بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(22) دوا علاج سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
23- کورنیا کی منتقلی:
آنکھ کا سب سے اوپر اور سامنے والا ، شیشے کی طرح صاف و شفاف ،گنبد نما حصہ کورنیا(Cornea) کہلاتا ہے جو رنگین حصہ (iris) اور پُتلی (pupil) کے اوپر ایک شفاف تہہ کی طرح لگا ہوا ہے ۔ یہ آنکھ کی کھڑکی کی طرح ہے جس سے روشنی آنکھ کے اندر داخل ہو کر بینائی پیدا کرتی ہے۔
کورنیا انسانی جسم کا واحد حصہ ہے جس میں خون کی کوئی نس نہیں ہوتی، اور یہی خاصیت اسے بالکل شفاف رکھتی ہے اور یہ شفافیت ناگزیر ہے، کیونکہ خون کی موجودگی میں روشنی آنکھ کے اندر نہیں پہونچ پاتی۔ خون کی گردش کی جگہ وہ براہ راست ہوا سے آکسیجن جذب کرتا ہے، اور آنسوؤں اور آنکھ کے اگلے حصے میں موجود ایک خاص مائع (Aqueous Humor) سے غذاء اجزاء حاصل کرتا ہے۔
کورنیا کی منتقلی، جسے کیراٹوپلاسٹی بھی (Corneal Transplant / Keratoplasty) کہتے ہیں، ایک سرجری ہے جس میں خراب یا دھندلا کورنیا نکال کر اس کی جگہ کسی فوت شدہ انسان کا مکمل کورنیا یا اس کا ایک حصہ لگایا جاتا ہے، تاکہ بینائی بحال یا بہتر ہو سکے۔
مردہ شخص کا کورنیا اس کے وارثوں کی اجازت یا مرنے والے کی وصیت کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے اور اسے نکالنے کے بعد
آرٹیفیشل کورنیا لگا دیا جاتا ہے ،جس کی وجہ سے بد نما معلوم نہیں ہوتا ۔
یہ بات گزر چکی ہے کہ انسان اپنے جسم یا اس کے کسی حصے کا مالک نہیں ہے نہ ہی وہ کوئی مال ہے بلکہ اس کے پاس ایک امانت ہے جس سے شرعی حدود میں رہ کر استعمال کرنے اور فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے لھذا نہ وہ اسے کسی کو ہبہ کرسکتا ہے اور نہ اس کی وصیت کرسکتا ہے کہ دونوں کے صحیح ہونے کے لئے مال اور اس کا مالک ہونا ضروری ہے
اس لئے کورنیا کی منتقلی جائز نہیں ہے۔
حدیث گزرچکی ہے کہ ایک صحابی نے مرض سے پریشان ہوکر اپنے ہاتھ کو کاٹ دیا جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوگئی مگر ہجرت کی برکت سے خودکشی کے باوجود ان کی مغفرت کردی گئی البتہ یہ کہا گیا کہ جس ہاتھ کو تم نے خراب کیا ہے ہم اسے ٹھیک نہیں کریں گے ۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے جسم کے جس حصے کو انسان کسی عذر کے بغیر خود کاٹ دے یا اس کے کاٹنے کی وصیت کردی ہو تو وہ مرنے کے بعد اسی طرح رہتا ہے اور اس کی جگہ دوسرا عضو عطا نہیں کیا جائے گا لہذا جسے مرنے کے بعد زندہ ہونے کا یقین ہو اس کے لئے آنکھوں کے عطیہ کی وصیت کرنا کسی طرح صحیح نہیں۔
اور علامہ سرخسی لکھتے ہیں:
وَفِيهِ دَلِيلُ جَوَازِ الْمُدَوَّاةِ بِعَظْمٍ بَالٍ. وَهَذَا لِأَنَّ الْعَظْمَ لَا يَتَنَجَّسُ بِالْمَوْتِ عَلَى أَصْلِنَا، لِأَنَّهُ لَا حَيَاةَ فِيهِ إلَّا أَنْ يَكُونَ عَظْمَ الْإِنْسَانِ أَوْ عَظْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ يُكْرَهُ التَّدَاوِي بِهِ؛ لِأَنَّ الْخِنْزِيرَ نَجِسُ الْعَيْنِ فَعَظْمُهُ نَجِسٌ كَلَحْمِهِ لَا يَجُوزُ الِانْتِفَاعُ بِهِ بِحَالٍ مَا. وَالْآدَمِيُّ مُحْتَرَمٌ بَعْدَ مَوْتِهِ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ فِي حَيَاتِهِ. فَكَمَا يَحْرُمُ التَّدَاوِي بِشَيْءٍ مِنْ الْآدَمِيِّ الْحَيِّ إكْرَامًا لَهُ فَكَذَلِكَ لَا يَجُوزُ التَّدَاوِي بِعَظْمِ الْمَيِّتِ. قَالَ – ﷺ -: «كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِ عَظْمِ الْحَيِّ.
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بوسیدہ ہڈی کو بطور دوا استعمال کرنا جائز ہے ؛کیونکہ وہ موت کی وجہ سے ناپاک نہیں ہوتی ہے اس لئے کہ اس میں زندگی ہی نہیں ہے الا یہ کہ خنزیر یا انسان کی ہڈی ہو تو اس سے دوا کرنا مکروہ ہے کیونکہ خنزیر مکمل طور پر ناپاک ہے لہذا اس کے گوشت کی طرح سے اس کی ہڈی بھی ناپاک ہے اس لئے کسی بھی حال میں اس سے انتفاع جائز نہیں ہے اور انسان جس طرح سے زندگی میں قابل احترام ہے اسی طرح سے مرنے کے بعد بھی ہے لہذا جس طرح سے زندہ ہونے کی حالت میں اس کے احترام کے پیش نظر اس کے جسم کے کسی حصے کو بطور دوا استعمال کرنا جائز نہیں ہے اسی طرح سے مرنے کے بعد بھی اس کی ہڈی سے انتفاع درست نہیں ہے ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مردہ کے ہڈی کو توڑنا ایسے ہی ہے جیسے کہ زندہ کی ہڈی کو توڑنا ۔
(شرح السیر الکبیر . باب دواء الجراحۃ،128)
اور مفتی محمد شفیع صاحب لکھتے ہیں:
"انسان کے اعضاء و اجزاء انسان کی اپنی ملکیت نہیں ہیں جن میں وہ مالکانہ تصرفات کرسکے، اسی لیے ایک انسان اپنی جان یا اپنے اعضاء و جوارح کو نہ بیچ سکتا ہےنہ کسی کو ہدیہ اور ہبہ کے طور پر دے سکتا ہے،اور نہ ان چیزوں کو اپنے اختیار سے ہلاک و ضائع کرسکتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کے اصول میں تو خود کشی کرنا اور اپنی جان یا اعضاء رضاکارانہ طور پر یا بقیمت کسی کو دے دینا قطعی طور حرام ہی ہے جس پر قرآن و سنت کی نصوصِ صریحہ موجود ہیں، تقریباً دنیا کے ہر مذہب و ملت اور عام حکومتوں کے قوانین میں اس کی گنجائش نہیں، اس لیے کسی زندہ انسان کا کوئی عضو کاٹ کر دوسرے انسان میں لگا دینا اس کی رضامندی سے بھی جائز نہیں ۔۔۔ شریعتِ اسلام نے صرف زندہ انسان کے کارآمد اعضاء ہی کا نہیں بلکہ قطع شدہ بے کار اعضاء و اجزاء کا استعمال بھی حرام قرار دیا ہے، اور مردہ انسان کے کسی عضو کی قطع و برید کو بھی ناجائز کہا ہے، اور اس معاملہ میں کسی کی اجازت اور رضامندی سے بھی اس کے اعضاء و اجزاء کے استعمال کی اجازت نہیں دی، اور اس میں مسلم و کافر سب کا حکم یکساں ہے؛ کیوں کہ یہ انسانیت کا حق ہےجو سب میں برابر ہے۔تکریمِ انسانی کو شریعتِ اسلام نے وہ مقام عطا کیا ہے کہ کسی وقت کسی حال کسی کو انسان کے اعضاء و اجزاء حاصل کرنے کی طمع دامن گیر نہ ہو، اور اس طرح یہ مخدومِ کائنات اور اس کے اعضاء عام استعمال کی چیزوں سے بالاتر ہیں جن کو کاٹ چھانٹ کر یا کوٹ پیس کر غذاؤں اور دواؤں اور دوسرے مفادات میں استعمال کیا جاتا ہے، اس پر ائمہ اربعہ اور پوری امت کے فقہاء متفق ہیں، اور نہ صرف شریعتِ اسلام بلکہ شرائعِ سابقہ اور تقریباً ہر مذہب و ملت میں یہی قانون ہے”۔
(انسانی اعضاء کی پیوندکاری/36)