بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(34) دوا علاج سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

34- میڈیکل جانچ پر کمیشن:

 

    کسی معاملہ کے جائز ہونے کے لئے باہمی رضامندی اور خوش دلی ضروری ہے، رضامندی کے بغیر کسی پر کوئی معاملہ تھوپنا شریعت کی نگاہ میں سخت ناپسندیدہ اور ممنوع ہے، گرچہ وہ مجبوری کی وجہ سے بظاہر اسے قبول کرلے، یہی وجہ ہے کہ خرید و فروخت کے ساتھ شرط لگانے کی ممانعت کی گئی ہے(دیکھئے بلوغ المرام:144)اور اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:

    ’’سنو خوش دلی کے بغیر کسی انسان کا مال حلال نہیں ہے۔‘‘(مشکاۃالمصابیح 889/2)

    ریفر کرنے اور جانچ کرانے پر کمیشن لینا، رشوت کے حکم میں ہے اور خوش دلی کے بغیر مجبوری سے فائدہ اٹھا کر دوسرے کے مال کو ہڑپ لینا ہے اور مریض کو مال تجارت بناکر بیچنا ہے، جوکسی بھی حال میں جائز نہیں ہے۔

    اگرکسی ڈاکٹر کو مرض سمجھ میں نہ آئے تو اس کا ’’فرض‘‘ہے کہ وہ کسی اچھے اور قابل اعتماد ڈاکٹر کو ریفر کردے۔ اگر واقعی جانچ کی ضرورت ہو تو جانچ کرائے، یہ ایک ڈاکٹرکے لئے دینی، اخلاقی اور قانونی فریضہ ہے، مریض کوئی قابل فروخت مال نہیں ہے جس پر کمیشن لیاجائے۔اسی طرح سے محض کمیشن حاصل کرنے کے لئے ریفر کرنا اور کسی خاص جگہ سے جانچ کرانے اور کسی مخصوص دوکان سے دوا خریدنے کا پابند بنانا بھی مریض کے ساتھ دھوکہ اور ناجائز ہے۔

    ڈاکٹر کا پیشہ ایک پاکیزہ اور باعزت پیشہ ہے ، اس کا اصل مقصد خدمت خلق ہے ، لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس پیشہ سے امانت و دیانت ختم ہوتی جارہی ہے اور خدمت کی جگہ تجارتی ذہنیت لے رہی ہے، ڈاکٹروں کو اس پہلو پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے