بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(9) دوا علاج سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

9-حرام سے علاج:

 

دوا اور علاج میں بھی حلال اور پاکیزہ چیزوں کو استعمال کرنا اور حرام چیزوں سے بچنا چاہئے خواہ حرمت کی وجہ نجاست و خباثت ہو یا مضرت یا نشہ آور ہونا۔حکیم الامت حضرت ابو درداء سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

  ” إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ الدَّاءَ وَالدَّوَاءَ، وَجَعَلَ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءً ؛ فَتَدَاوَوْا، وَلَا تَدَاوَوْا بِحَرَامٍ ".

  یقینا اللہ تعالی نے بیماری کے ساتھ اس کی دوا بھی پیدا کی ہے ،اس نے ہر بیماری کی دوا بنائی ہے ،لہذا علاج کرو لیکن اس میں حرام دوا استعمال مت کرو۔(ابوداؤد:3874)

  اور حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

  إنَّ اللهَ لم يَجعَل شِفاءَكُم فيما حَرَّمَ عليكم۔

  اللہ تعالیٰ نے حرام کردہ چیزوں میں تمہارے لئے شفاء نہیں رکھی ہے

 (أخرجه البخاري معلقاً بصيغة الجزم قبل حديث :5614. وأخرجه موصولاً الطبراني فی الکبیر:9717 ۔483/9، والحاكم: 7509. موقوفاً۔ واخرجه البيهقي  وصححه ابن حبان عن ام سلمة مرفوعا.بلوغ المرام:379)

   اور حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

   من تداوى بحرامٍ لم يجعلِ اللهُ له فيه شفاءً۔

  جس نے حرام سے علاج کیا اللہ اس کو شفا نہیں دے گا۔

(أخرجه أبو نعيم في الطب النبوي:53 .قال

 الألباني :حسن. بجموع الطرق . السلسلة الصحيحة :2881)

  اور حضرت عبداللہ بن عمر کے بارے میں منقول ہے :

   كان ابن عمر اذا دعاطبيبا يعالج بعض اصحابه يشترط عليه الا يداوي بشيء مما حرم الله عز و جل.

   حضرت عبداللہ بن عمر جب اپنے ساتھیوں میں سے کسی کے علاج کے لیے حکیم کو بلاتے تو اس سے یہ شرط لگا دیتے کہ وہ ان چیزوں سے علاج نہیں کرے گا جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔(المستدرک:7717 .السنن الکبری للبیہقی 5/10)

  مذکورہ احادیث کے الفاظ بالکل عام ہیں جن سے تمام محرمات سے علاج کا ناجائز ہونا معلوم ہوتا ہے، بعض لوگوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت کو شراب کے ساتھ خاص کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ صحیح ہے کہ اس کا پس منظر شراب سے متعلق ہے لیکن الفاظ عام ہیں جس کے ذریعہ ایک عمومی ضابطہ بیان  کیا گیا ہے کہ کسی حرام چیز میں شفاء نہیں ہے۔

  امام بیہقی کہتے ہیں کہ مذکورہ اور خبیث دوا سے ممانعت کی حدیث سے نشہ آور اور بے ضرورت حرام دوا استعمال کرنا مراد ہے تاکہ ان احادیث اور قبیلہ عرینہ کی حدیث میں تضاد نہ رہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے بطور دوا انہیں اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم دیا تھا۔

   اور ابن رسلان کہتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ امام شافعی کے نزدیک نشہ آور کے علاوہ تمام نجاسات سے علاج جائز ہے اور اس کی دلیل قبیلہ عرینہ سے متعلق حدیث ہے جسے امام بخاری اور مسلم وغیرہ نے نقل کیا ہے ،جس میں رسول اللہ ﷺ نے انہیں دوا کے طور پر اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم دیا اور جس حدیث میں حرام اور نجاست سے علاج کی ممانعت ہے تو اس سے مراد وہ صورت ہے جس میں اس کی ضرورت نہ ہو اور اس کے قائم مقام پاک دوا موجود ہو۔

 علامہ شوکانی اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ دونوں طرح کی احادیث میں موافقت پیدا کرنے کے لیے جو بات کہی گئی ہے وہ وہ تکلف سے خالی نہیں ہے اس لیے کہ جو لوگ اس کے قائل نہیں ہیں وہ اونٹ کے پیشاب کو حرام اور ناپاک کہتے ہی نہیں ہیں بلکہ ان کے نزدیک اونٹ کا پیشاب پاک ہے ۔اور اگر ناپاکی مان لی جائے تو عام حدیث جس میں حرام سے علاج سے منع کیا گیا ہے اور خاص حدیث جس میں اونٹ کے پیشاب سے دوا کی اجازت دی گئی ہے موافقت کا طریقہ یہ ہے کہ کہا جائے کہ ہر حرام سے علاج ناجائز ہے سوائے اونٹ کے پیشاب کے کہ صرف اس سے علاج جائز ہے، قانونی اور اصولی طریقہ یہی ہے.

(عون المعبود ،رقم الحدیث :3874)

لیکن اس کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ نجاست کی حلت کی وجہ دوا علاج ہے اور اسی بنیاد پر عام حالات کی بہ نسبت اس کا حکم الگ بیان کیا گیا ہے اور جہاں یہ علت یہ پائی جائے گی وہاں دوسری حرام کردہ چیزیں  بھی جائز ہونگی ،ایک حرام کو بوقت ضرورت جائز قرار دینا اور دوسرے کو حرام قرار دینا ناقابل فہم ہے ،رہی وہ احادیث جس میں حرام کے ذریعے علاج سے منع کیا گیا ہے تو وہ عام حالات سے متعلق ہیں جب کہ اس کا کوئی حلال متبادل موجود ہو ۔

  اور اس سلسلے میں ضابطہ یہ ہے کہ جو چیزیں حرام لعینہ ہیں اور ان کی حرمت قرآنی آیت یا متواتر روایت سے بہ صراحت ثابت ہو تو اس کی اجازت اسی وقت ہوگی جب کہ اس کا کوئی متبادل موجود نہ ہو اور اس کے استعمال نہ کرنے کی وجہ سے جان جانے یا جسم کے کسی حصے کے ضائع ہوجانے کا خطرہ ہو اور اس کے استعمال سے شفاء یقینی یا ظن غالب ہو بالفاظ دیگر اضطراری حالت میں اس کی اجازت ہوگی جس میں حرام چیزیں حلال ہوجاتی ہیں جیسے کہ خمر ( انگوری اور کھجوری شراب) اور خون چنانچہ علامہ عینی لکھتے ہیں:

  قبیلہ عرینہ سے متعلق حدیث کی اطمینان بخش توجیہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو وحی کے ذریعے شفاء کا یقین ہوگیا تھا اور شفا کے یقین ہونے کے وقت حرام سے علاج جائز ہے جیسے کہ شدید فاقے کی حالت میں مردار کھانا اور پیاس کی شدت کی حالت میں اور لقمہ نگلنے کے لیے خمر پینا۔ اور حرام سے علاج اس وقت جائز نہیں ہوگا جبکہ شفا کا حصول یقینی نہ ہو ،اور ابن حزم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے یقینی طور پر ثابت ہے کہ آپ نے پیشاب پینے کا بطور علاج حکم دیا تھا اور اس کی وجہ سے وہ ٹھیک بھی ہو گئے اور دوا علاج ضرورت کے درجے میں ہے ، اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا ہے:

  وَ قَدۡ فَصَّلَ لَکُمۡ مَّا حَرَّمَ عَلَیۡکُمۡ اِلَّا مَا اضۡطُرِرۡتُمۡ  اِلَیۡہِ ؕ .

 حالانکہ اس نے وہ چیزیں تمہیں تفصیل سے بتا دی ہیں جو اس نے تمہارے لیے (عام حالات میں) حرام قرار دی ہیں، البتہ جن کو کھانے پر تم بالکل مجبور ہی ہوجاؤ (تو ان حرام چیزوں کی بھی بقدر ضرورت اجازت ہوجاتی ہے)( سورہ الانعام :  119)

لہذا مجبوری کی حالت میں حرام چیزوں کا کھانا اور پینا حرام نہیں رہ جاتا ہے۔

  علامہ عینی کہتے ہیں کہ جب ہم فرض کر لیں کہ کسی شخص نے اپنے علم کے ذریعے سے کسی کے مرض کے بارے میں جان لیا ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ یہ مرض زائل نہیں ہوگا مگر حرام چیز کے کھانے پینے سے تو اس وقت اس کے لیے اس کا تناول کرنا جائز ہے جیسا کہ شدید پیاس کے وقت خمر پینا اور شدید فاقہ کے وقت مردار کھانا۔

(عمدۃ القاری 155/3)

  بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے لکھا ہے کہ خمر کے ذریعے پیاس کا بجھنا اور پھنسے ہوئے لقمہ کا اندر داخل ہوجانا یقینی ہے لیکن دوا کے ذریعے شفاء کا حصول گرچہ وہ حلال ہو یقینی نہیں ہے لہذا دوا علاج کو اس پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے چنانچہ شیخ ابن عابدین نے اس سلسلے میں” رد المحتار ” میں جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ خمر کے ذریعے لقمہ نگلنے اور پیاس بجھانے کا فائدہ یقینی ہے اور اسی بنیاد پر اگر کوئی شخص خمر کے ذریعے لقمہ نہ نگلے یا پیاس نہ بجھائے جس کے نتیجے میں موت واقع ہوجائے تو وہ گنہ گار ہوگا ،اس کے برخلاف علاج کا نفع بخش ہونا یقینی نہیں بلکہ ظنی ہے اس لئے اگر کوئی شخص علاج نہ کرے اور اس کی وجہ سے وفات پاجائے تو گنہ گار نہیں ہوگا ۔اور ابن عربی نے عارضۃ الاحوذی میں لکھا ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ علاج ایک مجبوری کی حالت ہے اور ضرورت و مجبوری میں حرام چیزیں جائز ہو جاتی ہیں لہذا حرام سے علاج جائز ہے۔ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ علاج کی حالت مجبوری اور ضرورت کی حالت نہیں ہے مجبوری تو اس وقت ہے جب بھوک کی وجہ سے موت کا خطرہ ہو اور علاج اصلا واجب ہی نہیں تو کیسے اس کی وجہ سے حرام جائز ہو جائے گا۔(تحفة الاحوذي.حديث:2046)

   لیکن ظاہر ہے کہ علامہ عینی کی بات یہ فرض کر کے ہے کہ علاج سے فائدہ یقینی ہو اور دواء نہ کرنے کی صورت میں موت کا خطرہ بھی یقینی ہو ۔

 اور موجودہ دور میں دوا علاج کی بہت سی شکلیں ہیں جس میں فائدے کا یقین یا ظن غالب ہوتا ہے اور علاج نہ کرنے کی صورت میں موت کا بھی یقین یا ظن غالب ہوتا ہے اور ظن غالب کو بھی عام طور پر یقین کے درجے میں رکھا جاتا ہے ۔

  اور جو چیزیں حرام لغیرہ ہیں مثلاً سد ذریعہ کے طور پر ممنوع ہیں یا ان کی حرمت قرآنی آیت یا متواتر روایت سے صراحتاً ثابت نہیں ہے جیسے کہ مردوں کے لئے سونے چاندی اور ریشم کی حرمت تو وہ حاجت کے وقت بلکہ بسا اوقات خوبصورتی کے لئے بھی جائز ہوجاتی ہیں علامہ ابن قیم لکھتے ہیں:

وتحريم الحرير انما كان سدا للذريعة… وهذه قاعده ما حرم لسد الذرائع فانه يباح عند الحاجة والمصلحة الراجحة(زاد المعاد 78/4)

جیسے کہ رسول اللہ ﷺ نے نے بعض صحابہ کو خارش کی وجہ سے ریشم پہننے کی اجازت دی.

حضرت انس کہتے ہیں:

  أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرِ فِي قَمِيصٍ مِنْ حَرِيرٍ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا.

نبی کریم ﷺ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت زبیر کو کجھلی کی وجہ سے ریشمی قمیص پہننے کی رخصت مرحمت فرمائی ۔(صحیح بخاري: 2919 ۔صحیح مسلم: 2076)

 اور اسی طرح سے ایک صحابی کو چاندی اور پھر سونے کی ناک لگانے کی اجازت مرحمت فرمائی چنانچہ حضرت عبد الرحمن بن طرفہ کہتے ہیں:

 أَنَّ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ بْنَ أَسْعَدَ قُطِعَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ ، فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ، فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ.

ان کے دادا حضرت عرفجہ کی ناک جنگ کلاب کے موقع پر کٹ گئی تھی ،انھوں نے چاندی کی ناک لگوالی لیکن اس میں بدبو پیدا ہوجاتی تھی تم نبی کریم ﷺ نے انہیں سونے کی ناک لگانے کیلئے فرمایا. (ابوداؤد : 4232 .ترمذي: 1770۔نسائي:5161 )

  ظاہر ہے کہ ناک کے اوپری حصے کے نہ ہونے کی وجہ سے انھیں کوئی بہت زیادہ پریشانی نہیں تھی البتہ ظاہری طور پر بدنما معلوم ہوتا تھا ۔

اور حضرت انس بیان کرتے ہیں :

 أَنَّ نَاسًا اجْتَوَوْا فِي الْمَدِينَةِ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْحَقُوا بِرَاعِيهِ – يَعْنِي الْإِبِلَ – فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَلَحِقُوا بِرَاعِيهِ، فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا حَتَّى صَلَحَتْ أَبْدَانُهُمْ۔۔۔

 کچھ لوگوں کو مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی تھی تو نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سے فرمایا کہ وہ آپ ( نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم ) کے چرواہے کے ہاں چلے جائیں، یعنی اونٹوں کے پاس ، اور ان کا دودھ اور پیشاب پئیں، چنانچہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   کے چرواہے کے پاس چلے گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا، یہاں تک کہ صحت یاب ہوگئے ۔۔۔

(صحیح بخاری: 5686.صحیح مسلم: 1671)

  حافظ ابن حجر عسقلانی مذکورہ حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو حلال جانوروں کے پیشاب کو پاک کہتے ہیں ،اونٹ کے پیشاب کا تذکرہ اس حدیث میں  ہے اور دوسرے جانور جن کا گوشت حلال ہے اس کو اونٹ پر قیاس کر لیا جاتا ہے،امام مالک، احمد اور سلف کی ایک جماعت اسی کی قائل ہے، شافعیہ میں سے ابن خزیمہ ،ابن منذر اور ابن حبان وغیرہ کی بھی یہی رائے ہے۔اس کے برخلاف امام شافعی اور جمہور کے نزدیک تمام جانوروں کے بول و براز ناپاک ہیں خواہ وہ حلال ہوں یا حرام ، ابن منذر نے حلال ہونے کی یہ دلیل دی ہے کہ اشیاء میں اصل طہارت ہے یہاں تک کہ اس کی نجاست ثابت ہوجائے، وہ کہتے ہیں جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہ حکم انہی لوگوں کے ساتھ خاص ہے ان کی بات درست نہیں ہے اس لیے کہ خصوصیت کے ثبوت کے لیے دلیل کی ضرورت پڑتی ہے اور بازاروں میں بکری کی میگنیاں بیچی جاتی ہیں اور اونٹ کے پیشاب دواؤں میں قدیم زمانے سے استعمال ہوتا رہا ہے اور اہل علم نے اس پر کوئی نکیر نہیں فرمائی ہے جو اس کی طہارت کی دلیل ہے،حافظ ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں کہ یہ ایک کمزور دلیل ہے اس لیے کہ جن مسائل میں علماء کے درمیان اختلاف ہے اس پر نکیر ضروری نہیں ہے۔ لہذا ترک انکار اس کے جواز کی دلیل نہیں ہے، طہارت کی بات تو بہت دور کی ہے اور ہر طرح کے جانور کے بول و براز کے ناپاک ہونے کی دلیل حضرت ابو ہریرہ کی حدیث ہے جسے ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔اور ابن عربی کہتے ہیں کہ اس حدیث سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جو اونٹ کے پیشاب کے پاک ہونے کے قائل ہیں اور اس کا جواب یہ ہے کہ ان کو بطور علاج پینے کے لیے اجازت دی گئی تھی۔ اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ علاج ضرورت کی حالت نہیں ہے اس لئے  کہ علاج کرنا واجب نہیں ہے لہذا کیسے حرام چیز جائز ہو جائے گی ایک ایسی چیز کے لیے جو واجب نہیں ہے۔اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ علاج کی حالت ضرورت کی حالت نہیں ہے بلکہ وہ ضرورت کی حالت ہے جبکہ اس کے بارے میں خبر دے وہ شخص جس کی خبر پر اعتماد کیا جا سکتا ہے اور جو چیزیں ضرورت کی وجہ سے مباح ہو جائیں وہ استعمال کے وقت حرام نہیں رہتی ہیں چنانچہ اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:

 وَ قَدۡ فَصَّلَ لَکُمۡ مَّا حَرَّمَ عَلَیۡکُمۡ اِلَّا مَا اضۡطُرِرۡتُمۡ  اِلَیۡہِ ؕ .

 حالانکہ اس نے وہ چیزیں تمہیں تفصیل سے بتا دی ہیں جو اس نے تمہارے لیے (عام حالات میں) حرام قرار دی ہیں، البتہ جن کو کھانے پر تم بالکل مجبور ہی ہوجاؤ (تو ان حرام چیزوں کی بھی بقدر ضرورت اجازت ہوجاتی ہے)( سورہ الانعام :  119)

اور جس چیز کے لیے آدمی مجبور ہو جائے وہ استعمال کے وقت حرام نہیں رہتی جیسے کہ حالت اضطرار میں مردار کا کھانا حرام نہیں ہوتا۔(فتح الباری ۔رقم الحدیث: 233)

 

فقہاء کے اقوال:

 

امام ابوحنیفہ کے نزدیک حرام سے علاج کسی صورت میں جائز نہیں ہے ،مالکیہ بھی اسی کے قائل ہیں، شافعیہ کے یہاں نشہ آور کے علاوہ دیگر حرام چیزوں سے علاج جائز ہے،حنفیہ میں سے امام محمد کے نزدیک حلال جانوروں کا پیشاب پاک ہے اس لئے اس کے ذریعے علاج جائز ہے اور امام ابویوسف کے نزدیک اونٹ وغیرہ کا پیشاب ناپاک ہے البتہ قبیلہ عرینہ سے متعلق حدیث کی بنیاد پر بطور علاج استعمال جائز ہے۔ (ردالمحتار 405/1)

یہاں اس بات کی تحقیق کی ضرورت ہے کہ امام ابویوسف کی رائے صرف حلال جانور کے پیشاب سے متعلق ہے یا دوسرے محرمات کا بھی ان کے نزدیک یہی حکم ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے