بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(2)
مزاح و تفریح سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242.
2-مزاحیہ پروگرام اور مشاعرے:
اچھے اور معیاری اشعار کے پڑھنے اور سننے میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔خصوصا فرحت و مسرت کے مواقع پر اس کی اجازت ہے حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے :
أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا يَوْمَ فِطْرٍ، أَوْ أَضْحًى، وَعِنْدَهَا قَيْنَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِمَا تَعَازَفَتِ الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثٍ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ. مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ ؛ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَإِنَّ عِيدَنَا هَذَا الْيَوْمُ ".(صحیح بخاري:3931)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں عید فطر یا عید قرباں کے موقع پر حضرت ابوبکر ان کے پاس آئے ،اس وقت دو بچیاں جنگ بعاث کے موقع پر کہے گئے اشعار کو گا رہی تھی حضرت ابوبکر نے فرمایا :شیطان کی بانسری. یہ جملہ انہوں نے دو مرتبہ کہا. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر! ان دونوں کو چھوڑ دو. ہر قوم کے لیے ایک عید کا دن ہوتا ہے اور یہ ہمارے عید کا دن ہے.
اور حضرت شرید کہتے ہیں:
: رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ : ” هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْءٌ ؟ ". قُلْتُ : نَعَمْ. قَالَ : ” هِيهِ ". فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا، فَقَالَ : ” هِيهِ ". ثُمَّ أَنْشَدْتُهُ بَيْتًا، فَقَالَ : ” هِيهِ ". حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِائَةَ بَيْتٍ. (صحیح مسلم:2255)
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر بیٹھا ہوا تھا آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس امیہ بن ابو صلت کہ اشعار میں سے کچھ ہے؟عرض کیا:ہاں ۔فرمایا:پڑھو۔ میں نے ایک شعر پڑھا۔ آپ نے فرمایا :اور پڑھو ۔پھر ایک شعر پڑھا۔ فرمایا :اور پڑھو. یہاں تک کہ میں نے سو اشعار پڑھے۔
امام نووی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
ففيه جواز إنشاد الشعر الذي لا فحش فيه وسماعه ، سواء شعر الجاهلية وغيرهم ، وأن المذموم من الشعر الذي لا فحش فيه إنما هو الإكثار منه ، وكونه غالبا على الإنسان ، فأما يسيره فلا بأس بإنشاده وسماعه وحفظه .
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے اشعار کو پڑھنا اور سننا جائز ہے جس میں فحش باتیں نہ ہوں اگرچہ وہ زمانہ جاہلیت کے اشعار ہوں اور جن اشعار میں فحش باتیں نہ ہوں ان کو بھی بہت زیادہ پڑھنا اور انسان پہ غالب آ جانا ممنوع ہے، رہے چند اشعار تو اس کے پڑھنے سننے اور یاد رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔(المنہاج حدیث: 2255
اور درج ذیل حدیث سے اشعار میں انہماک اور حد سے زیادہ شغف مراد ہے :
ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ” لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا "(صحیح بخاري:5154)
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے پیٹ کو پیپ سے بھر لے یہ زیادہ بہتر ہے کہ اسے اشعار سے بھرے۔
مشہور ماہر لغت ابو عبيد اس حدیث کی تشریح میں کہتے ہیں:
، ولكن وجهه عندي أن يمتلئ قلبه من الشعر حتى يغلب عليه فيشغله عن القرآن وعن ذكر الله فيكون الغالب عليه، فأما إذا كان القرآن والعلم الغالبين عليه فليس جوفه ممتلئا من الشعر. (فتح الباري حدیث 5154)
لیکن میرے نزدیک اس کی توجیہ یہ ہے کہ اپنے دل کو اشعار سے بھر لے یہاں تک کہ وہ اس پر غالب ہو جائے اور اسے قرآن اور اللہ کے ذکر سے روک دے لیکن اگر قرآن اور علم اس پر غالب ہو تو پھر اس کا پیٹ اشعار سے بھرا ہوا نہیں ہے۔
اور حضرت جابر بن سمرہ کہتے ہیں:
جَالَسْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ مَرَّةٍ، فَكَانَ أَصْحَابُهُ يَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ، وَيَتَذَاكَرُونَ أَشْيَاءَ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَهُوَ سَاكِتٌ، فَرُبَّمَا يَتَبَسَّمُ مَعَهُمْ. ترمذي 2850.
مجھے سو سے زیادہ مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم نشینی کا شرف حاصل ہوا ہے تو صحابہ کرام اشعار پڑھتے اور جاہلیت کی چیزوں کا تذکرہ کرتے، اللہ کے رسول خاموش ہوتے اور بسا اوقات ان کے ساتھ مسکرا دیتے۔
حاصل یہ ہے کہ مذاق میں انہماک ، اور مبالغہ جائز نہیں ہے ۔اسے محض وقتی اور کچھ دیر کیلئے ہونا چاہئے نہ کہ اسے پیشہ بنا لیا جائے اور ایک طویل وقت تک اس میں مشغول رہا جائے۔ ایک مسلمان سے اصلا سنجیدگی مطلوب ہے ، ہنسی مذاق کی گنجائش محض وقتی ہے کہ کبھی کبھار موقع اور محل کی رعایت کرتے ہوئے مزاحیہ گفتگو اور تفریحی اشعار کہہ لئے جائیں۔مسقل طور پر اس کام کو انجام دینا دل کو مردہ کردیتا ہے ۔
لہذا ہنسنے ہنسانے کے لئے کئی گھنٹوں پر مشتمل باضابطہ پروگرام منعقد کرنا درست نہیں ہے کہ یہ بے فائدہ قصے اور کہانیوں میں شامل ہے جسے قرآن میں "لہو الحدیث” کہا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشۡتَرِیۡ لَہۡوَ الۡحَدِیۡثِ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ٭ۖ وَّ یَتَّخِذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ .
اور کچھ لوگ وہ ہیں جو اللہ سے غافل کرنے والی باتوں کے خریدار بنتے ہیں۔ تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کو بےسمجھے بوجھے اللہ کے راستے سے بھٹکائیں، اور اس کا مذاق اڑائیں۔ ان لوگوں کو وہ عذاب ہوگا جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔( سورہ لقمٰن : 6)
تفسیر:
نیز اس میں یہ اصول بھی بیان کیا گیا ہے کہ ہر وہ دل بہلانے کا مشغلہ جو انسان کو اپنے دینی فرائض سے غافل اور بے پرواہ کرے، ناجائز ہے کھیل کود اور دل بہلانے کے صرف وہ مشغلے جائز ہیں جن میں کوئی فائدہ ہو، مثلاً جسمانی یا ذہنی ورزش، یا تھکن دور کرنا، اور جن کی وجہ سے نہ کسی کو تکلیف پہنچے اور نہ وہ انسان کو اپنے دینی فرائض سے غافل کریں۔( آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)
نیز حدیث میں بہ کثرت ہنسنے سے منع کیا گیا ہے کہ اس سے دل میں سختی اور غفلت پیدا ہوتی ہے اور اس طرح کی محفلوں کا مقصد ہی ہنسی مذاق ہوتا ہے ۔لہذا ہنسی مذاق کے لئے بالقصد محفل سجانا جائز نہیں ہے ۔