بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(6)
مزاح و تفریح سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
6-پکنک منانا :
سیر وتفریح کی مذکورہ شرطوں کا لحاظ رکھتے ہوئے اہل وعیال یا طلبہ کے ساتھ پکنک منانے کے لئے کہیں جانے کی اجازت ہے اور وہاں جاکر کھیل کود کرنا یا مختلف قسم کے پکوان تیار کرنا اور مل جل کر کھانا جائز ہے ۔چنانچہ قرآن کریم میں ہے :
اَرۡسِلۡہُ مَعَنَا غَدًا یَّرۡتَعۡ وَ یَلۡعَبۡ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ۔
کل آپ اسے ہمارے ساتھ (تفریح کے لیے) بھیج دیجیے، تاکہ وہ کھائے پیے، اور کچھ کھیل کود لے۔ اور یقین رکھیے کہ ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے۔ (سورہ یوسف: 12)
اور حضرت عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں حبشیوں کا کھیل تماشا دکھایا اور اس موقع پر فرمایا:
” لِتَعْلَمَ يَهُودُ أَنَّ فِي دِينِنَا فُسْحَةً ؛ إِنِّي أُرْسِلْتُ بِحَنِيفِيَّةٍ سَمْحَةٍ ".
تاکہ یہودیوں کو معلوم ہوجائے کہ ہمارے دین میں کشادگی ہے ۔مجھے آسان اور سیدھی راہ والے دین کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ (مسند احمد:25962)
یعنی اسلام ایک دین فطرت ہے ،یہاں قدم قدم پر انسانی خصلت کی رعایت ہے، کسی خشک ،تنگ اور پیچیدہ نظام کا نام اسلام نہیں ہے کہ اس میں تفریح طبع کی کوئی گنجائش نہ ہو۔
حضرت عائشہ صدیقہ سے منقول ایک دوسری روایت میں ہے :
أنها كانت مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر قالت: فسابقته فسبقته على رجلي، فلما حملت اللحم سابقته فسبقني فقال: «هذه بتلك السبقة»”.
وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھیں ،آنحضور ﷺ نے ان کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کیا جس میں وہ آگے رہیں لیکن جب میں فربہ ہوگئی اور دوبارہ مقابلہ ہوا تو آنحضرت ﷺ جیت گئے اور فرمایا یہ پہلی سبقت کا بدلہ ہے ۔(ابوداؤد: 2578)
اور دار العلوم دیوبند کا فتوا ہے :
سوال:اکثر شادی کے بعد دولہا دلہن ہنی مون کے نام پر گھومنے کے لئے جاتے ہیں اور ہزاروں روپئے سیر و تفریح میں خرچ کرتے ہیں۔ اور بہت سے والدین اپنے بچوں کے سالانہ چھٹیوں میں بھی گھومنے کے لئے نکلتے ہیں، اس کے علاوہ سکول ،کالج اور آج کل دینی مدارس میں بھی پکنک کے نام پر سال میں ایک مرتبہ بچوں کو سیر و تفریح کے لئے لےجایا جاتا ہے ۔ کیا شریعت پکنک اور ہنی مون کے نام پر گھومنے پھرنے اور سیر و تفریح کی اجازت دیتی ہے ؟ کیا اس طرح گھومنے پھرنے میں پیسا خرچ کرنا جائز ہے ؟
جواب
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa:1103-1139/L=10/1439
شادی کے بعد بیوی کو دور دراز مقامات پر لے جانا، ہوٹلوں میں قیام کرانا، تفریحی مقامات کی سیر کرانا وغیرہ یہ یہود ونصاری وغیرہ کا طریقہ ہے، مسلمانوں کو اس سے بچنا ضروری ہے، اس کے علاوہ اگر بچوں یا طلبہ کو سمندر یا تاریخی مقامات وغیرہ کی سیر کرادی جائے بشرطیکہ وہ جگہ منکرات و فواحش کا اڈہ نہ ہو تو اس کی گنجائش ہوگی اور چونکہ یہ تشحیذ اذہان کا ایک ذریعہ ہے؛ اس لیے علی الاطلاق اس میں رقم خرچ کرنا فضول خرچی میں شامل نہ ہوگا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند.
البتہ اگر خواتین ساتھ میں ہوں تو ضروری ہے کہ وہ پردہ کی پوری پابندی کریں ،نامحرم مردوں کے ساتھ اختلاط نہ ہو ،ایسی جگہ نہ جائیں جہاں کسی فتنے کا اندیشہ ہو؛ کیونکہ عورت کا اصل دائر کار گھر ہے اور اسی میں اس کی عصمت و عفت کی حفاظت ہے ۔ارشاد باری ہے :
وَ قَرۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ وَ لَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاہِلِیَّۃِ الۡاُوۡلٰی.
اور اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ رہو اور (غیر مردوں کو) بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، جیسا کہ پہلی بار جاہلیت میں دکھایا جاتا تھا (۔ سورہ الاحزاب : 33)
تفسیر:
اس آیت نے یہ واضح فرمادیا ہے کہ عورت کا اصل مقام اس کا گھر ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کے لئے گھر سے نکلنا جائز نہیں، کیونکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث نے واضح فرمادیا ہے کہ حاجت کے وقت عورت پردے کے ساتھ باہر جاسکتی ہے، لیکن اس فقرے نے یہ عظیم اصول بیان فرمایا ہے کہ عورت کا اصل فریضہ گھر اور خاندان کی تعمیر ہے اور ایسی سرگرمیاں جو اس مقصد میں خلل انداز ہوں، اس کے اصل مقصد زندگی کے خلاف ہیں، اور ان سے معاشرے کا توازن بگڑجاتا ہے۔ پہلی جاہلیت سے مراد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے کا زمانہ ہے جس میں عورتیں بےحیائی کے ساتھ بناؤ سنگھار غیر مردوں کو دکھاتی پھرتی تھیں، اور پہلی جاہلیت کے لفظ سے اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ایک جاہلیت آخر میں بھی آنے والی ہے، اور کم از کم اس بےحیائی کے معاملے میں یہ جاہلیت ہماری آنکھوں کے سامنے اس طرح آچکی کہ اس نے پہلی جاہلیت کو مات کردیا ہے۔ (آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)
اور حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
” الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ، فَإِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ ".
عورت چھپانے کی چیز ہے جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی تاک میں لگ جاتا ہے ۔
(ترمذي: 1173)
تاہم جس طرح سے مرد کے لئے جسمانی صحت اور ذہنی سکون کے لئے تفریحی سفر کی اجازت ہے اسی طرح سے عورت کے لئے بھی گنجائش ہے کہ وہ کبھی کبھار گھر والوں کے ساتھ تفریحی سفر کرے لیکن ذہن نشیں رہے کہ انسانی ضرورت کی بنیاد پر تفریح طبع کی اجازت دی گئی ہے لہذا اس کو ضرورت کے دائرے میں رکھنا ضروری ہے اور بلاوجہ بار بار اس طرح کا سفر مناسب نہیں ۔