بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(1) دوا علاج سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

اصول و ضوابط:

 

انسان کا وجود اور اس کی زندگی ایک ’’امانت‘‘ ہے ، اور اس کی حفاظت میں کسی قسم کی کوتاہی ’’خیانت‘‘ ہے، اللہ عز وجل کی نگاہ میں توانا اور تندرست مومن ایک کمزور مومن سے بہتر ہے۔(صحیح مسلم :2664) یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ کسی مسلمان کے لئے اپنی صحت کی طرف سے غفلت مناسب نہیں ہے کہ صحت عافیت ایک بیش بہا نعمتِ ہے، جس کی قدر دانی اور حفاظت مطلوب ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"نعمتان مغبون فیهما کثیر من الناس: الصحة والفراغ”.

’’دو نعمتوں کے سلسلے میں لوگ عام طور پر دھوکے میں مبتلا ہوتے ہیں: صحت اور فراغت‘‘۔(بخاری و مسلم)

اور حضرت عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا:

يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ. قَالَ : ” سَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ "، فَمَكَثْتُ أَيَّامًا، ثُمَّ جِئْتُ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللَّهَ، فَقَالَ لِي : ” يَا عَبَّاسُ يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ، سَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ". هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ۔

یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئے جسے میں اللہ عزوجل سے مانگا کروں۔آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے عافیت کی دعا مانگو۔کچھ دنوں کے بعد انھوں نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: عباس ! میرے چچا! اللہ تعالی سے دنیا و آخرت کی عافیت مانگا کرو۔(ترمذي: 3514.احمد : 1783)

 

1-دوا علاج کا حکم:

 

دوا علاج ایک سبب اور ذریعہ ہے اور اس طرح کے اسباب کی تین قسمیں ہیں:ایک وہ جو یقینی طور پر فائدہ مند ہوتی ہیں جیسے کہ بھوک پیاس دور کرنے کے لئے کھانا پانی ۔

دوسری وہ ہے جس کا مفید ہونا ظن غالب کے درجے میں ہے اور تیسری قسم وہ ہے جس کا نفع بخش ہونا وہم کے درجے میں ہے ۔

اس تفصیل کے مطابق اگر مرض مہلک ہو یا اس کی وجہ سے فرائض واجبات اور دوسروں کے حقوق ادا کرنا ممکن نہ ہو اور اس کی کوئی ایسی دوا موجود ہو جس کا فائدہ یقنی یا ظن غالب کے درجے میں ہو تو وسعت کے ہوتے ہوئے علاج کرنا واجب ہوگا ۔اور اگر عمومی نوعیت کا مرض ہو تو علاج کرنا سنت ہے اور اگر مرض کا علاج وہم کے درجے میں ہو تو وہ جائز مگر توکل کے خلاف ہے ۔(دیکھئے:الھندیہ 355/5)

توکل یہ ہے کہ ان اسباب وسائل کو اختیار کیا جائے جن کی تاثیر یقینی یا ظن غالب کے درجے میں ہو مگر اصل اعتماد اسباب و وسائل پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر ہو کہ وہی موثر حقیقی ہے اور اسی کے حکم سے دوائیں فائدہ پہنچاتی ہیں ۔اسباب اختیار کئے بغیر توکل کرنا جہالت اور حماقت ہے ۔ حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

” مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً ”

اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں پیدا کی ہے جس کی شفا نہ اُتاری ہو۔ ‘‘(صحیح بخاري: 5678)

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

” لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ، فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".

ہر بیماری کی دوا ہے،پس جب دوا بیماری کے مطابق ہوتی ہے تو اللہ عزوجل کے حکم سے مریض تندرست ہوجاتا ہے۔ ‘‘(صحیح مسلم: 2204)

حضرت اسامہ بن شریک کہتے ہیں:

قَالَتِ الْأَعْرَابُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَتَدَاوَى ؟ قَالَ : ” نَعَمْ. يَا عِبَادَ اللَّهِ، تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ شِفَاءً – أَوْ قَالَ – دَوَاءً، إِلَّا دَاءً وَاحِدًا ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : ” الْهَرَمُ ". وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

رسول اللہ ﷺ سے دیہات کے لوگوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! کیا ہم دوا علاج کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں: اللہ کے بندو! علاج کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیدا کی ہے اس کی دوا بھی ضرور پیدا کی ہے، سوائے ایک بیماری کے، لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سی بیماری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بڑھاپا ۔‘‘

(ترمذي: 2038.ابو داؤد: 3855)

اور حضرت ابو خزامہ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا:

يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَدَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَتُقَاةً نَتَّقِيهَا، هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا ؟ قَالَ : ” هِيَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ ". هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

یارسول اللہ! جھاڑ پھونک، دوا اور پرہیز کے سلسلہ میں آپ ؐ کا کیا خیال ہے؟ کیا یہ چیزیں اللہ کی تقدیر کو لوٹا سکتی ہیں ؟ ارشاد ہوا یہ بھی اللہ کی تقدیر ہی سے ہے۔(ترمذي: 2065)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے