بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

سلسله(1)

مزاح و تفریح سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242.

 

مزاح و تفریح اور ہنسی مذاق  انسانی فطرت  کا تقاضہ اور انسان کی خصوصیت ہے، دوسرے جاندار اس صفت سے خالی ہیں، بلکہ  تھکن اور اکتاہٹ کے مرض کے لئے شفاء اور رنج و غم، پریشانی اور الجھن کو زائل کرنے کا ایک ذریعہ ہے ، جس سے انسان تازہ دم  اور اس کے نتیجہ میں کام کرنے کی قوت و صلاحیت میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔لیکن دوسرے فطری جذبات کی طرح سے اس میں بھی اعتدال شرط ہے اور اسے دوا کی حد تک رکھنا ضروری ہے کہ اس کا ضرورت سے زیادہ استعمال نقصان دہ ہوتا ہے ۔

 

 نبوی مزاح و تفریح کی بعض مثالیں:

 

1-رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات ازواج مطہرات سے کہانیاں سنا کرتے تھے اور ان سے مزاح بھی فرمایا کرتے تھے چنانچہ امام بخاری وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ام زرع کی کہانی سنی ۔(صحیح بخاری: 5189صحیح مسلم: 2448)

2- آپ ﷺ نے دوران سفر حضرت عائشہ کے ساتھ  دوڑ کا مقابلہ کیا جس میں وہ جیت گئیں ۔ دوسری بار آپ ﷺ نے انہیں ہرا دیا اور (بطور مزاح) فرمایا یہ پہلے دن کا بدلہ ہے.( ابو داؤد:2578،ابن ماجہ:1979،مسند احمد:24118)

3- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بوڑھی خاتون حاضر ہوئیں اور آپ سے دعا کی درخواست کی کہ اللہ مجھے جنت میں داخل کر دے آپ ﷺ نے فرمایا: جنت میں کوئی بوڑھی عورت داخل نہیں ہوگی ۔ وہ روتے ہوئے واپس جانے لگیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان سے کہو کہ وہ بڑھاپے کی حالت میں جنت میں داخل نہیں ہوگی۔ کیا تم قران کی یہ آیت نہیں پڑھتی ہو؟

اِنَّاۤ  اَنۡشَاۡنٰہُنَّ  اِنۡشَآءً .فَجَعَلۡنٰہُنَّ  اَبۡکَارًا.

یقین جانو، ہم نے ان عورتوں کو نئی اٹھان دی ہے۔  چنانچہ انہیں کنواریاں بنایا ہے۔ ( سورہ الواقعۃ: 35.36)

 عن الحسن قال أتتْ عجوزٌ النبيَّ ﷺ فقالت يا رسولَ اللهِ ادعُ لي أن يُدخِلَني اللهُ الجنةَ قال يا أمَّ فلانٍ إنّ الجنةَ لا يدخلُها عجوزٌ فولَّتْ العجوزُ تبكي فقال أخبِروها أنها لا تدخلُها وهي عجوزٌ فإنَّ اللهَ تعالى يقولُ  إِنّا أَنْشَأْناهُنَّ إِنشاءً فَجَعَلْناهُنَّ أَبْكارًا.

 ( أخرجه الترمذي في الشمائل :246 والبيهقي في البعث والنشور:346 و الألباني فی  السلسلة الصحيحة  : 2987 )

4-حضرت انس سے مزاح کرتے ہوئے فرمایا:اے دو کان والے ؟

(عن انس ان النبي صلى الله عليه وسلم قال له يا ذا الاذنين قال ابو اسامه يعني مازحه ۔الشمائل للترمذی:241.جامع ترمذی 1992.ابوداود 5002)

ہر انسان کے دو کان ہوتے ہیں لیکن اچانک کسی کو کہا جائے کہ اے دو کان والے! تو اسے لگے گا کہ صرف وہی دو کان والا ہے لیکن حقیقت جان کر مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا (دیکھئے لمعات التنقیح 184/8)

 5-حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

ان كان النبي صلى الله عليه وسلم ليخالطنا حتى يقول لاخ لنا صغير يا ابا عمير ما فعل النغير.(صحيح بخاري : 6129)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے گھلے ملے رہتے تھے یہاں تک کہ آپ ہمارے چھوٹے بھائی سے کہتے : ابو عمیر! نغیر چڑیا نے کیا کیا؟

امام ترمذی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مذاق کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ابو عمیر! چڑیا کیا ہوئی؟ اس کا پس منظر یہ ہے کہ اس کے پاس ایک چڑیا تھی جس سے وہ کھیلا کرتا تھا، کچھ دنوں کے بعد وہ مر گئی وہ بچہ اس سے بہت زیادہ رنجیدہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مذاق میں اسے چھیڑا کرتے تھے۔(الشمائل /191)

6-ایک صحابی نے ایک اونٹ کی درخواست کی ۔آپ ﷺ نے فرمایا: ہم تمہیں اونٹنی کا بچہ دیں گے ۔وہ کہنے لگے کہ (مجھے تو سواری کے لیے جوان اونٹ کی ضرورت ہے)، میں اونٹنی کا بچہ لے کر کیا کروں گا؟۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اونٹ بھی تو اونٹنی کا بچہ ہی ہوتا ہے ۔

 انا حاملوك على ولد الناقة فقال يا رسول الله وماذا اصنع بولد الناقة ؟ فقال وهل تلد الابل الا النوق .(ابو داوود :4998.ترمذي:1991. مسند احمد بن حنبل:13817)

7-ایک خاتون بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: میرے شوہر آپ کو دعوت دے رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا تمہارے شوہر کون ہیں؟ وہی جن کی آنکھ میں سفیدی ہے ؟وہ کہنے لگی کہ اللہ کی قسم ! میرے شوہر کی آنکھ میں سفیدی نہیں ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالکل ہے ۔انہوں نے دوبارہ قسم کھا کر اس سے انکار کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی انسان ایسا نہیں ہے اس کی آنکھ میں سفیدی نہ ہو۔

ان امراة يقال لها ام ايمن جاءت الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت ان زوجي يدعوك قال ومن هو ؟ أ هو الذي بعينه بياض؟ قالت: والله !ما بعينه بياض .فقال: بلى ان بعينه بياضا .فقالت :لا والله . فقال: ما من احد الا بعينه بياض.(الراوي: زيد بن أسلم • محمد ابن يوسف الصالحي، سبل الهدى والرشاد 114/7 • مرسل. )

8-حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں موجود تھے زوجہ محترمہ حضرت سودہ بنت زمعہ بھی آگئیں ، میں نے خزیرہ(چربی اور آٹے کا سوپ) تیار کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور حضرت سودا سے بھی تناول کرنے کے لئے کہا مگر انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ مجھے اچھا نہیں لگتا ہے، میں نے کہا : اللہ کی قسم! آپ کو کھانا پڑے گا ورنہ تو میں اسے آپ کے چہرے پر مل دوں گی. انہوں نے کہا کہ میں اسے چکھوں گی بھی نہیں. میں نے طشتری سے تھوڑا سا خزیرہ لے کر ان کے چہرے پر مل دیا . آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے، حضور ﷺ نے اپنی ران کو تھوڑا سا نیچے کر دیا اور حضرت سودہ سے کہا تم بھی اس کے چہرے پر مل دو۔چنانچہ انہوں نے بھی تھوڑا سا خزیرہ لیا اور میرے چہرے پر مل دیا ،یہ دیکھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے۔

  أتيتُ رسولَ اللهِ ﷺ بخَزِيرَةٍ طَبَخْتُها لهُ فقلتُ لسَوْدَةَ والنبيُّ ﷺ بيني وبينَها فقلتُ لها كُلِي فأَبَتْ فقلتُ لتأكلَنَّ أو لأًلَطِخَنَّ وجهَكَ فأَبَتْ فوضعتْ يدي في الخَزِيرَةِ فطليتُ بها وجهَها فضحكَ النبيُّ ﷺ فوضعَ فَخِذَهُ لها وقال لسَوْدَةَ الْطُخِي وجهَها فلَطَخَتْ وجهي فضحكَ النبيُّ ﷺ أيضًا فمرَّ عمرُ فنادى يا عبدَ اللهِ يا عبدَ اللهِ فظنَّ النبيُّ ﷺ أنهُ سيدخلُ فقال لهما قُوما فاغسلا وجوهَكما قالت عائشةُ فما زِلْتُ أهابُ عمرَ لهيبَةِ رسولِ اللهِ ﷺ إياهُ

الراوي: عائشة أم المؤمنين •أخرجه أبو يعلي: (4476 ۔ حسن •مجمع الزوائد414/4.)

9-رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے یہاں تشریف فرما تھے ،عید کے موقع پر دو لڑکیاں کچھ گا رہی تھیں ،اتنے میں حضرت ابوبکر کو تشریف لائے اور ان دونوں کو ڈانٹا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں گانے دو ، یہ عید کے دن ہیں۔

(دعهما يا ابا بكر فانها ايام عيد .صحيح بخاري:949 صحيح مسلم:892)

غرضے کے خوشی کے موقع پر گانا اور کھیلنا  کودنا  بھی اظہار مسرت کا ایک طریقہ ہے۔

10-عید ہی موقع پر حبشہ کے لوگ کھیل تماشہ کر رہے اور ہتھیاروں کے کرتب دکھا رہے تھے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے کہا کیا وہ کھیل کو دیکھنا چاہتی ہیں ؟چنانچہ آپ ﷺ انھیں دکھانے کے لیے ان کے ساتھ کھڑے رہے یہاں تک کہ ان کا جی بھر گیا اور وہ وہاں سے ہٹ گئیں ۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کا دل بہلانے اور بچوں کی دلجوئی کے لیے تفریح کرانا اور تفریح کا مواقع کا فراہم کرنا اخلاق نبوی میں شامل ہے۔

11-حضرت عائشہ نے ایک انصاری بچی کی پرورش کی تھی اور جب انہوں نے ان کی شادی کی تو خاموشی کے ساتھ انہیں رخصت کر دیا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے ساتھ کچھ کھیل تماشا بھی ہونا چاہئے تھا کہ انصار کو اس طرح کی چیزیں پسند ہیں۔(ما كان معها لهو فان الانصار يعجبهم اللہو. صحيح بخاري: 5162)

ایک روایت میں ہے کہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں دلہن کے ساتھ کسی خاتون کو بھیج دیتی؟ جو گاتے ہوئے یہ کہتی کہ ہم تمہارے پاس آئے ہم تمہارے پاس آئے، تم ہمیں زندگی کی دعا دو اور ہم تمہیں زندگی کی دعا دیتے رہیں۔

(هلا بعثتم معها من تغني وتقول اتيناكم اتيناكم فحيونا نحييكم. سن النسائي:5566 سنن ابن ماجه:1900 مسند احمد15209).

 

صحابہ کرام کے مزاح کی بعض مثالیں:

 

1-جس طرح سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام سے مزاح کیا کرتے تھے اسی طرح سے صحابہ کرام بھی آپ ﷺ سے مزاح کرلیا کرتے تھے چنانچہ حضرت عوف بن مالک کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ،اس وقت آپ ﷺ چمڑے کے ایک چھوٹے سے خیمہ میں تشریف فرما تھے، میں نے سلام کیا، آپ ﷺ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا:اندر آجاؤ ، میں نے کہا: اللہ کے رسول !کیا پورا جسم اندر لے آؤں ۔آپ نے فرمایا: ہاں .

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَسَلَّمْتُ، فَرَدَّ وَقَالَ : ” ادْخُلْ ". فَقُلْتُ : أَكُلِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : ” كُلُّكَ ". فَدَخَلْتُ.

امام ابو داؤد نے عثمان بن ابو عاتکہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت عوف نے یہ جملہ کہ "اپنا پورا جسم داخل کرلوں؟” اس لئے کہا کہ خیمہ چھوٹا تھا۔( ابوداؤد: 5000)

اور محدث عبدالحق دہلوی لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے اسی طرح سے وہ بھی آپ ﷺ کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے۔(لمعات التنقیح 187/8)

2-نیز وہ آپس میں بھی ایک دوسرے سے مذاق کیا کرتے تھے حضرت قتادہ کہتے ہیں:

سئل ابن عمر هل كان اصحاب رسول الله يضحكون قال نعم والايمان في قلوبهم اعظم من الجبل.

3-مشہور تابعی ابن سیرین سے پوچھا گیا کہ کیا صحابہ کرام آپس میں ہنسی مذاق کیا کرتے تھے ؟انہوں نے جواب دیا وہ بھی عام انسانوں کی طرح سے تھے ،حضرت عبداللہ بن عمر کو میں نے دیکھا ہے کہ وہ مذاق کیا کرتے تھے اور اشعار گنگناتے تھے۔

هل كانوا يتمازحون فقال ما كانوا الا كالناس كان ابن عمر يمزح وينشد الشعر. (حلية الاولياء275/2)

4-اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے:

 ”دلوں کی راحت اور تفریح کا خیال رکھا کرو، اور ان کے لیے دانش و حکمت پر مبنی لطائف و ظرائف تلاش کرو، کیونکہ دل بھی اسی طرح یک رنگی سے اکتا جاتا ہے جیسے بدن اکتاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔

(روحوا عن القلوب وابتغوا لها طرائف الحكمه فانها تمل كما تمل الابدان. حلية الاولياء۔ ابو نعيم299/3.)

اور حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں:

 ”اپنے دلوں کی تفریح کا بھی اہتمام کرو، کیونکہ دل کو اگر کسی کام پر مجبور کیا جائے تو وہ اندھا ہو جاتا ہے۔” ( بھجۃ المجالس لابن عبد البر  /115)

اور حضرت ابو درداء کہتے ہیں:

میں کبھی ہنسی مذاق کے ذریعے نفس کو آرام دیتا ہوں تاکہ اس کے بعد زیادہ بہتر طریقے سے حق کو ادا کر سکے۔

 اني لاستجم نفسي بالشيء من الباطل ليكون اقوى لها على الحق. (سير اعلام النبلاء421/5۔باطل سے مراد ہنسی مذاق اور کھیل تماشا ہے ۔چنانچہ ایک عرب شاعر کہتا ہے : اذا جد عند الجد ارضاك جده.

وذو باطل ان شئت الهاك باطله.)

 

مزاح سے ممانعت کی روایات:

 

اس کے بر خلاف بعض روایات میں ہنسنے ہنسانے اور مذاق کرنے کی ممانعت آئی ہے چنانچہ ایک حدیث میں ہے :

لا تمار اخاك ولا تمازحه.

اپنے بھائی سے نہ بحث و مباحثہ کرو اور نہ مذاق ۔(ترمذی :1995)

اور حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

…لا تكثر من الضحك فان كثرة الضحك تميت القلب.

بہت زیادہ مت ہنسا کرو ۔کیونکہ ہنسی کی کثرت دل کو مردہ کردیتی ہے ۔ (ترمذي: 2305)

اس طرح کی احادیث کے بارے میں شارحین نے کہا ہے کہ:

 ان المنهي عنه ما فيه افراط او مداومة عليه لما فيه من الشغل عن ذكر الله والتفكر في مهمات الدين ويئول كثيرا الى قسوة القلب والايذاء والحقد وسقوط المهابات والوقار والذي يسلم من ذلك فهو مباح.( فتح الباري 614/10).

ممانعت اس مزاح کی ہے جس میں افراط اور مداومت ہو اس لیے کہ اس طرح کی مشغولیت انسان کو اللہ کے ذکر سے اور دین کے اہم کاموں میں غور و فکر سے غافل کر دیتی ہے اور عام طور پر اس کا نتیجہ دل کی سختی ،کینہ،ایذا رسانی اور ہیبت وقار کے خاتمے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

یعنی اعتدال پر رہتے ہوئے ہنسی مذاق کی گنجائش ہے اور ظاہر ہے کہ جب کوئی چیز اعتدال سے خارج ہو جاتی ہے تو وہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

مزاح کے جواز کی شرطیں:

1-ہنسی مذاق میں بھی جھوٹی بات نہ کہی جائے ۔

حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا:

انك تداعبنا قال اني لا اقول الا حقا.

آپ ہمارے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہیں ؟آپ ﷺ نے فرمایا :اس میں بھی صرف حق بات ہی کہتا ہوں۔ (ترمذي:1990 مسند احمد8723 )

ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ويل للذي يحدث فيكذب ليضحك القوم ويل له ويل له.( ابو داوود باب في التشديد في الكذب 4338).

اس شخص کے لئے ہلاکت ہے تو لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے ۔اس کے لئے ہلاکت ہے ، اس کے لئے ہلاکت ہے ۔

2-ہنسی مذاق میں  کسی کی تحقیر ،اہانت اور غیبت نہ کی جائے  اور نہ کسی کے عیب کو مذاق کا موضوع بنایا جائے. چنانچہ قرآن پاک میں ہے:

یٰۤاَیُّہَا  الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسۡخَرۡ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوۡمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنۡہُمۡ وَ لَا نِسَآءٌ  مِّنۡ  نِّسَآءٍ  عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنۡہُنَّ ۚ وَ لَا تَلۡمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَ لَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ ؕ بِئۡسَ الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِیۡمَانِ ۚ وَ مَنۡ لَّمۡ یَتُبۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ.

اے ایمان والو ! نہ تو مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ (جن کا مذاق اڑا رہے ہیں) خود ان سے بہتر ہوں، اور نہ دوسری عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ (جن کا مذاق اڑا رہی ہیں) خود ان سے بہتر ہوں۔ اور تم ایک دوسرے کو طعنہ نہ دیا کرو، اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے پکارو۔ ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا بہت بری بات ہے۔  اور جو لوگ ان باتوں سے باز نہ آئیں تو وہ ظالم لوگ ہیں۔ (سورہ الحجرات : 11)

 اور حدیث میں ہے :

 بحسب امرء من الشر ان يحقر اخاه المسلم۔

کسی انسان کے برا ہونے کے لیے یہ کافی ہے اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے۔(صحيح مسلم 1986).

اور حضرت عائشہ کہتی ہیں:

 ْ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حَسْبُكَ مِنْ صَفِيَّةَ كَذَا وَكَذَا. قَالَ غَيْرُ مُسَدَّدٍ : تَعْنِي قَصِيرَةً. فَقَالَ : ” لَقَدْ قُلْتِ كَلِمَةً لَوْ مُزِجَتْ بِمَاءِ الْبَحْرِ لَمَزَجَتْهُ ". قَالَتْ : وَحَكَيْتُ لَهُ إِنْسَانًا، فَقَالَ : ” مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ إِنْسَانًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا ".( ابوداؤد 4875ترمذی 2502)

نبی کریم ﷺ سے میں نے کہا کہ صفیہ کے عیب کے لئے اس کا پستہ قد ہونا ہی کافی ہے ۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم نے ایسی بات کہہ دی ہے کہ اگر اسے سمندر کے پانی میں بھی ملا دیا جائے تو اسے بھی گندا کردے ۔

اور میں نے ایک مرتبہ کسی کی نقل اتار کر دکھائی  تو آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ دولت کی بڑی سے بڑی مقدار کے بدلے بھی کسی کی نقل اتاروں ۔

3-ہنسی مذاق دوسرے کے لیے تکلیف کا باعث

 نہ ہو  اور نہ اس کے ذریعے کسی کو ڈر اور خوف میں مبتلا کیا جائے۔

فرمان باری ہے :

وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَیۡرِ  مَا اکۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّ  اِثۡمًا مُّبِیۡنًا ۔

اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ان کے کسی جرم کے بغیر تکلیف پہنچاتے ہیں، انہوں نے بہتان طرازی اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے اوپر لاد لیا ہے(سورہ الاحزاب: 58)

 اور حضرت عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

ْ  ” الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ (صحیح بخاری: 10)

مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اللہ تبارک و تعالی کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دے۔

 اور عبدالرحمن ابن ابی لیلی کہتے ہیں کہ:

 حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُمْ كَانُوا يَسِيرُونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَانْطَلَقَ بَعْضُهُمْ إِلَى حَبْلٍ مَعَهُ فَأَخَذَهُ، فَفَزِعَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا ". (ابوداؤد: 5004)

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے ہم سے بیان کیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے کہ ان میں سے ایک آدمی سو گیا، ایک صاحب اس کے پاس گئے اور اس کی رسی اٹھا لی وہ آدمی گھبرا گیا، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کو ڈر اور خوف میں مبتلا کرے.

اور ایک دوسری حدیث میں ہے :

 لَا يَأْخُذَنَّ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ أَخِيهِ لَاعِبًا وَلَا جَادًّا – وَقَالَ سُلَيْمَانُ : لَعِبًا وَلَا جِدًّا – وَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا ". (ابوداؤد:5003 ترمذي: 2160)

تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا سامان (بے اجازت )ہرگز نہ لے، نہ مذاق میں اور نہ سچ مچ.

4-اللہ تعالیٰ اور انبیاء کرام ،فرشتوں ،اسلامی شعائر ،اور مقدس مقامات و شخصیات کو مذاق کا موضوع نہ بنایا جائے ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ لَیَقُوۡلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوۡضُ وَ نَلۡعَبُ ؕ قُلۡ اَ بِاللّٰہِ وَ اٰیٰتِہٖ وَ رَسُوۡلِہٖ  کُنۡتُمۡ  تَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ۔(سورہ التوبہ :65)

اور اگر تم ان سے پوچھو تو یہ یقینا یوں کہیں گے کہ : ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔ کہو کہ : کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول کے ساتھ دل لگی کر رہے تھے ؟

5-ہنسی مذاق میں اعتدال کو باقی رکھا جائے اس میں افراط و تفریط اور مداومت نہ ہو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

لا تكثر من الضحك فان كثره الضحك تميت القلب.

بہت زیادہ مت ہنسا کرو کیونکہ ہنسی کی کثرت دل کو مردہ کر دیتی ہے(ترمذي2305)

حضرت سعید بن عاص نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا:

إقتصد في مزاحك فالافراط فيه يذهب البهاء ويجرئ عليك السفهاء وتركه يقبض الموانسين ويوحش المخالطين.(فيض القدير 13/3)

مذاق میں میانہ روی اختیار کرو کیونکہ اس میں افراط کی وجہ سے چہرے کی رونق اور وقار ختم ہو جاتا ہے اور جاہل لوگ تم پر جری ہو جائیں گے۔اور مزاح کو بالکل ترک کر دینے کی وجہ سے تم سے انسیت رکھنے والے لوگ انقباض محسوس کریں گے اور تمہارے دوست اور احباب وحشت میں مبتلا ہو جائیں گے۔

علامہ نووی لکھتے ہیں:

اس مزاح کی ممانعت ہے جو حد سے زیادہ ہو اور ہمیشہ کیا جائے،جو ہنسنے کا سبب بنتا ہے اور اس کی وجہ سے دل میں سختی پیدا ہوتی ہے اور اللہ کے ذکر اور دین کی اہم چیزوں میں غور وفکر سے غافل کردیتا ہے جس کا نتیجہ بسا اوقات ایذا رسانی اور کینہ کپٹ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور ہیبت و وقار ختم ہوجاتا ہے اور اگر کوئی ان چیزوں سے محفوظ رہے تو پھر مزاح جائز ہے جسے رسول اللہ ﷺ کبھی کبھار کیا کرتے تھے تاکہ مخاطب کو خوش اور مانوس کیا جاسکے اور یہ مستحب طریقہ ہے ۔(المرقاة617/8)

اور حافظ ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں:

فان صادف مصلحة مثل تطييب نفس المخاطب وموانسته فهو مستحب۔

اگر مزاح کا مقصد مخاطب کو خوش اور مانوس کرنے جیسی مصلحت ہو تو وہ مستحب ہے ۔(فتح الباري 614/10)

لہذا مزاح کے لئے باضابطہ پروگرام منعقد کرنا یا اس کے لئے مجلس لگانا یا بار بار اس طرح کا پروگرام کرنا یا ایسے وقت میں محفل جمانا کہ اس کی وجہ سے نماز اور دوسرے فرائض اور ذمہ داریوں سے  غافل ہوجائے جائز نہیں ہے۔

6-کھیل کود اور تفریح میں کسی جاندار کو تختۂ مشق نہ بنایا جائے ۔حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے:

ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن من اتخذ شيئا فيه الروح غرضا (صحيح بخاري 5515)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص پر لعنت کی ہے جو جاندار چیز کو تختہ مشق بنائے۔

7-ہنسی مذاق میں بھی حیا کے تقاضوں کا لحاظ رکھا جائے ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

الحیاء شعبۃ من الایمان ۔

حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے ۔

لہذا مذاق میں بھی بےحیائی اور بے شرمی کی بات کہنا جائز نہیں ہے ۔

8-اور یہ بات محتاج بیان نہیں کہ مذاق میں موقع اور محل کی رعایت ضروری ہے ۔لہذا نماز اور قبر کی زیارت کے وقت،میت کے پاس ۔قرآن کی تلاوت کے وقت ہنسی مذاق درست نہیں ہے ۔مشرکوں کا طریقہ تھا کہ وہ قرآن کی تلاوت کے وقت ہنسی مذاق کرنے لگتے تھے ،قرآن حکیم میں ان کی یہ قبیح حرکت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:

 اَفَمِنۡ ہٰذَا  الۡحَدِیۡثِ  تَعۡجَبُوۡنَ ۔وَ تَضۡحَکُوۡنَ  وَ لَا  تَبۡکُوۡنَ و اَنۡتُمۡ  سٰمِدُوۡنَ ۔

تو کیا تم اسی بات پر حیرت کرتے ہو ؟اور (اس کا مذاق بنا کر) ہنستے ہو، اور روتے نہیں ہو۔جبکہ تم تکبر کے ساتھ کھیل کود میں پڑے ہوئے ہو۔(سورہ النجم :59-61)

غرضیکہ جس طرح سے دوسرے کاموں کے لئے موقع و محل کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اسی طرح سے ہنسی مذاق میں بھی اس کی رعایت ضروری ہے ،سنجیدگی کے موقع پر مذاق بیوقوفی اور غم کے موقع پر ہنسنا سنگدلی ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے