بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(15)کھیل کود سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
3-شطرنج:
یہ سنسکرت لفظ چترانگ سے عربی بنالیا گیا ہے، اس میں چھ قسم کے مہرے ہوتے ہیں جو شاہ، فرزین، فیل، اسپ، رخ اور پیدل کہلاتے ہیں، اس میں دو ملک کے بادشاہوں کو لڑتے ہوئے دکھلایا جاتا ہے۔
تمام علماء کا اس پر اجماع ہے کہ شطرنج حرام ہے اگر مالی ہار جیت ہو یا اس حد تک انہماک ہو کہ واجبات و فرائض فراموشی ہو جائیں مثلاً نماز وقت پر نہ پڑھے یا اس درجہ گرویدگی اور شغف ہو کہ اس کی لت لگ جائے اور اس کے بغیر چین نہ آئے یا جھوٹ، فحش گوئی یا ضرر شامل ہو ۔(معالم السنن242/2)
اور اگر ایسا نہ ہو تو فقہاء کے درمیان اختلاف ہے مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک بہر صورت حرام ہے اور بعض شافعی علماء بھی اسی کے قائل ہیں ۔اور حنفیہ کے نزدیک مکروہ تحریمی اور شافعیہ کے نزدیک مکروہ تنزیہی ہے۔اور ان کے یہاں ایک قول جواز کا ہے ۔(دیکھئے الموسوعہ 270/35.رد المحتار 650/9)
امام نووی کہتے ہیں:
وأما الشطرنج فمذهبنا أنه مكروه ليس بحرام ، وهو مروي عن جماعة من التابعين ، وقال مالك وأحمد : حرام . قال مالك : هو شر من النرد ، وألهى عن الخير ، وقاسوه على النرد ، وأصحابنا يمنعون القياس ، ويقولون : هو دونه .
شطرنج کے بارے میں شافعیہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ مکروہ ہے حرام نہیں۔ تابعین کی ایک جماعت سے یہی منقول ہے۔اور امام مالک اور احمد کہتے ہیں کہ وہ حرام ہے۔ امام مالک کہتے ہیں کہ وہ چوسر سے بدتر اور خیر کے کاموں سے سب سے زیادہ غافل کرنے والا ہے اور ان لوگوں نے اسے چوسر پر قیاس کیا ہے۔ ہمارے اصحاب اس قیاس کو صحیح نہیں سمجھتے اور وہ کہتے ہیں کہ شطرنج چوسر سے کم تر ہے۔(شرح نووی علی الصحیح لمسلم. رقم الحدیث: 2260)
حرام یا مکروہ تحریمی کہنے والوں کے دلائل یہ ہیں:
1-قرآن پاک میں میسر سے منع کیا گیا ہے(سورہ المائدہ: 90 )اور حضرت علی سےمنقول ہے کہ شطرنج بھی میسر ہے ۔(الشطرنج هو ميسر الاعاجم. السنن الكبرى للبيهقي 358/10)
2-بعض احادیث میں شطرنج کھیلنے پر شدید وعید بیان کی گئی ہے ۔لیکن صحیح یہ ہے کہ وہ احادیث جس میں صراحتاً شطرنج کی ممانعت مذکور ہے وہ سندی اعتبار سے ثابت اور لائق استدلال نہیں ہیں ۔(الترغیب للمنذری24/4.عمدۃ المحتج/66 .نیل الاوطار 75/8)
3-رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لھو المومن باطل الا الثلاث تادیبہ لفرسہ، مناضلتہ عن قوسہ وملاعبتہ مع أھلہ(نیل الاوطار 85/8)
مومن کا ہر کھیل باطل ہے، سوا تین چیزوں کے : گھوڑے کو سدھانا، تیراندازی کی مشق کرنا، اپنے اہل و عیال کے ساتھ کھیلنا۔
4- حضرت علی نے کچھ لوگوں کو شطرنج کھیلتے ہوئے دیکھ کر یہ آیت پڑھی:
اِذۡ قَالَ لِاَبِیۡہِ وَ قَوۡمِہٖ مَا ہٰذِہِ التَّمَاثِیۡلُ الَّتِیۡۤ اَنۡتُمۡ لَہَا عٰکِفُوۡنَ۔
وہ وقت یاد کرو جب انہوں (حضرت ابراہیم علیہ السلام)نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ : یہ کیا مورتیں ہیں جن کے آگے تم دھرنا دیے بیٹھے ہو ؟ (سورہ الانبیآء : 52)
