بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(29) دوا علاج سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

 

29-جانوروں پر میڈیکل ریسرچ:

 

دواؤں کے اثرات کو جاننے اور ان کے فوائد کا پتہ لگانے کے لئے نیز عضو انسانی کی تشریح کے مقصد سے جانوروں پر مختلف قسم کے تجربات کئے جاتے ہیں اس طرح کے تجربات اور ریسرچ جائز اور درست ہیں، اس لئے کہ ان تجربات کا مقصد بے جا ایذا رسانی نہیں بلکہ انسانی منفعت اور فائدہ اس سے وابستہ ہے اور اسلام کا یہ نقطہ نظرہے کہ تمام جانور انسانوں کی منفعت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں، رب کائنات کا ارشادہے:

"هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ۔ جَمِيعاً.”(سورة البقرة: 29)

وہ ذات پاک ایسی ہے جس نے پیداکیا تمہارے فائدے کےلیے جو کچھ زمین میں موجود ہے سب کا سب(بیان القرآن)

اسی آیت سے فقہاء نے یہ اصول بھی مستنبط کیا ہے کہ دنیا کی ہر چیز اصل میں حلال ہے اور جب تک کسی چیز کی حرمت پر کوئی دلیل نہ ہو اس وقت تک اس کو حلال ہی سمجھا جائے گا۔(آسان ترجمہ قرآن)

والانعام خلقھا لکم فیھا دفء ومنافع و منھاتاکلون ۔(النحل:16)

’’اور اللہ نے تمہارے لئے جانوروں کو پیداکیا، جن کے بال سے گرمی کا سامان بہم ہے اور اس کے سوا بھی بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے کچھ کو تم کھاتے ہو۔‘‘

انسانی منفعت کے پیش نظر جانوروں پر سوار ہونا اور ان کے گوشت سے استفادہ کرنا جب جائز ٹھہرا ، گرچہ اس میں ایک طرح سے ان کو اذیت ہوتی ہے تو دواؤں کے اثرات کو جاننے کے لئے ان پر تجربات کرنا بھی درست ہے۔ چنانچہ تمام فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ کسی ضرورت اور مصلحت کے بغیر کسی جانور کو تکلیف دینا اور پریشان کرنا ظلم اور ناجائز ہے۔(دیکھیے تبین الحقائق: 227/6،البحرالرائق:554/8المہذب:266/1، المغنی :591/3)

اور انسانی منفعت اور مصلحت کے لیے ان کے جسم کے کسی حصے کو نکالنا یا زخمی کرنا درست ہے لیکن اس میں بھی کم سے کم تکلیف پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔

دوا اور علاج بھی چونکہ انسانی ضرورت ہے اس لیے جانوروں پر میڈیکل تجربات کیے جا سکتے ہیں اس طور پر کہ پہلے انجیکشن یا دوا کے ذریعے انہیں بیمار بنایا جائے اور پھر اس بیماری کے علاج کے لیے ان پر امکانی دواؤں کا تجربہ کیا جائے اور اسی طرح سے دوا اور علاج کے لیے زندہ جانوروں کو بے ہوش کر کے ان کے جسم کے کسی حصے کو نکال لینا یا اس میں کوئی آلہ رکھ دینا جو اس کے لیے باعث تکلیف ہو درست ہے(1)

لیکن اس کی اجازت اسی وقت ہوگی جبکہ اس کی شدید ضرورت ہو اور اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ ہو۔ چنانچہ حدیث میں ہے :

ان طبيبا سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ضفدع يجعلها في دواءفناهاه النبي صلى الله عليه وسلم عن قتلها(ابوداؤد:3871)

رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ایک حکیم نے مینڈک کو دوا میں ڈالنے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مارنے سے منع فرمایا ۔

اور علامہ سہارن پوری نے اس کی شرح میں لکھا ہے :

لانها ليس بموذ ولا ماكول ولا يتوقف عليه الدواء بان لا يكون له بدل۔(بذل المجهود:653/13)

اس لئے کہ مینڈک نہ تو ایذا پہونچاتا ہے اور نہ اسے کھایا جاتا ہے ۔اور دوا اس پر موقوف نہیں ہے کہ اس کا بدل موجود نہ ہو۔

اور اگر اس عمل کی وجہ سے جانور مستقل تکلیف میں رہتا ہو تو اس آلے کو نکال کر اسے ذبح کر کے آرام پہنچانا ضروری ہے۔

 

(1)وابيح لنا اتلاف ما لا ينتفع به اذا كان موذيا او لم يكن موذيا وكان اتلافه تكملة لما ليس بضروري ولا حاجی من المنافع( الموافقات: 441/3.فلما جاز اتلاف نفسه للمنفعة او دفع المضرةجاز اتلاف عضوه بالاولى۔(اعلاء السنن:454/17)

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے