انوار العلوم فتح پور میں فقیہ ملت کی آمد

چند روز قبل استاذ محترم مفتی ولی اللہ مجید قاسمی دامت برکاتہم، کی مبارک زبان نے کانوں میں شہد کے رس تب گھول دیے ،جب حضرت نے ہندوستان کی مایہ ناز شخصیت اور ملت کا بیش بہا قیمتی سرمایہ محدثِ جلیل ،فقیہ العصر ،حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ ،جنرل سیکرٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا،و مہتمم المعھد العالی ، کی مبارک آمد کی اطلاع سنائی ، تب سے دل میں روز ارمانوں کے پھول کھلنے لگے اور حضرت والا کی اس بابرکت آمد کا انتظار ِشدید کرنے لگے،ایک ایک دن جیسے پہاڑ ہو گیے ہوں ،طلبہ و اساتذہ اور منتظمین کی زبانیں بارگاہِ خدا میں آپ کی آمد کی دعا کرنے لگیں ،خیر اس انتظار کی درازئ لیل کی سحر تو ہونی ہی تھی،بروز شنبہ 16/شعبان 1446ھ مطابق 15/فروری 2025ءکو یہ خبر موصول ہوئ آج کی شام حضرت تشریف لا رہے ہیں طلبہ و اساتذہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئ پہر کیا تھا مانو صبحِ عید ہو،اور ہر کہ و مہ کہ رہا ہو ۔
کتنی با رونق ہے صبح و شام انوار العلوم
پر کشش پر نور ہے مینار انوار العلوم ۔
،الحمدللہ! شام کی وہ مبارک گھڑی آ پہنچی جس کا ہم سب کو بے صبری بے و تابی سے انتظار تھا۔ آج ہمارے درمیان وہ جلیل القدر ہستی تشریف لائ تھی، جن کا وجود علم و حکمت کا مینار، دین کی سربلندی کا نشان، اور رشد و ہدایت کا دروازہ ہے۔ جن کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ قلوب کو زندگی بخشتے ہیں، جن کی صحبت دلوں کو ایمان کی حرارت عطا کرتی ہے، اور جن کی نظرِ کرم سے روحانی تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں۔
جیسے ہی ان کے قدم مبارک جامعہ انوار العلوم پر پڑے، ایسا محسوس ہوا جیسے بہار کا موسم آ گیا ہو، انوار العلوم کے در دیوار خوشی سے جھوم اٹھے اور مرحبا صد مرحبا کے نغمے گانے لگے اور بام و در عقیدت ومحبت کے پھول نچھاور کرنے لگے ،رنگ و نور کی بارش ہونے لگی صحن چمن میں بہار آگئی ،کلیاں مسکرانے لگیں ہر طرف سے خوشی و مسرت کے زمزمے سنائی دینے لگے اور خشک دلوں پر ایمان کی بارش برس پڑی ہو، اور جیسے نورانی قافلہ آسمان سے اتر آیا ہو۔ استقبال کا منظر دیدنی تھا—عقیدت مندوں نے خوشبو بکھیر دی، پروانوں کی طرح اپنے محبوب استاد، مرشد اور عالمِ ربانی کے گرد جمع ہو گئے۔کیا بیان کروں بس یہی کہونگا کہ :
چشم فلک اور دیدہ مہ انجم نے بہت سی عالی شخصیت اور عظیم المرتبت کے استقبال اور خیر مقدم دیکھے تھے
،مگر یہ استقبال اپنی اہمیت اور تعظیم کے لحاظ سے بڑا نرالہ اور ممتاز تھا ،اور کیوں نہ ہوں بزرگوں کی سرزمین اور متبع قدم نبوی کی آمد جو تھی،اور ہم سب کی زبان پر یہ جاری تھا !
کہ وہ آئیں گھر ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم‌ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں۔
عزم و استقلال ،ہمت اور درد امت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ حضرت مولانا اپنی ضعیف العمری ، کمزوری اور مختلف قومی و ملی مصروفیات کے باوجود اپنے
قیمتی اوقات میں سے گنجائش نکال کر اپنی آمد سے انوار العلوم کو زینت بخشی ،اور جیسا کہ مشہور ہے جہاں شمع جلتی ہے وہ پروانوں کا ہجوم ہوتا ،عصرانہ کے بعد طلبہ، اساتذہ و دیگر محبین کی ملاقات کا حسیں اور یادگار سلسلہ چلتا رہا، نماز مغرب سے کچھ پہلے انوار العلوم ( ہر دل کو موہ لینے والی ) پر کشش اور پر نور عمارت میں ٹہلتے ہوئے دار الافتاء ،یاقوت و زمرد سے زیادہ قیمتی کتب خانہ اور درسگاہوں کا جائزہ لیا، نیز فارغینِ افتاء کی اسناد پر اپنی دستخط کرکے ان کو سند متین کا اعزاز بخش دیا، پھر بعد نمازِ مغرب قابلِ فخر اور عظیم عمل شعبہ تخصص فی الحدیث کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوا ،جس کو کبھی سرزمینِ انوار العلوم کی نایاب ہستیوں اور گوہر لعل و گہر نے دیکھا تھا ،حضرت نے مقدمہ ابن صلاح کا ابتدائی سبق پڑھا کر مختصرا اور نہایت جامع باتیں کہ جس میں خصوصاً تخصص فی الحدیث کی افادیت و اہمیت پر روشنی ڈالی اس کے بعد ناظم تعلیمات ،حضرت مفتی ولی اللہ مجید قاسمی صاحب کی فرمائش پر آپ نے مؤطا کی پہلی حدیث پڑھ کر اجازت حدیث بھی مرحمت فرمائی ، جو ہم سب کے لیے بڑی سعادت مندی کی بات ہے ۔جتنے عظیم اور قابلِ قدر حضرت والا ہیں اتنی ہی اعلی ان کی سند بھی ۔جو محض تین واسطوں سے شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ تک جا پہنچتی۔ چونکہ حضرت مولانا کو مئو شہر میں ہورہے فقہ اکیڈمی انڈیا کے سیمینار میں شرکت کرنی تھی اس لیے عشاء سے پہلے ہی اداۓ ذمہ داری کے لیےشہرِ مںؤ پایۂ رکاب ہو گیے ایک حدیث ہے
۔منهومان لا يشبعان: منهوم في العلم لا يشبع منه ومنهوم في الدنيا لا يشبع منها۔یہ درج ذیل داستان اس حدیث کی حقیقی مصداق ہے، یہ بات عرض کر دوں کہ حضرت مولانا اپنے وقت کے بڑے فقیہ ہیں اور آپ کے پاس کتابوں کے بڑا ذخیرہ موجود ہے ہر وقت تشنگانِ علوم نبویہ کی سیرابی میں مصروف یہ جوہر بار بار کتب خانہ میں موجود کتابوں پر یکے بعد دیگرِ گہرائی سے نظر دوڑائے جارہے تھے کہ شاید علم کے اس بحر عمیق سے کوئ لؤلؤِ عقیق مل جاۓ ،تیز دھوپ سے تھکا ہارا انسان جیسے پانی کے لیے بےتاب ہوتا ہے ، کتابوں کے بیچ میں رہنے والے اس وارث انبیاء کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ، آپ علم کے شدید پیاسے ہیں اور اس تشنگی کو بجھانے کے لیے بے تاب ہیں ، بلآخر آپ نے دو کتابوں سے مختلف مقامات سے کچھ صفحات فوٹو کاپی کراکر ساتھ لیا اور ہم سب کو اپنے اس عمل سے حرصِ علم کا سبق دے دیا ۔ واقعی آپ کا حرصِ علم قابل دید تھا ۔اللہ حضرت والا و ہمارے دیگر علماء کا سایہ ہم پر تا دیر قائم و دائم فرماۓ ۔۔آمین ثم آمین۔
محمد صفوان اعظمی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے