محدث دوراں اور فقیہ عصر کی آمد

جامعہ انوار العلوم روز اول سے ہی اعلی تعلیم و تربیت ،بہترین انتظام و انصرام کے لئے مشہور و معروف ہے ، طلبہ کو بہترین تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرنا، ان کی حوصلہ مندی اور ہمت افزائی کرنا جامعہ کا مقصد اصلی رہا ہے ۔
ما شاءاللہ طلبہ کرام بھی حصول علم دین کے لیے پورے جوش و خروش کے ساتھ ہمہ تن مصروف اور محو عمل رہتے ہیں ،اور اپنی علمی صلاحیت کو اجاگر اور پروان چڑھانے کے لیے مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں ،پھر ان کی کامیابی پر منتظمین جامعہ موقع بموقع اطراف و اکناف اور دور دراز کے معزز و مکرم علمائے کرام کے خطاب اور کلماتِ ترغیب و تشجیع کے ذریعے طلبہ کی مکمل حوصلہ افزائی کرواتے ہیں ، خواہ امتحانِ شش ماہی ہو یا سالانہ تقریر ہو یا تحریر میں ملنے والی کامیابی ،جامعہ ہر آن اور ہمہ وقت طلبہ کے لئے عروج کا زینہ ثابت ہوا ہے۔
آج بتاریخ 19 نومبر 2025ء ایک بار پھر جامعہ کی فضا نورانی اور معطر ہونے کو ہے ،
جامعہ کے لیے آج کا دن ایک تاریخی دن ہے، طلبہ و اساتذہ کے چہرے پر فرط ومسرت کے آثار نمایاں ہیں اور منتظمین جامعہ کی زبانیں شکر و حمد سے تر ، گویا پورا ادارہ جشنِ علم اور سعادت مندی کا لباس پہنے کھڑا ہو ، اور خوشی میں شرا بور یہ مصرع کنگنا رہا ہو ،
کتنی بارونق ہے صبح و شام انوار العلوم ۔
پر کششِ پر نور ہے مینارِ انوار العلوم
وجہِ فرحت و مسرت جلسۂ تقسیمِ انعام کے پُرنور موقع پر ملک و ملت کے ممتاز عالمِ دین، ایک مایہ ناز شخصیت اور ملت کا بیش بہا سرمایہ، محدثِ جلیل ، ابن حجر کے وارث ،فن حدیث میں اپنی مثال آپ ، یکتائے زمانہ ، حدیث کی عمیق و دقیق باتوں پر کامل دسترس رکھنے ، موضوع اور ضعیف روایات کو آٹے سے بال کی طرح الگ کرنے والے لعل و گہر حضرت مولانا مفتی عبداللہ صاحب معروفی دامت برکاتہم استاد تخصص فی الحدیث ازہر ہند دارالعلوم دیوبند، کی بابرکت آمد ۔
ایک روز پہلے یہ خبر پکی ہوئی کہ کل حضرت والا بذریعہ کار دیوبند سے تشریف لا رہے ہیں ،تب ہی سے اساتذہ و طلبہ حضرت والا کی اس بابرکت آمد کا انتظار ِشدید کرنے لگے ،طلبہ و اساتذہ اور منتظمین کی زبانیں بارگاہِ خدا میں آپ کی آمد اور آسانئ سفر کی دعا میں لگ گئیں ،خیر اس درازئ لیل کی سحر تو ہونی ہی تھی،ٹھنڈ کی بھینی بھینی نسیم صبح کے بعد تقریبا پونے دس( 9.45) بجے حضرت والا کی آمد جامعہ کے گیٹ پر ہوتی ہے، طلبہ استقبال کے لیے اس طرح سے پلکیں بچھائے ہوئے تھے جیسے کوئی اپنے صدیوں سے بچھڑے ہوئے عزیز کی آمد پر کرتا ہے ۔ اللہ، اللہ ایسا خوشنما منظر جو دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جائے ،کیا سہانہ منظر تھا ، جب دروازہ کھلا ایک باوقار اور پر نور چہرا سامنے تھا ، محسوس ہوا کہ کوئی عالم ربانی، علم و عمل کے چراغ، امت کے آفتاب و مہتاب کی تشریف آوری ہوئی ہے، اور گویا جامعہ میں پھر ملک و ملت کا غم اور کڑھن لے کر سوۓ ہوۓ شاہ وصی اللہ صاحب ،شاہ عبد القیوم اور قاری ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہم کا تابع اور ان کے نقش قدم پر چلنے والا وارث آیا ہے ۔
اعلان کے مطابق ٹھیک دس بجے پروگرام شروع ہو گیا ،غسل اور ناشتہ وغیرہ کے بعد تقریباً 10.45 پر مفتی صاحب مسجد میں تشریف لاتے ہیں ۔ناظم جلسہ مختصر تمہیدی گفتگو کے بعد تلاوت کلام پاک کے لیے حسان مجید متعلم عربی دوم کو مدعو کرتے ہیں ،ان کی پر کششِ اور پر کیف تلاوت کے بعد نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عبد الرحمن متعلم شعبہ افتاء کو دعوتِ سخن دیتے ہیں ،مزید طلبۂ جامعہ کی دو اور نعت خوانی کے بعد 11.15 پھر ناظمِ جلسہ تعارفی کلمات کے ساتھ حضرت والا مفتی صاحب کی علمی و دینی خدمات کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں اس کے بعد حضرت والا کا پر مغز خطاب ہوتا ہے ،جس کا اجمالی خاکہ کچھ یوں ہے:
حمد و سلام کے بعد حضرت والا نے فرمایا کی جامعہ میں ان کی دوسری مرتبہ آمد ہوئی ہے جامعہ انوار العلوم اپنی تعلیم اور بہترین کارکردگی کی طرف بحسن و خوبی گامزن ہے خصوصا جامعہ انوار العلوم اپنے افتاء کی تعلیم کے لیے پورے ملک میں مشہور ہے اور اس کا کریڈٹ جاتا ہے فقیہ العصر ، ملت کا سرمایہ ،دقیق مسائل پر مکمل عبور رکھنے والے جنرل سیکرٹری حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے تربیت یافتہ مفتی ولی اللہ صاحب مجید قاسمی زید مجدہ کو ،مفتی صاحب ہمارے بہت ہی عزیز اور خاص ہیں، وہ ایک صاحب بصیرت مفتی اور باکمال استاد ہیں اللہ تعالی نے ان کو علمی استعداد و صلاحیت کا بہترین ملکہ عنایت فرمایا ہے، ہم لوگ ان کے مقالے اور مضامین پڑھا کرتے ہیں ،اللہ تعالی نے انہیں بہت نوازا ہے ،اللہ ان کی محنت قبول فرمائے اور صحت و تندرستی عطا فرمائے اور طلبہ پر ان کا سایہ دراز کرے ،آمین ۔
فتح پور کی یہ سرزمین بزرگوں کا مرکز رہی ہے اس سر زمین سے نکلنے والے ،عرب و عجم میں احسان و سلوک میں ممتاز مقام رکھنے والے حضرت شاہ وصی اللہ صاحب ہیں ، آپ دارالعلوم دیوبند کے فضلا میں سے تھے، قرآن و حدیث کی روشنی میں ان پر گہری نظر کے ساتھ ساتھ ان سے استخراج و استنباط کا ملکۂ راسخہ اللہ نے ان کو دیا تھا، وہ مصلح الامت تھے ۔
لیکن مشہور محاورے ہے کہ گھر کی مرغی دال برابر، جتنا فائدہ دور کے لوگوں نے حضرت سے اٹھایا اور ان سے فیض یاب ہوے ، اطراف و اکناف کے لوگوں نے اتنا نہیں اٹھایا ۔اور آج الحمدللہ ان کے فیض یافتہ علماء کے ذریعے پورے عالم میں اصلاحِ قلوب کا کام انجام پا رہا ہے۔
میرے دوستو علم دین کسی کسی کو دیا جاتا ہے، یوں تو ہر مسلمان کے اوپر اتنا علم دین کا حاصل کرنا فرض ہے جتنے کا وہ مکلف ہے ، اسی لیے فرمایا: طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم۔
اللہ نے ہمیں مومن گھرانے میں پیدا کیا، نماز کا سیکھنا، ایمان کا سیکھنا ،روزہ زکوۃ کے احکام و مسائل پڑوسیوں کے حقوق ،ایک دوسرے کے حقوق ، یوں تو ہر مسلمان پر اس کا سیکھنا ضروری ہے , لیکن ایک دوسری چیز ہے دین کا تفصیلی علم وہ سب حاصل بھی نہیں کر سکتے، سب کے پاس موقع بھی نہیں ہے ۔ اور اسی کو اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ ایسا کیوں نہ ہو کہ ہر بڑی جماعت میں سے ایک جماعت نکلے وقت کو فارغ کریں اور اپنا پورا وقت دین کو حاصل کرنے میں لگا دیں ۔ دین کو تفصیلی طور پر اور باریکی کے ساتھ حاصل کریں تاکہ قوم کے اندر گمراہی آئے تو یہ عالمِ دین قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کو سمجھائے بتائے۔ تو دین کا تفصیلی علم کچھ ہی لوگ حاصل کر سکتے ہیں ۔
میرے بچوں اللہ تعالی نے آپ کو منتخب کیا ہے دین کا تفصیلی علم حاصل کرنے کے لیے، قرآن کریم کو یاد کرنا بہت بڑی دولت ہے ،اللہ تعالی نے ضمانت لیا ہے قران کریم کی حفاظت کی اور آپ کے ذریعے سے اس کام کو انجام دیا جارہا ہے ۔ تجوید کی رعایت کے ساتھ اچھی طرح قرآن کریم پڑھنا سیکھو ورنہ تو نماز بھی نہیں ہوگی۔اللہ نے قرآن میں جائز و ناجائز ،حرام و حلال اور عقیدے کے اعتبار سے ہمارا کیا معاملہ ہونا چاہیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی 23 سالہ زندگی میں اپنے عمل اور اپنی باتوں کے ذریعے قرآن کریم کی تشریح فرمائی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ایک عمل قرآن کی تفسیر ہے۔ قرآن و حدیث میں قیامت تک کے آنے والے انسانوں کے لیے ہدایت بیان کی گئی، لیکن ان تعلیمات کو سمجھنا سب کے بس کی بات نہیں ،کچھ اشارات ہوتے ہیں اور ان اشارات کو سمجھنا امت کے علماء اور دین پر مکمل مہارت رکھنے والے ہی اس کو سمجھ سکتے ہیں جن کو فقہاء کہا جاتا ہے۔ اور یہ فقہاء بہت کم تعداد میں ہوتے ہیں۔ لہذا جن طلبہ کو اللہ تعالی نے رسمی فراغت کے بعد مسائل کو باریکی کے ساتھ سمجھنے کا موقع عنایت فرمایا ہے وہ بڑے ہی خوش نصیب ہیں اور کل یہ امت کے مقتدا اور پیشوا ہوں گے ۔
علم دین دو چیزوں کا تقاضا کرتا ہے ایک تو نیت خالص ہونا چاہیے اللہ کی رضا کے لیے ورنہ اگر پیسہ کمانا مقصود ہو تو میرے دوستو آپ دیکھ لیجیے تنخواہ کے نام پہ مدرسوں میں تعلیم کے نام پر ہماری قوم جو ہمارے اساتذہ کو دیتی ہے اس سے جیب خرچ بھی پورا نہیں ہوتا ۔
اساتذہ بچوں کو تعلیم دیتے ہیں اور اپنا سب کچھ اپنے اللہ سے چاہتے ہیں ۔ قوم کے بچے ہمارے ہاتھ میں امانت ہیں، اس امانت کی حفاظت کرنا ہے ان کو پروان چڑھانا ہے۔ جو کچھ اللہ نے دیا ہے اخلاص کے ساتھ ان کے سینوں میں منتقل کرنا ہے، یہ اساتذہ کا کام ہے ۔باقی اپنی ضرورت کہاں سے پوری ہوگی اسے اپنے رب سے مانگو۔ ادو ما عليكم واسالوا الله حقکم۔
یہ مکتب اور مدرسوں میں بیٹھے ہوئے جو اساتذہ ہیں یہ اپنی اپنی ضرورت اور اپنی اولاد کی ضرورت سے بے پرواہ ہو کر کے قوم کے بچوں کو پڑھاتے ہیں اور موجودہ حالات میں دین کا محفوظ رہنا یہ مدرسوں ہی کے ذریعے ہے ۔میرے بچوں بہت تیزی کے ساتھ الحاد و مادیت کی طرف ہماری قوم بڑھتی چلی جا رہی ہے بہت کم لوگ دینی مدارس کی طرف رجوع کر رہے ہیں ورنہ تو لوگ کہہ رہے ہیں کہ ایک اچھی خاصی عمر گزارنے کے بعد کیا ملے گا ان مدرسوں سے؟ ۔
میرے دوستو! دین کے خادم جو دین کی خدمت کرتے ہیں اللہ پاک ان کی ضرورتیں غیب سے پوری کرتے ہیں جیسے سرکاری کارندوں کو سرکار بے یار و مددگار نہیں چھوڑا کرتی ایسے ہی اللہ اپنے محبوب بندوں کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا ، و من يتوكل على الله فهو حسبه . لہذا اللہ پر بھروسہ رکھو۔ اللہ ہر کس و ناکس کو یہ دولت نہیں دیتا اس لیے یہ عزم کر کے جاؤ کی قوم کی امانت کو ادا کرنے کے لیے سب کچھ قربان کر دو گے باقی ضرورتیں کہاں سے پوری ہوگی یہ رات کی تنہائی میں اللہ سے مانگو گے اللہ فرماتا ہے: ويرزقه من حيث لا يحتسب ۔
احساس کمتری میں مبتلا مت ہو ۔ اللہ پر بھروسہ کر کے کام کریں گے تو شروع میں حالات آئیں گے۔ سب سے زیادہ سخت حالات انبیاء کرام پر آتی ہے پھر ان سے قریب پھر ان سے قریب جس کو جتنا نبوت سے قربت ہوتی ہے اسپر ویسی آزمائشیں آتی ہیں (اشد الناس بلاء الانبياء ثم الامثل فالامثل) بلندی پر ہوا کے جھونکے تیز لگتے ہیں ،گرنے کا خطرہ ہوتا ہے لیکن آدمی سنبھل کر چلتا ہے کہ کہیں گر نا جاۓ ، تو آپ بلندی پر ہیں اور اس بلندی پر اپنے آپ کو سنبھال کے رکھنا ہوگا۔
تعلیم حاصل کرنا اور اس پر عمل کرنا ہوگا اور اللہ کی رضا کے لیے اللہ کے بندوں کی امانت کو ان تک پہنچانا ہوگا ۔پھر اللہ اتنا دیگا کہ لوگ عش عش کرینگے۔
بہر حال فتح پور ایک نیک نامی بستی ہے اس فتح پور سے تعلق رکھنے والے حضرت شاہ صاحب ۔اللہ نے جسے آفتاب و مہتاب بنایا اور پھر ان کے فیض یافتہ ستارے پوری دنیا میں پھیل گیے ۔
آپ یہاں علم دین حاصل کر رہے ہیں، اس جگہ کو بزرگوں سے نسبت حاصل ہے۔
علم صرف علم نہیں بلکہ علم برائے عمل حاصل کرنا ہے اور عمل وہ مقبول ہوگا جس میں اخلاص ہوگا۔ عمل کے لیے اخلاص شرط ہے علم ،عمل اور اخلاص تینوں سیکھنے کی چیز ہے ۔اخلاص عمل کی روح ہے وما امروا الا ليعبدوا الله مخلصين له الدين۔ اللہ کی عبادت و بندگی کرو اسی کے لیے دین کو خالص کر کے جس میں کوئی ریا و نمود نہ ہو حضرت تھانوی رحمت اللہ علیہ نے فرمایا کہ اخلاص بھی اختیاری چیز ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ایسی چیز کا مکلف نہیں بناتے جو انسان کے بس میں نہ ہو (لا يكلف الله نفسا الا وسعها) . بس اس کے لیے تھوڑی سی محنت کرنی پڑے گی. اس کے لیے کسی احسان و سلوک سے تعلق رکھنے والے کے ہاتھ پر ہاتھ دینا ہوگا تب جا کر خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑے گا۔اللہ تعالی علم دین کے لیے اپ کو قبول فرمایا اور اس ادارے کو بھی ۔اللہ تعالیٰ اسے دن دونی ترقی سے نوازے۔۔۔

اس کے بعد طلبہ میں حضرت والا اور فتح پور کے علماء ،حفاظ اور بزرگوں کے ذریعے انعامات تقسیم کئے گئے اور آخر میں مولانا زاہد صاحب استاد جامعہ کی دعا کے ساتھ اس محفل کا اختتام ہوا۔
پروگرام کے بعد مہمان خانے میں اجازت حدیث کی محفل منعقد کی گئی جس میں حضرت والا نے صحیح بخاری کی پہلی حدیث پڑھ کر تخصص فی الحدیث اور تکمیل افتاء کے طلبہ وغیرہ کو اپنی سند حدیث کی روایت کی اجازت مرحمت فرمائی ۔
حضرت والا کی ایک سند کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ دو واسطوں سے شیخ نذیر حسین محدث دہلویؒ اور تین واسطوں سے قاضی شوکانی رحمہ اللہ تک پہنچی ہوئی ہے ۔
تقریباً چار گھنٹے تک حضرت والا کا یہاں قیام رہا اور ایک بجے کے بعد گھوسی تشریف لے گئے اور ہم سب کے دل میں یہ حسرت اور خواہش رہی کہ کاش یہ وقت رک جاتا۔ اور جامعہ انوار العلوم کا ہر فرد زبان حال سے کہہ رہا تھا :
وہ کب کے آئے بھی اور گئے بھی نظر میں اب تک سما رہے ہیں۔
یہ چل رہے ہیں، وہ پھر رہے ہیں، یہ آ رہے ہیں وہ جا رہے ہیں۔
اللہ تعالی ان کو صحت و تندرستی عطا فرمائے اور ہم‌سب پر آپ کا سایہ تا دیر قائم رکھے ۔
از قلم صفوان اعظمی ۔20.9.25

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے