بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(26) دوا علاج سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

26-پوسٹ مارٹم:

 

کسی کی موت مشتبہ حالت میں ہوگئی ہو تو پوسٹ مارٹم کے ذریعہ یہ پتہ لگانا جائز ہے کہ موت کا حقیقی سبب کیا ہے؟ اس کی موت خودکشی کی وجہ سے ہوئی ہے یا کسی نے گلا گھونٹ دیا ہے؟ موت کی وجہ زہر خورانی ہے یا طبعی؟ کیونکہ اس طرح قاتل کی تلاش میں مدد ملتی ہے اور کوئی بے قصور انسان ماخوذ نہیں ہوتا ہے، اس لئے کہ بسااوقات شبہ کی بنیاد پر کسی کو پکڑ لیا جاتا ہے پھر پوسٹ مارٹم کے ذریعہ معلوم ہوتاہے کہ موت کی وجہ طبعی ہے۔ چونکہ اس صورت میں میت سے ایک دوسرے کا حق متعلق ہوچکا ہے کہ اگر ایسا نہ کیاجائے تو خطرہ ہے کہ ایک بے قصور شخص پکڑا جائے ، نیز قاتل کی تلاش بھی شرعاً مطلوب ہے ، اس لئے اہانت انسانی کو انگیز کیا جاسکتا ہے۔

اچانک کوئی وبائی مرض پھیل جائے اور بکثرت موت واقع ہونے لگے مگر اس موت کے اسباب معلوم نہ ہوں تو اس مقصد سے پوسٹ مارٹم کرنا بھی جائز ہے تاکہ اس کے سبب کو معلوم کرکے احتیاطی تدبیر اپنائی جاسکے اور مرض پر قابو پایا جاسکے، کیونکہ فقہی اصول ہے کہ عمومی مصالح کی بناپر انفرادی نقصان کو گوارا کیاجاتا ہے اور اس مقصد سے اہانت انسانیت کے پہلو کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے، دبستان فقہ حنبلی کے ترجمان علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں کہ اگرکوئی انسان کنویں میں گرکر مرجائے اور پانی کی ضرورت ہو تو لوہے کے کانٹے سے اسے نکالنا جائز ہے ، گرچہ لاش پھٹ جائے ، اس کی وجہ سے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’اس لئے کہ زندہ کی حرمت اور اس کے نفس کی حفاظت، میت کو مثلہ ہونے سے بچانے کے مقابلہ میں بڑھ کر ہے ، کیونکہ پوری دنیا کا ختم ہوجانا اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل سے کمتر ہے، نیز کوئی مسلمان دوسرے کے مال کو نگل لے(اور اسی حالت میں انتقال کرجائے) تو زندہ کے مال کی حفاظت کے مقصد سے اس کے پیٹ کو چاک کردیا جائے گا تو جان کی حفاظت مال کی حفاظت سے زیادہ اہم ہے(1)۔‘‘(المغنی مع الشرح الکبیر 407/2)

 

(1)امْرَأَةٌ حَامِلٌ مَاتَتْ وَاضْطَرَبَ فِي بَطْنِهَا شَيْءٌ وَكَانَ رَأْيُهُمْ أَنَّهُ وَلَدٌ حَيٌّ شُقَّ بَطْنُهَا ، فَرْقٌ بَيْنَ هَذَا وَبَيْنَ مَا إذَا ابْتَلَعَ الرَّجُلُ دُرَّةً فَمَاتَ وَلَمْ يَدَعْ مَالًا عَلَيْهِ الْقِيمَةُ وَلَا يُشَقُّ بَطْنُهُ لِأَنَّ فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُولَى إبْطَالَ حُرْمَةِ الْمَيِّتِ لِصِيَانَةِ حُرْمَةِ الْحَيِّ فَيَجُوزُ .أَمَّا فِي الْمَسْأَلَةِ الثَّانِيَةِ إبْطَالُ حُرْمَةِ الْأَعْلَى وَهُوَ الْآدَمِيُّ لِصِيَانَةِ حُرْمَةِ الْأَدْنَى وَهُوَ الْمَالُ ، وَلَا كَذَلِكَ فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُولَى انْتَهَى.(فتح القدير 3 / 431)

حَامِلٌ مَاتَتْ فَاضْطَرَبَ الْوَلَدُ فِي بَطْنِهَا فَإِنْ كَانَ أَكْبَرُ رَأْيِهِ أَنَّهُ حَيٌّ يَشُقُّ بَطْنَهَا؛ لِأَنَّ ذَلِكَ تَسَبُّبٌ فِي إحْيَاءِ نَفْسٍ مُحْتَرَمَةٍ بِتَرْكِ تَعْظِيمِ الْمَيِّتِ فَالْإِحْيَاءُ أَوْلَى وَيَشُقُّ بَطْنَهَا مِنْ الْجَانِبِ الْأَيْ……. وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَجُلٌ ابْتَلَعَ دُرَّةً أَوْ دَنَانِيرَ لِآخَرَ فَمَاتَ الْمُبْتَلِعُ وَلَمْ يَتْرُكْ مَالًا فَعَلَيْهِ الْقِيمَةُ وَلَا يَشُقُّ بَطْنَهُ؛ لِأَنَّهُ لَا يَجُوزُ إبْطَالُ حُرْمَةِ الْمَيِّتِ لِأَجْلِ الْأَمْوَالِ.(البحر الرائق8 / 233)

( حامل ماتت وولدها حي ) يضطرب ( شق بطنها ) من الأيسر ( ويخرج ولدها )…… ولو بلع مال غيره ومات هل يشق قولان والأولى نعم. فتح.(الدر المختار2 / 238)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے