27-انسانی نعش پر میڈیکل ریسرچ:

انسانی عضو کی بناوٹ اور ہڈیوں کے جوڑ، مختلف حصوں کے درمیان باہمی ربط و ضبط اور تناسب جاننے کے مقصد سے انسانی نعش کو چیرنا پھاڑنا درست نہیں، کیونکہ اولاً تو ان چیزوں کا جاننا میڈیکل تعلیم کے لئے ضروری اور ناگزیر نہیں کہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، دوسرے اس مقصد کے حصول کے لئے اور بھی بہت سی تدبیریں موجود ہیں ، ان ذرائع کے ہوتے ہوئے اہانت انسانی کی جازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَ لَقَدۡ کَرَّمۡنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ وَ حَمَلۡنٰہُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِیۡلًا.
اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے آدم کی اولاد کو عزت بخشی ہے، اور انہیں خشکی اور سمندر دونوں میں سواریاں مہیا کی ہیں، اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا ہے، اور ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت عطا کی ہے۔ (سورہ الاسراء : 70)
انسانی عظمت و شرافت جیسے زندگی میں ہے اسی طرح سے مرنے کے بعد بھی برقرار ہے اور چیر پھاڑ کرنے میں اس کی اہانت ہے ۔
اور حضرت بریدہ بیان کرتے ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ، أَوْ سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّتِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا ثُمَّ قَالَ : ” اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ، اغْزُوا وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تَمْثُلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا۔
رسول اکرم ﷺ جب کسی کو لشکر یا فوجی دستہ پر امیر مقرر کرتے تو اسے تقویٰ اختیار کرنے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی تاکید کرتے پھر کہتے کہ اللہ کا نام لے کر اللہ کی راہ میں جہاد کرو ،اللہ کا انکار کرنے والوں سے جنگ کرو،جہاد کرو لیکن خیانت مت کرو اور نہ ہی بدعہدی کرو اور نہ کسی کا مثلہ کرو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو۔ (صحیح مسلم:1731)
اور ظاہر ہے کہ پوسٹ مارٹم میں جسم کا مثلہ ہوتا ہے ۔
اور حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔
إِنَّ كَسْرَ عَظْمِ الْمُؤْمِنِ مَيْتًا مِثْلُ كَسْرِهِ حَيًّا ".
مومن میت کی ہڈی توڑنا، اس کی زندہ ہونے کی حالت میں ہڈی توڑنے کے مثل ہے ۔
(احمد 24308 أبو داؤد 3207.ابن ماجہ: 1616 ۔صححہ الالبانی فی الارواء212/3)۔
احترامِ آدمیت کی بنیاد پر قبر پر بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ، فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ، فَتَخْلُصَ إِلَى جِلْدِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ ".
کوئی شخص آگ کے انگارے پر بیٹھے ، جس سے اس کا کپڑا یہاں تک کہ کھال بھی جل جائے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے ۔( مسلم:971)
حالانکہ قبر پر بیٹھنے کی وجہ سے اس کے جسم پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے لیکن اس کے باوجود اس سے منع کیا گیا ہے کہ اس سے مردے کی بے احترامی ہوگی تو اس کے جسم کو کاٹنے اور پیٹ کو چیرنے میں اس سے زیادہ بے احترامی ہے ۔
اور اس مقصد کے لئے درج ذیل طریقے اختیار کئے جاسکتے ہیں:
1۔ مصنوعی ڈھانچے (dummies) اور ربڑ کے ماڈل سے استفادہ جسے ہو بہو انسان کی طرح بنایا جاتا ہے ۔
2۔ ان جانوروں کا استعمال جن کے جسم کے بعض اجزاء انسانی اعضاء کے ساتھ مماثلت رکھتے ہیں جیسے مینڈک،بندر،بن مانس وغیرہ۔
3۔چیر پھاڑ (dissection) کے عنوان پر سابقہ تیار شدہ تصاویر اور ویڈیوز کا استعمال ۔
4۔ کسی مریض کے آپریشن کے موقع پر میڈیکل کے طلبہ کا وہاں موجود رہنا ۔
5- اگر ان سب سے بھی ضرورت پوری نہ ہو تو کسی منکر خدا کی نعش کو استعمال کرنا ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَ مَنۡ یُّہِنِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ مُّکۡرِمٍ۔
اور جسے اللہ ذلیل کردے، کوئی نہیں ہے جو اسے عزت دے سکے۔(سورہ الحج: 18)
اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کافر اللہ کی نگاہ میں ذلیل ہے ۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے