتی طور پر متعدی ہونے کی صلاحیت نہیں ہے۔ لا عدوى (صحیح بخاری:5707. صحیح مسلم: 2220)اور عملی طور پر اس بد اعتقادی کو ختم کرنے کے لئے ایک جذامی کے ساتھ کھانا تناول فرمایا اور ارشاد ہوا: اللہ پر اعتماد اور بھروسہ رکھو اور کھاؤ ( مرض و شفا اسی کے قبضۂ قدر ت میں ہے) (ترمذی 4/2)، لیکن اسباب کے درجہ میں اللہ نے بعض بیماریوں میں متعدی ہونے کی صلاحیت رکھ دی ہے ، اس لئے آپ ﷺ نے فرمایاکہ جذامی سے اس طرح دور رہو جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔ دونوں طرح کی حدیثوں میں موافقت پیدا کرنے کے لئے اکثر علماء نے اسی توجیہ کو اختیار کیاہے۔(فتح الباری 161/10،شرح نووی علی مسلم 230/2)
یعنی اسباب کے درجے میں مرض متعدی ہوسکتا ہے لیکن انسان کی نادانی ہے کہ وہ اسباب کو ہی سب کچھ سمجھ لیتا ہے اور اس حقیقت سے غافل ہوجاتا ہے کہ سبب اور اس کا نتیجہ دونوں اللہ تعالیٰ کے حکم و فیصلہ کے پابند ہیں ،وہ چاہے تو سبب کے بغیر نتیجہ ظاہر کرسکتا ہے اور نہ چاہے تو سبب کے باوجود نتیجہ نہیں نکل سکتا ہے اس لئے کوئی بیماری اپنے طور پر کسی کو نہیں لگتی ہے بلکہ اگر متعدی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتی ہے غرضیکہ حدیث میں اسباب کے درجے میں مرض کے متعدی ہونے کا انکار نہیں ہے البتہ اسباب کو خالق کائنات کا درجہ دینے سے منع فرمایا گیا ہے۔چنانچہ ایک حدیث میں ہے :
إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ” لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ ". فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا بَالُ إِبِلِي تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ، فَيَأْتِي الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ بَيْنَهَا فَيُجْرِبُهَا ؟ فَقَالَ : ” فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ .
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”نہ کوئی بیماری خود سے متعدی ہوتی ہے،اور نہ صفر مہینہ میں اور ھامہ نامی پرندہ میں کوئی نحوست ہے۔ایک دیہاتی نے عرض کیا:یارسولَ اللہ! پھر یہ کیا بات ہے کہ میری اونٹنیاں ریت میں ہرنوں کی طرح صحت مند ہوتی ہیں، پھر ایک خارش زدہ اونٹ آتا ہے اور ان کے درمیان گھس جاتا ہے تو وہ سب خارش زدہ ہوجاتی ہیں؟”آپ ﷺ نے فرمایا:پھر پہلے اونٹ کو کس نے متعدی کیا؟”(یعنی اصل مُسبّب اللہ تعالیٰ ہے، اس کی مشیت کے بغیر کچھ نہیں ہوتا)
(صحيح بخاري :5717)
تاہم بعض لوگوں کی رائے یہ بھی ہے کہ امراض متعدی نہیں ہوتے ہیں اور جن حدیثوں سے متعدی ہونا معلوم ہوتا ہے وہ ان لوگوں کے لئے ہے جو کمزور دل اور کمزور ایمان رکھتے ہیں کہ جن بیماریوں کو وہ متعدی سمجھتے ہیں ان میں مبتلا شخص سے میل جول نہ رکھیں کیونکہ ایسا ہوسکتا ہے کہ اتفاقی طور سے انھیں بھی یہ مرض لگ جائے تو ان کا اعتقاد خراب ہوگا کہ اس مرض کے اندر متعدی ہونے کی صلاحیت ہے اور اس طرح سے ان کا ایک وہم اعتقاد کا درجہ اختیار کرسکتاہے۔(فتح الباری 161/10)
یہاں اس بحث کی ضرورت نہیں کہ دلیل کے اعتبار سے ترجیح کس کو ہے ؟ کیونکہ یہ مسئلہ اب نظری نہیں بلکہ مشاہداتی ہے ، عقل و دل کی نگاہوں سے نہیں بلکہ سر کی آنکھوں سے ’’ایڈز‘‘ وغیرہ کے جراثیم منتقل ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس لئے اب اس سے انکار، مشاہدہ اور تجربہ کا انکار ہے اور مان لینے میں نہ تو روح شریعت مجروح ہوتی ہے اور نہ حدیث کا انکار لازم آتاہے۔

13-فرسٹ ایڈ:

فرسٹ ایڈ یعنی ابتدائی طبی امداد جس کے ذریعے اچانک پیش آجانے والے حادثات جیسے کہ جل جانا،چھت سے گر جانا یا ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں زخمی ہو جانا وغیرہ جس کی طرف فوری توجہ ضروری ہے تاکہ بیماری یا زخم مزید خراب نہ ہو۔
اگر کسی ڈاکٹر کے پاس اس طرح کا مریض لایا جائے جس کا فوری علاج ضروری ہے اور علاج نہ کرنے میں اس کی جان جانے یا کسی عضو کے تلف ہو جانے کا اندیشہ ہے یا وہ شدید پریشانی سے دوچار ہو سکتا ہے اور علاج کی وجہ سے ڈاکٹر کا کوئی نقصان نہیں ہے اور موقع پر دوسرا ڈاکٹر موجود نہیں بالفاظ دیگر علاج نہ کرنے کی کوئی شرعی عذر موجود نہیں ہے تو ایسی حالت علاج کرنا ایک دینی فریضہ ہے ؛ کیونکہ ایک انسانی جان کی حفاظت واجب ہے. اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
مِنۡ اَجۡلِ ذٰلِکَ ۚۛؔ کَتَبۡنَا عَلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اَنَّہٗ مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَیۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِی الۡاَرۡضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَ مَنۡ اَحۡیَاہَا فَکَاَنَّمَاۤ اَحۡیَا النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَ لَقَدۡ جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُنَا بِالۡبَیِّنٰتِ ۫ ثُمَّ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ بَعۡدَ ذٰلِکَ فِی الۡاَرۡضِ لَمُسۡرِفُوۡنَ ۔
اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل کو یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جو کوئی کسی کو قتل کرے، جبکہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلہ لینے کے لیے ہو اور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو، تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا ۔ اور جو شخص کسی کی جان بچالے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔ اور واقعہ یہ ہے کہ ہمارے پیغمبر ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے، مگر اس کے بعد بھی ان میں سے بہت سے لوگ زمین میں زیادتیاں ہی کرتے رہے ہیں۔(سورہ المآئدۃ : 32)
تفسیر:
مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کے خلاف قتل کا یہ جرم پوری انسانیت کے خلاف جرم ہے کیونکہ کوئی شخص قتل ناحق کا ارتکاب اسی وقت کرتا ہے جب اس کے دل سے انسان کی حرمت کا احساس مٹ جائے، ایسی صورت میں اگر اس کے مفاد یا سرشت کا تقاضا ہوگا تو وہ کسی اور کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہیں کرے گا، اور اس طرح پوری انسانیت اس کی مجرمانہ ذہنیت کی زد میں رہے گی، نیز جب اس ذہنیت کا چلن عام ہوجائے تو تمام انسان غیر محفوظ ہوجاتے ہیں ؛ لہذا قتل ناحق کا ارتکاب چاہے کسی کے خلاف کیا گیا ہو تمام انسانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ جرم ہم سب کے خلاف کیا گیا ہے.(آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)
اور حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
” الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ، وَلَا يُسْلِمُهُ ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ، كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے تنہا چھوڑتا ہے ،اور جو کوئی اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرتا ہے اللہ تبارک و تعالی اس کی ضرورت پوری کر دیں گے اور جو کوئی کسی مسلمان کی رنج و تکلیف کو دور کرتا تو اللہ تبارک و تعالی قیامت کے دن اس کی پریشانیوں کو دور کر دیں گے اور جو کوئی مسلمان کے عیب کو چھپا لے تو اللہ تبارک و تعالی قیامت کے دن اس کے گناہوں کی پردہ پوشی کریں گے۔(بخاری: 2442. مسلم: 2580)
یعنی مصائب و تکلیف میں اور دشمن کے خلاف اسے تنہا نہیں چھوڑتا ہے اور مریض کا علاج نہ کرنا بھی اسے تنہا چھوڑ دینے میں داخل ہے.
اور ایک حدیث میں ہے کہ ایک کتے کی جان بچانے کی وجہ سے ایک فاحشہ عورت کی مغفرت کر دی گئی اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انسانی جان بچانے کی اہمیت کیا ہوگی؟ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
” بَيْنَمَا كَلْبٌ يُطِيفُ بِرَكِيَّةٍ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ، إِذْ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَنَزَعَتْ مُوقَهَا فَسَقَتْهُ، فَغُفِرَ لَهَا بِهِ ”
ایک کتا کنویں کے ارد گرد چکر لگا رہا تھا اور پیاس کی وجہ سے مرنے کے قریب تھا کہ بنی اسرائیل کی ایک فاحشہ عورت نے اسے دیکھا اور اس نے اپنا موزہ اتارا اور اس میں پانی بھر کر کتے کو پلایا جس کی وجہ سے اس کی مغفرت کردی گئی ۔(بخاری 3467.مسلم 2445)
نیز حدیث میں ایسے شخص کے لیے شدید بعید بیان کی گئی ہے جس کے پاس زائد پانی موجود ہو اور وہ کسی پیاسے کو محروم رکھے۔حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
” ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ؛ رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِطَرِيقٍ يَمْنَعُ مِنْهُ ابْنَ السَّبِيلِ، وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِلدُّنْيَا، فَإِنْ أَعْطَاهُ مَا يُرِيدُ وَفَى لَهُ، وَإِلَّا لَمْ يَفِ لَهُ، وَرَجُلٌ سَاوَمَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَى بِهِ كَذَا وَكَذَا، فَأَخَذَهَا ".
اللہ تعالیٰ تین لوگوں سے نہ تو بات کریں گے اور نہ ان کی طرف دیکھیں گے اور نہ ان کو پاک و صاف کریں گے۔ایک وہ شخص جس کے پاس راستے میں زائد پانی موجود ہو لیکن وہ کسی مسافر کو دینے سے انکار کردے ۔دوسرا وہ شخص جو کسی حکمراں سے محض دنیا حاصل کرنے کے لیے بیعت کرے ،اگر اس کا مقصد حاصل ہوتا رہے تو وفادار رہے ورنہ نہیں ۔اور تیسرا وہ شخص جو کسی سے عصر کے بعد مول بھاؤ کرے اور قسم کھا کر کہ اس نے اتنا اتنا دیا ہے جس پر اعتماد کرکے دوسرا شخص اسے خرید لے۔(صحیح بخاری: 2672.صحیح مسلم: 108)
اور فقہاء کرام نے لکھا ہے :
ويجب لاغاثة ملهوف وغريق وحريق. الدر. (ويجب) الظاهر منه الافتراض ط قوله (لاغاثة ملهوف) سواء استغاث بالمصلي او لم يعين احدا في استغاثته اذا قدر على ذلك ومثله خوف تردي اعمى في بئر مثلا اذا غلب على ظنه سقوطه.
ستم رسیدہ اور ڈوبنے والے اور جلنے والے کی فریاد رسی کے لئے نماز کو توڑنا واجب یعنی فرض ہے ،خواہ وہ نمازی سے مدد چاہے یا فریاد کرنے میں کسی کی تعیین نہ کرے جب کہ نمازی اس کی مدد پر قادر ہو اور یہی حکم اس وقت بھی ہے جب کہ کسی نابینا کے کنویں میں گرنے کا ظن غالب ہو ۔
(رد المحتار باب ما يفسد الصلاه وما يكره فيها 426/2)
والحاصل : أن المصلي متى سمع أحداً يستغيث وإن لم يقصده بالنداء، أو كان أجنبياً وإن لم يعلم ما حل به أو علم وكان له قدرة على إغاثته وتخليصه وجب عليه إغاثته وقطع الصلاة فرضاً كانت أو غيره.
حاصل یہ ہے کہ اگر نمازی کسی کو فریاد کرتے ہوئے سنے گرچہ اسے پکارنا مقصود نہ ہو یا کوئی اجنبی شخص ہو اور گرچہ نمازی کو معلوم نہیں کہ اس پر کونسی مصیبت آپڑی ہے یا اسے معلوم ہے اور اسے اس کی مدد اور اس مصیبت سے چھٹکارا دلانے کی قدرت حاصل ہے تو اس کے لئے نماز توڑنا اور اس کی مدد کرنا واجب ہے خواہ فرض نماز ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور نماز۔(رد المحتار باب ادراک الفضیلۃ609/2)

14-خون چڑھانا:

خون حرام ہے ، قرآن میں بصراحت اس کی حرمت کو بیان کیاگیاہے ، اس کے علاوہ وہ جسم انسانی کا ایک حصہ بھی ہے اور جسم انسانی کے کسی حصہ سے فائدہ اٹھانا بھی ناجائز ہے، غرضیکہ خون کے چڑھانے میں حرمت کی دو وجہیں جمع ہوگئیں:حرام و
ناپاک ہونا اورانسان کا جزء ہونا مگر یہ ایسا جز ہے کہ بطور علاج بدن سے نکالنے کی اجازت ہے ، حدیثوں میں پچھنا کے ذریعہ خون نکالنے کی اجازت بلکہ بطور علاج ترغیب دی گئی ہے۔(خیر ما تداویتم بہ الحجامۃ (متفق علیہ۔ زاد المعاد 53/4)اور خود آپ ﷺ سے پچنا لگانا ثابت ہے۔(ان النبی ﷺ احتجم واعطی الحجام اجرہ ۔متفق علیہ) حوالہ سابق)
اس کی وجہ یہ ہے کہ خون نکالنے کی وجہ سے بالکل ختم نہیں ہوجاتا ہے بلکہ دوبارہ پھر نیا خون بن جاتا ہے، گویا کہ خون بالکل دودھ کی طرح ہے ، فرق صرف یہ ہے کہ خون ناپاک اور دودھ پاک۔ اور بچے کی ضرورت کے پیش نظر دودھ سے استفادہ کی اجازت ہے،
خون کی حرمت کی وجہ سے عام حالات میں خون چڑھانے کی اجازت نہیں ہے البتہ اگر کوئی شخص اضطراری حالت سے دوچار اور موت حیات کی کشمکش میں مبتلا ہو اور ماہر ڈاکٹر کی نظر میں خون چڑھائے بغیر اس کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو یا یا ہلاکت کا خطرہ تو نہ ہو لیکن اس کے بغیر صحت کا امکان نہ ہو تو بدرجہ مجبوری اس کی اجازت ہے،اس لئے کہ اس طرح کی بیماریوں کا علاج ضرورت کا درجہ رکھتا ہے کہ مسلسل کسی بیماری میں مبتلا رہنے کی وجہ سے روز مرہ کی ذمہ داریوں کو ادا کرنا دشوار ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
* اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللّٰہِ ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ.
اس نے تو تمہارے لئے بس مردار جانور، خون اور سور حرام کیا ہے، نیز وہ جانور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو. ہاں اگر کوئی شخص انتہائی مجبوری کی حالت میں ہو ( اور ان چیزوں میں سے کچھ کھالے) جبکہ اس کا مقصد نہ لذت حاصل کرنا ہو اور نہ وہ (ضرورت کی) حد سے آگے بڑھے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔(سورہ البقرۃ :173)
تفسیر:
اس آیت میں تمام حرام چیزوں کا احاطہ کرنا مقصود نہیں بلکہ مقصد یہ جتلانا ہے کہ جن جانوروں کو تم نے حرام سمجھ رکھا ہے وہ تو اللہ نے حرام نہیں کئے، تم خوامخواہ ان کی حرمت اللہ کے ذمے لگا رہے ہو، البتہ کئی چیزیں ایسی ہیں جن کو تم حرام نہیں سمجھتے مگر اللہ نے انہیں حرام قرار دیا ہے، حرام چیزیں وہ نہیں ہیں جو تم سمجھ رہے ہو حرام تو وہ ہیں جنہیں تم نے حلال سمجھا ہوا ہے۔ (آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)
* وَ مَا لَکُمۡ اَلَّا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا ذُکِرَ اسۡمُ اللّٰہِ عَلَیۡہِ وَ قَدۡ فَصَّلَ لَکُمۡ مَّا حَرَّمَ عَلَیۡکُمۡ اِلَّا مَا اضۡطُرِرۡتُمۡ اِلَیۡہِ ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا لَّیُضِلُّوۡنَ بِاَہۡوَآئِہِمۡ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُعۡتَدِیۡنَ.
اور تمہارے لیے کون سی رکاوٹ ہے جس کی بنا پر تم اس جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لے لیا گیا ہو ؟ حالانکہ اس نے وہ چیزیں تمہیں تفصیل سے بتا دی ہیں جو اس نے تمہارے لیے (عام حالات میں) حرام قرار دی ہیں، البتہ جن کو کھانے پر تم بالکل مجبور ہی ہوجاؤ (تو ان حرام چیزوں کی بھی بقدر ضرورت اجازت ہوجاتی ہے) اور بہت سے لوگ کسی علم کی بنیاد پر نہیں (بلکہ صرف) اپنی خواہشات کی بنیاد پر دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔ بلا شبہ تمہارا رب حد سے گزرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔(سورہ الانعام: 119)

15- غیرمسلم کا خون:

خون چڑھانے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ کسی مسلمان ہی کا خون ہو بلکہ غیر مسلم کے خون سے بھی استفادہ کیاجاسکتا ہے ، دودھ پلانے والی عورت کے متعلق علامہ سرخسی حنفی کا بیان ہے:
’’اس میں کوئی برائی نہیں کہ کوئی مسلمان، کافرہ یا ایسی عورت کو جسے زنا سے بچہ پیدا ہوا ہو دودھ پلانے کے لئے اجرت پر رکھے، اس لئے کہ کفر کی خباثت اس کے اعتقاد میں ہے ،دودھ میں نہیں، انبیاء علیھم السلام اور رسولوں میں سے بعض ایسے ہیں جنھوں نے کافرہ عورتوں کا دودھ پیا ہے، ایسے ہی فاجرہ کی بدکاری کا اثر اس کے دودھ میں نہیں ہوتا ہے۔‘‘(المبسوط 127/15)
البتہ مناسب یہ ہے کہ اس سے اجتناب کیا جائے اور متبادل کے غیر موجودگی ہی میں اس سے استفادہ کیا جائے ۔
خون کو دوسرے میں منتقل کرنے کی وجہ سے کوئی ’’خونی رشتہ‘‘متعلق نہیں ہوگا۔

16-خون بیچنا:

خون جسم انسانی کا ایک حصہ ہے اور انسان سر کے بال سے پیر کے ناخن تک قابل احترام ہے۔ اسے سامان خرید و فروخت بنانا انسانیت کی توہین اور اس کے احترام کے خلاف ہے، اس لئے بہ ضرورت خون کے جائز ہونے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ خون دینے ولا بغیر کسی دباؤ کے اپنی خوشی سے کسی معاوضہ کے بغیر دے ، لیکن اگر مفت کوئی دینے کے لئے تیار نہیں تو بہ ضرورت خریدنا تو جائز ہے ، مگر بیچنا کسی حال میں درست نہیں اور بیچنے والا سخت گنہہ گار ہوگا۔ اس لئے کہ قرآن حکیم نے خون کو حرام قرار دیاہے اور جو چیز حرام ہے ، اس کا فروخت کرنا بھی ناجائز ہے۔
اور حضرت ابوجحیفہ کہتے ہیں:
نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَثَمَنِ الدَّمِ صحیح بخاری: 2086
اور حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
” لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا، وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ أَكْلَ شَيْءٍ حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ ".
’’اللہ یہود پر لعنت کرے کہ اللہ نے ان پر چربی کو حرام کیا تو انھوں نے اسے بیچ کر اس کی قیمت سے فائدہ اٹھایا اور بلا شبہ اللہ جب کسی قوم پر کسی چیز کا کھانا حرام کرتاہے تو اس کی قیمت سے فائدہ اٹھانا بھی حرام کرتاہے۔‘‘( رواہ احمد:2678.وابوداؤد: 3488)
اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے خون کی بیع کی حرمت پر اجماع نقل کیا ہے ۔(فتح الباری 487/4.باب ثمن الکلب)
وجہ یہ ہے کہ انسان مال خرید و فروخت نہیں ہے اور نہ ہی وہ اپنے جسم کا مالک ہے اور جب خود مالک و مختار نہیں ہے تو پھر بیچنے کا اختیار کیسے مل سکتا ہے چنانچہ فقہاء لکھتے ہیں:
بطل بيع ماليس بمال کالدم۔
جو چیز مال نہیں ہے اس کا بیچنا باطل ہے جیسے کہ خون۔(الدرالمختار:7/234)
اور ناگزیر‌ ضرورت کے لئے کسی چیز کے جائز ہونے سے اس کا فروخت کرنا جائز نہ ہوگا، چنانچہ فقہاء لکھتے ہیں کہ بہ ضرورت خنزیر کے بال کو استعمال کیاجاسکتا ہے، لیکن بے قیمت حاصل کرنے کی کوشش ہونی چاہئے، اگر مفت نہ ملے تو اس وقت خریدنا تو جائز ہے لیکن بیچنا اور اس کی قیمت لینا جائز نہیں چنانچہ علامہ حصکفی لکھتے ہیں :
’’اگر بلا ضرورت حاصل نہ ہوسکے تو ضرورت کی وجہ سے خریدنا جائز ہے لیکن بیچنا مکروہ ہے ، لہٰذا اس کی قیمت پاکیزہ نہ ہوگی۔‘‘(درمختار مع الرد113/4)
البتہ بلڈ بینک والے ضرورت مند کے لئے خون کو محفوظ رکھتے ہیں اور اس کی حفاظت پر رقم خرچ کرتے ہیں اس لئے خرچ کے بقدر وہ مریض سے اجرت لے سکتے ہیں ۔
نیز خون دینے والے کو مریض یا اس کے گھر کے لوگ خوش دلی سے تحفہ کے طور پر کچھ دینا چاہیں تو اس کی گنجائش ہے ۔(دیکھئے :قرار داد فقہ اکیڈمی ،رابطہ عالم اسلامی ،گیارہواں سیمینار ۔1409ھ)

17- بلڈ بینک:

دنیا حوادث کی آماجگاہ ہے ، حادثات پیش آتے ہی رہتے ہیں، بسا اوقات جنگ یا عمومی حادثہ کی وجہ سے خون کی کثیر مقدار کی ضرورت ہوتی ہے اور بر وقت خون کی کثیر مقدار کا فراہم ہونا مشکل اور مل بھی جائے تو خون کے گروپ کا ملنا دشوار ، گویا کہ بلڈ بینک کا قیام ایک ناگزیر طبی ضرورت بن گئی ہے کہ وہاں مختلف گروپ کے خون محفوظ رکھے جائیں اور موقع پڑنے پر انھیں استعمال کیاجائے ۔ لہٰذا اس غرض سے بے قیمت اور نہ ملنے پر خرید کر خون جمع کرنا جائز اور درست ہے کہ اس سے لوگوں کی ضرورت اور عمومی مصلحت کی تکمیل وابستہ ہے نیز شریعت کا بنیادی مقصد منافع کا حصول اور مفاسد کو ختم کرنا ہے اور بلڈ بینک کے ذریعے ایک مفسدہ کو دور کیا جاتا ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں بہت سے مریض جان سے ہاتھ دھو سکتے ہیں اور اس طریقے کو اختیار کرنے میں رفع حرج و مشقت بھی ہے کہ بر وقت خون کی دستیابی مشکل ہے اور اگر مل جائے تو مطلوبہ گروپ کا خون ملنا مشکل ترین ہے ۔
البتہ یہ ضروری ہے کہ اس طرح کے بینک حکومت کی ماتحتی میں کام کریں اور اسے آمدنی کا ذریعہ نہ بنایا جائے اور مریضوں کو مفت خون فراہم کیا جائے یا خرچ کے بقدر اجرت لی جائے۔
18-الکوحل کا استعمال:
الکوحل (Alcohol) ایک کیمیائی مرکب ہے جو کاربن، ہائیڈروجن اور آکسیجن پر مشتمل ہوتا ہے۔ سائنس میں الکوحل اُن مرکبات کو کہتے ہیں جن کے مالیکیول میں –OH (ہائڈروکسل گروپ) شامل ہو۔
الکوحل کی تین قسمیں ہیں:
1. ایتھائل الکوحل (Ethanol)
مشروبات میں نشہ اسی مادے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ،نشہ پیدا کرنے اور بعض دواؤں کو اور کھانے کی چیزوں کو محفوظ رکھنے کے لئے اس کا استعمال ہوتا ہے ۔
2. میتھائل الکوحل (Methanol)
یہ نشہ آور لیکن زہریلا ہوتا ہے۔ اسے پینے کی وجہ سے بینائی زائل ہوسکتی ہے اور بسا اوقات موت واقع ہوجاتی ہے۔ غیر قانونی شراب اور صنعتی کاموں میں اس کا استعمال ہوتا ہے ہوتا ہے،
3. آئیسوپروپل الکوحل (Isopropyl Alcohol)۔
پینے کے لائق نہیں اور نشہ آور بھی نہیں، جراثیم کش کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔
یہ عربی لفظ "الغول” سے ماخوذ ہے چنانچہ اس مادے کو مسلم اطباء نے اسی نام سے ذکر کیا ہے اور امام ابوبکر رازی (وفات 316ھ)نے سب سے پہلے اس مادے کو دریافت کیا ۔
الغول کا معنی کسی کو بے خبری میں قتل کردینا ،دھوکہ سے ہلاک کر دینا اور مدہوش کردینا ہے چنانچہ قران حکیم میں جنت کی شراب کی خصوصیت یہ بیان کی گئی ہے:
لَا فِیۡہَا غَوۡلٌ وَّ لَا ہُمۡ عَنۡہَا یُنۡزَفُوۡنَ ۔
نہ اس سے سر میں خمار ہوگا اور نہ ان کی عقل بہکے گی۔ (سورہ الصّٰفّٰت : 47)
امام ابن جریر طبری اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
یعنی اس شراب کے پینے کی وجہ سے ان کی عقل زائل نہیں ہوگی،کیونکہ دنیاوی شراب عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے اللہ تبارک و تعالی نے آخرت کی شراب کو اس آفت سے پاک رکھا ہے۔(جامع البیان 37/21)
امام مالک ،شافعی اور احمد بن حنبل کے نزدیک تمام نشہ آور سیال چیزیں کسی تفصیل کے بغیر حرام اور ناپاک ہیں اور امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف انگور ،کشمش اور کھجور کی شراب کے سلسلے میں اسی کے قائل ہیں لیکن اس کے علاوہ دیگر چیزوں کی شراب کو پاک سمجھتے ہیں اور اسے اسی وقت حرام قرار دیتے ہیں جب کہ اس سے نشہ پیدا ہوجائے
چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول ہے :
حرمت الخمرة بعينها قليلها وكثيرها والسكر من كل شراب. (اخرجه النسائي 321/8. الموسوعه الفقهيه94/25)
لہذا بطور دوا قلیل مقدار میں کجھور یا انگور کے علاوہ سے کشید کردہ الکوحل پینے میں ان کے یہاں کوئی حرج نہیں ہے ۔

19- بھانگ وغیرہ سے علاج:

عربی زبان میں نشہ کے لئے "سکر” کا لفظ استعمال ہوتا ہے ،جس میں زوال عقل کے ساتھ سرور اور مستی کی شدت پائی جاتی ہے ۔
اور اسی کے قریب ایک دوسرا لفظ "تخدیر” ہے جس میں عقل تو زائل ہوجاتی مگر اس میں مستی نہیں ہوتی ہے بلکہ غنودگی ،بے حسی اور بے شعوری کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور اسی بنیاد پر علم طب میں "تخدیر” (anesthesia) کا لفظ اس موقع کے لئے استعمال ہوتا ہےجب دواء وغیرہ کی مدد سے کسی کو بے ہوش کردیا جائے تاکہ آپریشن کی اذیت اور کرب سے مریض کو محفوظ رکھا جائے اور اطمینان کے ساتھ اس عمل کو انجام دیا جاسکے ۔
اور ایک تیسرا لفظ "تفتیر” ہے جس میں اعضاء ڈھیلے ہوجاتے ہیں اور آدمی سست پڑ جاتا ہے ۔(دیکھئے الموسوعہ الفقہیہ 258/4.رد المحتار 47/10)
"تخدیر” اور "تفتیر” میں نشہ کی کیفیت نہیں ہوتی ہے اس لئے "تخدیر” اور "تفتیر” پیدا کرنے والی چیزوں پر نشہ پیدا کرنے والی چیزوں کے احکام جاری نہیں ہوں گے بلکہ اس طرح کی چیزیں اصلا جائز اور پاک ہوتی ہیں لیکن جسم و عقل کے لئے نقصان دہ ہونے کی وجہ سے ان کا استعمال حرام ہے کہ شریعت کے پانچ بنیادی مقاصد میں سے ایک اہم مقصد عقل کی حفاظت ہے کہ یہی وہ بیش بہا دولت ہے جس کی وجہ سے انسان شرعی احکام کا مخاطب بننے کا شرف حاصل کرتا ہے اور شراب کی حرمت کی وجہ یہی عقل کا زوال ہے لہذا بعض چیزوں میں گرچہ سرور و مستی کی کیفیت نہیں ہوتی ہے مگر عقل زائل کرنے میں شراب کی طرح ہیں اس لئے حرام ہیں۔چنانچہ حضرت ام سلمہ کہتی ہیں:
نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ وَمُفْتِرٍ.
رسول اللہ ﷺ نے ہر مسکر اور مفتر سے منع فرمایا ہے.(ابوداؤد:3686)
علامہ طیبی کہتے ہیں کہ اس حدیث سے بھانگ وغیرہ کی حرمت پر استدلال کیا جاسکتا ہے جس سے سستی پیدا ہوتی ہے اور عقل زائل ہوجاتی ہے ،اس لئے کی شراب کی حرمت کی علت عقل کا زوال ہے اور وہ اس میں موجود ہے ۔(عون المعبود ۔رقم الحدیث: 3686)
البتہ بطور علاج اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے(1) کیونکہ بھانگ ،افیون اور حشیش وغیرہ جامد چیزیں تخدیر اور تفتیر پیدا کرتی ہیں ۔لہذا ان پر نشہ کے تمام احکام نافذ نہیں ہونگے بلکہ بہت سے مسائل میں دونوں کے درمیان فرق کا لحاظ رکھا جائے گا جس کی دلیل خود حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسکر اور مفتر کو حرف عطف کے ذریعے الگ الگ بیان فرمایا ہے اور عطف مغایرت کا تقاضا کرتا ہے یعنی سکر اور تفتیر کی حقیقت میں فرق ہے چنانچہ علامہ ابن رسلان کہتے ہیں کہ مفتر اور مسکر کو حرف عطف کے ذریعے بیان کرنا دونوں کے درمیان مغایرت پر دلالت کرتا ہے اس لئے کہ عطف دو چیزوں کے درمیان غیریت کا تقاضا کرتا ہے لہذا کہا جائے گا کہ مسکر سے مراد وہ ہے جس میں مستی اور سرور ہو اور وہ حرام ہے اور اس میں حد واجب ہے اور مفتر سے مراد حشیش جیسے نباتات ہیں جنھیں گھٹیا لوگ استعمال کرتے ہیں اور اس میں حد نہیں ہے ۔اور رافعی کہتے ہیں کہ وہ نباتات جس سے عقل زائل ہوجاتی ہے لیکن مستی کی شدت نہیں ہوتی ہے ان کا کھانا حرام ہے لیکن اس میں حد نہیں ہے۔
اور علامہ عظیم آبادی کہتے ہیں کہ ان میں سے کچھ کے ذریعے تفتیر پیدا ہوتی ہے بعض لوگوں کے خیال کے مطابق اور کچھ نقصاندہ ہیں بعض لوگوں کی رائے کے مطابق لہذا قلیل مقدار میں تناول کرنا حرام نہیں ہے خواہ صرف اسی کو کھایا جائے یا اسے کھانا یا دوا میں ملا کر استعمال کیا جائے البتہ اتنی مقدار میں کھانا کہ تفتیر پیدا ہوجائے جائز نہیں ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ہر مفتر سے منع فرمایا ہے لیکن آپ ﷺ نے یہ نہیں کہا ہے کہ جس کی کثیر مقدار سے تفتیر پیدا ہوجائے اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے ۔تو ہم صرف وہی کہیں گے جو حدیث سے ثابت ہے اور اپنی طرف سے کوئی بات نہیں گھڑیں گے تو حرمت کی وجہ تفتیر ہے نہ کہ بذات خود تفتیر پیدا کرنے والی چیز۔ لہذا قلیل مقدار جو تفتیر پیدا نہ کرے جائز ہے۔۔۔
اور علامہ زرکشی کہتے ہیں کہ یہ چیزیں صرف اس لئے حرام ہیں کہ ان سے عقل کو ضرر پہونچتا ہے اور یہ مفتر میں داخل ہیں جس سے حدیث میں منع کیا گیا ہے ۔۔۔
اور ابو نعیم کی ایک روایت میں انس بن حذیفہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو ! ہر مسکر حرام ہے اور ہر مخدر حرام ہے اور جس کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرے اس کی کم مقدار بھی حرام ہے اور جو عقل کو ڈھانک دے وہ حرام ہے۔
علامہ عظیم آبادی اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ انصاف کی نگاہ سے دیکھو کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر مسکر حرام ہے اور ہر مفتر حرام ہے اور ہر مخدر حرام ہے اور جس کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو تو اس کی کم مقدار بھی حرام ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ نے پہلے مسکر و مفتر اور مخدر کو حرام قرار دیا تو اس کے بعد فرمایا کہ جس کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی کم مقدار بھی حرام ہے لیکن یہ نہیں کہا کہ جس کی زیادہ مقدار مفتر ہو اس کی کم مقدار بھی حرام ہے اور جس کی زیادہ مقدار مخدر ہو تو اس کی کم مقدار بھی حرام ہے اور وضاحت کی ضرورت کے وقت اس سے خاموشی جائز نہیں ہے ۔اور نبی کریم ﷺ تینوں چیزوں کی حرمت ایک ساتھ ذکر کی ہے اور اس کی بعد نشہ آور کی کم مقدار کی حرمت بیان کی ۔اور اس موقع پر کم مقدار میں مفتر اور مخدر کی حرمت کو ذکر نہ کرنا واضح اور صریح دلیل ہے کہ کہ قلیل مقدار میں مفتر اور مخدر کا حکم قلیل مسکر سے الگ ہے کہ قلیل مسکر حرام ہے لیکن قلیل مفتر اور مخدر حرام نہیں ہے ۔(عون المعبود ۔رقم الحدیث: 3686)

 

(1)لان حرمتها ليست لعينها بل لضررها. رد المحتار 47/10۔وفي النهر: التحقيق ما في العنايه ان البنج مباح لانه حشيش واما السكر منه فحرام. الدر المختار 67/6. كتاب الحدود) ۔وان كان للتداوي فلا لعدمها. رد المحتار 47/10)

20-جلاٹین کیپسول:

جیلاٹین(Gelatin) ایک پروٹین کا نام ہے، جو جانور کی ہڈی ، کھال اور ریشوں سے حاصل کی گئی ’’کولیجن‘‘ سے تیار کی جاتی ہے،بسا اوقات مچھلی ،نباتات اور دوسری زرعی پیداوار سے بھی بنائی جاتی ہے۔
جلاٹین کو کیک ، بسکٹ، چیونگم، آئس کریم وغیرہ میں شامل کیا جاتا اور کیپسول بنایا جاتا ہے ۔
اگر جلاٹین نباتات اور مچھلی یا ایسے جانور سے حاصل کی گئی ہو جسے کھانا حلال ہو اور اسے شرعی طریقے پر ذبح کیا گیا ہو تو اس کا استعمال حلال ہے۔لیکن اگر حرام جانور یا حلال مگر مردار جانور کی کھال سے جلاٹین بنائی گئی ہے تو پھر اس کا کھانا حلال نہیں ہے۔چنانچہ فقہ اکیڈمی رابطہ عالم اسلامی نے اپنے پندرہویں سیمنار میں اس کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے ۔
اس لئے کے جلاٹین کی شکل میں آجانے کے بعد بھی اس کی حقیقت اور خصوصیت تبدیل نہیں ہوتی ہے بلکہ وہ اپنی تمام تر خصوصیات کے ساتھ باقی رہتی ہے اور قرآن حکیم میں بہ صراحت مردار اور خنزیر وغیرہ کو حرام قرار دیا گیاہے خواہ وہ کسی شکل میں ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
حُرِّمَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃُ وَ الدَّمُ وَ لَحۡمُ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ وَ الۡمُنۡخَنِقَۃُ وَ الۡمَوۡقُوۡذَۃُ وَ الۡمُتَرَدِّیَۃُ وَ النَّطِیۡحَۃُ وَ مَاۤ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیۡتُمۡ ۟ وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ ؕ ذٰلِکُمۡ فِسۡقٌ ؕ
تم پر مردار جانور اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور حرام کردیا گیا ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو اور وہ جو گلا گھٹنے سے مرا ہو، اور جسے چوٹ مار کر ہلاک کیا گیا ہو، اور جو اوپر سے گر کر مرا ہو۔ اور جسے کسی جانور نے سینگ مار کر ہلاک کیا ہو، اور جسے کسی درندے نے کھالیا ہو، الا یہ کہ تم (اس کے مرنے سے پہلے) اس کو ذبح کرچکے ہو، اور وہ (جانور بھی حرام ہے) جسے بتوں کی قربان گاہ پر ذبح کیا گیا ہو۔ اور یہ بات بھی (تمہارے لیے حرام ہے) کہ تم جوے کے تیروں سے (گوشت وغیرہ) تقسیم کرو۔ یہ ساری باتیں سخت گناہ کی ہیں۔ (المائده : 3 )
واضح رہے کہ مردار جانور کی کھال اگر چہ دباغت سے پاک ہو جاتی ہے مگر اسے کھانا حلال نہیں ہوتا ہے اس لئے کہ یہ ضروری نہیں کہ جو چیز پاک ہو اس کا کھانا بھی حلال ہو جیسے کہ درندوں کی کھال دباغت کی وجہ سے پاک ہو جاتی ہے مگر اس کا کھانا حلال نہیں ہوتا کیونکہ دباغت کے باوجود وہ مردار یا حرام جانور کی کھال ہے جسے کھانا حرام ہے۔
البتہ جلاٹین خنزیر کے علاوہ دوسرے حرام جانور یا حلال مگر غیرشرعی طریقہ سے ذبح شدہ یا مردار جانور کی خشک ہڈی سے حاصل کی گئی ہو تو چونکہ جانور کی خشک ہڈی پاک ہوتی ہے لہٰذا اس سے حاصل کی جانے والی جلاٹین پاک تو ہے لیکن کھانا حلال نہیں اس لئے صرف اس کا خارجی استعمال جائز ہے ۔
اور خنزیر کی کھال یا ہڈی سے حاصل کردہ جلاٹین کا استعمال کسی بھی طور پر جائز نہیں کیونکہ وہ مکمل طور پر نجس ہے ۔

21- اسٹیم سیل تھراپی:

اسٹیم سیل تھراپی دور حاضر کا ایک اہم طریقہ علاج ہے۔جس میں خلیات کے ذریعے دل کے امراض اور ذیابطیس وغیرہ کا علاج کیا جاتا ہے،ان امراض کی تعداد اسی(80) سے زائد ہے جن کا علاج اسٹیم تھراپی سے ممکن ہے ، یہ ایک آسان، محفوظ اور دیرپا طریقہ علاج ہے جو دو ایک دن میں مکمل ہوجاتا ہے ۔اس طریقہ علاج میں خراب یا تباہ خلیوں کو نئے صحت مند خلیوں سے بدل دیا جاتا ہے ۔
یعنی انجکشن یا آپریشن کے ذریعے اسٹیم خلیوں کو مریض کے جسم میں پہنچا کر خراب یا ناکارہ خلیات کو کار کرد بنایا جاتا ہے ، اس عمل کو اسٹیم سیل تھراپی یا اعضاء کی تخلیق (کلوننگ) کہا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کسی عضو کو الگ سے اس طرح سے بنایا جاتا ہے جیسے کہ فیکٹری میں کوئی چیز بنائی جاتی ہے یعنی اگر کسی مریض کو گردے کی ضرورت ہو تو کلوننگ کے ذریعہ الگ سے گردہ بنا دیا جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ذریعے کسی کمزور یا ناکارہ عضو کو سہارا دے کر یا اسے مکمل تبدیل کرکے نئے عضو کی طرح کام کرنے لائق بنایا جاتا ہے ۔
اسٹیم(Stem) بمعنی جڑ اور سیل (Cell) بمعنی خلیہ یعنی بنیادی خلیہ جو کسی جاندار میں موجود تمام خلیوں کی جڑ اور بنیاد ہوتی ہے اس لئے اسے تمام خلیات کی اصل اور جڑ کہا جاتا ہے جیسے کہ ایک بیج میں مکمل درخت بننے کی صلاحیت ہوتی ہے یا جیسے درخت کی جڑ اس کی شاخوں اور پتوں کی بنیاد ہوتی ہے۔
اور اسی کے ساتھ اس میں اس بات کی صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ بار بار تقسیم ہوکر از خود اپنی کاپی بنا سکتا ہے، وہ کسی بھی جاندار کے جسم میں مسلسل تقسیم ہوکر نئے خلیے بناتا رہتا ہے اور جسم کے دوسرے خلیے میں تبدیل ہوسکتا ہے ۔ایک اندازے کے مطابق یہ خلیے انسانی جسم کے تقریباً 200 مختلف خلیوں میں سے کسی بھی قسم کے خلیے میں تبدیل ہو نے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایک سٹیم سیل تقسیم ہوتا ہے تو ہر نئے خلیے میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ یا تو وہ سٹیم سیل کی شکل میں قائم رہے یا ایک ایسا خلیہ بن جائے جو کوئی مخصوص کام سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
"سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس صلاحیت کی وجہ سے سٹیم سیلز یا بنیادی خلیوں کو انسانی جسم کی "مرمت کے سازوسامان” کی شکل دی جا سکتی ہے۔انھیں ایسی تندرست بافتیں(Tissues) تیار کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے جو بیماری یا حادثے کی وجہ سے متاثر بافتوں کی جگہ لیں گی ۔

اسٹیم سیل کا ماخذ:

1- جنینی اسٹیم سیل (Embryonic Stem Cells):
نطفہ کی بارآوری (Fertilization) کے تقریباً پانچ دن بعد بننے والا جنین بلاسٹوسسٹ (Blastocyst) کہلاتا ہے اور اس کی اندرونی تہوں سے اسٹیم سیل کو اخذ کیا جاتا ہے۔ اور یہ جسم کے تقریباً تمام خلیات میں تبدیل ہوسکتا ہے ۔
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ سب سے کارآمد سٹیم سیل ایمبریوز کی بافتوں سے حاصل ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں ایسی صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ انسانی جسم کے کسی بھی خلیے کا روپ دھار سکتے ہیں۔
مصنوعی تولید میں ایک سے زائد بلاسوسسسٹ تیار کئے جاتے ہیں تاکہ ایک کے ناکارہ ہونے کی صورت میں دوسرے کا تجربہ کیا جاسکے اور کامیابی کی صورت میں یا تو انھیں ضائع کردیا جاتا ہے یا اسٹیم سیل کے حصول کے لئے محفوظ کرلیا جاتا ہے ۔
اور اسی طرح سے ساقط شدہ جنین سے بھی اسے حاصل کیا جاتا ہے ۔
2- نال کے خون کا اسٹیم سیل (Umbilical Cord Stem Cells):
یہ بچے کی پیدائش کے وقت نال (Umbilical Cord) سے حاصل کیے جاتے ہیں۔عام طور پر نال کاٹنے کے وقت اس میں موجود خون کو بچے کے جسم میں داخل کردیا جاتا ہے جسے اس خون کی ضرورت ہوتی ہے ؛ کیونکہ اس کے جسم میں خون کی مقدار کم ہوتی ہے اور اگر اس سے اسٹیم سیل کو لینا ہو تو اس خون کو نکال کر محفوظ کرلیا جاتا ہے لیکن اسے نکالنے کی وجہ سے کسی مرض یا خطرہ کا امکان ایک فیصد سے بھی کم ہوتا ہے ۔
3- بالغ اسٹیم سیل (Adult Stem Cells):
اسے بالغ انسان کی ہڈی کے گودے (Bone Marrow) بالوں کی جڑوں (Hair Follicle)
اور چمڑے کے نیچے کی چربی دار خلیات (Fat Cells) سے حاصل کیا جاتا ہے لیکن یہ بہت زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوتا ہے ۔کیونکہ ان میں کئی اور خلیے بھی ہوتے ہیں ان میں سے مخصوص خلیوں کی شناخت اور ان کو علاحدہ کرنا بہت مشکل کام ہے نیز جسم اسے جلدی قبول بھی نہیں کرتا ہے۔
4. مصنوعی یا ری پروگرامڈ اسٹیم سیل (Induced Pluripotent Stem Cells):
یہ عام خلیات کو لیبارٹری میں تبدیل کرکے اسٹیم سیل جیسی خصوصیات دی جاتی ہیں۔

اسٹیم سیل کا استعمال:

اس کے ذریعے خون کے کینسر کا علاج کیا جاتا ہے نیز ہڈیوں اور اعصاب کی ریپرنگ اور مرمت کی جاتی ہے ،ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ کو ٹھیک اور جلنے کی وجہ سے پڑنے والے داغ کو ختم کیا جاتا ہے ،
سائنس دان اسٹیم سیلز سے انسولین بنانے والے خلیات (Beta Cells) تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں جس کی ذریعے شوگر کے مریض انسولین کے انجیکشن سے نجات پاسکتے ہیں ۔
اسی کے ساتھ اس پر نئی دواؤں کا تجربہ کیا جاتا ہے تاکہ اس کے مضر اور مفید اثرات کو جانچا جاسکے ۔حاصل یہ ہے کہ یہ جان بچانے اور معذوری سے نجات دلانے کا ایک اہم طریقہ علاج ہے ۔

شرعی حکم:

اسٹیم سیل خون کی طرح ہے لہذا بوقت ضرورت اس طریقہ علاج کو اختیار کرنے کی گنجائش ہوگی کہ بالغ کا اسٹیم سیل حاصل کرنے میں کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ،اسی طرح سے نال کا خون لینے میں بھی بچے کی ہلاکت یا کمزوری کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا ہے۔جنینی اسٹیم سیل (Embryonic Stem Cells) میں بلاسٹوسسٹ کی حیثیت زندہ وجود کی نہیں ہوتی ہے بلکہ وہ بھی ایک طرح سے خون ہے اور اس میں جو نمو پائی جاتی ہے وہ نباتی زندگی کے مشابہ ہے اس لئے زائد اور ناقابل انتفاع جنین سے اسٹیم سیل لینے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ اسے اس مقصد کے لئے پیدا نہ کیا گیا ہو اور نہ ہی اسے تجارتی مقصد سے استعمال کیا جائے نیز میاں بیوی کی اجازت کے بغیر حاصل نہ کیا جائے۔
اسی طرح سے زائد علقہ پر ناگزیر طبی تحقیق میں بھی کوئی قباحت نہیں ہے۔

22-مشیمہ کا استعمال:

رحم مادر میں ایک جھلی ہوتی ہے جس میں بچہ پلتا بڑھتا ہے اور پیدائش کے وقت وہ جھلی پھٹتی ہے اور اس میں موجود چکنے پانی کے ساتھ بچہ باہر آجاتا ہے، کچھ دیر کے بعد دوبارہ درد ہوتا ہے اور وہ جھلی باہر آجاتی ہے۔ انسان کے بچے کی جھلی کو عربی میں مشیمہ کہتے ہیں۔
اسٹیم سیل حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ مشیمہ بھی ہے جسے پیدائش کے بعد ضائع کر دیا جاتا ہے ۔ اگر اس سے اسٹیم سیل اخذ کر کے محفوظ کر لیا جائے تو آئندہ خود اس بچے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے جسے اس کا جسم آسانی سے قبول کر لے گا؛ کیونکہ وہ اسی کے جسم کا ایک حصہ ہے . اسی طرح سے جو بچے پیدائشی طور پر مختلف امراض کا شکار ہوتے ہیں ان کے لیے بھی کارگر ہے اور اس کے ذریعے انہیں تکلیف دہ امراض سے چھٹکارا دلایا جا سکتا ہے اور ان کی جان بچائی جا سکتی ہے۔
ظاہر ہے کہ مشیمہ سے بھی اسٹیم سیل حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مشیمہ کے اجزاء سے بعض دوائیاں بھی بنائی جاتی ہیں جنہیں کھایا یا اس کا انجکشن لگایا جاتا ہے ۔
ظاہر ہے کہ یہ انسان کے ایک جزء سے فائدہ اٹھانا ہے اور یہ بات گزر چکی ہے کہ انسان اپنے جسم کا مالک نہیں ہے اس لئے وہ اپنے جسم کے کسی حصے کو نہ تو بیچ سکتا ہے اور نہ ہبہ کر سکتا ہے نیز اس کے تمام اجزاء قابل احترام ہیں اور دوا وغیرہ میں استعمال کرنے میں اس کی اہانت ہے اگرچہ وہ زائد اور کسی کام کے لائق نہ ہو چنانچہ اسی بنیاد پر انسانی بال اور ناخن وغیرہ کی خرید و فروخت یا کسی کام میں ان کا استعمال حرام ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورتوں پر لعنت کی ہے جو دوسروں کے بال کو اپنے بال کے ساتھ لگا لیتی ہیں۔
اس کے باوجود اگر کسی شخص نے اس سے دوا تیار کر لی ہے تو دیکھا جائے گا کہ کیا دوا بننے کی وجہ سے اس کی حقیقت بالکل بدل چکی ہے تو وہ پاک ہے جیسے کہ گوبر جلنے کے بعد راکھ کی شکل میں آجانے سے ناپاک نہیں رہ جاتا ہے ۔ اگر ایسا ہے تو اس دوا کو استعمال کرنا جائز ہے۔لیکن اگر اس کی حقیقت تبدیل نہیں ہوئی ہے بلکہ اس کی خاصیت اس میں موجود ہے تو اس کے استعمال کا وہی حکم ہے جو کسی حرام دوا کے استعمال کا ہے یعنی ضرورت شدید کے وقت ہی گنجائش ہوگی۔

23-جینیٹک تھراپی:

جینیٹک تھراپی (Genetic Therapy) ایک جدید طریقۂ علاج ہے جس میں انسان کے خلیات (cells) کے اندر موجود جین (Gene) کو فعال ،درست یا تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ موروثی یا بعض دیگر بیماریوں کا علاج کیا جا سکے۔
اس کے لیے عموماً ایک خاص وائرس (جسے ویکٹر کہتے ہیں) استعمال کیا جاتا ہے، جو نئے یا درست جین کو خلیے کے اندر پہنچاتا ہے۔
یہ طریقہ کار بیماری کے علاج کے بجائے بنیادی وجہ (ڈی این اے) کو ٹھیک کرتا ہے، جس سے کینسر، اور دیگر موروثی امراض کا علاج ممکن ہو رہا ہے۔
جین دراصل ہمارے جسم کے خلیوں میں موجود DNA کا ایک حصہ ہوتا ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ ہمارا قد، رنگ، شکل و صورت کیسی ہو؟جسم کے مختلف اعضا کیسے کام کریں.کون سی خصوصیات والدین سے اولاد میں منتقل ہوں؟

جینیٹک تھراپی کی قسمیں اور حکم:

1- توالد و تناسل سے متعلق جین کو منتقل کرنا:
یہ جین انسان کے موروثی خصوصیات کا مخزن ہوتا ہے اور اس کی نسلوں میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔
اس طرح کے جین کی تبدیلی جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں اختلاط نسب ہے حالانکہ نسلی شناخت کی اسلام میں خاص اہمیت ہے بلکہ نسل کی حفاظت اسلام کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے اور اسی وجہ سے زنا کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔
اور حضرت ابو درداء سے منقول ہے:
أَنَّهُ أَتَى بِامْرَأَةٍ مُجِحٍّ عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ ، فَقَالَ : ” لَعَلَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُلِمَّ بِهَا ". فَقَالُوا : نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنًا يَدْخُلُ مَعَهُ قَبْرَهُ ؛ كَيْفَ يُوَرِّثُهُ، وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ ؟ كَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ، وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ ؟ ".
نبی کریم ﷺ ایک حاملہ عورت کے پاس سے گزرے جو جلد ہی بچہ جننے والی تھی اور ایک خیمے کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:شاید اس کا مالک اس کے ساتھ صحبت کرنا چاہتا ہے؟لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں۔آپ ﷺ نے فرمایا:میں نے ارادہ کیا کہ اس پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ اس کی قبر میں داخل ہو۔ وہ کیسے اس (بچے) کو وارث بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں؟ اور وہ کیسے اسے غلام بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں؟(صحیح مسلم:1441)
نسب میں اختلاط سے بچنے کے لئے قید کردہ ایسی باندی سے جماع کرنے سے منع کیا گیا ہے جس کے یہاں جلد ہی پیدائش ہونے والی ہے اور یہ وجہ توالد و تناسل کے جین کو منتقل کرنے میں بھی پائی جاتی ہے ۔

2-اچھی صفات کے حامل جین کو منتقل کرنا:
کسی شخص کی بہتر صفات کو منتقل کرنے کے لیے جین کو تبدیل کرنا مثلا خوبصورتی رنگ و روپ، قد و قامت، آنکھوں کی رنگت یا ذہانت کی تبدیلی کے لئے ان صفات کے حامل شخص کے جین کو دوسرے میں منتقل کرنا۔
یہ صورت بھی جائز نہیں ہے کہ اس میں اللہ کی خلقت میں دخل اندازی اور اس میں تبدیلی ہے جو قرآن کے بیان کے مطابق شیطانی بہکاوے کا نتیجہ ہے۔قرآن پاک میں ہے :
وَّ لَاُضِلَّنَّہُمۡ وَ لَاُمَنِّیَنَّہُمۡ وَ لَاٰمُرَنَّہُمۡ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الۡاَنۡعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّہُمۡ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلۡقَ اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یَّتَّخِذِ الشَّیۡطٰنَ وَلِیًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَقَدۡ خَسِرَ خُسۡرَانًا مُّبِیۡنًا۔
اور شیطان نے کہا: میں انہیں راہ راست سے بھٹکا کر رہوں گا، اور انہیں خوب آرزوئیں دلاؤں گا، اور انہیں حکم دوں گا تو وہ چوپایوں کے کان چیر ڈالیں گے، اور انہیں حکم دوں گا تو وہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی پیدا کریں گے۔ اور جو شخص اللہ کے بجائے شیطان کو دوست بنائے اس نے کھلے کھلے خسارے کا سودا کیا۔ (سورہ النسآء: 119)
3-امراض کے علاج کے لئے جین کی تبدیلی (Somatic Gene Therapy):
موجودہ بیماری کو زائل کرنے یا کسی بیماری سے بچنے کے لیے احتیاطی طور پر جین کی تبدیلی جائز ہے جیسے کہ کینسر یا ایڈز وغیرہ کے حامل جین کو تبدیل کر کے اس کی جگہ صحت مند جین داخل کرنا۔

24- کورنیا کی منتقلی:

آنکھ کا سب سے اوپر اور سامنے والا ، شیشے کی طرح صاف و شفاف ،گنبد نما حصہ کورنیا(Cornea) کہلاتا ہے جو رنگین حصہ (iris) اور پُتلی (pupil) کے اوپر ایک شفاف تہہ کی طرح لگا ہوا ہے ۔ یہ آنکھ کی کھڑکی کی طرح ہے جس سے روشنی آنکھ کے اندر داخل ہو کر بینائی پیدا کرتی ہے۔
کورنیا انسانی جسم کا واحد حصہ ہے جس میں خون کی کوئی نس نہیں ہوتی، اور یہی خاصیت اسے بالکل شفاف رکھتی ہے اور یہ شفافیت ناگزیر ہے، کیونکہ خون کی موجودگی میں روشنی آنکھ کے اندر نہیں پہونچ پاتی۔ خون کی گردش کی جگہ وہ براہ راست ہوا سے آکسیجن جذب کرتا ہے، اور آنسوؤں اور آنکھ کے اگلے حصے میں موجود ایک خاص مائع (Aqueous Humor) سے غذاء اجزاء حاصل کرتا ہے۔
کورنیا کی منتقلی، جسے کیراٹوپلاسٹی بھی (Corneal Transplant / Keratoplasty) کہتے ہیں، ایک سرجری ہے جس میں خراب یا دھندلا کورنیا نکال کر اس کی جگہ کسی فوت شدہ انسان کا مکمل کورنیا یا اس کا ایک حصہ لگایا جاتا ہے، تاکہ بینائی بحال یا بہتر ہو سکے۔
مردہ شخص کا کورنیا اس کے وارثوں کی اجازت یا مرنے والے کی وصیت کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے اور اسے نکالنے کے بعد
آرٹیفیشل کورنیا لگا دیا جاتا ہے ،جس کی وجہ سے بد نما معلوم نہیں ہوتا ۔
یہ بات گزر چکی ہے کہ انسان اپنے جسم یا اس کے کسی حصے کا مالک نہیں ہے نہ ہی وہ کوئی مال ہے بلکہ اس کے پاس ایک امانت ہے جس سے شرعی حدود میں رہ کر استعمال کرنے اور فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے لھذا نہ وہ اسے کسی کو ہبہ کرسکتا ہے اور نہ اس کی وصیت کرسکتا ہے کہ دونوں کے صحیح ہونے کے لئے مال اور اس کا مالک ہونا ضروری ہے
اس لئے کورنیا کی منتقلی جائز نہیں ہے۔
حدیث گزرچکی ہے کہ ایک صحابی نے مرض سے پریشان ہوکر اپنے ہاتھ کو کاٹ دیا جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوگئی مگر ہجرت کی برکت سے خودکشی کے باوجود ان کی مغفرت کردی گئی البتہ یہ کہا گیا کہ جس ہاتھ کو تم نے خراب کیا ہے ہم اسے ٹھیک نہیں کریں گے ۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے جسم کے جس حصے کو انسان کسی عذر کے بغیر خود کاٹ دے یا اس کے کاٹنے کی وصیت کردی ہو تو وہ مرنے کے بعد اسی طرح رہتا ہے اور اس کی جگہ دوسرا عضو عطا نہیں کیا جائے گا لہذا جسے مرنے کے بعد زندہ ہونے کا یقین ہو اس کے لئے آنکھوں کے عطیہ کی وصیت کرنا کسی طرح صحیح نہیں۔
اور علامہ سرخسی لکھتے ہیں:
وَفِيهِ دَلِيلُ جَوَازِ الْمُدَوَّاةِ بِعَظْمٍ بَالٍ. وَهَذَا لِأَنَّ الْعَظْمَ لَا يَتَنَجَّسُ بِالْمَوْتِ عَلَى أَصْلِنَا، لِأَنَّهُ لَا حَيَاةَ فِيهِ إلَّا أَنْ يَكُونَ عَظْمَ الْإِنْسَانِ أَوْ عَظْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ يُكْرَهُ التَّدَاوِي بِهِ؛ لِأَنَّ الْخِنْزِيرَ نَجِسُ الْعَيْنِ فَعَظْمُهُ نَجِسٌ كَلَحْمِهِ لَا يَجُوزُ الِانْتِفَاعُ بِهِ بِحَالٍ مَا. وَالْآدَمِيُّ مُحْتَرَمٌ بَعْدَ مَوْتِهِ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ فِي حَيَاتِهِ. فَكَمَا يَحْرُمُ التَّدَاوِي بِشَيْءٍ مِنْ الْآدَمِيِّ الْحَيِّ إكْرَامًا لَهُ فَكَذَلِكَ لَا يَجُوزُ التَّدَاوِي بِعَظْمِ الْمَيِّتِ. قَالَ – ﷺ -: «كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِ عَظْمِ الْحَيِّ.
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بوسیدہ ہڈی کو بطور دوا استعمال کرنا جائز ہے ؛کیونکہ وہ موت کی وجہ سے ناپاک نہیں ہوتی ہے اس لئے کہ اس میں زندگی ہی نہیں ہے الا یہ کہ خنزیر یا انسان کی ہڈی ہو تو اس سے دوا کرنا مکروہ ہے کیونکہ خنزیر مکمل طور پر ناپاک ہے لہذا اس کے گوشت کی طرح سے اس کی ہڈی بھی ناپاک ہے اس لئے کسی بھی حال میں اس سے انتفاع جائز نہیں ہے اور انسان جس طرح سے زندگی میں قابل احترام ہے اسی طرح سے مرنے کے بعد بھی ہے لہذا جس طرح سے زندہ ہونے کی حالت میں اس کے احترام کے پیش نظر اس کے جسم کے کسی حصے کو بطور دوا استعمال کرنا جائز نہیں ہے اسی طرح سے مرنے کے بعد بھی اس کی ہڈی سے انتفاع درست نہیں ہے ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مردہ کے ہڈی کو توڑنا ایسے ہی ہے جیسے کہ زندہ کی ہڈی کو توڑنا ۔
(شرح السیر الکبیر . باب دواء الجراحۃ،128)
اور مفتی محمد شفیع صاحب لکھتے ہیں:
"انسان کے اعضاء و اجزاء انسان کی اپنی ملکیت نہیں ہیں جن میں وہ مالکانہ تصرفات کرسکے، اسی لیے ایک انسان اپنی جان یا اپنے اعضاء و جوارح کو نہ بیچ سکتا ہےنہ کسی کو ہدیہ اور ہبہ کے طور پر دے سکتا ہے،اور نہ ان چیزوں کو اپنے اختیار سے ہلاک و ضائع کرسکتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کے اصول میں تو خود کشی کرنا اور اپنی جان یا اعضاء رضاکارانہ طور پر یا بقیمت کسی کو دے دینا قطعی طور حرام ہی ہے جس پر قرآن و سنت کی نصوصِ صریحہ موجود ہیں، تقریباً دنیا کے ہر مذہب و ملت اور عام حکومتوں کے قوانین میں اس کی گنجائش نہیں، اس لیے کسی زندہ انسان کا کوئی عضو کاٹ کر دوسرے انسان میں لگا دینا اس کی رضامندی سے بھی جائز نہیں ۔۔۔ شریعتِ اسلام نے صرف زندہ انسان کے کارآمد اعضاء ہی کا نہیں بلکہ قطع شدہ بے کار اعضاء و اجزاء کا استعمال بھی حرام قرار دیا ہے، اور مردہ انسان کے کسی عضو کی قطع و برید کو بھی ناجائز کہا ہے، اور اس معاملہ میں کسی کی اجازت اور رضامندی سے بھی اس کے اعضاء و اجزاء کے استعمال کی اجازت نہیں دی، اور اس میں مسلم و کافر سب کا حکم یکساں ہے؛ کیوں کہ یہ انسانیت کا حق ہےجو سب میں برابر ہے۔تکریمِ انسانی کو شریعتِ اسلام نے وہ مقام عطا کیا ہے کہ کسی وقت کسی حال کسی کو انسان کے اعضاء و اجزاء حاصل کرنے کی طمع دامن گیر نہ ہو، اور اس طرح یہ مخدومِ کائنات اور اس کے اعضاء عام استعمال کی چیزوں سے بالاتر ہیں جن کو کاٹ چھانٹ کر یا کوٹ پیس کر غذاؤں اور دواؤں اور دوسرے مفادات میں استعمال کیا جاتا ہے، اس پر ائمہ اربعہ اور پوری امت کے فقہاء متفق ہیں، اور نہ صرف شریعتِ اسلام بلکہ شرائعِ سابقہ اور تقریباً ہر مذہب و ملت میں یہی قانون ہے”۔
(انسانی اعضاء کی پیوندکاری/36)

25-حدود و قصاص میں کاٹے گئے اعضا کی پیوند کاری:

کاٹ کر الگ کئے گئے عضو کی پیوند کاری بظاہر ایک نیا مسئلہ ہے لیکن فقہائے متقدمین کے یہاں اس کا تصور موجود ہے چنانچہ امام مالک ،محمد ،شافعی اور احمد بن حنبل نے اس پر گفتگو کی ہے کہ اگر کسی کا کان کاٹ دیا گیا ہو اور پھر دوبارہ وہ اسے لگا لے تو کیا اسے قصاص یا دیت کا حق ملے گا یا نہیں؟
اس سلسلے میں فقہی کتابوں میں مذکور تفصیل حسب ذیل ہے:
اگر کسی شخص نے کسی کے جسم کے کسی حصے کو مثلا کان کو کاٹ دیا یا دانت کو توڑ دیا اور پھر اس نے سرجری کے ذریعے اسے جوڑ لیا تو اس کی وجہ سے قصاص یا دیت ساقط نہیں ہوگی، حنفیہ، مالکیہ ، شافعیہ اور بعض حنابلہ کا یہی نقطہ نظر ہے۔(دیکھئے : المدونه113/6. باب ما جاء في دية العقل والسمع والاذنين .كتاب الاصل467/4. كتاب الام 52/6.المغني422/9. قضايا فقهيه معاصره259/1)
اس لیے کہ قصاص یا دیت اس سے سرزد ہونے والے جرم کا بدلہ ہے اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے:
* فَمَنِ اعۡتَدٰی عَلَیۡکُمۡ فَاعۡتَدُوۡا عَلَیۡہِ بِمِثۡلِ مَا اعۡتَدٰی عَلَیۡکُمۡ ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ .
* چنانچہ اگر کوئی شخص تم پر کوئی زیادتی کرے تو تم بھی ویسی ہی زیادتی اس پر کرو جیسی زیادتی اس نے تم پر کی ہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ انہی کا ساتھی ہے جو اس کا خوف دل میں رکھتے ہیں. (سورہ البقرۃ : 194)
* وَ کَتَبۡنَا عَلَیۡہِمۡ فِیۡہَاۤ اَنَّ النَّفۡسَ بِالنَّفۡسِ ۙ وَ الۡعَیۡنَ بِالۡعَیۡنِ وَ الۡاَنۡفَ بِالۡاَنۡفِ وَ الۡاُذُنَ بِالۡاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ ۙ وَ الۡجُرُوۡحَ قِصَاصٌ ؕ فَمَنۡ تَصَدَّقَ بِہٖ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ ؕ وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ۔
* اور ہم نے اس (تورات میں) ان کے لیے یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت۔ اور زخموں کا بھی (اسی طرح) بدلہ لیا جائے۔ ہاں جو شخص اس (بدلے) کو معاف کردے تو یہ اس کے لیے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کیے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ لوگ ظالم ہیں۔ ( سورہ المآئدۃ :45)
اور کسی عضو کو کاٹ دینے کی وجہ سے جرم ثابت ہو چکا ہے لہذا جان بوجھ کر کاٹنے کے شکل میں قصاص اور غلطی کی صورت میں دیت واجب ہے اور اسی حصے کو دوبارہ جوڑ دینے کی وجہ سے یہ حق ساقط نہیں ہوگا جیسے کہ کوئی شخص کسی کو اس طرح سے زخم لگا دے کہ ہڈی نظر آنے لگے جسے فقہی اصطلاح میں موضحہ کہا جاتا ہے پھر علاج کی وجہ سے وہ ٹھیک ہو جائے تو اس کی وجہ سے قصاص یا دیت ساقط نہیں ہو جاتی ہے، نیز دوبارہ جوڑنے کی وجہ سے پہلے کی طرح خوبصورتی اور مضبوطی باقی نہیں رہتی ہے لہذا قصاص یا دیت ساقط کرنے کی وجہ سے مظلوم کے حق کو ساقط کرنا ہوگا اور قصاص یا دیت یقینی طور پر کتاب و سنت کے ذریعے ثابت ہے لہذا اس یقین کو زائل کرنے کے لیے بھی کسی یقینی دلیل کی ضرورت ہوگی جو مذکورہ مسئلے میں موجود نہیں ہے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر حد یا قصاص میں کاٹے گئے عضو کو مجرم اسے دوبارہ اس کی جگہ پر لگانا چاہے تو کیا اس کی اجازت ہوگی اس سوال کے جواب میں امام شافعی کہتے ہیں کہ قصاص میں اس عضو کو کاٹ دینے کی وجہ سے مقصد حاصل ہوچکا ہے اس لیے اگر مجرم اسے دوبارہ لگانا چاہے تو اس کی اجازت ہوگی اور اس کی وجہ سے قصاص کا حکم لغو نہیں ہوگا اس لیے دوبارہ اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا حنفیہ کی بعض عبارتوں سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے اور بعض حنابلہ بھی اسی کے قائل ہیں ( دیکھئے: الام 52/6.المغنی/423/9. قضایا فقیہ معاصرہ264/1)
اور مالکیہ یہ کہتے ہیں کہ اگر مظلوم نے اپنے عضو کو دوبارہ لگا لیا ہے تو مجرم کو اپنے عضو کو دوبارہ لگانے کی وجہ سے کوئی تاوان نہیں دینا ہوگا لیکن اگر مظلوم نے اسے دوبارہ نہیں لگایا ہے اور مجرم نے لگا لیا ہے اس صورت میں وہ دیت ادا کرے گا. (البیان والتحصیل 68/16)
یہ تمام تفصیل قصاص میں کاٹے گئے عضو کے سلسلے میں ہے لیکن اگر کسی کا ہاتھ یا پیر چوری اور ڈاکہ وغیرہ کی حد میں کاٹ دیا گیا ہو تو کیا اس کو دوبارہ لگانے کی اجازت ہوگی ؟ فقہی کتابوں میں اس سلسلے میں کچھ مذکور نہیں ہے شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس زمانے میں ہاتھ یا پیر کو اپنی جگہ پہ تو دوبارہ لگانے کا تصور نہیں تھا اور موجودہ دور میں بھی ان کو اپنی جگہ پر لگانے کے سلسلے میں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے بلکہ کثیر سرمایہ خرچ کر کے ان کی پیوندکاری کر دی جائے تو بھی وہ پہلے کی طرح سے کام نہیں کرتا بلکہ مصنوعی اعضاء ان سے زیادہ کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔
البتہ قصاص کے مسئلے پر قیاس کرتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح سے ان کے لیے مصنوعی ہاتھ پر لگانے کی اجازت ہے اسی طرح سے کاٹے گئے ہاتھ کو بھی دوبارہ جوڑنے کی اجازت ہوگی کیونکہ ہاتھ کاٹ دینے کی وجہ سے حد کا حکم مکمل ہو گیا ہے لہذا اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے کہ وہ دوبارہ پیوند کاری کے ذریعے اسے لگا لیں ۔(دیکھیے قضایا فقہیہ معاصرہ 274/1)

26- جسمانی طور پر جڑے ہوئے لوگوں کو الگ کرنا:

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو لوگوں کے جسم کا ایک حصہ دوسرے سے جڑا ہوا ہوتا ہے مثلا دونوں کا سر یا کندھا جڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے ان کی زندگی بڑی دشوار ہوتی ہے اور شادی شدہ زندگی گزارنا بھی ممکن نہیں ہوتا ہے۔
ایسی حالت میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان دونوں کو الگ کرنا ناگزیر ہے کہ اس کے بغیر ان کی زندگی ممکن نہیں۔ لہذا اگر زندہ رہنے کے لیے ان کو الگ کرنا ضروری ہو اور اس کے بغیر ان کے مرنے کا اندیشہ ہو تو آپریشن کے ذریعے ان کو الگ کرنا شرعا واجب ہے؛ کیونکہ جان کی حفاظت شریعت کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد ہے ۔
اور اگر الگ کرنے کی صورت میں دونوں یا ان میں سے کسی ایک کی موت کا غالب امکان ہو تو الگ کرنا حرام ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
*وَ اَنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ ۚۖۛ وَ اَحۡسِنُوۡا ۚۛ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ
*اور اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو، اور اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی اختیار کرو، بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورہ البقرۃ: 195)
* وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمۡ رَحِیۡمًا
* اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ یقین جانو اللہ تم پر بہت مہربان ہے۔(سورہ النسآء:29)
اسی طرح سے اگر ڈاکٹروں کی رائے ہو کہ الگ نہ کرنے کی صورت میں دونوں کی وفات کا ظن غالب ہے اور الگ کرکے ایک کی زندگی بچائی جا سکتی ہے تو دونوں کی ہلاکت کے ضرر سے بچنے کے لیے کمتر ضرر کو اختیار کرتے ہوئے آپریشن کرنے کے ذریعے دونوں کو الگ کرنے کی اجازت ہوگی۔
اور اگر جڑے رہنے میں دونوں یا کسی ایک کی وفات کا اندیشہ نہ ہو البتہ ان کی صحت کے پیش نظر الگ کرنا بہتر ہے تو ایسی حالت میں آپریشن کے ذریعے دونوں کو الگ کرنا مستحب ہے تاکہ وہ شخصی افعال کو انجام دینے میں آزاد ہوں اور ایک دوسرے کے ستر پر نگاہ نہ پڑے اور کسی ایک سے سرزد ہونے والے جرم میں دوسرا ماخوذ نہ ہو اور دشوار تر زندگی سے چھٹکارا مل سکے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَ مَا جَعَلَ عَلَیۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ مِنۡ حَرَجٍ.
اور تم پر دین کے معاملے میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔
اور فقہی ضابطہ ہے کہ ممکن حد تک ضرر اور تکلیف کو دور کیا جائے گا (الضرر یدفع بقدر الامکان) ۔

27-پوسٹ مارٹم:

کسی کی موت مشتبہ حالت میں ہوگئی ہو تو پوسٹ مارٹم کے ذریعہ یہ پتہ لگانا جائز ہے کہ موت کا حقیقی سبب کیا ہے؟ اس کی موت خودکشی کی وجہ سے ہوئی ہے یا کسی نے گلا گھونٹ دیا ہے؟ موت کی وجہ زہر خورانی ہے یا طبعی؟ کیونکہ اس طرح قاتل کی تلاش میں مدد ملتی ہے اور کوئی بے قصور انسان ماخوذ نہیں ہوتا ہے، اس لئے کہ بسااوقات شبہ کی بنیاد پر کسی کو پکڑ لیا جاتا ہے پھر پوسٹ مارٹم کے ذریعہ معلوم ہوتاہے کہ موت کی وجہ طبعی ہے۔ چونکہ اس صورت میں میت سے ایک دوسرے کا حق متعلق ہوچکا ہے کہ اگر ایسا نہ کیاجائے تو خطرہ ہے کہ ایک بے قصور شخص پکڑا جائے ، نیز قاتل کی تلاش بھی شرعاً مطلوب ہے ، اس لئے اہانت انسانی کو انگیز کیا جاسکتا ہے۔
اچانک کوئی وبائی مرض پھیل جائے اور بکثرت موت واقع ہونے لگے مگر اس موت کے اسباب معلوم نہ ہوں تو اس مقصد سے پوسٹ مارٹم کرنا بھی جائز ہے تاکہ اس کے سبب کو معلوم کرکے احتیاطی تدبیر اپنائی جاسکے اور مرض پر قابو پایا جاسکے، کیونکہ فقہی اصول ہے کہ عمومی مصالح کی بناپر انفرادی نقصان کو گوارا کیاجاتا ہے اور اس مقصد سے اہانت انسانیت کے پہلو کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے، دبستان فقہ حنبلی کے ترجمان علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں کہ اگرکوئی انسان کنویں میں گرکر مرجائے اور پانی کی ضرورت ہو تو لوہے کے کانٹے سے اسے نکالنا جائز ہے ، گرچہ لاش پھٹ جائے ، اس کی وجہ سے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اس لئے کہ زندہ کی حرمت اور اس کے نفس کی حفاظت، میت کو مثلہ ہونے سے بچانے کے مقابلہ میں بڑھ کر ہے ، کیونکہ پوری دنیا کا ختم ہوجانا اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل سے کمتر ہے، نیز کوئی مسلمان دوسرے کے مال کو نگل لے(اور اسی حالت میں انتقال کرجائے) تو زندہ کے مال کی حفاظت کے مقصد سے اس کے پیٹ کو چاک کردیا جائے گا تو جان کی حفاظت مال کی حفاظت سے زیادہ اہم ہے(1)۔‘‘(المغنی مع الشرح الکبیر 407/2)

(1)امْرَأَةٌ حَامِلٌ مَاتَتْ وَاضْطَرَبَ فِي بَطْنِهَا شَيْءٌ وَكَانَ رَأْيُهُمْ أَنَّهُ وَلَدٌ حَيٌّ شُقَّ بَطْنُهَا ، فَرْقٌ بَيْنَ هَذَا وَبَيْنَ مَا إذَا ابْتَلَعَ الرَّجُلُ دُرَّةً فَمَاتَ وَلَمْ يَدَعْ مَالًا عَلَيْهِ الْقِيمَةُ وَلَا يُشَقُّ بَطْنُهُ لِأَنَّ فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُولَى إبْطَالَ حُرْمَةِ الْمَيِّتِ لِصِيَانَةِ حُرْمَةِ الْحَيِّ فَيَجُوزُ .أَمَّا فِي الْمَسْأَلَةِ الثَّانِيَةِ إبْطَالُ حُرْمَةِ الْأَعْلَى وَهُوَ الْآدَمِيُّ لِصِيَانَةِ حُرْمَةِ الْأَدْنَى وَهُوَ الْمَالُ ، وَلَا كَذَلِكَ فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُولَى انْتَهَى.(فتح القدير 3 / 431)
حَامِلٌ مَاتَتْ فَاضْطَرَبَ الْوَلَدُ فِي بَطْنِهَا فَإِنْ كَانَ أَكْبَرُ رَأْيِهِ أَنَّهُ حَيٌّ يَشُقُّ بَطْنَهَا؛ لِأَنَّ ذَلِكَ تَسَبُّبٌ فِي إحْيَاءِ نَفْسٍ مُحْتَرَمَةٍ بِتَرْكِ تَعْظِيمِ الْمَيِّتِ فَالْإِحْيَاءُ أَوْلَى وَيَشُقُّ بَطْنَهَا مِنْ الْجَانِبِ الْأَيْ……. وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَجُلٌ ابْتَلَعَ دُرَّةً أَوْ دَنَانِيرَ لِآخَرَ فَمَاتَ الْمُبْتَلِعُ وَلَمْ يَتْرُكْ مَالًا فَعَلَيْهِ الْقِيمَةُ وَلَا يَشُقُّ بَطْنَهُ؛ لِأَنَّهُ لَا يَجُوزُ إبْطَالُ حُرْمَةِ الْمَيِّتِ لِأَجْلِ الْأَمْوَالِ.(البحر الرائق8 / 233)
( حامل ماتت وولدها حي ) يضطرب ( شق بطنها ) من الأيسر ( ويخرج ولدها )…… ولو بلع مال غيره ومات هل يشق قولان والأولى نعم. فتح.(الدر المختار2 / 238)

28-انسانی نعش پر میڈیکل ریسرچ:

انسانی عضو کی بناوٹ اور ہڈیوں کے جوڑ، مختلف حصوں کے درمیان باہمی ربط و ضبط اور تناسب جاننے کے مقصد سے انسانی نعش کو چیرنا پھاڑنا درست نہیں، کیونکہ اولاً تو ان چیزوں کا جاننا میڈیکل تعلیم کے لئے ضروری اور ناگزیر نہیں کہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، دوسرے اس مقصد کے حصول کے لئے اور بھی بہت سی تدبیریں موجود ہیں ، ان ذرائع کے ہوتے ہوئے اہانت انسانی کی جازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَ لَقَدۡ کَرَّمۡنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ وَ حَمَلۡنٰہُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِیۡلًا.
اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے آدم کی اولاد کو عزت بخشی ہے، اور انہیں خشکی اور سمندر دونوں میں سواریاں مہیا کی ہیں، اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا ہے، اور ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت عطا کی ہے۔ (سورہ الاسراء : 70)
انسانی عظمت و شرافت جیسے زندگی میں ہے اسی طرح سے مرنے کے بعد بھی برقرار ہے اور چیر پھاڑ کرنے میں اس کی اہانت ہے ۔
اور حضرت بریدہ بیان کرتے ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ، أَوْ سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّتِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا ثُمَّ قَالَ : ” اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ، اغْزُوا وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تَمْثُلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا۔
رسول اکرم ﷺ جب کسی کو لشکر یا فوجی دستہ پر امیر مقرر کرتے تو اسے تقویٰ اختیار کرنے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی تاکید کرتے پھر کہتے کہ اللہ کا نام لے کر اللہ کی راہ میں جہاد کرو ،اللہ کا انکار کرنے والوں سے جنگ کرو،جہاد کرو لیکن خیانت مت کرو اور نہ ہی بدعہدی کرو اور نہ کسی کا مثلہ کرو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو۔ (صحیح مسلم:1731)
اور ظاہر ہے کہ پوسٹ مارٹم میں جسم کا مثلہ ہوتا ہے ۔
اور حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔
إِنَّ كَسْرَ عَظْمِ الْمُؤْمِنِ مَيْتًا مِثْلُ كَسْرِهِ حَيًّا ".
مومن میت کی ہڈی توڑنا، اس کی زندہ ہونے کی حالت میں ہڈی توڑنے کے مثل ہے ۔
(احمد 24308 أبو داؤد 3207.ابن ماجہ: 1616 ۔صححہ الالبانی فی الارواء212/3)۔
احترامِ آدمیت کی بنیاد پر قبر پر بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ، فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ، فَتَخْلُصَ إِلَى جِلْدِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ ".
کوئی شخص آگ کے انگارے پر بیٹھے ، جس سے اس کا کپڑا یہاں تک کہ کھال بھی جل جائے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے ۔( مسلم:971)
حالانکہ قبر پر بیٹھنے کی وجہ سے اس کے جسم پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے لیکن اس کے باوجود اس سے منع کیا گیا ہے کہ اس سے مردے کی بے احترامی ہوگی تو اس کے جسم کو کاٹنے اور پیٹ کو چیرنے میں اس سے زیادہ بے احترامی ہے ۔
اور اس مقصد کے لئے درج ذیل طریقے اختیار کئے جاسکتے ہیں:
1۔ مصنوعی ڈھانچے (dummies) اور ربڑ کے ماڈل سے استفادہ جسے ہو بہو انسان کی طرح بنایا جاتا ہے ۔
2۔ ان جانوروں کا استعمال جن کے جسم کے بعض اجزاء انسانی اعضاء کے ساتھ مماثلت رکھتے ہیں جیسے مینڈک،بندر،بن مانس وغیرہ۔
3۔چیر پھاڑ (dissection) کے عنوان پر سابقہ تیار شدہ تصاویر اور ویڈیوز کا استعمال ۔
4۔ کسی مریض کے آپریشن کے موقع پر میڈیکل کے طلبہ کا وہاں موجود رہنا ۔
5- اگر ان سب سے بھی ضرورت پوری نہ ہو تو کسی منکر خدا کی نعش کو استعمال کرنا ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَ مَنۡ یُّہِنِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ مُّکۡرِمٍ۔
اور جسے اللہ ذلیل کردے، کوئی نہیں ہے جو اسے عزت دے سکے۔(سورہ الحج: 18)
اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کافر اللہ کی نگاہ میں ذلیل ہے ۔

29-انسانوں پر دواؤں کا تجربہ:

کسی انسان پر نئی دوا کا تجربہ اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ وہ کسی مرض میں مبتلا ہو اور اس مرض کی قدیم دوائیں اس پر کارگر نہ ہوں اور کوئی ماہر ڈاکٹر اس مرض کے لئے اس دوا کو تجویز کرے اور تحقیق کے ذریعے معلوم ہوچکا کہ اسے کوئی انسان استعمال کرسکتا ہے اور اس کا کوئی ایسا نقصان نہیں ہے جو اس مرض سے بڑھا ہوا ہو نیز مریض کے سامنے دوا کے بارے میں وضاحت کرکے اس سے کسی جبر و دباؤ اور لالچ کے بغیر اجازت لے لی جائے۔
صحت مند انسان پر یا جس مرض میں وہ مبتلا ہے اس کے علاوہ دوسرے مرض کی دوا کا کسی انسان پر تجربہ کرنا اور اسے تختہ مشق بنانا اس کی عظمت و شرافت کے خلاف ہے یہاں تک کہ اگر کوئی شخص اپنی خوشی اور رضاکارانہ طور پر خود کو اس تجربہ کے لئے پیش کرے تو اس کی بھی اجازت نہیں ہوگی چنانچہ حدیث میں ہے :
” لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ ".
نہ تو ضرر برداشت کرنا ہے اور نہ کسی کو ضرر پہونچانا ہے ۔(المؤطا: 2171.ابن ماجه: 2340)
البتہ اگر کسی نقصان کا اندیشہ نہ ہو تو اس کی رضامندی سے اس پر کسی دوا کے تجربے میں کوئی حرج نہیں ہے ہے ۔(دیکھئے : الفقہ الاسلامی وادلتہ 5206/7 ط: دار الفكر -دمشق)

30-جانوروں پر میڈیکل ریسرچ:

دواؤں کے اثرات کو جاننے اور ان کے فوائد کا پتہ لگانے کے لئے نیز عضو انسانی کی تشریح کے مقصد سے جانوروں پر مختلف قسم کے تجربات کئے جاتے ہیں اس طرح کے تجربات اور ریسرچ جائز اور درست ہیں، اس لئے کہ ان تجربات کا مقصد بے جا ایذا رسانی نہیں بلکہ انسانی منفعت اور فائدہ اس سے وابستہ ہے اور اسلام کا یہ نقطہ نظرہے کہ تمام جانور انسانوں کی منفعت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں، رب کائنات کا ارشادہے:
"هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ۔ جَمِيعاً.”(سورة البقرة: 29)
وہ ذات پاک ایسی ہے جس نے پیداکیا تمہارے فائدے کےلیے جو کچھ زمین میں موجود ہے سب کا سب(بیان القرآن)
اسی آیت سے فقہاء نے یہ اصول بھی مستنبط کیا ہے کہ دنیا کی ہر چیز اصل میں حلال ہے اور جب تک کسی چیز کی حرمت پر کوئی دلیل نہ ہو اس وقت تک اس کو حلال ہی سمجھا جائے گا۔(آسان ترجمہ قرآن)
والانعام خلقھا لکم فیھا دفء ومنافع و منھاتاکلون ۔(النحل:16)
’’اور اللہ نے تمہارے لئے جانوروں کو پیداکیا، جن کے بال سے گرمی کا سامان بہم ہے اور اس کے سوا بھی بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے کچھ کو تم کھاتے ہو۔‘‘
انسانی منفعت کے پیش نظر جانوروں پر سوار ہونا اور ان کے گوشت سے استفادہ کرنا جب جائز ٹھہرا ، گرچہ اس میں ایک طرح سے ان کو اذیت ہوتی ہے تو دواؤں کے اثرات کو جاننے کے لئے ان پر تجربات کرنا بھی درست ہے۔ چنانچہ تمام فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ کسی ضرورت اور مصلحت کے بغیر کسی جانور کو تکلیف دینا اور پریشان کرنا ظلم اور ناجائز ہے۔(دیکھیے تبین الحقائق: 227/6،البحرالرائق:554/8المہذب:266/1، المغنی :591/3)
اور انسانی منفعت اور مصلحت کے لیے ان کے جسم کے کسی حصے کو نکالنا یا زخمی کرنا درست ہے لیکن اس میں بھی کم سے کم تکلیف پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔
دوا اور علاج بھی چونکہ انسانی ضرورت ہے اس لیے جانوروں پر میڈیکل تجربات کیے جا سکتے ہیں اس طور پر کہ پہلے انجیکشن یا دوا کے ذریعے انہیں بیمار بنایا جائے اور پھر اس بیماری کے علاج کے لیے ان پر امکانی دواؤں کا تجربہ کیا جائے اور اسی طرح سے دوا اور علاج کے لیے زندہ جانوروں کو بے ہوش کر کے ان کے جسم کے کسی حصے کو نکال لینا یا اس میں کوئی آلہ رکھ دینا جو اس کے لیے باعث تکلیف ہو درست ہے(1)
لیکن اس کی اجازت اسی وقت ہوگی جبکہ اس کی شدید ضرورت ہو اور اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ ہو۔ چنانچہ حدیث میں ہے :
ان طبيبا سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ضفدع يجعلها في دواءفناهاه النبي صلى الله عليه وسلم عن قتلها(ابوداؤد:3871)
رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ایک حکیم نے مینڈک کو دوا میں ڈالنے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مارنے سے منع فرمایا ۔
اور علامہ سہارن پوری نے اس کی شرح میں لکھا ہے :
لانها ليس بموذ ولا ماكول ولا يتوقف عليه الدواء بان لا يكون له بدل۔(بذل المجهود:653/13)
اس لئے کہ مینڈک نہ تو ایذا پہونچاتا ہے اور نہ اسے کھایا جاتا ہے ۔اور دوا اس پر موقوف نہیں ہے کہ اس کا بدل موجود نہ ہو۔
اور اگر اس عمل کی وجہ سے جانور مستقل تکلیف میں رہتا ہو تو اس آلے کو نکال کر اسے ذبح کر کے آرام پہنچانا ضروری ہے۔

(1)وابيح لنا اتلاف ما لا ينتفع به اذا كان موذيا او لم يكن موذيا وكان اتلافه تكملة لما ليس بضروري ولا حاجی من المنافع( الموافقات: 441/3.فلما جاز اتلاف نفسه للمنفعة او دفع المضرةجاز اتلاف عضوه بالاولى۔(اعلاء السنن:454/17)

31-آپریشن:

دوا علاج کا ایک طریقہ آپریشن بھی ہے البتہ انسانی عظمت و شرافت کا تقاضا ہے کہ کسی واقعی اور حقیقی مقصد کے بغیر جسم کی کاٹ چھانٹ کے اجازت نہ دی جائے۔
آپریشن کی بعض شکلیں ضرورت کا درجہ رکھتی ہیں کہ اس کے بغیر مریض کی موت کا اندیشہ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں آپریشن ضروری ہے کہ جان کی حفاظت شریعت کا اہم ترین مقصد ہے اور اس کام میں حصہ لینے والے اللہ تبارک و تعالی کی اس فرمان کا مصداق ہوں گے:
وَ مَنۡ اَحۡیَاہَا فَکَاَنَّمَاۤ اَحۡیَا النَّاسَ جَمِیۡعًا.
اور جو شخص کسی کی جان بچالے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔
اور علامہ ابن حزم ظاہری لکھتے ہیں:
اور ہلاکت کے خطرے سے دو چار ہر شخص کو بچانے کو اللہ تعالی نے ہم پر فرض قرار دیا ہے جیسے کہ کسی کو ظالم کے ظلم سے بچانا۔۔۔۔یا کسی سخت بیماری سے بچانا جس پر ہم قدرت رکھتے ہیں۔(المحلی 19/11)
اور کبھی آپریشن حاجت کے درجے میں ہوتا ہے یعنی آپریشن نہ کرنے کی صورت میں موت کا اندیشہ نہیں ہوتا ہے البتہ مریض مشقت اور پریشانی مبتلا ہوتا ہے اور دوا سے افاقہ نہیں ہوتا ہے جیسے کہ بواسیر وغیرہ کا آپریشن اور شریعت نے احکام کے نفاذ میں حاجت کا بھی لحاظ رکھا ہے ارشاد باری ہے :
یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّخَفِّفَ عَنۡکُمۡ ۚ وَ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِیۡفًا۔
اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے ساتھ آسانی کا معاملہ کرے اور انسان کمزور پیدا ہوا ہے۔ (سورہ النسآء : 28)
مَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیَجۡعَلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ حَرَجٍ وَّ لٰکِنۡ یُّرِیۡدُ لِیُطَہِّرَکُمۡ وَ لِیُتِمَّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ۔
اللہ تم پر کوئی تنگی مسلط کرنا نہیں چاہتا، لیکن یہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک صاف کرے، اور یہ کہ تم پر اپنی نعمت تمام کردے، تاکہ تم شکر گزار بنو۔ (سورہ المآئدۃ : 6)
اور حضرت جابر کہتے ہیں:
بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ طَبِيبًا، فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا، ثُمَّ كَوَاهُ عَلَيْهِ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی ابن کعب کے پاس ایک طبیب کو بھیجا جس نے علاج کے طور پر ایک رگ کو کاٹ دیا اور پھر اسے اگ سے داغ دیا۔ (مسلم 2207+
اور فتاوی ہندیہ میں ہے:
جسم کا کوئی حصہ سڑ جائے تو اسے کاٹ کر نکال دینے میں کوئی حرج نہیں تاکہ اس کا اثر جسم کے دوسرے حصوں تک نہ پہونچے ۔۔۔ اور اگر مثانہ میں پتھری ہو جائے تو اسے چیر کر نکالنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔( الھندیۃ 360/5)
آپریشن سے پہلے دوا کے ذریعے مرض کو زائل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور پیچیدہ آپریشن میں جس میں جان جانے یا عضو کے تلف ہو جانے کا اندیشہ ہو اس کی اجازت اسی وقت ہوگی جبکہ کامیابی کا ظن غالب ہو اور اگر ہلاکت کا غالب امکان ہے نے تو آپریشن کی اجازت نہیں ہوگی چنانچہ فتاوی ہندیہ میں ہے:
’’شدید اور پرخطر زخموں میں اور مثانہ میں ہونے والی پتھریوں میں اور اس کے مثل میں ، گر کہا جائے کہ موت و حیات دونوں کا
امکان ہے یا یہ کہ موت کا امکان نہیں تو اس وقت علاج کیاجائے اور اگر کہا جائے کہ موت یقینی ہے تو پھر علاج نہ کیاجائے۔‘‘(ہندیہ 360/5)

32-خوبصورتی کے لئے آپریشن:

خوبصورتی کے لئے آپریشن کی دو صورتیں ہیں:
1-جسم طبعی اور عمومی شکل میں باقی نہ ہو جیسے کہ ہونٹ کٹا ہوا ہو ،انگلیاں باہم پیوست ہوں ،پانچ سے زیادہ انگلیاں ہوں ،زخم یا جلنے کی وجہ سے داغ پڑجائے یا جسم میں زائد چربی جمع ہوجائے اور موٹاپے کے مرض میں مبتلا ہوجائے ۔
یہ چیزیں بھی عیب اور مرض میں شمار ہونگی اور ان کو دوا یا آپریشن کے ذریعے زائل کرنے کی اجازت ہوگی کیونکہ اس کی وجہ سے انسان ذہنی اعتبار سے پریشان اور نفسیاتی مریض بن جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ آپریشن بھی حاجت کے درجے میں ہوگا چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ دانتوں میں خوبصورتی کیلئے کشادگی پیدا کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہے (المتفلجات للحسن)
علامہ نووی اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ محض خوبصورتی کے لئے ایسا کرتی تھیں اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر علاج یا دانت میں کسی عیب کی وجہ سے اس کی حاجت ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے (شرح نووی علی مسلم 107/13)
اور فتاوی ہندیہ میں ہے:
اگر کوئی اپنی زائد انگلی یا کوئی دوسرا حصہ کاٹنا چاہے تو اگر اس کی وجہ سے ہلاکت کا غالب امکان ہو تو ایسا نہ کرے اور اگر کامیابی کا غالب گمان ہو تو ایسا کرنے کی گنجائش ہے۔ (الہندیہ 360/5)
2-محض خوبصورتی کے لیے طبعی ساخت میں آپریشن کے ذریعے تبدیلی جیسے کہ جسم کو سڈول بنانے کے لیے چربی کو آپریشن کے ذریعے نکالنا یا بڑھاپے کی وجہ سےچہرے پر پڑنے والی جھریوں کو ختم کرنا وغیرہ ۔
اس طرح کے آپریشن کی اجازت نہیں ہوگی کہ یہ درحقیقت اللہ کی خلقت میں تبدیلی ہے جو شیطانی بہکاوے کا نتیجہ ہے۔

33- احتیاطی آپریشن:

یعنی ائندہ پیش آنے والے کسی ضرر سے بچنے کے لیے آپریشن کرانا۔ اس کی دو صورتیں ہیں: ایک ہی کی ضرر کے وقوع کا ظن غالب ہو ایسی حالت میں آپریشن کی اجازت ہوگی کہ یہ حاجت کے درجے میں ہے۔
دوسری صورت یہ کہ ضرر کے وقوع کا محض وہم اور شک ہو جیسے کہ اپنڈکس کا آپریشن ۔
احتیاطی طور پر اس طرح کے آپریشن کی اجازت نہیں ہوگی کہ یہ بھی اللہ کی خلقت میں تبدیلی ہے نیز یہ کہ اللہ تبارک و تعالی نے انسان کے جسم میں اس طرح کے اعضاء کو بلا ضرورت پیدا نہیں کیا ہے یہ اور بات ہے کہ ہمیں اس کی ضرورت معلوم نہ ہو اور وہ بلاوجہ اور زائد محسوس ہو۔

34- میڈیکل جانچ پر کمیشن:

کسی معاملہ کے جائز ہونے کے لئے باہمی رضامندی اور خوش دلی ضروری ہے، رضامندی کے بغیر کسی پر کوئی معاملہ تھوپنا شریعت کی نگاہ میں سخت ناپسندیدہ اور ممنوع ہے، گرچہ وہ مجبوری کی وجہ سے بظاہر اسے قبول کرلے، یہی وجہ ہے کہ خرید و فروخت کے ساتھ شرط لگانے کی ممانعت کی گئی ہے(دیکھئے بلوغ المرام:144)اور اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:
’’سنو خوش دلی کے بغیر کسی انسان کا مال حلال نہیں ہے۔‘‘(مشکاۃالمصابیح 889/2)
ریفر کرنے اور جانچ کرانے پر کمیشن لینا، رشوت کے حکم میں ہے اور خوش دلی کے بغیر مجبوری سے فائدہ اٹھا کر دوسرے کے مال کو ہڑپ لینا ہے اور مریض کو مال تجارت بناکر بیچنا ہے، جوکسی بھی حال میں جائز نہیں ہے۔
اگرکسی ڈاکٹر کو مرض سمجھ میں نہ آئے تو اس کا ’’فرض‘‘ہے کہ وہ کسی اچھے اور قابل اعتماد ڈاکٹر کو ریفر کردے۔ اگر واقعی جانچ کی ضرورت ہو تو جانچ کرائے، یہ ایک ڈاکٹرکے لئے دینی، اخلاقی اور قانونی فریضہ ہے، مریض کوئی قابل فروخت مال نہیں ہے جس پر کمیشن لیاجائے۔اسی طرح سے محض کمیشن حاصل کرنے کے لئے ریفر کرنا اور کسی خاص جگہ سے جانچ کرانے اور کسی مخصوص دوکان سے دوا خریدنے کا پابند بنانا بھی مریض کے ساتھ دھوکہ اور ناجائز ہے۔
ڈاکٹر کا پیشہ ایک پاکیزہ اور باعزت پیشہ ہے ، اس کا اصل مقصد خدمت خلق ہے ، لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس پیشہ سے امانت و دیانت ختم ہوتی جارہی ہے اور خدمت کی جگہ تجارتی ذہنیت لے رہی ہے، ڈاکٹروں کو اس پہلو پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے