بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(28) دوا علاج سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

28-انسانوں پر دواؤں کا تجربہ:

 

کسی انسان پر نئی دوا کا تجربہ اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ وہ کسی مرض میں مبتلا ہو اور اس مرض کی قدیم دوائیں اس پر کارگر نہ ہوں اور کوئی ماہر ڈاکٹر اس مرض کے لئے اس دوا کو تجویز کرے اور تحقیق کے ذریعے معلوم ہوچکا کہ اسے کوئی انسان استعمال کرسکتا ہے اور اس کا کوئی ایسا نقصان نہیں ہے جو اس مرض سے بڑھا ہوا ہو نیز مریض کے سامنے دوا کے بارے میں وضاحت کرکے اس سے کسی جبر و دباؤ اور لالچ کے بغیر اجازت لے لی جائے۔

صحت مند انسان پر یا جس مرض میں وہ مبتلا ہے اس کے علاوہ دوسرے مرض کی دوا کا کسی انسان پر تجربہ کرنا اور اسے تختہ مشق بنانا اس کی عظمت و شرافت کے خلاف ہے یہاں تک کہ اگر کوئی شخص اپنی خوشی اور رضاکارانہ طور پر خود کو اس تجربہ کے لئے پیش کرے تو اس کی بھی اجازت نہیں ہوگی چنانچہ حدیث میں ہے :

 ” لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ ".

نہ تو ضرر برداشت کرنا ہے اور نہ کسی کو ضرر پہونچانا ہے ۔(المؤطا: 2171.ابن ماجه: 2340)

  البتہ اگر کسی نقصان کا اندیشہ نہ ہو تو اس کی رضامندی سے اس پر کسی دوا کے تجربے میں کوئی حرج نہیں ہے ہے ۔(دیکھئے : الفقہ الاسلامی وادلتہ 5206/7 ط: دار الفكر -دمشق)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے