بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(2) دوا علاج سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
2-علاج سے واقفیت:
دوا علاج کے لئے فن طب سے واقفیت ضروری ہے اس کے بغیر اگر کوئی علاج کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں مریض کو کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے تو وہ ذمہ دار ہوگا چنانچہ عمرو بن شعیب کی سند سے منقول حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:
” مَنْ تَطَبَّبَ وَلَا يُعْلَمُ مِنْهُ طِبٌّ فَهُوَ ضَامِنٌ۔
(ابوداؤد: 4586.نسائی: 4830)
اور عوام کو تکلیف، مشقت، پریشانی، فریب اور دھوکہ دہی سے بچانے کے لیے اسلامی قانون ایسے افراد پر پابندی لگاتا ہے، چنانچہ درمختار میں ہے کہ تین قسم کے افراد پر پابندی عائد کی جائے گی : ناجائز حیلے بتانے والا مفتی،طبیب جاہل اور وہ مفلس جو کرایہ کی سواری مہیا کرنے کی ذمہ داری لے ۔
علامہ ابن عابدین اس کی تشریح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ یہ تینوں شخص دین، بدن اور مال کو فاسد اور خراب کرنے والے ہیں، اس لیے ان پر پابندی لگائی گئی، کیونکہ عمومی نقصان کے مقابلہ میں انفراد ی نقصان کو گوارا کرلیا جاتا ہے، گویا یہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے قبیل سے ہے۔(درمختارمع الرد 146/6)
وہ ڈاکٹر جو فن طب سے واقف ہے لیکن اس کے پاس کسی میڈیکل کالج کی سرٹیفکیٹ نہیں ہے تو اس کا شمار ’’طبیب جاہل‘‘میں ہوگا، اس لیے سرٹیفکیٹ کے بغیر اس کی مہارت اور حذاقت کا علم نہیں ہوسکتا ہے اور ہر شخص دعوا کرسکتا ہے کہ وہ ماہر ڈاکٹر ہے حالانکہ اس فن سے وہ ناواقف ہے ۔