نمونہ اسلاف حضرت مولانا زین الاسلام صاحب ۔مفتی دار العلوم دیوبند لکھتے ہیں:
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم امابعد !
آج 30 ؍رجب المرجب 1445ھ مطابق 11؍فروری 2024ء بروز یکشنبہ فتح پور تال نرجا ضلع مئو کے مشہور ادارہ مدرسہ انوار العلوم میں مفتی سعد اللہ قاسمی گورکھپوری کی معیت میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی، وجہ تقریب مدرسے کے سالانہ جلسہ دستار بندی میں شرکت بنی، فتح پور تال نرجا حضرت مصلح الامت مولانا شاہ وصی اللہ صاحب غریق بحر رحمت کا وطن اور ابتدائی جد و جہد کا مرکز رہا ہے جس کی نسبت سے اس کی شہرت دور دراز کے علاقے تک پہونچی ہوئی ہے اس بستی میں مدرسہ انوار العلوم کی پر شکوہ ،دیدہ زیب عمارت ایک کشش رکھتی ہے اور ہر آنے والے کی نظر اپنی طرف متوجہ کرتی ہے ۔
اس ادارے میں جیسا کہ معلوم ہوا سو (100)سے زائد طلبہ رہائش پذیر ہیں جن کے قیام و طعام کا بندوبست منجانب ادارہ ہے درجہ حفظ کے تعلیم کے ساتھ عربی کے بعض درجات بھی قائم ہیں اور تکمیل افتاء کا درجہ اس ادارہ کی خصوصیت ہے.
قاری محبوب اللہ صاحب اور مولانا محمد سالم عزیز ندوی صاحب کے زیر انتظام و اہتمام یہ مدرسہ ترقی کی جانب گامزن ہے ۔
اور مولانا ولی اللہ مجد قاسمی صاحب زید شرفہ وکرمہ اس ادارے کے ناظم تعلیمات اور کار پرداز ہیں، انہوں نے اپنی صلاحیت اور اعلی لیاقت کا محور درجہ افتاء کے طلبہ کو بنایا ہے جن کے اندر فقہ و فتاوی سے اچھی مناسبت و صلاحیت پیدا کرنے کے لئے مولانا خوب جد وجہد کرتے ہیں ،بہت سی خوبیاں اس ادارے میں ہیں۔ اللہ تعالی نے روز افزوں ترقی عطا فرمائے اور اہل خیر حضرات کے قلوب اس کی طرف متوجہ فرمائے تاکہ ادارہ مزید ترقیات کی منزلیں طے کر سکے،اور کارکنان کی ضروریات کا غیب سے تکفل فرمائے۔
زین الاسلام قاسمی
مفتی دارالعلوم دیوبند
30-7-1445ھ
حضرت مفتی زین الاسلام صاحب کی معیت میں حاضری ہوئی جیسا سنا تھا اس سے کہیں زیادہ پایا اللہ تعالی خوب سے خوب ترقی دیں۔
مفتی سعداللہ قاسمی گورکھپوری۔