بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(30) دوا علاج سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
30-آپریشن:
دوا علاج کا ایک طریقہ آپریشن بھی ہے البتہ انسانی عظمت و شرافت کا تقاضا ہے کہ کسی واقعی اور حقیقی مقصد کے بغیر جسم کی کاٹ چھانٹ کے اجازت نہ دی جائے۔
آپریشن کی بعض شکلیں ضرورت کا درجہ رکھتی ہیں کہ اس کے بغیر مریض کی موت کا اندیشہ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں آپریشن ضروری ہے کہ جان کی حفاظت شریعت کا اہم ترین مقصد ہے اور اس کام میں حصہ لینے والے اللہ تبارک و تعالی کی اس فرمان کا مصداق ہوں گے:
وَ مَنۡ اَحۡیَاہَا فَکَاَنَّمَاۤ اَحۡیَا النَّاسَ جَمِیۡعًا.
اور جو شخص کسی کی جان بچالے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔
اور علامہ ابن حزم ظاہری لکھتے ہیں:
اور ہلاکت کے خطرے سے دو چار ہر شخص کو بچانے کو اللہ تعالی نے ہم پر فرض قرار دیا ہے جیسے کہ کسی کو ظالم کے ظلم سے بچانا۔۔۔۔یا کسی سخت بیماری سے بچانا جس پر ہم قدرت رکھتے ہیں۔(المحلی 19/11)
اور کبھی آپریشن حاجت کے درجے میں ہوتا ہے یعنی آپریشن نہ کرنے کی صورت میں موت کا اندیشہ نہیں ہوتا ہے البتہ مریض مشقت اور پریشانی مبتلا ہوتا ہے اور دوا سے افاقہ نہیں ہوتا ہے جیسے کہ بواسیر وغیرہ کا آپریشن اور شریعت نے احکام کے نفاذ میں حاجت کا بھی لحاظ رکھا ہے ارشاد باری ہے :
یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّخَفِّفَ عَنۡکُمۡ ۚ وَ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِیۡفًا۔
اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے ساتھ آسانی کا معاملہ کرے اور انسان کمزور پیدا ہوا ہے۔ (سورہ النسآء : 28)
مَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیَجۡعَلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ حَرَجٍ وَّ لٰکِنۡ یُّرِیۡدُ لِیُطَہِّرَکُمۡ وَ لِیُتِمَّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ۔
اللہ تم پر کوئی تنگی مسلط کرنا نہیں چاہتا، لیکن یہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک صاف کرے، اور یہ کہ تم پر اپنی نعمت تمام کردے، تاکہ تم شکر گزار بنو۔ (سورہ المآئدۃ : 6)
اور حضرت جابر کہتے ہیں:
بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ طَبِيبًا، فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا، ثُمَّ كَوَاهُ عَلَيْهِ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی ابن کعب کے پاس ایک طبیب کو بھیجا جس نے علاج کے طور پر ایک رگ کو کاٹ دیا اور پھر اسے اگ سے داغ دیا۔ (مسلم 2207+
اور فتاوی ہندیہ میں ہے:
جسم کا کوئی حصہ سڑ جائے تو اسے کاٹ کر نکال دینے میں کوئی حرج نہیں تاکہ اس کا اثر جسم کے دوسرے حصوں تک نہ پہونچے ۔۔۔ اور اگر مثانہ میں پتھری ہو جائے تو اسے چیر کر نکالنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔( الھندیۃ 360/5)
آپریشن سے پہلے دوا کے ذریعے مرض کو زائل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور پیچیدہ آپریشن میں جس میں جان جانے یا عضو کے تلف ہو جانے کا اندیشہ ہو اس کی اجازت اسی وقت ہوگی جبکہ کامیابی کا ظن غالب ہو اور اگر ہلاکت کا غالب امکان ہے نے تو آپریشن کی اجازت نہیں ہوگی چنانچہ فتاوی ہندیہ میں ہے:
’’شدید اور پرخطر زخموں میں اور مثانہ میں ہونے والی پتھریوں میں اور اس کے مثل میں ، گر کہا جائے کہ موت و حیات دونوں کا
امکان ہے یا یہ کہ موت کا امکان نہیں تو اس وقت علاج کیاجائے اور اگر کہا جائے کہ موت یقینی ہے تو پھر علاج نہ کیاجائے۔‘‘(ہندیہ 360/5)
31-خوبصورتی کے لئے آپریشن:
خوبصورتی کے لئے آپریشن کی دو صورتیں ہیں:
1-جسم طبعی اور عمومی شکل میں باقی نہ ہو جیسے کہ ہونٹ کٹا ہوا ہو ،انگلیاں باہم پیوست ہوں ،پانچ سے زیادہ انگلیاں ہوں ،زخم یا جلنے کی وجہ سے داغ پڑجائے یا جسم میں زائد چربی جمع ہوجائے اور موٹاپے کے مرض میں مبتلا ہوجائے ۔
یہ چیزیں بھی عیب اور مرض میں شمار ہونگی اور ان کو دوا یا آپریشن کے ذریعے زائل کرنے کی اجازت ہوگی کیونکہ اس کی وجہ سے انسان ذہنی اعتبار سے پریشان اور نفسیاتی مریض بن جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ آپریشن بھی حاجت کے درجے میں ہوگا چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ دانتوں میں خوبصورتی کیلئے کشادگی پیدا کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہے (المتفلجات للحسن)
علامہ نووی اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ محض خوبصورتی کے لئے ایسا کرتی تھیں اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر علاج یا دانت میں کسی عیب کی وجہ سے اس کی حاجت ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے (شرح نووی علی مسلم 107/13)
اور فتاوی ہندیہ میں ہے:
اگر کوئی اپنی زائد انگلی یا کوئی دوسرا حصہ کاٹنا چاہے تو اگر اس کی وجہ سے ہلاکت کا غالب امکان ہو تو ایسا نہ کرے اور اگر کامیابی کا غالب گمان ہو تو ایسا کرنے کی گنجائش ہے۔ (الہندیہ 360/5)
2-محض خوبصورتی کے لیے طبعی ساخت میں آپریشن کے ذریعے تبدیلی جیسے کہ جسم کو سڈول بنانے کے لیے چربی کو آپریشن کے ذریعے نکالنا یا بڑھاپے کی وجہ سےچہرے پر پڑنے والی جھریوں کو ختم کرنا وغیرہ ۔
اس طرح کے آپریشن کی اجازت نہیں ہوگی کہ یہ درحقیقت اللہ کی خلقت میں تبدیلی ہے جو شیطانی بہکاوے کا نتیجہ ہے۔
32- احتیاطی آپریشن:
یعنی ائندہ پیش آنے والے کسی ضرر سے بچنے کے لیے آپریشن کرانا۔ اس کی دو صورتیں ہیں: ایک ہی کی ضرر کے وقوع کا ظن غالب ہو ایسی حالت میں آپریشن کی اجازت ہوگی کہ یہ حاجت کے درجے میں ہے۔
دوسری صورت یہ کہ ضرر کے وقوع کا محض وہم اور شک ہو جیسے کہ اپنڈکس کا آپریشن ۔
احتیاطی طور پر اس طرح کے آپریشن کی اجازت نہیں ہوگی کہ یہ بھی اللہ کی خلقت میں تبدیلی ہے نیز یہ کہ اللہ تبارک و تعالی نے انسان کے جسم میں اس طرح کے اعضاء کو بلا ضرورت پیدا نہیں کیا ہے یہ اور بات ہے کہ ہمیں اس کی ضرورت معلوم نہ ہو اور وہ بلاوجہ اور زائد محسوس ہو۔