بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(22) دوا علاج سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
22-مشیمہ کا استعمال:
رحم مادر میں ایک جھلی ہوتی ہے جس میں بچہ پلتا بڑھتا ہے اور پیدائش کے وقت وہ جھلی پھٹتی ہے اور اس میں موجود چکنے پانی کے ساتھ بچہ باہر آجاتا ہے، کچھ دیر کے بعد دوبارہ درد ہوتا ہے اور وہ جھلی باہر آجاتی ہے۔ انسان کے بچے کی جھلی کو عربی میں مشیمہ کہتے ہیں۔
اسٹیم سیل حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ مشیمہ بھی ہے جسے پیدائش کے بعد ضائع کر دیا جاتا ہے ۔ اگر اس سے اسٹیم سیل اخذ کر کے محفوظ کر لیا جائے تو آئندہ خود اس بچے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے جسے اس کا جسم آسانی سے قبول کر لے گا؛ کیونکہ وہ اسی کے جسم کا ایک حصہ ہے . اسی طرح سے جو بچے پیدائشی طور پر مختلف امراض کا شکار ہوتے ہیں ان کے لیے بھی کارگر ہے اور اس کے ذریعے انہیں تکلیف دہ امراض سے چھٹکارا دلایا جا سکتا ہے اور ان کی جان بچائی جا سکتی ہے۔
ظاہر ہے کہ مشیمہ سے بھی اسٹیم سیل حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مشیمہ کے اجزاء سے بعض دوائیاں بھی بنائی جاتی ہیں جنہیں کھایا یا اس کا انجکشن لگایا جاتا ہے ۔
ظاہر ہے کہ یہ انسان کے ایک جزء سے فائدہ اٹھانا ہے اور یہ بات گزر چکی ہے کہ انسان اپنے جسم کا مالک نہیں ہے اس لئے وہ اپنے جسم کے کسی حصے کو نہ تو بیچ سکتا ہے اور نہ ہبہ کر سکتا ہے نیز اس کے تمام اجزاء قابل احترام ہیں اور دوا وغیرہ میں استعمال کرنے میں اس کی اہانت ہے اگرچہ وہ زائد اور کسی کام کے لائق نہ ہو چنانچہ اسی بنیاد پر انسانی بال اور ناخن وغیرہ کی خرید و فروخت یا کسی کام میں ان کا استعمال حرام ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورتوں پر لعنت کی ہے جو دوسروں کے بال کو اپنے بال کے ساتھ لگا لیتی ہیں۔
اس کے باوجود اگر کسی شخص نے اس سے دوا تیار کر لی ہے تو دیکھا جائے گا کہ کیا دوا بننے کی وجہ سے اس کی حقیقت بالکل بدل چکی ہے تو وہ پاک ہے جیسے کہ گوبر جلنے کے بعد راکھ کی شکل میں آجانے سے ناپاک نہیں رہ جاتا ہے ۔ اگر ایسا ہے تو اس دوا کو استعمال کرنا جائز ہے۔لیکن اگر اس کی حقیقت تبدیل نہیں ہوئی ہے بلکہ اس کی خاصیت اس میں موجود ہے تو اس کے استعمال کا وہی حکم ہے جو کسی حرام دوا کے استعمال کا ہے یعنی ضرورت شدید کے وقت ہی گنجائش ہوگی۔