بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله( 7) دوا علاج سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

 

7-ناپاک چیزوں سے علاج:

 

ناپاک چیزوں کو بطور دوا استعمال کرنا بھی ناجائز ہے ،چنانچہ قرآن حکیم میں خون کو ناپاکی کی بنیاد پر حرام کہا گیا ہے ،ارشاد ربانی ہے:

حُرِّمَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃُ وَ الدَّمُ وَ لَحۡمُ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ بِہٖ ۔۔۔

تم پر مردار جانور اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور حرام کردیا گیا ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو ۔۔۔ (سورہ المآئدۃ: 3)

اور حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے :

نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ.

رسول اللہ ﷺ نے خبیث دوا سے منع فرمایا ہے ۔(ابوداؤد:3870)

علامہ سندھی کہتے ہیں کہ کہا گیا ہے کہ خبیث سے مراد ناپاک یا حرام یا ایسی دوا ہے جس سے انسانی طبیعت نفرت کرے اور ترمذی کی روایت میں اس کی تشریح زہر کے ذریعے کی گئی ہے ۔ (حاشیہ سندی علی مسند احمد:8048)

اور علامہ خطابی لکھتے ہیں کہ دوا میں خباثت کی ایک وجہ نجاست ہے جیسے کہ اس میں شراب یا ایسے جانور کے گوشت کو ملایا گیا ہو جس کا کھانا حلال نہیں ہے مثلاً بعض اطباء کچھ بیماریوں میں پیشاب پینے اور بعض جانوروں کی گندگی کھانے کو کہتے ہیں ۔یہ سب خبیث اور ناپاک ہیں اور ان کو تناول کرنا حرام ہے.البتہ حدیث میں خصوصی طور پر اونٹ کے پیشاب کی رخصت دی گئی ہے اور احادیث کے سلسلے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کی جگہ میں رکھا جائے اور آپس میں انہیں ٹکرایا نہ جائے ۔( تحفۃ الاحوذی ،رقم الحدیث: 2045 )

اور حضرت عبد الرحمن بن عثمان بیان کرتے ہیں:

أَنَّ طَبِيبًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضِفْدِعٍ يَجْعَلُهَا فِي دَوَاءٍ، فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا.

رسول اللہ ﷺ سے ایک طبیب نے دوا میں مینڈک شامل کرنے کے بارے میں پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے اس کو مارنے سے منع فرمایا۔(ابوداؤد: 3871. نسائی:4355)

یعنی اسے مارنے اور دوا میں ملانے سے منع فرمایا کیونکہ اس سے دوا بنانا اسکے مارنے پر موقوف ہے اور جب اس کو قتل کرنے کی ممانعت ہے تو اس سے علاج کرنا بھی ممنوع ہے ۔اور ممانعت کی وجہ ناپاک یا گھناؤنا ہونا ہے۔

علامہ خطابی کہتے ہیں کہ مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مینڈک کھانا حرام ہے اور وہ پانی کے جانوروں میں سے حلال جانوروں میں داخل نہیں ہے اور کسی جانور کے قتل سے ممانعت کی دو میں سے ایک وجہ ہوتی ہے یا تو بذات خود اسے قتل کرنا حرام ہے جیسے کہ انسان یا اس کا گوشت حرام ہے اور مینڈک انسان کی طرح حرام نہیں ہے اس لئے ممانعت کی دوسری وجہ اس میں موجود ہے ۔(عون المعبود ۔رقم الحدیث: 3871)

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے