بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(6) دوا علاج سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

 

 

6-نقصان دہ چیزوں سے علاج:

 

ہر طرح کے جمادات ،نباتات اور حیوانات سے علاج جائز ہے بشرطیکہ کہ وہ حلال، پاک اور صحت کے لئے فائدہ مند ہوں ،لہذا حرام، ناپاک ،نشہ آور اور زہر سے علاج جائز نہیں ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے:

نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ. يَعْنِي : السُّمَّ.

رسول اللہ ﷺ نے خبیث دوا یعنی زہر کے ذریعے علاج سے منع فرمایا ہے ۔(ترمذي: 2045.ابن ماجه: 3459.ابوداؤد:3870).

مذکورہ حدیث میں خبیث کی وضاحت زہر کے ذریعے کی گئی ہے ،شاید یہ تشریح حدیث کے راوی حضرت ابوھریرہ یا ان کے بعد کے کسی شخص سے منقول ہے اور حافظ ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں کہ حدیث کے بعض طریق میں جو وضاحت منقول ہے اسے مراد لینا زیادہ بہتر ہے .(تحفة الاحوذي ۔رقم الحدیث: 2045)

زہر حرام ہے ، لیکن حرمت کی وجہ انسانی جان کی ہلاکت اور ضیاع ہے ، لہٰذا اگر زہر خورانی سے مقصود علاج اور کسی انسانی جان کو بچانا ہو تو اب اس کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں۔ علامہ شوکانی رقم طراز ہیں:

’’ماوردی اور دوسرے لوگوں نے کہا ہے کہ زہر کی چند قسمیں ہیں:کچھ وہ ہیں جن کی زیادہ اور کم مقدار ہلاک کردیتی ہے، ایسے زہر کا استعمال دوا وغیرہ کے لیے درست نہیں ، اس لیے قرآن میں ہے کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔(’’ولاتلقوا ایدیکم الی التھلکۃ) بعض وہ ہیں کہ ان کی زیادہ مقدار قاتل ہے مگر کم مقدار نہیں، ایسے زہر کا دوا وغیرہ کے لیے زیادہ مقدار میں استعمال حرام ہے ، کم مقدار میں بغرض علاج جائز ہے۔ کچھ وہ ہیں کہ اکثر قاتل ثابت ہوتے ہیں اور کبھی نہیں۔ایسے زہر کا استعمال بھی حرام ہے اور بعض زہر ایسے ہوتے ہیں کہ عام طور پر مہلک نہیں ہوتے لیکن کبھی کبھار ہو بھی سکتے ہیں تو اگر یہ بطور علاج استعمال کیاجائے تو جائز ہے ، ورنہ نہیں۔‘‘(نیل الاوطار204/8)

البتہ اگر زہر کسی ناپاک چیز سے بنایا گیا ہو تو اب اس کا استعمال بدرجہ مجبوری ہی جائز ہوگا ،ورنہ نہیں۔(یحرم شرب التریاق لنجاستہ الا اذا لم یقم غیرہ فقامہ۔ التیسیر شرح الجامع الصغیر للمناوی 327/2)

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے