بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(3)
مزاح و تفریح سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
3-مزاحیہ کہانی لکھنا اور پڑھنا:
تفریح طبع اور دل لگی اور عبرت و نصیحت کے لئے مزاحیہ کہانی اور لطیفہ لکھنے اور پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ اس کے ذریعے بے حیائی کی ترغیب نہ دی گئی ہو اور نہ بیہودہ قسم کے چٹکلوں پر مشتمل ہو اور نہ اس کے ذریعے کسی کی دل آزاری کی جائے . لہذا فحش یا عشقیہ ناول یا جرائم پیشہ لوگوں کے حالات پر مشتمل قصے کہانیاں پڑھنا اور سننا ناجائز ہے اور "لہو الحدیث” میں شامل ہے۔چنانچہ حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تحدثوا عن بني اسرائيل فانه كانت فيهم اعاجيب. (مصنف ابن ابي شيبه 27017)
بنی اسرائیل کی باتیں بیان کیا کرو کیونکہ ان میں عجیب وغریب واقعات ہوئے ہیں ۔
لہذا ایسے واقعات جن کے جھوٹ یا سچ ہونے کا یقین نہیں ہے بلکہ دونوں کا امکان ہے انھیں بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔
ایسے ہی جن چیزوں کے بارے میں معلوم ہے کہ ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے محض خیالی اور تصوراتی چیزیں ہیں ان کو بھی تفریح طبع اور تعلیم وتربیت کے لئے لکھنے اور بیان کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں جیسے کہ بعض افسانوی واقعات پر مشتمل کتابیں دینی مدارس کے نصاب میں داخل ہیں جسے کہ مقامات بدیع اور مقامات حریری اور کلیلہ دمنہ۔ چنانچہ علامہ حصکفی لکھتے ہیں:
و حديث حدثوا عن بني اسرائيل يفيد حل سماع الاعاجيب والغرائب من كل ما لا يتيقن كذبه. بقصد الفرجة لا لحجة بل وما يتيقن كذبه لكن بقصد ضرب الامثال والمواعيد والتعليم نحو الشجاعة على السنة الادميين او حيوانات.( الدر المختار 667/9)
حدیث میں ہے کہ بنی اسرائیل کے واقعات کو بیان کرو ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تفریح طبع کے لئے نہ کہ بطور دلیل ایسی عجیب و غریب باتوں کا سننا جائز ہے جن کا جھوٹ ہونا یقینی نہ ہو بلکہ جس چیز کا جھوٹ ہونا یقینی ہو اسے بھی سنا جا سکتا ہے لیکن بطور مثال اور تعلیم و تربیت کے نقطۂ نظر سے جیسے کہ بہادری کی تعلیم انسان یا دوسرے حیوانات کے فرضی کردار کی شکل میں دی جائے ۔
اور اس کے ذیل میں علامہ شامی لکھتے ہیں:
وذلك كمقامات الحريري فان الظاهر ان الحكايات التي فيها عن الحارث بن همام والسروجي لا اصل لها وانما أتى بها على هذا السياق العجيب لما لا يخفى على من يطالعها.
(رد المحتار 668/9)
البتہ اسے پیشہ اور کمائی کا ذریعہ بنا لینا یا حد درجہ انہماک جائز نہیں ہے ۔امام غزالی کہتے ہیں:
لہذا مناسب ہے کہ اسی طرح کا مزاح کیا جائے جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے جس میں صرف حق بات کہی جائے اور کسی کے دل کو ٹھیس نہ لگے اور نہ حد سے تجاوز کیا جائے ،لہذا ان باتوں کی رعایت کرتے ہوئے کبھی کبھار مذاق کرلیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔لیکن یہ بہت بڑی غلطی ہوگی کہ کوئی انسان مزاح کو پیشہ بنا لے اور اسے پابندی سے کرے اور حد سے تجاوز کر جائے اور رسول اللہ ﷺ کے عمل کو بطور دلیل پیش کرے تو وہ ایسے ہی ہے جیسے کہ کوئی حبشیوں کے ناچ کو دیکھنے کی لئے ان کے ساتھ لگا رہے اور دلیل میں کہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ کو حبشیوں کا کھیل دیکھنے کی اجازت دی تھی۔
وَحِينَئِذٍ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ مِنْ قَبِيلِ مُزَاحِ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فَلَا يَكُونُ إِلَّا حَقًّا وَلَا يُؤْذِي قَلْبًا وَلَا يُفَرِّطُ فِيهِ، فَإِنْ كُنْتَ أَيُّهَا السَّامِعُ تَقْتَصِرُ عَلَيْهِ أَحْيَانًا وَعَلَى النُّدُورِ، فَلَا حَرَجَ عَلَيْكَ، وَلَكِنْ مِنَ الْغَلَطِ الْعَظِيمِ أَنْ يَتَّخِذَ الْإِنْسَانُ الْمُزَاحَ حِرْفَةً، وَيُوَاظِبَ عَلَيْهِ، وَيُفَرِّطَ فِيهِ، ثُمَّ يَتَمَسَّكَ لِفِعْلِ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فَهُوَ كَمَنْ يَدُورُ مَعَ الزُّنُوجِ أَبَدًا لِيَنْظُرَ إِلَى رَقْصِهِمْ، وَيَتَمَسَّكَ بِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِعَائِشَةَ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا – فِي النَّظَرِ إِلَيْهِمْ وَهُمْ يَلْعَبُونَ .(مرقاة 3037/7)