اور فرمایا:
اپنے ہاتھ میں آگ رکھ لینا یہاں تک کہ وہ بجھ جائے شطرنج کھیلنے سے بہتر ہے.(انه مر على قوم يلعبون الشطرنج قال: ما هذه التماثيل التي انتم لها عاكفون. [سورةالانبياء 52].لان يمس جمرا حتى يطفأ خير له من ان يمسها۔السنن الكبرى 358/10.تفسیرقرطبی 339/8)
حضرت عبداللہ بن عمر سے شطرنج کے بارے میں دریافت کیاگیا تو فرمایا: وہ چوسر سے بدتر ہے۔(هو شر من النرد. السنن الکبری 359/18. الدر المنثور 169/7)
اور حضرت ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں:
شطرنج صرف خطاکار شخص کھیلتا ہے ۔(لا يلعب بالشطرنج الا خاطئ.
اور حضرت عائشہ اور حضرت ابو سعید خدری سے بھی اس کی کراہت منقول ہےگرچہ اس میں جوا نہ ہو۔
اور امام مالک کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن عباس کو ایک یتیم کے مال کا ذمہ دار بنایا گیا جس میں شطرنج بھی تھا تو انہوں نے اسے جلا دیا۔ (السنن الکبری 359/10)
5-حضرت سعید ابن المسیب سے شطرنج کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا وہ باطل ہے اور اللہ باطل کو پسند نہیں کرتا ہے۔ اسی طرح سے ابن شہاب زہری سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ باطل ہے اور میں اسے پسند نہیں کرتا۔ابو جعفر سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ہمیں اس مجوسیت سے دور رکھو۔(السنن الکبری359/10)
یحیی لیثی کہتے ہیں امام مالک نے فرمایا شطرنج میں کوئی خیر نہیں ہے وہ اسے کھیلنے کو مکروہ سمجھتے تھے اور یہ ایت پڑھتے تھے:
فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الۡحَقُّ ۚ فَمَا ذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۚۖ فَاَنّٰی تُصۡرَفُوۡنَ ۔
پھر تو لوگو ! وہی اللہ ہے جو تمہارا مالک برحق ہے، پھر حق واضح ہوجانے کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا باقی رہ گیا ؟ اس کے باوجود تمہیں کوئی کہاں الٹ لئے جارہا ہے؟ (سورہ یونس: 32. الموطا958/2)
اور عبدالرحمن بن قاسم کہتے ہیں امام مالک شطرنج کو مکروہ سمجھتے تھے خواہ کم کھیلا جائے یا زیادہ اور ان کا خیال تھا کہ وہ چوسر سے بدتر ہے۔ (المدونہ 79/4)
6-شطرنج بھی چوسر کی طرح ہے ،دونوں کا شمار بے فائدہ کھیل تماشا میں ہوتا ہے اور دونوں اللہ کے ذکر اور نماز سے رکاوٹ بنتے ہیں ۔(ويكره اللعب بالشطرنج والنرد والأربعة عشر وكل لهو؛ لأنه إن قامر بها فالميسر حرام بالنص وهو اسم لكل قمار، وإن لم يقامر فهو عبث ولهو. وقال ﷺ: «لهو المؤمن باطل إلا الثلاث: تأديبه لفرسه، ومناضلته عن قوسه، وملاعبته مع أهله۔ الہدایہ 380/4)
امام شافعی کا خیال ہے کہ تین شرطوں کا لحاظ رکھتے ہوئے شطرنج کھیلا جاسکتا ہے: 1-اس میں مشغول ہوکر نماز اور دیگر واجبات سے غافل نہ ہو۔
2-جوا کی آمیزش نہ ہو۔
3-دوران کھیل زبان کو فحش، بدگوئی اور جھوٹ سے محفوظ رکھے، اگر ان شرطوں میں سے کسی ایک پر بھی عمل نہ کیا جائے تو یہ کھیل حرام ہوگا۔
ان کا کہنا ہے:
1- تمام چیزیں اصلا مباح ہیں جب تک کہ کسی شرعی دلیل سے اس کی حرمت ثابت نہ ہوجائے اور شطرنج کی حرمت کے سلسلے میں کوئی واضح اور صحیح شرعی دلیل موجود نہیں ہے .
2-اور اسے چوسر پر قیاس کرنا درست نہیں ہے کیونکہ دونوں کے درمیان نمایاں فرق ہے ۔چوسر کا مدار بخت و اتفاق پر ہوتا ہے تویہ زمانہ جاہلیت کے فال کی طرح ہے جس میں تیروں کے ذریعے قسمت جاننے کی کوشش کی جاتی تھی اور اس کے برعکس شطرنج میں قسمت کے بجائے ذہانت و فراست پر اعتماد کیا جاتا ہے اور اس سے جنگ کی ٹریننگ حاصل ہوتی ہے۔تو یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ تیر اندازی کا مقابلہ ۔
نیز شطرنج میں ہار جیت کا مدار حساب دانی اور پیش بینی پر ہوتا ہے جس کے لیے ذہانت و لیاقت ،فراست و مہارت اور حاضر دماغی کی ضرورت ہوتی ہے اس کے برعکس چوسر کا مدار ظن و تخمین اور قسمت پر ہوتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا عادی عام زندگی میں بھی خیالی دنیا میں رہنے لگتا ہے اور غور و فکر اور تدبیر کی جگہ حماقت اور کم عقلی آجاتی ہے اور اس کے بر خلاف شطرنج کے ذریعے ذہن تیز ہوتا ہے اور اس کے ذریعے جنگ کے طریقے معلوم ہوتے ہیں اور اس کا کھلاڑی عملی زندگی میں صاحب بصیرت اور دور اندیش ہوتا ہے۔ (دیکھیے الموسوعہ 270/35)
لیکن ظاہر ہے کہ کوئی شطرنج اس مقصد سے نہیں کھیلتا ہے بلکہ مقصد جوا ہوتا ہے یا وقت گزارنا ۔اور موجودہ دور میں جنگی تدبیر اور نظم سے شطرنج کا کوئی تعلق نہیں ہے
3- اور صحابہ کرام میں سے حضرت ابو ہریرہ. تابعین میں سے حضرت سعید بن جبیر وغیرہ سے اس کا کھیلنا منقول ہے ۔(نیل الاوطار 259/8۔الموسوعہ 270/35)
لیکن اس طرح کے اقوال وافعال کسی صحیح سند سے ثابت نہیں ہیں۔ (المنتقی278/7 .عمدۃ المحتج للسخاوی/ 123)
اور اگر ثابت مان بھی لیا جائے تو یہ ایک متعین واقعہ ہے جس کی تاویل کی جاسکتی ہے مثلاً حضرت شعبی سے جہاں کھیلنا منقول ہے وہیں یہ بھی مذکور ہے کہ وہ حجاج کے خوف سے چھپے ہوئے تھے ۔ (وذلك انه كان متواريا من الحجاج .السنن الکبری 357/10)
ہوا یہ تھا کہ علماء کی ایک بڑی تعداد نے حجاج کے ظلم کے خلاف بغاوت کی جو ناکام ہوگئی اس کے بعد اس نے اس میں شامل تمام لوگوں کی ڈھر پکڑ شروع کردی اور جو گرفتار ہوتے انھیں قتل کردیا جاتا ۔
ظاہر ہے اس حالت میں درس و تدریس کی مجلس قائم نہیں کی جاسکتی ہے اور نہ ہی
ہر وقت ذکر و تسبیح اور تلاوت قرآن میں مشغول رہا جاسکتا ہے اور پوشیدگی کے طویل دورانیہ میں وقت گزارنا بڑا مشکل ہوتا اس لئے بدرجہ مجبوری وہ کھیلا کرتے تھے ۔