بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(31) دوا علاج سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

31-جینیٹک تھراپی:

 

جینیٹک تھراپی (Genetic Therapy) ایک جدید طریقۂ علاج ہے جس میں انسان کے خلیات (cells) کے اندر موجود جین (Gene) کو فعال ،درست یا تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ موروثی یا بعض دیگر بیماریوں کا علاج کیا جا سکے۔

اس کے لیے عموماً ایک خاص وائرس (جسے ویکٹر کہتے ہیں) استعمال کیا جاتا ہے، جو نئے یا درست جین کو خلیے کے اندر پہنچاتا ہے۔

یہ طریقہ کار بیماری کے علاج کے بجائے بنیادی وجہ (ڈی این اے) کو ٹھیک کرتا ہے، جس سے کینسر، اور دیگر موروثی امراض کا علاج ممکن ہو رہا ہے۔

جین دراصل ہمارے جسم کے خلیوں میں موجود DNA کا ایک حصہ ہوتا ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ ہمارا قد، رنگ، شکل و صورت کیسی ہو؟جسم کے مختلف اعضا کیسے کام کریں.کون سی خصوصیات والدین سے اولاد میں منتقل ہوں؟

 

جینیٹک تھراپی کی قسمیں اور حکم:

 

1- توالد و تناسل سے متعلق جین کو منتقل کرنا:

یہ جین انسان کے موروثی خصوصیات کا مخزن ہوتا ہے اور اس کی نسلوں میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔

اس طرح کے جین کی تبدیلی جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں اختلاط نسب ہے حالانکہ نسلی شناخت کی اسلام میں خاص اہمیت ہے بلکہ نسل کی حفاظت اسلام کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے اور اسی وجہ سے زنا کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔

اور حضرت ابو درداء سے منقول ہے:

أَنَّهُ أَتَى بِامْرَأَةٍ مُجِحٍّ عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ ، فَقَالَ : ” لَعَلَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُلِمَّ بِهَا ". فَقَالُوا : نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنًا يَدْخُلُ مَعَهُ قَبْرَهُ ؛ كَيْفَ يُوَرِّثُهُ، وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ ؟ كَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ، وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ ؟ ".

نبی کریم ﷺ ایک حاملہ عورت کے پاس سے گزرے جو جلد ہی بچہ جننے والی تھی اور ایک خیمے کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:شاید اس کا مالک اس کے ساتھ صحبت کرنا چاہتا ہے؟لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں۔آپ ﷺ نے فرمایا:میں نے ارادہ کیا کہ اس پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ اس کی قبر میں داخل ہو۔ وہ کیسے اس (بچے) کو وارث بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں؟ اور وہ کیسے اسے غلام بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں؟(صحیح مسلم:1441)

نسب میں اختلاط سے بچنے کے لئے قید کردہ ایسی باندی سے جماع کرنے سے منع کیا گیا ہے جس کے یہاں جلد ہی پیدائش ہونے والی ہے اور یہ وجہ توالد و تناسل کے جین کو منتقل کرنے میں بھی پائی جاتی ہے ۔

 

2-اچھی صفات کے حامل جین کو منتقل کرنا:

کسی شخص کی بہتر صفات کو منتقل کرنے کے لیے جین کو تبدیل کرنا مثلا خوبصورتی رنگ و روپ، قد و قامت، آنکھوں کی رنگت یا ذہانت کی تبدیلی کے لئے ان صفات کے حامل شخص کے جین کو دوسرے میں منتقل کرنا۔

یہ صورت بھی جائز نہیں ہے کہ اس میں اللہ کی خلقت میں دخل اندازی اور اس میں تبدیلی ہے جو قرآن کے بیان کے مطابق شیطانی بہکاوے کا نتیجہ ہے۔قرآن پاک میں ہے :

وَّ لَاُضِلَّنَّہُمۡ وَ لَاُمَنِّیَنَّہُمۡ وَ لَاٰمُرَنَّہُمۡ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الۡاَنۡعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّہُمۡ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلۡقَ اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یَّتَّخِذِ الشَّیۡطٰنَ وَلِیًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَقَدۡ خَسِرَ خُسۡرَانًا مُّبِیۡنًا۔

اور شیطان نے کہا: میں انہیں راہ راست سے بھٹکا کر رہوں گا، اور انہیں خوب آرزوئیں دلاؤں گا، اور انہیں حکم دوں گا تو وہ چوپایوں کے کان چیر ڈالیں گے، اور انہیں حکم دوں گا تو وہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی پیدا کریں گے۔ اور جو شخص اللہ کے بجائے شیطان کو دوست بنائے اس نے کھلے کھلے خسارے کا سودا کیا۔ (سورہ النسآء: 119)

3-امراض کے علاج کے لئے جین کی تبدیلی (Somatic Gene Therapy):

موجودہ بیماری کو زائل کرنے یا کسی بیماری سے بچنے کے لیے احتیاطی طور پر جین کی تبدیلی جائز ہے جیسے کہ کینسر یا ایڈز وغیرہ کے حامل جین کو تبدیل کر کے اس کی جگہ صحت مند جین داخل کرنا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے