بسم اللّه الرحمن الرحيم

وہیل چیئر یا گولف کارٹ پر طواف و سعی:

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

عذر کے بغیر سواری پر طواف و سعی کے مسئلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے ،تین طرح کی رائیں منقول ہیں.
1-پیدل طواف پر قدرت کے باوجود سواری پر طواف جائز ہے اگرچہ اس حالت میں پیدل طواف افضل ہے لیکن اگر کوئی سواری پر طواف کرلے تو اس پر کوئی دم نہیں ہے ۔شافعیہ اسی کے قائل ہیں اور امام احمد سے ایک قول اسی کے مطابق منقول ہے اور یہی رائے ظاہریہ کی ہے۔( الام 174/2.المغنی 250/5۔ المحلی 180/7)
ان کی دلیل یہ ہے:
1-۔۔۔ أَخْبِرْنِي عَنِ الطَّوَافِ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ رَاكِبًا، أَسُنَّةٌ هُوَ ؟ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ ؟ قَالَ : صَدَقُوا، وَكَذَبُوا، قَالَ : قُلْتُ : وَمَا قَوْلُكَ : صَدَقُوا، وَكَذَبُوا ؟ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثُرَ عَلَيْهِ النَّاسُ، يَقُولُونَ : هَذَا مُحَمَّدٌ، هَذَا مُحَمَّدٌ، حَتَّى خَرَجَ الْعَوَاتِقُ مِنَ الْبُيُوتِ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُضْرَبُ النَّاسُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا كَثُرَ عَلَيْهِ ؛ رَكِبَ وَالْمَشْيُ، وَالسَّعْيُ أَفْضَلُ۔
ابو الطفیل نے حضرت عبداللہ بن عباس سے پوچھا۔۔۔ :کیاصفا اور مروہ کے درمیان سواری پر سعی کرنا سنت ہے ؟کیوں کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ یہ سنت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی بعض باتیں صحیح اور بعض غلط ہیں ۔انھوں نے کہا : بعض صحیح اور بعض غلط کا کیا مطلب ہے ؟ ابن عباس نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس لوگوں کی بہت بڑی تعداد جمع ہوگئی وہ کہہ رہے تھے کہ یہ محمد ہیں یہ محمد ہیں ،یہاں تک کہ دوشیزائیں بھی آپ کے دیدار کے لئے گھروں سے باہر نکل آئیں۔اور آپ کے سامنے راستے کو صاف کرنے کے اور بھیڑ ہٹانے کے لئے لوگوں پر ڈنڈے نہیں برسائے جاتے تھے اور جب لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی تو آپ ﷺ سوار ہوگئے ۔لیکن پیدل اور تیز چلنا افضل ہے ۔(صحیح مسلم: 1264)
انھیں سے منقول ایک دوسری حدیث میں ہے:
طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ۔
نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہوکر طواف کیا اور عصا کے ذریعے حجر اسود کے گوشے کو چھوا کرتے تھے ۔(صحیح بخاری: 1607.صحیح مسلم: 1272).
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کسی عذر کے بغیر سواری پر طواف کیا جو اس عمل کے جواز کی دلیل ہے ۔

2-طواف کے صحیح ہونے کے لئے پیدل طواف کرنا شرط ہے، لھذا پیدل طواف پر قدرت کے باوجود کوئی سواری پر طواف کرلے تو وہ باطل ہے اور اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔امام مالک سے ایک روایت اسی کے مطابق منقول ہے اور امام احمد کا مشہور قول یہی ہے ۔(التمهيد 95/2. المغني 250/5. الإنصاف 12/4. كشاف القناع481/4)
ان کے دلائل یہ ہیں:
1-حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول حدیث میں ہے کہ بیت اللہ کا طواف نماز کی طرح ہے البتہ اس میں گفتگو کی اجازت ہے ۔
الطَّوَافُ حَوْلَ الْبَيْتِ مِثْلُ الصَّلَاةِ، إِلَّا أَنَّكُمْ تَتَكَلَّمُونَ فِيهِ، فَمَنْ تَكَلَّمَ فِيهِ فَلَا يَتَكَلَّمَنَّ إِلَّا بِخَيْرٍ ". (جامع ترمذي: 960. صححه ابن خزيمة و ابن حبان ۔اعلاء السنن 74/10۔ صحيح . الارواء:121)
” الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلَاةٌ، إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَبَاحَ فِيهِ الْمَنْطِقَ، فَمَنْ نَطَقَ فِيهِ فَلَا يَنْطِقْ إِلَّا بِخَيْرٍ ".
(مسند دارمي:8090)
اور فرض نماز میں قیام ایک رکن ہے اور قدرت کے باوجود بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز باطل ہے اسی طرح سے جو پیدل طواف کرنے کی طاقت رکھتا ہے وہ اگر سواری پر طواف کرلے تو اس کا طواف باطل ہے ۔
2-حضرت عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ ایک شخص نے گھوڑے پر سوار ہوکر بیت اللہ کا طواف کیا تو لوگوں نے اسے روکا ۔اس نے کہا کیا تم لوگ مجھے سواری پر طواف کرنے سے روک رہے ہو ؟وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کو اس کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے کہا کہ سواری پر طواف کرنے سے اسے منع کرو۔(أخبار مكة للازرقی15/2۔أخبار مكة للفاکہی:476 .سند منقطع ہے )
3-ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ دو سال تک عمرہ نہ کرسکیں اور فرمایا کہ میرے لئے عمرہ سے مانع صفا اور مروہ کا طواف ہے اور مجھے ان کے درمیان سوار ہونے میں کراہت محسوس ہوتی ہے ۔
(أخبار مكةللفاکہی :1425.سند صحیح ہے).
3-پیدل طواف کرنا واجب ہے لھذا اگر کوئی شخص قدرت کے باوجود سواری پر طواف و سعی کرلے تو دم کے ذریعے اس کی تلافی ضروری ہے ۔حنفیہ اسی کے قائل ہیں اور فرض و واجب طواف میں مالکیہ کا یہی مسلک ہے اور یہی حنابلہ کے یہاں راجح ہے ۔(بدائع الصنائع 130/2. المدونة409/2. الإنصاف131/4).
ان کے دلائل یہ ہیں:
1-اللہ عز وجل کا فرمان ہے :
ثُمَّ لۡیَقۡضُوۡا تَفَثَہُمۡ وَ لۡیُوۡفُوۡا نُذُوۡرَہُمۡ وَ لۡیَطَّوَّفُوۡا بِالۡبَیۡتِ الۡعَتِیۡقِ .
پھر (حج کرنے والے) لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنا میل کچیل دور کریں، اور اپنی منتیں پوری کریں، اور اس بیت عتیق کا طواف کریں۔ (سورہ الحج : 29)
طواف درحقیقت بیت اللہ کے ارد گرد پیدل چکر لگانے کا نام ہے اور یہ مفہوم اس قدر واضح ہے کہ جب کعبہ کے طواف کا لفظ ذہن میں آتا ہے تو یہی شکل سامنے آتی ہے۔گویا کہ مذکورہ آیت میں کہا گیا ہے کہ اللہ کے گھر کا پیدل طواف کرو۔سواری پر طواف کرنا اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہی نہیں ہے اور یہ مفہوم اس قدر واضح تھا کہ اسلام سے پہلے بھی کوئی سواری پر طواف کو سوچ نہیں سکتا تھا اور یہاں تک کہ جب نبی کریم ﷺ نے سواری پر طواف کیا تو اس کی وضاحت کی ضرورت پڑی اور جب حضرت ام سلمہ بیماری کی وجہ سے پیدل طواف نہیں کر پارہی تھیں تو اللہ کے رسول سے دریافت کرنے کی ضرورت محسوس کی ۔
اگر اس لفظ کے مفہوم میں سواری پر طواف کرنا بھی شامل ہوتا تو صحابہ کرام کو نہ تو وضاحت کی ضرورت تھی اور نہ حضرت ام سلمہ کو دریافت کرنے کی کہ وہ عربی زبان سے بخوبی واقف تھیں وہ طواف کے لفظ سے سمجھ سکتی تھیں کہ "طواف اور سعی کا مقصود بیت اللہ کا چکر لگانا اور صفا و مروہ کے درمیان آمد و رفت ہے یہ مقصد جس صورت میں حاصل ہوجائے خواہ انسان پیدل ہو یا سوار — اصل فرض ادا ہو جاتا ہے”.
اس مفہوم کا تقاضا تھا کہ پیدل طواف کو فرض اور رکن قرار دیا جائے جیسا کہ مالکیہ اور حنابلہ کا ایک قول ہے مگر اس میں قطعیت کی شان نہیں ہے اس لئے حنفیہ نے اسے واجب کہا ہے جس سے حنفیہ کے نقطۂ نظر کا اعتدال واضح ہے جو افضلیت اور رکنیت کے درمیان ایک متوازن رائے اور کتاب وسنت کے درمیان تطبیق کی ایک روشن مثال ہے ۔
2-حضرت جابر کہتے ہیں:
طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ ؛ لِأَنْ يَرَاهُ النَّاسُ، وَلِيُشْرِفَ، وَلِيَسْأَلُوهُ، فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ .
رسول اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر سواری پر طواف کیا اور عصا کے ذریعے حجر اسود کا استلام کرتے ،آپ نے ایسا اس لئے کیا تاکہ حج کے افعال کو ادا کرتے ہوئے لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ لوگوں کی نگرانی کرسکیں اور تاکہ لوگ آپ سے حج کے مسائل پوچھ سکیں کیونکہ آپ کے اردگرد بڑی بھیڑ جمع ہوگئی تھی ۔(صحیح مسلم: 1273).
ذہن نشیں رہے کہ حضرت عبداللہ ابن عباس کی پہلی روایت میں اس کے لئے بھیڑ کو بطور عذر بیان کیا گیا ہے جب کہ شمع نبوت کے دیدار کے لئے پورا مکہ پروانہ وار ٹوٹ پڑا تھا یہاں تک کہ آپ کے لئے پیدل سعی کرنا دشوار ہوگیا تھا اور ان کی دوسری حدیث مبہم ہے اور حضرت جابر کی حدیث میں اس کی وضاحت ہے جس میں سواری پر طواف کرنے کی وجہ بیان کی گئی ہے اور اس سے بڑھ کر ضرورت کیا ہوگی کہ لوگ نبی کریم ﷺ سے حج کے افعال کو سیکھ لیں ۔اگر آنحضرت ﷺ سواری پر نہ ہوتے تو لوگوں کے لیے آپ کو دیکھنا اور پھر آپ کے پاس آنا بڑا دشوار ہوتا اور حالات و قرائن سے اندازہ ہورہا تھا کہ ہجرت کے بعد آپ ﷺ کا یہ پہلا اور آخری حج ہے، اس لئے ضروری تھا کہ امت آپ ﷺ کو اچھی طرح دیکھ کر اور پوچھ کر حج کے مسائل کو سیکھ لے چنانچہ آنحضرت ﷺ خود فرمارہے تھے کہ :
يَا أَيُّهَا النَّاسُ، خُذُوا مَنَاسِكَكُمْ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ عَامِي هَذَا.
لوگو! مجھ سے حج کا طریقہ سیکھ لو کیونکہ شاید میں اس سال کے بعد حج نہ کرسکوں۔(صحیح مسلم:1297 ".سنن نسائی: 3062.واللفظ لہ)۔
نیز حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول بعض روایات میں یہ مذکور ہے کہ اس موقع پر آنحضرت ﷺ کی طبیعت بھی ناساز تھی اس وجہ سے سواری پر طواف فرمایا چنانچہ
علامہ نووی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
( لأن يراه الناس وليشرف وليسألوه ) ‏
‏هذا بيان لعلة ركوبه صلى الله عليه وسلم ، وقيل أيضا لبيان الجواز ، وجاء في سنن أبي داود أنه كان صلى الله عليه وسلم في طوافه هذا مريضا ، وإلى هذا المعنى أشار البخاري وترجم عليه باب المريض يطوف راكبا ، فيحتمل أنه صلى الله عليه وسلم طاف راكبا لهذا كله .
تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں ۔۔۔ان الفاظ کے ذریعے آپ ﷺ کے سواری پر طواف کرنے کی علت بیان کی گئی ہے۔اور کہاگیا ہے کہ بیان جواز کے لئے آپ نے سواری پر طواف کیا اور سنن ابو داؤد میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس طواف کے موقع پر بیمار تھے اور اسی وجہ کی طرف امام بخاری نے اشارہ کیا ہے اور ابن عباس کی سواری پر طواف کرنے والی حدیث پر عنوان قائم کیا ہے باب المریض یطوف راکبا۔(مریض کا سوار ہوکر طواف کرنا) تو احتمال یہ ہے ہے کہ ان دونوں وجہوں کی بنیاد پہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سوار ہوکر طواف کیا (شرح نووی علی مسلم 1273).
اور حافظ ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں:
وأن المصنف حمل سبب طوافه صلى الله عليه وسلم راكبا على أنه كان عن شكوى، وأشار بذلك إلى ما أخرجه أبو داود من حديث ابن عباس أيضا بلفظ: ” قدم النبي صلى الله عليه وسلم مكة وهو يشتكي، فطاف على راحلته ” . ووقع في حديث جابر عند مسلم: ” أن النبي صلى الله عليه وسلم طاف راكبا ليراه الناس وليسألوه ” . فيحتمل أن يكون فعل ذلك للأمرين، وحينئذ لا دلالة فيه على جواز الطواف راكبا لغير عذر.
مصنف یعنی امام بخاری نے حضور کے سواری پر طواف کرنے کی حدیثوں کو اس بات پر محمول کیا ہے کہ بیماری کے سبب آپ نے ایسا کیا اور اس عنوان کے ذریعے انہوں نے اس حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے جسے امام بخاری نے حضرت عبداللہ ابن عباس سے ان الفاظ میں نقل کیا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے اس وقت بیمار تھے لہذا آپ نے سواری پر طواف کیا اور حضرت جابر کی روایت میں ہے جسے امام مسلم نے نقل کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر طواف اس لیے کیا تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ سے حج کے بارے میں دریافت کرسکیں لہذا احتمال یہ ہے کہ آپ نے دونوں علتوں کی بنیاد پر سواری پر طواف کیا اور اس وقت حدیث میں بے عذر سواری پر طواف کرنے کی کوئی دلیل نہیں.(فتح الباری۔باب المریض یطوف راکبا رقم الحدیث: 1632).
واضح رہے کہ ابن عباس کی اس روایت کو بعض لوگوں نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن حافظ ابن حجر عسقلانی کا اسے فتح الباری میں نقل کرنا، اس سے استدلال کرنا اور کوئی نقد نہ کرنا دلیل ہے کہ ان کے نزدیک حدیث صحیح یا حسن ہے ۔(اعلاء السنن 73/10) ۔
اسی طرح سے حضرت سعید بن جبیر کی مرسل روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مرض کی وجہ سے سواری پر طواف کیا ۔اس حدیث کی سند صحیح ہے ۔(دیکھئے :شرح مسند ابو حنیفہ 80/1.مرقات المفاتیح 1786/5)
اور علامہ شمس الحق عظیم آبادی لکھتے ہیں:
ليراه الناس): فيه بيان العلة التي لأجلها طاف صلى الله عليه وآله وسلم راكبا ۔۔۔ وسيجيء أنه قدم مكة وهو يشتكي فيحتمل أنه فعل ذلك لأمرين، وهذا هو الصواب.
تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں ۔۔۔ان‌ الفاظ کے ذریعے سواری پر طواف کرنے کی علت بیان کی گئی ہے ۔۔۔۔اور عنقریب یہ حدیث آئے گی کہ آپ ﷺ مکہ آمد کے موقع پر بیمار تھے ۔لھذا احتمال یہ ہے کہ آپﷺ نے سواری پر طواف دونوں وجہوں سے کیا اور یہی صحیح ہے ۔(عون المعبود ۔رقم الحدیث :1880)
اور علامہ شوکانی لکھتے ہیں:
(لَأَنْ يَرَاهُ النَّاسُ) . . . إلَخْ، فِيهِ بَيَانُ الْعِلَّةِ الَّتِي لِأَجْلِهَا طَافَ – ﷺ – رَاكِبًا وَكَذَلِكَ قَوْلُ عَائِشَةَ: كَرَاهِيَةَ أَنْ يَصْرِفَ النَّاسُ عَنْهُ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: كَرَاهِيَةَ أَنْ يَضْرِبَ بِالْبَاءِ الْمُوَحَّدَةِ قَالَ النَّوَوِيُّ: وَكِلَاهُمَا صَحِيحٌ وَكَذَلِكَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ: وَهُوَ يَشْتَكِي، وَقَدْ تَرْجَمَ عَلَيْهِ الْبُخَارِيُّ فَقَالَ: بَابُ الْمَرِيضِ يَطُوفُ رَاكِبًا وَكَأَنَّهُ أَشَارَ إلَى هَذَا الْحَدِيثِ وَكَذَلِكَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي حَدِيثِهِ الْآخَرِ: فَلَمَّا كَثُرُوا عَلَيْهِ، فَإِنَّ هَذِهِ الْأَلْفَاظَ كُلَّهَا مُصَرِّحَةٌ بِأَنَّ طَوَافَهُ – ﷺ – كَانَ لِعُذْرٍ فَلَا يُلْحَقُ بِهِ مَنْ لَا عُذْرَ لَهُ.
تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں ۔۔۔ان الفاظ کے ذریعے سواری پر طواف کرنے کی وجہ بتلائی جا رہی ہے اسی طرح سے حضرت عائشہ کا یہ کہنا کہ آپ کو ناپسند تھا کہ لوگوں کو آپ کے پاس سے ہٹایا جائے اور بعض روایات میں ہے کہ آپ کو ناپسند تھا کہ بھیڑ ختم کرنے کے لئے ڈنڈا چلایا جائے اور علامہ نووی کہتے ہیں کہ دونوں روایات صحیح ہیں ۔اسی طرح سے ابن عباس کا یہ کہنا کہ آپ بیمار تھے اور امام بخاری نے ان کی دوسری حدیث پر عنوان قائم کیا ہے کہ مریض کا سوار ہوکر طواف کرنا اور گویا کہ انہوں نے اس حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے اسی طرح سے ابن عباس کا دوسری حدیث میں یہ کہنا کہ جب لوگوں کی بھیڑ آپ کے پاس جمع ہو گئی ۔ان تمام الفاظ میں یہ صراحت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عذر کی وجہ سے سواری پر طواف کیا لہذا سواری پر طواف کرنے کی انہیں اجازت نہیں ہوگی جن کو کوئی عذر نہیں ہے۔ (نيل الاوطار 59/5)
یہ وہ مصنفین و شارحین ہیں جو حدیث کے ظاہری مفہوم پر عمل کرنے میں مشہور ہیں تاہم مجموعہ حدیث کے پیش نظر سب اس بات کے قائل ہیں کہ سواری پر طواف کرنا کسی عذر کی بنا پر تھا خواہ تعلیم کا عذر ہو
یا بھیڑ یا مرض کا عذر۔
3-ام المومنین حضرت ام سلمہ کہتی ہیں:
شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي، قَالَ : ” طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ".
رسول اللہ ﷺ سے میں نے بیماری کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا سواری پر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرلو۔ (صحیح بخاري 464۔صحیح مسلم 1276)
اگر عذر کے بغیر سواری پر طواف کرنا جائز ہوتا تو حضرت ام سلمہ کو آپ سے اجازت اور بیماری کی شکایت کی ضرورت نہ تھی ۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں کو پہلے سے معلوم تھا کہ سواری پر طواف کرنے کی عام اجازت نہیں ہے اور اسی لئے رسول اللہ ﷺ سے اس کی ممانعت یا اپنے عمل کی وضاحت منقول نہیں ہے ۔کیونکہ آپ نے سواری پر طواف عذر کی وجہ سے کیا ہے اور وہ عذر سب کے سامنے واضح تھا اور اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس کی صراحت کی ہے۔علامہ کاسانی لکھتے ہیں:
وَيَحْتَمِلُ أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ لِعُذْرٍ آخَرَ، وَهُوَ التَّعْلِيمُ كَذَا رُوِيَ عَنْ جَابِرٍ – رضي الله عنه – أَنَّ النَّبِيَّ – ﷺ – طَافَ رَاكِبًا لِيَرَاهُ النَّاسُ فَيَسْأَلُوهُ، وَيَتَعَلَّمُوا مِنْهُ، وَهَذَا عُذْرٌ۔
یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا آپ نے دوسرے عذر یعنی حج کے افعال کو سکھانے کے لئے کیا جیسا کہ حضرت جابر کی روایت میں ہے آپ نے سواری پر طواف اس لئے کیا تاکہ لوگ آپ دیکھ سکیں اور آپ سے حج کے مسائل معلوم کریں اور اس کا طریقہ سیکھیں اور یہ بھی ایک عذر ہے ۔(البدائع 130/2)

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے