بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(25) دوا علاج سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

25-جسمانی طور پر جڑے ہوئے لوگوں کو الگ کرنا:

 

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو لوگوں کے جسم کا ایک حصہ دوسرے سے جڑا ہوا ہوتا ہے مثلا دونوں کا سر یا کندھا جڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے ان کی زندگی بڑی دشوار ہوتی ہے اور شادی شدہ زندگی گزارنا بھی ممکن نہیں ہوتا ہے۔

ایسی حالت میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان دونوں کو الگ کرنا ناگزیر ہے کہ اس کے بغیر ان کی زندگی ممکن نہیں۔ لہذا اگر زندہ رہنے کے لیے ان کو الگ کرنا ضروری ہو اور اس کے بغیر ان کے مرنے کا اندیشہ ہو تو آپریشن کے ذریعے ان کو الگ کرنا شرعا واجب ہے؛ کیونکہ جان کی حفاظت شریعت کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد ہے ۔

اور اگر الگ کرنے کی صورت میں دونوں یا ان میں سے کسی ایک کی موت کا غالب امکان ہو تو الگ کرنا حرام ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

*وَ اَنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ ۚۖۛ وَ اَحۡسِنُوۡا ۚۛ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ

*اور اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو، اور اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی اختیار کرو، بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورہ البقرۃ: 195)

* وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمۡ رَحِیۡمًا

* اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ یقین جانو اللہ تم پر بہت مہربان ہے۔(سورہ النسآء:29)

اسی طرح سے اگر ڈاکٹروں کی رائے ہو کہ الگ نہ کرنے کی صورت میں دونوں کی وفات کا ظن غالب ہے اور الگ کرکے ایک کی زندگی بچائی جا سکتی ہے تو دونوں کی ہلاکت کے ضرر سے بچنے کے لیے کمتر ضرر کو اختیار کرتے ہوئے آپریشن کرنے کے ذریعے دونوں کو الگ کرنے کی اجازت ہوگی۔

اور اگر جڑے رہنے میں دونوں یا کسی ایک کی وفات کا اندیشہ نہ ہو البتہ ان کی صحت کے پیش نظر الگ کرنا بہتر ہے تو ایسی حالت میں آپریشن کے ذریعے دونوں کو الگ کرنا مستحب ہے تاکہ وہ شخصی افعال کو انجام دینے میں آزاد ہوں اور ایک دوسرے کے ستر پر نگاہ نہ پڑے اور کسی ایک سے سرزد ہونے والے جرم میں دوسرا ماخوذ نہ ہو اور دشوار تر زندگی سے چھٹکارا مل سکے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وَ مَا جَعَلَ عَلَیۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ مِنۡ حَرَجٍ.

اور تم پر دین کے معاملے میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔

اور فقہی ضابطہ ہے کہ ممکن حد تک ضرر اور تکلیف کو دور کیا جائے گا (الضرر یدفع بقدر الامکان) ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے