بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(24) دوا علاج سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

حدود و قصاص میں کاٹے گئے اعضا کی پیوند کاری:

 

   کاٹ کر الگ کئے گئے عضو کی پیوند کاری بظاہر ایک نیا مسئلہ ہے لیکن فقہائے متقدمین کے یہاں اس کا تصور موجود ہے چنانچہ امام مالک ،محمد ،شافعی اور احمد بن حنبل نے اس پر گفتگو کی ہے کہ اگر کسی کا کان کاٹ دیا گیا ہو اور پھر دوبارہ وہ اسے لگا لے تو کیا اسے قصاص یا دیت کا حق ملے گا یا نہیں؟

اس سلسلے میں فقہی کتابوں میں مذکور تفصیل حسب ذیل ہے:

اگر کسی شخص نے کسی کے جسم کے کسی حصے کو مثلا کان کو کاٹ دیا یا دانت کو توڑ دیا اور پھر اس نے سرجری کے ذریعے اسے جوڑ لیا تو اس کی وجہ سے قصاص یا دیت ساقط نہیں ہوگی، حنفیہ، مالکیہ ، شافعیہ اور بعض حنابلہ کا یہی نقطہ نظر ہے۔(دیکھئے : المدونه113/6. باب ما جاء في دية العقل والسمع والاذنين .كتاب الاصل467/4. كتاب الام 52/6.المغني422/9. قضايا فقهيه معاصره259/1)

   اس لیے کہ قصاص یا دیت اس سے سرزد ہونے والے جرم کا بدلہ ہے اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے:

  * فَمَنِ اعۡتَدٰی عَلَیۡکُمۡ فَاعۡتَدُوۡا عَلَیۡہِ بِمِثۡلِ مَا اعۡتَدٰی عَلَیۡکُمۡ  ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعۡلَمُوۡۤا  اَنَّ اللّٰہَ مَعَ  الۡمُتَّقِیۡنَ .

   * چنانچہ اگر کوئی شخص تم پر کوئی زیادتی کرے تو تم بھی ویسی ہی زیادتی اس پر کرو جیسی زیادتی اس نے تم پر کی ہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ انہی کا ساتھی ہے جو اس کا خوف دل میں رکھتے ہیں. (سورہ البقرۃ : 194)

  * وَ کَتَبۡنَا عَلَیۡہِمۡ فِیۡہَاۤ  اَنَّ النَّفۡسَ بِالنَّفۡسِ ۙ وَ الۡعَیۡنَ بِالۡعَیۡنِ وَ الۡاَنۡفَ بِالۡاَنۡفِ وَ الۡاُذُنَ بِالۡاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ ۙ وَ الۡجُرُوۡحَ قِصَاصٌ ؕ فَمَنۡ تَصَدَّقَ بِہٖ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ  لَّہٗ  ؕ وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ۔

  * اور ہم نے اس (تورات میں) ان کے لیے یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت۔ اور زخموں کا بھی (اسی طرح) بدلہ لیا جائے۔ ہاں جو شخص اس (بدلے) کو معاف کردے تو یہ اس کے لیے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کیے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ لوگ ظالم ہیں۔ ( سورہ المآئدۃ :45)

  اور کسی عضو کو کاٹ دینے کی وجہ سے جرم ثابت ہو چکا ہے لہذا جان بوجھ کر کاٹنے کے شکل میں قصاص اور غلطی کی صورت میں دیت واجب ہے اور اسی حصے کو دوبارہ جوڑ دینے کی وجہ سے یہ حق ساقط نہیں ہوگا جیسے کہ کوئی شخص کسی کو اس طرح سے زخم لگا دے کہ ہڈی نظر آنے لگے جسے فقہی اصطلاح میں موضحہ کہا جاتا ہے پھر علاج کی وجہ سے وہ ٹھیک ہو جائے تو اس کی وجہ سے قصاص یا دیت ساقط نہیں ہو جاتی ہے، نیز دوبارہ جوڑنے کی وجہ سے پہلے کی طرح خوبصورتی اور مضبوطی باقی نہیں رہتی ہے لہذا قصاص یا دیت ساقط کرنے کی وجہ سے مظلوم کے حق کو ساقط کرنا ہوگا اور قصاص یا دیت یقینی طور پر کتاب و سنت کے ذریعے ثابت ہے لہذا اس یقین کو زائل کرنے کے لیے بھی کسی یقینی دلیل کی ضرورت ہوگی جو مذکورہ مسئلے میں موجود نہیں ہے۔

  دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر حد یا قصاص میں کاٹے گئے عضو کو مجرم اسے دوبارہ اس کی جگہ پر لگانا چاہے تو کیا اس کی اجازت ہوگی اس سوال کے جواب میں امام شافعی کہتے ہیں کہ قصاص میں اس عضو کو کاٹ دینے کی وجہ سے مقصد حاصل ہوچکا ہے اس لیے اگر مجرم اسے دوبارہ لگانا چاہے تو اس کی اجازت ہوگی اور اس کی وجہ سے قصاص کا حکم لغو نہیں ہوگا  اس لیے دوبارہ اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا حنفیہ کی بعض عبارتوں سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے اور بعض حنابلہ بھی اسی کے قائل ہیں ( دیکھئے: الام 52/6.المغنی/423/9. قضایا فقیہ معاصرہ264/1)

  اور مالکیہ یہ کہتے ہیں کہ اگر مظلوم نے اپنے عضو کو دوبارہ لگا لیا ہے تو مجرم کو اپنے عضو کو دوبارہ لگانے کی وجہ سے کوئی تاوان نہیں دینا ہوگا لیکن اگر مظلوم نے اسے دوبارہ نہیں لگایا ہے اور مجرم نے لگا لیا ہے اس صورت میں وہ دیت ادا کرے گا. (البیان والتحصیل 68/16)

  یہ تمام تفصیل قصاص میں کاٹے گئے عضو کے سلسلے میں ہے لیکن اگر کسی کا ہاتھ یا پیر چوری اور ڈاکہ وغیرہ کی حد میں کاٹ دیا گیا ہو تو کیا اس کو دوبارہ لگانے کی اجازت ہوگی ؟ فقہی کتابوں میں اس سلسلے میں کچھ مذکور نہیں ہے شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس زمانے میں ہاتھ یا پیر کو اپنی جگہ پہ تو دوبارہ لگانے کا تصور نہیں تھا اور موجودہ دور میں بھی ان کو اپنی جگہ پر لگانے کے سلسلے میں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے بلکہ کثیر سرمایہ خرچ کر کے ان کی پیوندکاری کر دی جائے تو بھی وہ پہلے کی طرح سے کام نہیں کرتا بلکہ مصنوعی اعضاء ان سے زیادہ کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔

البتہ قصاص کے مسئلے پر قیاس کرتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح سے ان کے لیے مصنوعی ہاتھ پر لگانے کی اجازت ہے اسی طرح سے کاٹے گئے ہاتھ کو بھی دوبارہ جوڑنے کی اجازت ہوگی کیونکہ ہاتھ کاٹ دینے کی وجہ سے حد کا حکم مکمل ہو گیا ہے لہذا اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے کہ وہ دوبارہ پیوند کاری کے ذریعے اسے لگا لیں ۔(دیکھیے قضایا فقہیہ معاصرہ 274/1)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے