بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(8)
مزاح و تفریح سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
8-تفریح کے لئے جانور اور پرندے پالنا:
جانوروں کی تخلیق کا ایک مقصد زینت بھی ہے چنانچہ قران حکیم میں ہے:
وَّ الۡخَیۡلَ وَ الۡبِغَالَ وَ الۡحَمِیۡرَ لِتَرۡکَبُوۡہَا وَ زِیۡنَۃً ؕ وَ یَخۡلُقُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ۔
اور گھوڑے، خچر اور گدھے اسی نے پیدا کیے ہیں تاکہ تم ان پر سواری کرو، اور وہ زینت کا سامان بنیں۔ اور وہ بہت سی ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم بھی نہیں ہے۔(النحل: 8)
اس لیے خوش رنگ اور خوش الحان پرندوں کو پالنا درست ہے کہ ان سے نگاہ کو فرحت حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح سے شکار کے مقصد سے کتا یا چیتا وغیرہ رکھنا درست ہے(1) بشرطیکہ فخر اور بڑائی جتانا مقصود نہ ہو نیز انہیں اس طرف سے مانوس کر لیا جائے کہ وہ پنجرے کے بغیر رہ سکیں ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
الخيل لرجل اجر و لرجل ستر وعلى رجل وزر…. .رجل ربطها فخرا ورياء ونواء لاهل الاسلام فهي على ذلك وزر(بخاري:2371)
گھوڑا کسی کے لئے باعث اجر و ثواب،کسی کے لئے پردہ پوشی کا سبب اور کسی کے ذریعے عقاب ہے ۔۔۔جو شخص ریا کاری ،فخر اور اہل اسلام سے دشمنی کے لئے گھوڑا رکھے تو وہ اس کے لئے ذریعے عقاب ہے ۔
اور حضرت انس کہتے ہیں :
ان كان النبي صلى الله عليه وسلم ليخالطنا حتى يقول: لاخ لي صغير يا ابا عمير! ما فعل النغير؟۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے گھلے ملے رہتے تھے یہاں تک کہ ہمارے چھوٹے بھائی سے پوچھتے کہ ابو عمیر ! نغیر(پرندہ) نے کیا کیا۔ (صحیح بخاري:6129)
اور انہیں پنجرے میں بند رکھنا مکروہ ہے کیونکہ محض زینت اور شوق کی تکمیل کے لیے کسی جانور کی آزادی کو چھین لینا اور اسے ستانا اور پریشان کرنا درست نہیں ہے۔ چنانچہ فقہ حنفی کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ بلبل کو پنجرے میں بند کر کے کھانا، پانی دینا ناجائز ہے۔ علامہ شامی نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پنجرے میں بند رکھنے کی کراہت کا سبب یہ ہے کہ ایسا کرنے میں جانور کو قید میں رکھنا اور ستانا ہے۔۔۔ اور یہ کہ جانور پر ظلم کرنا غیر مسلم پر ظلم کرنے سے زیادہ شدید ہے کیونکہ اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا ان بے زبان جانوروں کی مدد کرنے والا نہیں ہے اور غیر مسلم پر ظلم کرنا مسلمان پر ظلم کرنے سے زیادہ شدید ہے کیونکہ قیامت کے دن اس کا مطالبہ ہوگا کہ اس کے گناہ اس مسلمان پر ڈال دیے جائیں تاکہ وہ بھی اس کے ساتھ عذاب میں شریک رہے۔(ردالمحتار:576,575/9)
اور علامہ ابن مفلح مقدسی حنبلی نے لکھا ہے کہ گانے اور چہچانے والے پرندوں کو ان کی خوش الحانی کی وجہ سے پنجرے میں رکھنے کو ہمارے اصحاب نے مکروہ قرار دیا ہے اس لیے کہ اس کی کوئی ضرورت اور حاجت نہیں بلکہ فخر، اتراہٹ اور عیاشی کی دلیل ہے اور جانور کو پنجرے میں رکھنا اسے ستانا اور پریشان کرنا ہے۔( الاداب الشرعيه:/525/3)
اور یہ بھی ضروری ہے کہ ان کی غذا اور سردی، گرمی اور بارش سے حفاظت کا مناسب بندوبست کیا جائے.ان کی ضروریات کا خیال نہ رکھنا اور ان کی حق تلفی کرنا اور خوراک مہیا نہ کرنا پڑے عذاب کا سبب ہے ۔حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
” دَخَلَتِ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ ". (بخاري:3318مسلم:2242)
ایک عورت اس لیے جہنم میں داخل ہوگئی کہ اس نے ایک بلی باندھ رکھی تھی، لیکن اسے نہ تو کھانا کھلایا اور نہ ہی اسے کھلا چھوڑ دیا کہ کیڑے مکوڑے کھا کر پیٹ بھر لے۔
نیز کبوتر وغیرہ کو اڑانے کا مشغلہ بنالینا، اور ہر وقت اس کے ساتھ کھیلنا اور مصروف رہنا درست نہیں ہے۔
اللہ کے رسول ﷺ نے ایک شخص کو کبوتر کا پیچھا کرتے ہوئے دیکھ کر فرمایا : شیطان چڑیل کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔(ابوداؤد 675/2، ابن ماجہ /267)
علامہ شوکانی اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
یہ حدیث بتلا رہی ہے کہ کبوتر سے کھیلنا مکروہ ہے ، اور ان کھیلوں میں سے ہے جس کی اجازت نہیں، علماء کی ایک جماعت نے اسے مکروہ کہاہے لیکن اگر حدیث کی صحت تسلیم ہے تو اس کا حرام ہونا ہی زیادہ صحیح ہے، اس سے کھیلنے والے کو شیطان کہنا اس کی واضح دلیل ہے اور کبوتر کو چڑیل اس لیے کہا گیا کہ وہی اس کھیل کے لیے سبب بنتاہے یا اس وجہ سے کہ وہ شیطانوں جیسا کام کرتاہے کیونکہ انسان اس کی متابعت پر فریفتہ اور شیفتہ ہوتاہے اور اس کی خوبصورتی و نغمہ سنجی کی وجہ سے اس سے کھیلتارہتاہے۔(نیل الاوطار 94/8)
شوکانی کی اس تشریح سے معلوم ہوا کہ کبوتر بازی حرام ہے اور بعض علماء کے نزدیک مکروہ ہے ، لیکن حرمت و کراہت کا اختلاف اسی وقت ہے جبکہ جوا نہ ہو اگر اس میں ہار جیت پر معاوضہ مقرر ہو تو بہ اتفاق حرام ہے بلکہ گناہ بالائے گناہ ہے ۔ البتہ صرف پالنے کی غرض سے اور دل بہلانے کے مقصد سے کبوتر رکھنا درست ہے ، بشرطیکہ اس میں ہمہ تن مصروف نہ ہوجائے ۔ مجمع الانہر میں ہے:
جوشخص پرندوں سے کھیلتا ہے، اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی ، اس لیے کہ وہ اس میں مدہوش رہتاہے اور ایک قسم کے ’’لہو‘‘ (کھیل) پر اصرار کرتاہے۔ اگر وہ کبوتر دل بہلانے کے لیے رکھتاہے ، اسے اڑاتا نہیں ہے تو اس کی عدالت ساقط نہیں ہوگی، اس لیے کہ کبوتر گھر میں رکھنا جائز اور مباح ہے۔(مجمع الانھر 198/2کتاب الشہادات)
(1)(قوله : وكذا الطيور ) أي الجوارح درر. (قوله : علمت أولا ) تصريح بما فهم من عبارة محمد في الأصل، وبه صرح في الهداية أيضاً، لكن في البحر عن المبسوط: أنه لا يجوز بيع الكلب العقور الذي لا يقبل التعليم في الصحيح من المذهب، وهكذا نقول في الأسد إن كان يقبل التعليم ويصطاد به: يجوز بيعه وإلا فلا. والفهد والبازي يقبلان التعليم، فيجوز بيعهما على كل حال ا هـ قال في الفتح: فعلى هذا لا يجوز بيع النمر بحال؛ لأنه لشراسته لايقبل التعليم. (رد المحتار 5/227)