بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(7)
مزاح و تفریح سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
7-نغمہ و موسیقی:
فرحت و سرور اور اثر پذیری کا ایک مؤثر ذریعہ شعر و شاعری بھی ہے جس میں کسی بات کو مرتب انداز میں اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ سننے والے کے دل پر نقش ہوجاتا ہے ۔
اس کے ذریعے حکمت و موعظت کی باتیں بھی بیان کی جاسکتی ہیں اور آخرت کی یاد بھی دلائی جاسکتی ہے اور اسلام کا دفاع بھی کیا جاسکتا ہے ۔چنانچہ حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً ".
بعض اشعار حکمت پر مبنی ہوتے ہیں ۔
(صحيح بخاري: 6145)
اس حدیث کی شرح میں علامہ سندھی لکھتے ہیں:
مراد یہ ہے کہ اشعار نہ تو خود اچھے ہوتے ہیں اور نہ برے بلکہ مدار معانی پر ہے نہ کہ کلام کے نثر یا نظم ہونے پر ؛ کیونکہ یہ دونوں معنی کی ادائیگی اور اس تک پہنچنے کی کیفیت کا نام ہیں ،لہذا اگر معنی اچھا اور حکمت پر مبنی ہے تو وہ شعر اچھا ہے اور اگر برا ہے تو وہ شعر برا ہے ،اور شرعا اشعار کی مذمت اس لئے کی جاتی ہے کہ اس میں عام طور پر ایسے شخص کی تعریف کی جاتی ہے جو اس کا مستحق نہیں ہے اور اسی لئے جب اللہ تعالٰی نے یہ فرمایا:
وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الۡغَاوٗنَ۔
رہے شاعر لوگ، تو ان کے پیچھے تو بےراہ لوگ چلتے ہیں۔(سورہ الشعراء: 224)
تو اس کے بعد ان الفاظ میں شاعروں کی تعریف فرمائی:
اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا وَّ انۡتَصَرُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا ؕ وَ سَیَعۡلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ۔
ہاں مگر وہ لوگ مستثنی ہیں جو ایمان لائے، اور انہوں نے نیک عمل کیے، اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا، اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد اس کا بدلہ لیا۔ اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب پتہ چل جائے گا کہ وہ کس انجام کی طرف پلٹ رہے ہیں۔(1)( سورہ الشعراء: 227)
مفتی محمد تقی صاحب عثمانی مذکورہ آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
یہ استثناء ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا کہ اگر شاعری میں یہ خرابیاں نہ ہوں اور ایمان اور عمل صالح کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوئی شاعری کرے اور اپنے شاعرانہ تخیلات کو دین و مذہب کے خلاف استعمال نہ کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور ظلم کا بدلہ لینے کا ذکر بطور خاص اس لئے کیا گیا ہے کہ اس زمانے میں شاعری پروپیگنڈے کا سب سے مؤثر ذریعہ سمجھی جاتی تھی، کوئی شاعر کسی کے خلاف کوئی شاندار ہجویہ قصیدہ کہہ دیتا تو وہ لوگوں کی زبانوں پر چڑھ جاتا تھا، چنانچہ بعض بد نہاد کافروں نے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں بھی اس قسم کے اشعار کہہ کر مشہور کردئے تھے، بعض صحابہ مثلاً حضرت حسان بن ثابت اور حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) نے اس کے جواب میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں نعتیہ قصیدے کہے اور ان میں کفار کے اعتراضات کا جواب دیا ؛ بلکہ ان کی اپنی حقیقت واضح فرمائی، اس آیت میں ان حضرات کی شاعری کی تائید کی گئی ہے۔
(آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)
اور حافظ ابن حجر عسقلانی رقم طراز ہیں:
آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا کہ بعض اشعار حکمت پر مبنی ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سچے اور حق کے مطابق ہوتے ہیں ۔اور کہا گیا ہے کہ حکمت کے اصل معنی روکنے کے ہیں اس کے اعتبار سے مطلب یہ ہوگا کہ بعض اشعار میں مفید باتیں ہوتی ہیں جو حماقت سے روک دیتی ہیں ۔۔۔اور ابن ابی شیبہ نے حسن سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ صحابہ کرام اپنے اوپر ہمیشہ سنجیدگی طاری نہیں کئے رہتے تھے اور نہ ہمیشہ موت کی فکر میں رہتے بلکہ وہ اپنی مجلسوں میں اشعار گنگناتے ،زمانہ جاہلیت کے تذکرے کرتے لیکن جب دین کا معاملہ آجاتا تو ان کی آنکھوں کے پپوٹے گردش کرنے لگتے ۔اور امام احمد اور ترمذی وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں صحابہ کرام اشعار اور جاہلیت کی باتوں کا تذکرہ کیا کرتے ۔رسول اللہ ﷺ اس سے منع نہیں کرتے بلکہ بسا اوقات ان کی باتیں سن کر مسکرا دیتے ( 2)
اور آپ ﷺ کی موجودگی میں حضرت حسان بن ثابت مسجد نبوی میں آپ کے دفاع میں اشعار پڑھا کرتے تھے چنانچہ حضرت سعید بن مسیب نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر مسجد نبوی سے گزرے اور حضرت حسان اشعار پڑھ رہے تھے (حضرت عمر نے انھیں گھور کر دیکھا)تو انھوں نے کہا: میں یہاں آپ سے بہتر ہستی کی (آنحضرت ﷺ)موجودگی اشعار پڑھا کرتا تھا پھر وہ حضرت ابو ہریرہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: آپ کو میں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں! کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے میری طرف سے جواب دو اے اللہ! روح القدس کے ذریعے ان کی مدد فرما ؟۔حضرت ابو ہریرہ نے کہا :ہاں سنا ہے ۔
(عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : مَرَّ عُمَرُ فِي الْمَسْجِدِ وَحَسَّانُ يُنْشِدُ، فَقَالَ : كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ، وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ. ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ : أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ” أَجِبْ عَنِّي، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ” قَالَ : نَعَمْ.(بخاري:3212مسلم :2485)
اور حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اهْجُوا قُرَيْشًا ؛ فَإِنَّهُ أَشَدُّ عَلَيْهَا مِنْ رَشْقٍ بِالنَّبْلِ۔
قريش کے ہجو کا جواب دو کیونکہ کہ یہ جواب ان کے لئے تیر کی بوچھار سے زیادہ سخت ہے( مسلم: 2490)
اس لئے اچھے اشعار کو سادہ انداز میں یا نغمگی و ترنم کے ساتھ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ اس کے ساتھ موسیقی کے آلات نہ ہوں۔
اچھے اور جائز اشعار کا مطلب یہ ہے کہ اس میں فحاشی ،کسی مسلمان کی برائی اور ہجو نہ ہو ۔اللہ اور اس کے رسول یا صحابہ کرام کی طرف غلط اور ،جھوٹ بات کی نسبت نہ کی گئی ہو ۔نہ اپنی ذات کا تزکیہ کیا گیا ہو یعنی خود کو پاکباز ظاہر نہ کیا گیا ہو۔جھوٹ اور مذموم فخر و مباہات سے خالی ہو ۔کسی کے نسب پر طعن نہ کیا گیا ہو اور نہ کسی متعین اور زندہ عورت اور امرد کے اوصاف بیان کئے گئے ہوں اس لئے کہ ان کے اوصاف کو لوگوں کے سامنے یا تنہائی میں بیان کرنا درست نہیں ہے ،ایسے ہی شراب و کباب کی خوبی بیان کرنا جس سے دل اس کی طرف راغب ہو جائز نہیں ہے اور نہ ہی کسی کا ہجو کرنا درست ہے گرچہ وہ "ذمی” ( مسلم مملکت کا غیر مسلم شہری ) ہو۔ (دیکھئے رد المحتار 576/9)
حاصل یہ ہے کہ وہ گانا یا نغمہ جو کفر و شرک ، بے حیائی ، فحاشی، بے ہودہ گوئی ، فسق وفجور اور گناہ کی باتوں اور شراب و شباب کے دلفریب اور ہیجان انگیز تذکرے پر مشتمل ہو اس کا گانا اور سننا حرام ہے ۔
اور کبھی اشعار تو اچھے ہوتے ہیں لیکن اس کے گانے کا انداز ہیجان انگیز ہوتا ہے مثلاً ہاتھ یا کمر کو شہوت انگیز انداز میں حرکت دینا ۔ظاہر ہے اس کی بھی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔
موجودہ دور میں عام طور پر جو گانے رائج ہیں ان میں شاذ و نادر ہی مذکورہ شرطوں کی رعایت ہو اور ان کے بنانے اور پڑھنے والے اسلامی زندگی سے کوسوں دور ہوتے ہیں ۔ ان میں شراب و شباب کا دلفریب انداز میں تذکرہ ہوتا ہے ۔ عشقیہ گیت اور ہیجان انگیز نظم ہوتے ہیں جن سے نفسانی خواہشات ابھرتی ہے اور گناہ کی خواہش پیدا ہوتی ہے، اس لیے ان کا گانا اور سننا نہ عورتوں کے لیے جائز ہے اور نہ مردوں کے لیے، نہ مجلس میں اور نہ تنہائی میں.
غرضیکہ اچھے اشعار کو ترنم کے ساتھ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ اگر اس کے ذریعے اسلام کی تبلیغ یا دفاع مقصود ہو تو باعث اجر ثواب ہے ۔لیکن اگر اس کے ساتھ موسیقی کے آلات ہوں تو اس کا پڑھنا اور سننا حرام ہے اور اگر برے اشعار کے ساتھ موسیقی بھی ہو تو اس کی قباحت دوچند ہوجائے گی ۔
واقعہ یہ ہے کہ ذہن و دماغ کو ماؤف کرنے، حقیقت سے آنکھ بند کر لینے، ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرنے، فحاشی پر ابھارنے ، بے حیائی کی طرف مائل کرنے اور سفلی جذبات کو برانگیختہ کرنے میں گانا اور موسیقی شراب کی طرح ہے، دونوں کی لت میں پڑ کر انسان، دین و ایمان اور تہذیب و اخلاق سے عاری اور لذت چشی و عیاشی کا عادی ہو جاتا ہے، اگر شراب ام الخبائث تو گانا اور موسیقی "ام الفواحش” ہے، اس لیے جس نے بھی کہا ہے سچ کہا ہے کہ گانا بد کاری کا منتر ہے۔ ( قال فضيل ابن عياض الغناء رقية الزنا۔ اغاثة اللہفان/ 315 ) اور یہی وجہ ہے کہ گانے کی شناعت کو زنا اور شراب کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت ابو مالک اشعری سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
*ليكونن من امتى يستحلون الحر والحرير والخمر والمعازف ۔
میری امت کے کچھ لوگ زنا ، ریشم ، شراب اور موسیقی کو حلال کرنے کی کوشش کریں گے۔( رواه البخاري في صحيحه وابو داود وابو بكر الاسماعيلي ۔اغاثة اللهفان /333)
*يشربن ناس من امتى الخمر يسمونها بغير اسمها يعزف على رؤسهم المعازف والمغنيات يخسف الله بهم الأرض ويجعل منهم القردۃ و الخنازير ( رواه ابن ماجة وقال ابن القيم اسناده صحیح ۔الاغاثة /333)
میری امت کے کچھ لوگ شراب کا نام بدل کر اسے استعمال کریں گے۔ ان کے پاس موسیقی بجائی جائے گی، اور گانے والی عورتیں ہوں گی، اللہ انھیں زمین میں دھنسا دے گا۔ اور کچھ کو بندر اور خنزیر بنا دے گا۔”
کیا آج وہ دور نہیں ہے جہاں بدکاری کو باہمی رضا مندی کا سودا، شراب کو روحانی مشروب اور ناچ، گانے کو آرٹ اور ثقافت قرار دے کر رائج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اور حضرت عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا –
ان الله حرم الخمر والميسر والكوبة وكل مسكر حرام ( اخرجه ابوداؤد و ابو یعلی و ابن حیان واحمد في مسنده و قال احمد شاکر اسناده صحیح .حاشيه الاغاثة/ 335 نيز تحريم آلات الطرب /56)
اللہ تعالی نے شراب، جوا اور طبلہ کو حرام قرار دیا ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔”
ایک دوسری حدیث میں گانے کو فجور اور بے وقوفی کی آواز کہا گیا ہے، چنانچہ حضرت عبد الرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اني لم انه عن البكاء انما نهيت عن صوتين فاجرين احمقين صوت عند نعمة لهو ولعب ومزامير الشيطان وصوت عند مصيبة خمش وجوه وشق جيوب و رنة ( رواه ابن سعد 138/1 والبزار 380/1 البغوى 431/1 و حسنه نیز دیکھئے تحریم آلات الطرب /52 )
میں نے رونے سے منع نہیں کیا ہے، بلکہ میں نے فجور اور حماقت پر مبنى دو طرح کی آواز سے روکا ہے، ایک خوشی کے وقت لہو و لعب اور شیطان کی بانسری کی آواز سے اور دوسرے مصیبت کے وقت چہرہ نوچنے، گریبان چاک کرنے اور کیں کیں کرنے سے”۔
اور حضرت عمران بن حصین سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يكون في امتى قذف ومسخ وخسف فقال رجل من المسلمين متى ذلك يا رسول الله قال اذا اظهرت القيان والمعازف وشربت الخمور . ( رواه الترمذی وغیرہ، اس طرح کی روایت متعدد صحابہ کرام سے منقول ہے اور مجموعی طور پر پی روایت "حسن”کے درجہ سے فروتر نہیں ہے۔ دیکھئے تحریم آلات الطرب /63)
میری امت کے کچھ لوگوں پر آسمان سے پتھر برسائے جائیں گے ، ان کی شکل بگاڑ دی جائے گی اور انھیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا، ایک صحابی نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! ایسا کب ہو گا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کثرت سے گانے والیاں ہوں گی اور موسیقی سنی اور شراب پی جائے گی۔
گناہ کی وجہ سے انسان کی فطرت بدلتی جاتی ہے، اور وہ اس گناہ جیسی خصلت رکھنے والے جانور کی مشابہت اختیار کرتا جاتا ہے، جیسے کہ حرص اور لالچ میں مبتلا انسان کتنے کی مشابہت اختیار کر لیتا ہے، ابتدائی طور پر یہ مشابہت ہلکی ہوتی ہے، اور صرف باطن متاثر ہوتا ہے لیکن آہستہ آہستہ اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور چہرے کے خدو خال پر اس کے آثار نظر آتے ہیں اور ایک دن ایسا بھی آتا ہے کہ وہ مکمل طور پر اس جانور کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو ایمانی فراست سے نوازا ہے وہ دیکھتے ہیں کہ انسانوں کی اس بھیڑ میں انسان کم اور بھیڑیے، کتے ، بندر اور خنزیر زیادہ ہیں ( دیکھئے اغاثة اللهفان/ 343) اور کبھی کبھار عبرت کے لیے اس کی صورت اس درجہ مسخ کر دی جاتی ہے کہ تمام لوگ اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر سے منقول ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کسی چرواہے کو بانسری بجاتے ہوئے سنا تو اپنے کان میں انگلی ڈال لی، اور راستہ بدل دیا۔ (3) ایک حدیث میں آپ نے فرمایا کہ گنھٹی شیطان کی بانسری ہے، نیز یہ کہ فرشتے ایسے قافلے کے ساتھ نہیں ہوتے جس میں کتا یا گھنٹی ہو۔ (15(14) رواه مسلم عن ابي هريرة 94/14
چرواہے کی معمولی بانسری کے سلسلہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طرز عمل اور جانور کے گلے میں لٹکی ہوئی گھنٹی کے سلسلہ میں آپ کا یہ ارشاد، جس میں موسیقی کا دسواں حصہ بھی نہیں ہوتا ہے، تو پھر موسیقی کے ایسے آلات کے بارے میں کیا حکم ہوگا جس کے تھاپ پر انسان تھرکنے لگتا ہے اور جسم کا رواں رواں مدہوشی میں ڈوب جاتا ہے؟؟؟۔
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ گانے کی وجہ سے دل میں نفاق ایسے ہی پیدا ہوتا ہے جیسے کہ پانی کی وجہ سے کھیتی اگ آتی ہے (4) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو بظاہر مسلمان تھے لیکن ان کا دل ایمان سے خالی تھا۔ ایسے لوگوں کو کو منافق کہا گیا ، عقیدے میں فساد کی وجہ سے عملی طور پر کجی کا پایا جانا ضروری ہے، چنانچہ یہ لوگ نماز میں سستی کیا کرتے تھے، کثرت سے جھوٹ بولا کرتے، وعدہ وعہد کا پاس و لحاظ نہیں کرتے ، ذرا سا اختلاف ہو جائے تو گالم گلوچ پر اتر آتے ، امانت میں خیانت کرتے وغیرہ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی اس روایت میں کہا گیا ہے کہ گانا ایک ایسا گناہ ہے کہ اس کے ذریعہ منافق کی خصلت پیدا ہوتی ہے، عقیدہ اور عمل میں انحراف پایا جاتا ہے، کیا اس سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ گانے کا عادی شخص نماز کا پابند نہیں ہوتا ہے، وہ قرآن کی حلاوت سے محروم ہو جاتا ہے، اپنا وقار کھو دیتا ہے، جھوٹ اور لایعنی چیزوں کا خوگر ہوتا ہے، خواہش نفس اور شیطان کا غلام ہوتا ہے۔
یزید بن ولید کہتے ہیں:
اپنے آپ کو گانے سے بچاؤ کہ اس سے حیا کم اور شہوت زیادہ ہوتی ہے، وہ شراب کی جگہ لے لیتا ہے ، اور نشہ آور چیزوں کا کام کرتا ہے، عورتوں کو اس سے دور رکھو.اس لیے کہ گانا زنا کی دعوت دیتا ہے۔
اِیَّاکُمْ وَالْغَنَاء فَاِنَّه یَنْقُصُ الْحَیَاء، وَیَزِیْدُ فِي الشَّهوَة، وَإنَّه لَیَنُوْبُ عَنِ الْخَمْرِ، وَیَفْعَلُ مَا یَفْعَلُ السُّکْرُ، وَجَنِّبُوْه النِّسَاء؛ فَاِنَّ الْغَنَاء دَاعِیَة الزِّنَا”. (إغاثة اللهفان/ 315)
امام عمرو بن صلاح کہتے ہیں کہ جس گانے کے ساتھ آلات موسیقی ہوں اس کے حرام ہونے پر علمائے امت کا اتفاق ہے۔ (الاغاثة /297)
(1)يريد أن الشعر لا دخل له في الحسن والقبح ولا يعتبر به حال المعاني في الحسن والقبح والمدار إنما هو على المعاني لا على كون الكلام نثرا أو نظما فإنهما كيفيتان لأداء المعنى وطريقان إليه ولكن المعنى إن كان حسنا وحكمة فذلك الشعر حكمة وإذا كان قبيحا فذلك الشعر كذلك وإنما يذم الشعر شرعا بناء على أنه غالبا يكون مدحا لمن لا يستحقه وغير ذلك ولذلك لما قال تعالى { والشعراء يتبعهم الغاوون } أثنى على ذلك بقوله { إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات } الآية . (حاشیہ سندي علی ابن ماجه:3755)
(2)قوله: ( إن من الشعر حكمة ) أي قولا صادقا مطابقا للحق. وقيل: أصل الحكمة المنع، فالمعنى إن من الشعر كلاما نافعا يمنع من السفه. ۔۔۔
وأخرج ابن أبي شيبة بسند حسن عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال: ” لم يكن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم متحزقين ولا متماوتين، وكانوا يتناشدون الأشعار في مجالسهم ويذكرون أمر جاهليتهم، فإذا أريد أحدهم على شيء من دينه دارت حماليق عينيه ” ۔۔۔ ” وأخرج أحمد وابن أبي شيبة والترمذي وصححه من حديث جابر بن سمرة قال: ” كان أصحاب رسول صلى الله عليه وسلم يتذاكرون الشعر وحديث الجاهلية عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فلا ينهاهم. وربمايتبسم ".(فتح الباری رقم الحدیث :6145)
(3) نافع مولی ابن عمر ان ابن عمر سمع صوت زمارة راع فوضع اصبعيه في اذنيه وعدل راحلته عن الطريق وهو يقول يا نافع اتسمع فاقول نعم فيمضى حتى قلت لا فوضع يديه واعاد راحلته الى الطريق وقال رايت رسول الله وسمع صوت زمارة راع فصنع مثل هذا رواه احمد وقال احمد شاکر اسناده صحيح رقم الحديث: 4535، و ابو داؤد وقال العظيم آبادی اسناده قوی: عون المعبود 267/13، وفي الحديث دليل على ان المشروع لمن سمع الزمارة و لم يستطع ان ينكر على صاحبها لسطوته او بعده ان يسد اذنيه وانما لم يامر ابن عمر نافعا بسد اذنيه لانه كان اذ ذاك صغيرا دون التكليف عون (267/13)
(4) وهو صحيح عن ابن مسعود من قوله وقد روى عنه مرفوعا وهو ضعيف الاغاثة /319 لكنه في حكم المرفوع اذ مثله لا يقال من قبل الراى كما قال الألوسى فى روح المعانى 68/11 .(تحريم آلات الطرب /148)