بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(4) دوا علاج سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

4-علاج کی وجہ سے نقصان:

 

    اپنے فن میں مہارت اور قانونی طور سے علاج کی اجازت کے ساتھ ایک ڈاکٹر کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ علاج میں ہر ممکن تدبیر کو ملحوظ رکھے، مریض کی مکمل دیکھ ریکھ ، جانچ اور اس میں ڈاکٹری آلات سے مدد لینا اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے، ڈاکٹری اصول کا لحاظ کرتے ہوئے اور کسی کو تاہی ولاپرواہی کے بغیر اس علاج سے کوئی نقصان پہنچ جائے تو وہ ماخوذ نہیں ہوگا، اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے، علامہ ابن قیم لکھتے ہیں:

    ’’ماہر ڈاکٹر جس نے علاج میں فن کا حق ادا کردیا اور اس نے کوئی لاپرواہی نہیں کی تو اس کے اس فعل کی وجہ سے جس میں شریعت اور مریض کی اجازت شامل ہے کوئی عضو تلف ہوجائے یا جان چلی گئی یا کوئی صلاحیت زائل ہوگئی تو اس پر ضمان بہ اتفاق واجب نہیں ہے۔‘‘(زاد المعاد 139/1)

    لیکن اگر اس نے اس سلسلہ میں کوتاہی اور بے احتیاطی سے کام لیا ہے تو وہ اپنے فعل کا ذمہ دار ہوگا اور اس پر تاوان واجب ہے، علامہ ابن قدامہ حنبلیؓ نے اس سے متعلق بڑی عمدہ بحث کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اجازت کے بعد تاوان واجب نہ ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں، وہ اپنے فن میں ماہر ، واقف کار اور صاحب بصیرت ہو ۔ دوسرے کوئی بے احتیاطی نہ کرے۔ اگر وہ اپنے فن میں مہارت کے باوجود کوتاہی کرجائے مثلاً ختنہ کرنے میں ’’حشفہ‘‘یا اس کے بعض حصہ کو کاٹ دے یا ایسے آلات سے آپریشن کیا کہ اس کی وجہ سے تکلیف بڑھ گئی یا ایسے وقت میں آپریشن کیا کہ اس وقت آپریشن مناسب نہ تھا ان تمام صورتوں میں وہ ضامن ہوگا، امام شافعی اور اصحاب رائے کا بھی یہی مذہب ہے اور میں نہیں جانتا کہ اس مسئلہ میں کوئی اختلاف ہے۔(المغنی 313/5کتاب الاجارۃ)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے