نفاق کی غذا: گانا بجانا
ولی اللہ مجید قاسمی ۔
چرچ کی تمام کوششیں ناکام ہوتی جارہی ہیں، مسلمانوں کو کرسچن بنانے کے لیے کلیسا نے اپنی پوری طاقت جھونک دی لیکن نتیجہ امید کے برخلاف، عیسائیت کے رنگ میں رنگنے کے لیے تمام وسائل و ذرائع استعمال کئے جارہے ہیں، لیکن کامیابی کے آثار نظر نہیں آتے ، 2006ء میں قاہرہ میں اس پر غور و فکر کرنے کے لیے کانفرنس منعقد کی گئی، پوری دنیا سے عیسائیت کے پیشوا اکھٹے ہوئے ، بحث و مباحثہ کے دوران کا نفرنس کے صدر زویمر نے کہا کہ اس کے لیے سب سے اہم ذریعہ مسلمانوں کے درمیان موسیقی کو فروغ دینا ہے، تمام پادریوں نے اس رائے کو سراہا کہ اس کے ذریعہ سے بہتر اور نتیجہ خیز طریقے پر مسلمانوں کے درمیان عیسائیت کی تبلیغ ہو سکتی ہے۔ (1) اس رنگ میں رنگنے کے بعد بھی اگر وہ مسلمان رہے تو صرف نام کے مسلمان ہوں گے، فکر اور سوچ کے اعتبار سے وہ مکمل طور پر نصرانی ہوں گے۔
یہودی علماء مفکروں اور دانشوروں نے پوری دنیا پر بالواسطہ یہودی حکومت قائم کرنے کے لیے پلاننگ کی، اس کے لیے باقاعدہ تجاویز اور قرارداد مرتب کئے ، جس میں کہا گیا کہ لوگوں کے ذہنوں کو ماؤف کرنے کے لیے اور انھیں غفلت اور مدہوشی کی نیند سلانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے درمیان اسپورٹ” اور "آرٹ” کے نام سے ایسی چیزیں رائج کی جائیں جو انھیں حقیقی مسائل سے غافل کر دیں جس کے نتیجے میں وہ ہمارے حقیقی مقاصد سے نا آشنا ہوں گے، اور ہر چیز میں ہماری ہمنوائی کریں گے۔ (2)
اسلام کی روز افزوں ترقی، پھیلاؤ، وسعت اور ہمہ گیری کو روکنے کے لیے مکہ کے مشرکوں نے متعدد حربے اور طریقے اپنائے ، قصے اور کہانیوں کی کتا بیں تلاش کر لائے تاکہ اس میں مشغول ہو کر لوگ قرآن سننے سے محروم ہو جائیں، گانے اور ناچنے والی باندی خرید لائے تا کہ اس میں مست ہوکر قرآن سے اثر پذیری کو بھول جائیں ایسے ہی لوگوں کی حکایت اس آیت میں بیان کی گئی ہے:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشۡتَرِیۡ لَہۡوَ الۡحَدِیۡثِ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ٭ۖ وَّ یَتَّخِذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ۔ وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِ اٰیٰتُنَا وَلّٰی مُسۡتَکۡبِرًا کَاَنۡ لَّمۡ یَسۡمَعۡہَا کَاَنَّ فِیۡۤ اُذُنَیۡہِ وَقۡرًا ۚ فَبَشِّرۡہُ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ۔
اور کچھ لوگ وہ ہیں جو اللہ سے غافل کرنے والی باتیں خرید لاتے ہیں۔ تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کو بے سمجھے بوجھے اللہ کے راستے سے بھٹکائیں، اور اس کا مذاق اڑائیں۔ ان لوگوں کو وہ عذاب ہوگا جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔اور جب ایسے شخص کے سامنے ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ پورے تکبر کے ساتھ منہ موڑ لیتا ہے، جیسے انہیں سنا ہی نہیں، گویا اس کے دونوں کانوں میں بہرا پن ہے۔ لہذا اس کو ایک دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو ۔ (سورہ لقمٰن : 6-7)
صحابہ کرام اور تابعین عظام کا اتفاق ہے کہ اس آیت میں "لھوالحدیث” سے مراد گانا ہے (3) اور واقعہ ہے کہ دیگر لغویات اور خرافات کی بہ نسبت گانا بجانا حق سے روکنے اور قرآن سننے اور سمجھنے سے باز رکھنے، اور گمراہی کی طرف لے جانے میں زیادہ کردار ادا کرتا ہے، گانے اور موسیقی کا عادی کبھی سنجیدہ نہیں ہوتا ، ہر بات کو وہ ہنسی ،مذاق سمجھتا ہے، سنجیدہ اور حق بات اس کے پلے نہیں پڑتی ہے، وہ حیرت اور شکوک و شبہات کا شکار ہوتا ہے سورہ نجم کی اس آیت میں اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے:
افمن هذا الحدث تعجبون۔ وتضحكون ولا تبكون۔ وانتم سامدون۔ فاسجدوا الله واعبدوا سوکیا (ایسی خوف کی باتیں سن کر بھی ) تم لوگ اس کلام الہی سے تعجب کرتے ہو، اور ہنستے ہو۔ ( خوف عذاب سے ) روتے نہیں ہو۔ اور گانا گاتے ہو(4) . سو اللہ کے لیے سجدہ کرد اور ( بلا شرکت غیرے ) اس کی عبادت کرو.(سورہ النجم: 59-62)
سوچنے کی بات ہے کہ مشرکین اور یہود و نصاری سب کے ذہن میں ایک ہی تدبیر آتی ہے۔ زمانہ اور عقائد کے اختلاف کے باوجود تینوں ایک ہی حربہ اپناتے ہیں، لوگوں راہ حق سے روکنے ،قرآن سے غافل رکھنے، خواہشات کا غلام بنانے، انھیں اپنے رنگ میں رنگنے، اپنا زیر نگیں اور فرمانبردار بنانے کے لیے ہر ایک موسیقی اور گانے کو سب سے موثر ہتھیار سمجھتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ یہ انسانیت کے سب سے بڑے دشمن کا آزمایا ہوا نسخہ ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے جب شیطان راندہ درگاہ ہوا تو اس نے بار گاہ حق میں التجا کی:
قَالَ اَرَءَیۡتَکَ ہٰذَا الَّذِیۡ کَرَّمۡتَ عَلَیَّ ۫ لَئِنۡ اَخَّرۡتَنِ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَاَحۡتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہٗۤ اِلَّا قَلِیۡلًا ۔قَالَ اذۡہَبۡ فَمَنۡ تَبِعَکَ مِنۡہُمۡ فَاِنَّ جَہَنَّمَ جَزَآؤُکُمۡ جَزَآءً مَّوۡفُوۡرًا ۔وَ اسۡتَفۡزِزۡ مَنِ اسۡتَطَعۡتَ مِنۡہُمۡ بِصَوۡتِکَ وَ اَجۡلِبۡ عَلَیۡہِمۡ بِخَیۡلِکَ وَ رَجِلِکَ وَ شَارِکۡہُمۡ فِی الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَوۡلَادِ وَ عِدۡہُمۡ ؕ وَ مَا یَعِدُہُمُ الشَّیۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا۔اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنٌ ؕ وَ کَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیۡلًا ۔
شیطان نے کہا: بھلا بتاؤ یہ ہے وہ مخلوق جسے تو نے میرے مقابلے میں عزت بخشی ہے۔ اگر تو نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت دی تو میں اس کی اولاد میں سے تھوڑے سے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب کو جبڑوں میں لگام ڈالوں گا۔(یعنی انہیں اس طرح اپنے قابو میں کرلوں گا جیسے گھوڑے وغیرہ کو جبڑوں میں لگام دے کر قابو میں کیا جاتا ہے) اللہ نے کہا : جا پھر ان میں سے جو تیرے پیچھے چلے گا تو جہنم ہی تم سب کی سزا ہوگی، مکمل اور بھرپور سزا۔اور ان میں سے جس جس پر تیرا بس چلے۔ انہیں اپنی آواز سے بہکا لے۔ اور ان پر اپنے سواروں اور پیادوں کی فوج چڑھا لا ۔ اور ان کے مال اور اولاد میں اپنا حصہ لگا لے۔ اور ان سے خوب وعدے کرلے۔ اور (حقیقت یہ ہے کہ) شیطان ان سے جو وعدہ بھی کرتا ہے وہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔یقین رکھ کہ جو میرے بندے ہیں، ان پر تیرا کوئی بس نہیں چلے گا۔ اور تیرا پروردگار (ان کی) رکھوالی کے لیے کافی ہے۔( سورہ الاسراء : 62-65)
شیطان کی آواز کیا ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے صحابی رسول حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ گناہ کی دعوت دینے والی ہر بات آواز شیطانی ہے، اور ظاہر ہے کہ گانے سے بڑھ کر معصیت پر ابھارنے والی کونسی چیز ہو سکتی ہے۔ (5) اس لیے بعض تابعین عظام سے منقول ہے کہ آواز شیطانی سے مراد گانا ، موسیقی اور بانسری ہے۔ (6)
لچھے دار تقریر، پر فریب لکچر، جاذب نظر کتاب اور مؤثر اسلوب تحریر،یہ سب راہ حق سے بھٹکانے میں اس درجہ مؤثر نہیں ہوتے جتنا کہ گانا اور موسیقی ۔ الفاظ کی سیٹنگ، آواز اور موسیقی کا جادو سو چنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو ختم کر دیتا ہے۔ بسا اوقات ایسے گانے کے سننے میں بلکہ بار بار دہرانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی ہے جو بے ہودہ الفاظ ، نا شائستہ خیالات ، تہذیب واخلاق سے عاری افکار پر مشتمل ہوتا ہے بلکہ فحاشی اور کفر و شرک پر ابھارتا ہے، آہستہ آہستہ یہ چیزیں دل و دماغ میں پیوست ہو جاتی ہیں اور عقائد و مسلمات میں شمار ہونے لگتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ذہن و دماغ کو ماؤف کرنے، حقیقت سے آنکھ بند کر لینے، ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرنے، فحاشی پر ابھارنے ، بے حیائی کی طرف مائل کرنے اور سفلی جذبات کو برانگیختہ کرنے میں گانا اور موسیقی شراب کی طرح ہے، دونوں کی لت میں پڑ کر انسان، دین و ایمان اور تہذیب و اخلاق سے عاری اور لذت چشی و عیاشی کا عادی ہو جاتا ہے، اگر شراب ام الخبائث تو گانا اور موسیقی "ام الفواحش” ہے، اس لیے جس نے بھی کہا ہے سچ کہا ہے کہ گانا بد کاری کا منتر ہے۔ (7) اور یہی وجہ ہے کہ گانے کی شناعت کو زنا اور شراب کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت ابو مالک اشعری سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
*ليكونن من امتى يستحلون الحر والحرير والخمر والمعازف (8)
میری امت کے کچھ لوگ زنا ، ریشم ، شراب اور موسیقی کو حلال کرنے کی کوشش کریں گے۔
*يشربن ناس من امتى الخمر يسمونها بغير اسمها يعزف على رؤسهم المعازف والمغنيات يخسف الله بهم الأرض ويجعل منهم القردۃ و الخنازير (9)
میری است کے کچھ لوگ شراب کا نام بدل کر اسے استعمال کریں گے۔ ان کے پاس موسیقی بجائی جائے گی، اور گانے والی عورتیں ہوں گی، اللہ انھیں زمین میں دھنسا دے گا۔ اور کچھ کو بندر اور خنزیر بنا دے گا۔”
کیا آج وہ دور نہیں ہے جہاں بدکاری کو باہمی رضا مندی کا سودا، شراب کو روحانی مشروب اور ناچ، گانے کو آرٹ اور ثقافت قرار دے کر رائج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اور حضرت عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا –
ان الله حرم الخمر والميسر والكوبة وكل مسكر حرام (10)
اللہ تعالی نے شراب، جوا اور طبلہ کو حرام قرار دیا ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔”
ایک دوسری حدیث میں گانے کو فجور اور بے وقوفی کی آواز کہا گیا ہے، چنانچہ حضرت عبد الرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اني لم انه عن البكاء انما نهيت عن صوتين فاجرين احمقين صوت عند نعمة لهو ولعب ومزامير الشيطان وصوت عند مصيبة خمش وجوه وشق جيوب و رنة (11)
میں نے رونے سے منع نہیں کیا ہے، بلکہ میں نے فجور اور حماقت پر مبنى دو طرح کی آواز سے روکا ہے، ایک خوشی کے وقت لہو و لعب اور شیطان کی بانسری کی آواز سے اور دوسرے مصیبت کے وقت چہرہ نوچنے، گریبان چاک کرنے اور کیں کیں کرنے سے”۔
اور حضرت عمران بن حصین سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يكون في امتى قذف ومسخ وخسف فقال رجل من المسلمين متى ذلك يا رسول الله قال اذا اظهرت القيان والمعازف وشربت الخمور . (12)
میری امت کے کچھ لوگوں کو آسمان سے پتھروں سے مارا جائے گا ، ان کی شکل بگاڑ دی جائے گی اور انھیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا، ایک صحابی نے عرض کیا، اللہ کے رسول ! ایسا کب ہو گا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کثرت سے گانے والیاں ہوں گی اور موسیقی ہو گی اور شراب پی جائے گی۔
گناہ کی وجہ سے انسان کی فطرت بدلتی جاتی ہے، اور وہ اس گناہ جیسی خصلت رکھنے والے جانور کی مشابہت اختیار کرتا جاتا ہے، جیسے کہ حرص اور لالچ میں مبتلا انسان کتنے کی مشابہت اختیار کر لیتا ہے، ابتدائی طور پر یہ مشابہت ہلکی ہوتی ہے، اور صرف باطن متاثر ہوتا ہے لیکن آہستہ آہستہ اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور چہرے کے خدو خال پر اس کے آثار نظر آتے ہیں اور ایک دن ایسا بھی آتا ہے کہ وہ مکمل طور پر اس جانور کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو ایمانی فراست سے نوازا ہے وہ دیکھتے ہیں کہ انسانوں کی اس بھیڑ میں انسان کم اور بھیڑیے، کتے ، بندر اور خنزیر زیادہ ہیں (13) اور کبھی کبھار عبرت کے لیے اس کی صورت اس درجہ مسخ کر دی جاتی ہے کہ تمام لوگ اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر سے منقول ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کسی چرواہے کو بانسری بجاتے ہوئے سنا تو اپنے کان میں انگلی ڈال لی، اور راستہ بدل دیا۔ (14) ایک حدیث میں آپ نے فرمایا کہ گنھٹی شیطان کی بانسری ہے، نیز یہ کہ فرشتے ایسے قافلے کے ساتھ نہیں ہوتے جس میں کتا یا گھنٹی ہو۔ (15)
چرواہے کی معمولی بانسری کے سلسلہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طرز عمل اور جانور کے گلے میں لٹکی ہوئی گھنٹی کے سلسلہ میں آپ کا یہ ارشاد، جس میں موسیقی کا دسواں حصہ بھی نہیں ہوتا ہے، تو پھر موسیقی کے ایسے آلات کے بارے میں کیا حکم ہوگا جس کے تھاپ پر انسان تھرکنے لگتا ہے اور جسم کا رواں رواں مدہوشی میں ڈوب جاتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ گانے کی وجہ سے دل میں نفاق ایسے ہی پیدا ہوتا ہے جیسے کہ پانی کی وجہ سے کھیتی اگ آتی ہے (16) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو بظاہر مسلمان تھے لیکن ان کا دل ایمان سے خالی تھا۔ ایسے لوگوں کو کو منافق کہا گیا ، عقیدے میں فساد کی وجہ سے عملی طور پر کجی کا پایا جانا ضروری ہے، چنانچہ یہ لوگ نماز میں سستی کیا کرتے تھے، کثرت سے جھوٹ بولا کرتے، وعدہ وعہد کا پاس و لحاظ نہیں کرتے ، ذرا سا اختلاف ہو جائے تو گالم گلوچ پر اتر آتے ، امانت میں خیانت کرتے وغیرہ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی اس روایت میں کہا گیا ہے کہ گانا ایک ایسا گناہ ہے کہ اس کے ذریعہ ظاہری اور باطنی طور پر منافق کی خصلت پیدا ہوتی ہے، عقیدہ اور عمل میں انحراف پایا جاتا ہے، کیا اس سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ گانے کا عادی شخص نماز کا پابند نہیں ہوتا ہے، وہ قرآن کی حلاوت سے محروم ہو جاتا ہے، اپنا وقار کھو دیتا ہے، جھوٹ اور لایعنی چیزوں کا خوگر ہوتا ہے، خواہش نفس اور شیطان کا غلام ہوتا ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے بچے کے مربی اور اتالیق کے پاس خط لکھا کہ سب سے پہلے ان کے دلوں میں گانے بجانے اور لہو لعب کی نفرت اور بغض پیدا کرو، اس لیے کہ اس کی ابتداء شیطان کی طرف سے ہوتی ، اور انجام وانتہا رحمان کی ناراضگی پر ہوتی ہے۔ ثقہ اور قابل اعتماد اہل علم کی طرف سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ موسیقی اور گانے سے دل میں نفاق اسی طرح سے پیدا ہوتا ہے جیسے کہ پانی کے ذریعہ سبزہ (17) قاسم بن محمد نے فرمایا کہ گانا باطل عمل ہے اور ظاہر ہے کہ باطل کا ٹھکانا جہنم ہے (18) فقہ حنفی کی کتابوں میں لکھا ہے ساز وغیرہ سننا معصیت ہے، اس کے لیے بیٹھنا فسق ہے اور اس سے لذت حاصل کرنا کفر ہے (19) امام مالک نے فرمایا کہ یہ فاسقوں کا کام ہے۔ (20) امام شافعی نے فرمایا کہ گانے والے کی گواہی قبول نہیں ہوگی ، گانا دیوثی کا عمل ہے، (21) امام احمد نے موسیقی کے بعض آلات کے سلسلہ میں فرمایا کہ وہ حرام ہے ۔ (22) امام عمرو بن صلاح کہتے ہیں کہ جس گانے کے ساتھ آلات موسیقی ہوں اس کے حرام ہونے پر علمائے امت کا اتفاق ہے۔ (23)
حواشی:
(1) الغارة على العالم الاسلامي/ 20
(2) بروتوكولات حكماء صهيون/ 167
(3) قال عبد الله بن مسعود لما سئل عن لهو الحديث الغناء والذي لا اله الا هو يردها ثلثا رواه ابن شبیبه 309/6 و ابن جرير 61/11 و حاكم 411/6 وصححه و وافقه الذهبي. وقال عبدالله بن عباس هو الغناء واشباهه رواه ابن ابی شبیه 309/6 و البخارى فى الادب المفرد 257/1 هكذا قال عبدالله بن عمر و جابر بن عبد الله دیکھے تفسیر القرطبی 52/14 و ابن جرير 62/11 وهذا هو المروى عن مجاهد بن جبر وعكرمة ومكحول وابراهيم النخعي والحسن البصري وسعيد بن جبير وقتادة بن دعامة وميمون بن مهران و حبيب بن ابی ثابت و عمر بن شعيب وعبدالملک بن جريج وسعيد ابن المسيب، دیکھے مصنف ابن ابی شیبه 309/6 الدر المنثور 505/6 تلبيس ابليس /231، تفسير القرطى 52/14 تفسير ابن كثير 334/6 البحر المحيط 183/7 كف الرعاع 280/2 اغاثة اللهفان/ 308 ، فهو أربعة من كبار فقهاء الصحابة وثلثة عشر تابعياً قد نصوا على ان لهو الحديث في هذه الآية الغناء ولا يعلم لهم مخالف فكان الصحابة والتابعين قد اجمعوا على تفسيره بالغناء فكان قولهم حجة يجب المصير اليه قال الحاكم ليعلم طالب العلم ان تفسير الصحابة الذي شهد الوحي والتنزيل عند الشيخين حديث مسند المستدرك 258/2 وقول التابعين ايضاً حجة إذا اجتمعوا على تفسير آية مقدمة اصول التفسير لابن تيميه 105,95ولا تعارض بين تفسير لهو الحديث بالغناء وتفسيره باخبار الاعاجم وملوكها فكلاهما لهو الحديث ولهذا قال ابن عباس لهو الحديث الباطل والغناء فمن الصحابة من ذكر هذا ومنهم من ذكر الآخر ومنهم من جمعهما: (اغاثة الله فان/310 بحذف.)
(4) ابن عباس نے ” سامدون” کی تفسیر گانے سے کی ہے، مجاہد ، عکرمہ اور ضحاک وغیرہ سے بھی آیت کی یہی تفسیر منقول ہے۔ دیکھئے تلبيس ابليس /231 تفسير قرطبي 82/13 الدر المنثور 666/7 وهذا الا يناقض ما قيل في هذه الآية من ان السمود الغفلة والسهو عن الشي والتكبر لان الغنا يجمع هذا كله ويوجبه. (الاغاثة/ 331 بحذف)
(5) قال ابن القيم ومن المعلوم ان الغناء من اعظم الدواعى الى المعصية لهذا فسر صوت الشيطان به (الاغاثة/328)
قال مجاهد صوت ابليس هو الغناء والمزامير واللهو والباطل وقال الضحاك هو صوت المزمار (انظر الدر المنثور وتفسير القرطبي 288/10 والبحر المحيط 58/6)
(6) قال فضيل ابن عياض الغناء رقية الزنا (الاغاثة/ 315 )وقال ابن مسعود الغناء خطبة الزنا (نزهة/ 66)
(7) رواه البخاري في صحيحه وابو داود وابو بكر الاسماعيلي (اغاثة اللهفان /333)
(8) رواه ابن ماجة وقال ابن القيم اسناده صحیح (الاغاثة /333)
(9) اخرجه ابوداؤد و ابو یعلی و ابن حیان واحمد في مسنده و قال احمد شاکر اسناده صحیح (حاشيه الاغاثة/ 335 نيز تحريم آلات الطرب /56)
(10) رواه ابن سعد 138/1 والبزار 380/1 البغوى 431/1 و حسنه نیز دیکھئے تحریم آلات الطرب /52
(11) رواه الترمذی وغیرہ، اس طرح کی روایت متعدد صحابہ کرام سے منقول ہے اور مجموعی طور پر پی روایت "حسن”کے درجہ سے فروتر نہیں ہے۔ (دیکھئے تحریم آلات الطرب /63)
عن انس بن مالك قال رسول الله صلى الله عليه وسلم صوتان ملعونان في الدنيا والآخرة مزمار عند نعمة ورنة عند مصيبة. اخرجه البزار قال الالبانی اسناده حسن بل هو صحيح لغيره (تحریم الات الطرب/ 52)
(12) دیکھئے اغاثة اللهفان/ 343
(13) نافع مولی ابن عمر ان ابن عمر سمع صوت زمارة راع فوضع اصبعيه في اذنيه وعدل راحلته عن الطريق وهو يقول يا نافع اتسمع فاقول نعم فيمضى حتى قلت لا فوضع يديه واعاد راحلته الى الطريق وقال رايت رسول الله وسمع صوت زمارة راع فصنع مثل هذا رواه احمد وقال احمد شاکر اسناده صحيح رقم الحديث: 4535، و ابو داؤد وقال العظيم آبادی اسناده قوی: عون المعبود 267/13، وفي الحديث دليل على ان المشروع لمن سمع الزمارة و لم يستطع ان ينكر على صاحبها لسطوته او بعده ان يسد اذنيه وانما لم يامر ابن عمر نافعا بسد اذنيه لانه كان اذ ذاك صغيرا دون التكليف عون (267/13)
(14) رواه مسلم عن ابي هريرة 94/14
(15) وهو صحيح عن ابن مسعود من قوله وقد روى عنه مرفوعا وهو ضعيف الاغاثة /319 لكنه في حكم المرفوع اذ مثله لا يقال من قبل الراى كما قال الألوسى فى روح المعانى 68/11 .(تحريم آلات الطرب /148)
(16) الاغاثة/295
(17) کیف ترى فى الفناء قال القاسم هو باطل فقال عبدالله السائل قد عرفت انه باطل فكيف ترى فيه فقال القاسم ارايت الباطل اين هو ؟ قال في النار قال هو ذلك (اغاثة اللهفان/313) (18) الفتاوى البزازية بها مش الهندية 359/6، رواه في ذلك حديثا لا يصح رفعه
(19) الاغاثة/ 295
(20) انما يفعله عندنا الفساق، رواه الخلال /165
(21) السنن الكبرى للبيهقي 223/10
(22) تلبیس ابلیس/ 245
(23) الاغاثة /297