سفر سے متعلق چند نئے مسائل:

ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم ،فتح پور تال نرجا ،ضلع مئو یوپی ۔

مسافت سفر کی مقدار:

ائمہ ثلاثہ کے نزدیک مسافت سفر چار برید (16 فرسخ) ہے. جسے دو معتدل دن میں رات کے بغیر یا دو معتدل رات میں دن کے بغیر یا ایک دن اور رات میں طے کیا جا سکتا ہے دوسرے لفظوں میں چوبیس گھنٹے کی مسافت،مسافت سفر ہے،جس میں کھانا پینا ،نماز پڑھنا اور آرام کرنا سب شامل ہے لیکن اصل مدار دن پر نہیں بلکہ چار برید پر ہے ۔( دیکھئے:الفقہ الاسلامی وادلتہ 2/1343 . الموسوعہ 278/27)
ان کے دلائل یہ ہیں:
1-حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا أَهلَ مَكَّةَ لا تقصُروا الصَّلاةَ في أدنی مِن أربَعةِ بُرُدٍ مِن مَكَّةَ الی عسفان۔
مکہ والو!چار برید سے کم میں نماز قصر مت پڑھو ۔مکہ سے عسفان تک کی مسافت۔
(دار قطنی 387/1.اسنادہ ضعیف جدا)
2 – عن ابنِ عُمرَ وابنِ عبّاسٍ: كانا يَقصُرانِ ويُفطِرانِ في أربَعةِ بُرُدٍ.
حضرت عبداللہ بن عمر اور عبد ﷲ بن عباس چار برید کی مسافت میں نماز میں قصر کرتے اور روزہ نہ رکھتے۔
( علقه البخاري بصيغة الجزم وأسنده البيهقي بسند صحيح۔ السنن الكبرى 3/196)
اس طرح کی بات عقل و قیاس سے نہیں کہی جاسکتی ہے اس لئے یہ مرفوع حدیث کے حکم میں ہے ۔نیز کسی دوسرے صحابی سے اس کے برخلاف منقول نہیں ہے ؛ اس لئے اس پر ایک طرح سے اجماع ہے ۔
حنفیہ کے نزدیک مسافت قصر تین دن اور تین رات کا سفر ہے۔حضرت عثمان بن عفان ،عبد اللہ ابن مسعود ، سويد بن غفلة ، شعبي ، نخعي ، ثوري ، ابن حيي ،أبو قلابة ،شريك بن عبد الله ،سعيد بن جبير ، محمد بن سيرين سے یہی منقول ہے اور حضرت عبد الله بن عمر کا ایک قول یہی ہے.(عمدۃ القاری119/7)
ان کے دلائل یہ ہیں:
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ. يَعْنِي فِي الْمَسْحِ.
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن اور تین رات اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات موزے پر مسح کی مدت مقرر کی ہے۔ (صحیح مسلم :276.
نسائي:128 واللفظ لہ)
اور یہ تصور نہیں کیا جا سکتا ہے کہ مسافر مسح تو تین دن اور تین رات کرے لیکن مدت سفر اس سے کم ہو۔
اور حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ ".
جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ تین رات کا سفر کسی محرم کے بغیر کرے۔(صحیح بخاري 1086۔صحیح مسلم :1338 .واللفظ لہ)
اگر سفر کی مدت تین دن نہ ہو تو پھر تین دن کی تخصیص بے معنی ہے۔
تین دن کے سفر کا مطلب یہ ہے کہ رات میں آرام کرے اور دن میں صبح سے لیکر زوال تک درمیانی رفتار سے ضروریات زندگی کو انجام دیتے ہوئے پیدل یا بار بردار اونٹ کے ذریعے چلے ،حنفیہ کے یہاں اصل یہی ہے کہ مسافت سفر کی تحدید دنوں کے ذریعے ہے نہ کہ فرسخ اور میل کے ذریعے لیکن لوگوں کی آسانی کے پیش نظر متاخرین نے فرسخ کے ذریعے اس کی تعیین کی ہے لیکن اس میں بھی اختلاف ہے بعض لوگ پندرہ فرسخ کے اور بعض لوگ اٹھارہ فرسخ اور بعض اکیس فرسخ کے قائل ہیں۔(دیکھئے:عمدۃ القاری119/7)
اور مفتی محمد شفیع صاحب لکھتے ہیں:
امام اعظم ابوحنیفہ سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ نے سفر کی مسافت تین منزل قرار دی ہے ، صاحب ہدایہ اس کو نقل کرکے فرماتے ہیں کہ اس روایت کا حاصل بھی تقریباً وہی ہے، جو اوپر مذکور ہوا یعنی تین دن کی مسافت اس کے بعد فرمایا :
و لا معتبر بالفراسخ هو الصحيح۔
یعنی فرسخ اور میلوں کی تعیین کا کوئی اعتبار نہیں صحیح مذہب یہی ہے ۔
اسی لئے عامہ متون و شروح میں جمہور مشائخ حنفیہ کا مختار یہی ہے کہ میلوں کی
تعیین نہ کی جاوے۔
فتح القدير ، عمدة القاري، البحر الرائق ، شامی، در مختار وغیرہ سب کا اسی پر اتفاق ہے، اس کے خلاف بعض فقہاء نے فراسخ یا میلوں کی تعیین بھی فرمائی ہے، حضرت امام مالک کا مذہب ہے کہ اڑتالیس میل سے کم میں قصر نہ کرے، اور یہی امام احمد کا مذہب ہے، اور امام شافعی سے بھی ایک روایت یہی ہے۔
(عمدة القاری531/3 )
اور مشائخ حنفیہ میں سے بعض نے اکیس فرسخ جس کے تریسٹھ میل ہوتے ہیں ، بعض نے اٹھارہ فرسخ جس کے چوّن میل ہوتے ہیں ، اور بعض نے پندرہ فرسخ جس کے پینتالیس میل ہوتے ہیں، مسافت قصر قرار دی ، عمدۃ القاری میں اٹھارہ فرسخ کے قول پر فتوی نقل کیا ہے۔ اور البحر الرائق میں بھی بحوالہ نہایہ اسی قول پر فتوی نقل کیا ہے، اور شامی اور بحر نے بحوالہ مجتبی اکثر ائمہ خوارزم کا فتوی پندرہ فرسخ کی روایت پر ذکر کیا ہے ۔ ( البحر الرائق 440/1).
اور شیخ ابن ہمام نے شرح ہدایہ میں میلوں کی تعیین معتبر نہ ہونے کی وجہ ہے یہ بیان کی ہے کہ تین دن تین رات کی مسافت جو اصل مذہب ہے، وہ راستوں کے اختلاف سے مختلف ہو سکتی ہے، کیونکہ صاف راستہ میں اگر انسان ایک دن میں سولہ میل چل سکتا ہے تو دشوار گزار راستہ میں بارہ میل بمشکل سے ہوتے ہیں ، اور پہاڑی راستوں میں تو آٹھ دس میل بھی طے کرنا مشکل ہوتا ہے، اس لئے میلوں کی تعیین مناسب نہیں ، بلکہ جیسا راستہ ہو اس کے انداز سے جس قدر میل بآسانی تین دن میں پیادہ طے ہو سکیں ، وہی مسافت قصر ہے ۔ ( فتح القدیر 394/1 ) (جواہر الفقہ 426/3)
مناسب ہے کہ فرسخ کے ذریعے تحدید کرنے میں چار برید یعنی سولہ فرسخ کے قول کو اختیار کیا جائے ۔اور ایک شرعی میل ایک کلومیٹر 828 میٹر اور 80 سینٹی میٹر کے برابر ہوتا ہے اور اس اعتبار سے سولہ فرسخ کے 87 کلو میٹر 782میٹر اور 40 سینٹی میٹر ہوگا ۔ واضح رہے کہ شیخ وھبہ زحیلی نے اس کی مقدار 88 کلو میٹر اور 704 میٹر بیان کی ہے ۔(وتقدر بحوالي (٨٩ كم) وعلى وجه الدقة:٨٨.٧٠٤ كم ثمان وثمانين كيلو وسبع مئة وأربعة أمتار.دیکھئے الفقہ الاسلامی وادلتہ 2/1343)
ان کے نزدیک ایک شرعی میل 1848 میٹر کے برابر ہے اس اعتبار سے 48 میل کی مقدار 88 کیلومیٹر اور 704 میٹر ہوگی یعنی تقریباً 89 کیلومیٹر ۔
وجہ یہ ہے کہ چار برید کی تعیین ایک ضعیف حدیث اور صحابہ کرام کے اقوال سے ہوتی ہے اور شرعی مقادیر میں عقل وقیاس کا دخل نہیں ہوتا ہے اس اعتبار سے صحابہ کرام کے فتاوے مرفوع حدیث کے حکم میں ہیں ۔
اور تین دنوں کی مسافت بھی تقریبا اسی کے بقدر ہوگی اس لیے فقہاء حنفیہ نے جو اختیار کیا ہے اس میں اور اس قول میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
حضرت گنگوھی فرماتے ہیں:
ان الصحيح في استدلال الحنفية هي رواية مالك في المؤطا اربعة برد و على هذا فلا خلاف بين الائمة في ذلك . (اوجز المسالك 118/3)
اور فتاوی رشیدیہ میں ہے:
سوال : کتنی مسافت سفر میں نماز قصر کرنا چاہئے ، حسب احادیث صحیحہ ؟
الجواب : چار برید جس کی سولہ سولہ میل کی تین منزل ہوتی ہیں ، حدیث موطاء مالک سے ثابت ہوتی ہیں ، مگر مقدار میل کی مختلف ہے ، لہذا تین منزل جامع سب اقوال کو ہو جاتی ہیں ۔ فقط واللہ تعالی اعلم
رشید احمد عفی عنہ۔( فتاوی رشیدیہ حصہ اول ص : ۲۵ )
اور علامہ ظفر احمد عثمانی لکھتے ہیں:
فان اربعة برد هي قدر مسافة ثلاثة ايام تقريبا.
چار برید تقریباً تین دن کی مسافت کے بقدر ہے۔ (اعلاء السنن 273/5)
اور علامہ کشمیری کہتے ہیں:
وفي قول ثمانية و اربعون ميلا وهو المختار لانه موافق لاحمد والشافعي.
اور ایک قول کے مطابق مسافت سفر اڑتالیس میل ہے اور یہی بہتر ہے ،کیونکہ یہ امام احمد اور شافعی کے قول کے موافق ہے ‌(العرف الشذي/239)
اور شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی لکھتے ہیں :
’’کتبِ فقہ میں حکم میلوں پر نہیں ہے؛ بلکہ تین دن رات کی مسافت اوسط ایام سال میں متوسط انسانی رفتار یا اونٹ کی رفتار سے جملہ حوائج انسانیہ اکل وشرب ،پیشاب پاخانہ وغیرہ اور حوائج شرعیہ نماز وغیرہ انجام دیتے ہوئے اکثر حصہ یوم و لیلہ جو قطع ہوسکے وہ مسافت سفر ہے، اس قاعدہ سے بمشکل سولہ میل چل سکتا ہے؛ بلکہ پندرہ میل چلنا بھی دشوار ہوگا؛ اس لئے بعض حضرات بارہ میل روزانہ اور بعض حضرات پندرہ میل قرار دیتے ہیں۔ ہمارے اکابر نے سولہ میل روزانہ احتیاط کے طور پر قرار دیا ہے، اس سے زائد قرار دینا غیر معقول ہے‘‘۔ (فتاویٰ شیخ الاسلام 49)
اور مفتی محمد سعید صاحب پالنپوری لکھتے ہیں:
سفر شرعی محتاط اندازے کے مطابق 87کیلو میٹر سے کچھ زیادہ ہے۔( تفسیر ہدایت القرآن127/2)
دوسری وجہ یہ ہے فقہائے کرام کی صراحت کے مطابق مسافت قصر کے باوجود اگر کوئی دو کے بجاۓ چار رکعت نماز پڑھ لے تو کراہت کے ساتھ اس کی نماز ہوجاتی ہے لیکن اگر مسافت قصر موجود نہیں ہے اس کے باوجود کوئی قصر کرلے تو اس کی نماز نہیں ہوگی۔لہذا اگر مسافت سفر درحقیقت 48 میل شرعی (تقریباً 88 کیلومیٹر) ہے اور کوئی سوا ستہتر کلومیٹر کے سفر میں قصر کرلیتا ہے تو بالاتفاق اس کی نماز نہیں ہوگی اور اس کے برعکس اگر حقیقتا مسافت قصر سوا ستہتر کیلو ہے لیکن کوئی اس مسافت کے سفر میں قصر نہیں کرتا ہے بلکہ چار رکعت پڑھتا ہے تو اس کی نماز کراہت کے ساتھ ہوجائے گی اور فریضہ اس کے ذمّے سے ساقط ہوجائے گا بلکہ حنفیہ کے علاوہ دوسرے اماموں کے نزدیک کوئی کراہت بھی نہیں ہے ۔اور عبادات میں احتیاطی پہلو راجح ہے ۔نیز چار رکعت پڑھنا اصل ہے اور قصر ایک عارض یعنی سفر کی وجہ سے کیا جاتا ہے ۔لھذا جب تک کہ عارض کا یقین نہ ہوجائے اصل پر برقرار رہنا چاہئے اور 48 میل شرعی یقینی طور پر مسافت سفر ہے اور 45 میل شرعی ظنی اور تخمینی ہے ۔
حاصل یہ ہے کہ مسافت قصر 48 میل شرعی ہے جو 87 کلو میٹر 782میٹر اور 40 سینٹی میٹر کے برابر ہوتا ہے ۔

شرعی اور انگریزی میل میں فرق:

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمت اللہ علیہ لکھتے ہیں:
اور جب یہ ثابت ہو گیا کہ میل کے بارے میں قول مختار فقہائے کرام کا یہ ہے کہ 24 انگشت کے گز سے چار ہزار گز کا ایک میل ہے تو انگریزی گز سے دو ہزار گز کا ایک میل شرعی ہوا کیونکہ 24 انگشت کا ذراع ایک ہاتھ یعنی ڈیڑھ فٹ یا 18 انچ کا ہے۔
انگریزی میل حسب تصریح چکرورتی آٹھ فرلانگ کا ہوتا ہے اور ہر فرلانگ 220 گز تو انگریزی میل 1760 گز کا ہو گیا۔معلوم ہوا کہ شرعی میل انگریزی میل سے 240 گز بڑا ہے. (جواہر الفقہ 224/3)
اس سلسلے کی تفصیلات یہ ہیں:
1-ایک میل شرعی= چار ہزار گز شرعی۔
2-ایک شرعی گز= 18 انچ یعنی ڈیڑھ فٹ.
3- ایک انگریزی گز= 36 انچ یعنی تین فٹ.
4- ایک شرعی میل= ایک کلومیٹر 828 میٹر اور 80 سینٹی میٹر۔
5- ایک انگریزی میل= ایک کلومیٹر 609 میٹر 39 سینٹی میٹر ۔
6- پندرہ فرسخ =45 میل شرعی = 82 کیلومیٹر 296 میٹر ۔
7- چار برید =سولہ فرسخ= 48 میل شرعی=87 کلو میٹر 782 میٹر اور 40 سینٹی میٹر ۔
8- پندرہ فرسخ =45 میل انگریزی =72 کلو میٹر ،420 میٹر ،30 سینٹی میٹر ۔
9- سولہ فرسخ=48 میل انگریزی= 77 کلو میٹر۔ 248 میٹر۔ 32 سینٹی میٹر۔
شرعی یا انگریزی میل مراد لینے کے سلسلے میں علماء دیوبند کے درمیان اختلاف ہے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب اور دوسرے بہت سے اکابر انگریزی میل مراد لیتے ہیں چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
محققین علماء ہندوستان نے 48؍میل انگریزی کو مسافت قصر قرار دے دیا ہے، جو اقوال فقہاء مذکورین کے قریب قریب ہے، اور اہل مدارس کا اسی پر عمل ہے کہ اتنی ہی مسافت تین دن تین رات پیادہ مسافر قطع کرسکتا ہے، اور فقہاء حنفیہ کے مفتی بہ اقوال میں سے جو فتویٰ ائمہ خوارزم کا 15؍
فرسخ کا نقل کیا گیا ہے، تقریباً اس کے بالکل مطابق ہے؛ کیونکہ 15؍فرسخ کے 45؍میل شرعی ہوتے ہیں، اور شرعی میل انگریزی میل سے دو سو چالیس گز بڑا ہوتا ہے، تو 45؍میل شرعی 48؍میل انگریزی سے کچھ زیادہ متفاوت نہیں رہتے‘‘۔۔۔۔
الغرض مسافت قصر مذہب مختار کے مطابق تین منزل یا 48 میل انگریزی ہے ۔ (جواہر الفقہ 428/3)
یہ درحقیقت پندرہ فرسخ کی تحدید نہیں ہے بلکہ تین دن کی مسافت کا اس دور میں رائج میل کے ذریعے اندازہ لگانا ہے کہ اس وقت انگریزی میل ہی کا عام چلن تھا اور جو چیزیں اندازہ پر مبنی ہوتی ہیں ان میں نیا تجربہ کرنا غلط نہیں ہے ۔
اس کے برخلاف مولانا رشید احمد لدھیانوی شرعی میل کے قائل ہیں اور موجودہ دور کے بعض علماء نے ان کی رائے کو راجح قرار دیا ہے ۔
بلکہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کے بعض فتاویٰ سے بھی بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی شرعی میل کے قائل ہیں چنانچہ
ان سے دریافت کیا گیا ہے سفر کی مقدار مسافت کتنی ہے ؟اور میل کتنا ہوتا ہے؟تو انھوں فرمایا :”چار برید جس کی سولہ سولہ میل کی تین منزلیں ہوتی ہیں”اور
"فرسخ تین میل کا اور میل چار ہزار قدم کا”۔
(فتاویٰ رشیدیہ،دارالاشاعت،کراچی،ص:434)۔
ظاہر ہے کہ چار ہزار قدم کا شرعی میل ہوتا ہے اور سولہ سولہ میل کی تین منزلوں کا 48 میل ہوگیا ۔گویا ان کے نزدیک 48 شرعی میل ہی مسافت سفر ہے ۔ واضح رہے کہ ان کے یہاں ترجیح عدم تحدید کو ہے مگر سوال کے مطابق جو جواب دیا ہے تو اس سے شرعی میل ہی کاثبوت ہوتا ہے نہ کہ انگریزی میل کا۔
اس لئے برید کے ذریعے مسافت قصر کی تحدید میں راجح یہ ہے کہ میل سے مراد شرعی میل ہے اور وجہ ترجیح یہ ہے :
میل کی اصطلاح صحابہ کرام کے دور میں رائج تھی چنانچہ مسافت سفر کو بیان کرتے ہوئے حضرت عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں:
ثمانية و اربعون ميلا.(مصنف ابن ابي شيبة378/5 ح:8222)
اور امام محمد لکھتے ہیں:
وقال اهل المدينة تقصر الصلاة في اربعة برد وذلك ثمانية و اربعون ميلا.(كتاب الحجة على اهل المدينة166/1)
اور امام مالک کہتے ہیں ہر برید بارہ میل کا ہوگا۔(البدائع 261/1 فصل مایصیر بہ المقیم مسافرا)
لہذا یہ ایک قدیم اصطلاح ہے اس لئے اس کی تحدید شرعی طور پر ہی کی جائے گی نہ کہ انگریزوں کی طرف سے طے کردہ انگریزی میل سے ۔
فقہی کتابوں میں وزن کیل یا مساحت کے جتنے مقادیر بیان کئے گئے ہیں ان سب سے شرعی مقادیر مراد ہوتے ہیں مثلا پانی کے کثیر ہونے کا معیار دہ در دہ ہے اور اس میں دس گز سے مراد شرعی گز ہے نہ کہ انگریزی گز۔لھذا میل کے معاملے میں بھی شرعی میل مراد ہوگا نہ کہ انگریزی میل ۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ فقہی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ میل چار ہزار ذراع کا ہوتا ہے جو دو ہزار انگریزی گز کے برابر ہوتا ہے اور دو ہزار انگریزی گز سے جو میل بنتا ہے وہ انگریزی میل نہیں بلکہ شرعی میل ہوتا ہے ۔

سمندری اور ہوائی سفر میں مسافت کی تحدید:

حنفیہ کے نزدیک مسافت قصر کی تعین دن کے ذریعے کی جاتی ہے اس لئے ان کے یہاں ہموار اور پہاڑی اور سمندری سفر کی مسافت میں فرق ہوگا اور اگر میل کے ذریعے اس کی تعیین کی جائے تو سمندری سفر کی مسافت سب سے زیادہ ہوگی اور ہموار راستے کی مسافت اس سے کچھ کم جس کی تحدید 45/48 میل سے کی گئی ہے اور پہاڑی راستے کی مسافت سب سے کم ہوگی ۔ (دیکھئے:البحر الرائق 140/2۔الجوهرة النيرة: 1/ 85.رد المحتار 123/2)
اور مفتی محمد شفیع صاحب لکھتے:
اور شیخ ابن ہمام نے شرح ہدایہ میں میلوں کی تعیین معتبر نہ ہونے کی وجہ ہے کہ تین دن تین رات کی مسافت جو اصل مذہب ہے، وہ راستوں کے اختلاف سے مختلف ہو سکتی ہے، کیونکہ صاف راستہ میں اگر انسان ایک دن میں سولہ میل چل سکتا ہے تو دشوار گزار راستہ میں بارہ میں بمشکل سے ہوتے ہیں ، اور پہاڑی راستوں میں تو آٹھ دس میل بھی ہے کرنا مشکل ہوتا ہے، اس لئے میلوں کی تعیین مناسب نہیں ، بلکہ جیسا راستہ ہو اس کے انداز سے جس قدر میل بآسانی تین دن میں پیادہ طے ہو سکیں ، وہی مسافت قصر ہے ۔ ( فتح القدیر : 394 ، ج : 1 .جواہر الفقہ 426/3)
لیکن موجودہ دور میں عام طور پر پیدل طویل سفر کا رواج نہیں رہا اس لئے موٹر گاڑی وغیرہ کے ذریعے پہاڑی سفر میں بھی 48میل شرعی کا لحاظ رکھا جائے گا اور یہی مسافت بحری سفر میں بھی معتبر ہے ۔گویا کہ سفر میں اصل مدار مسافت ہے ،مدت اور وقت کا بیان ایک اندازے کے طور پر بیان ہوتا ہے چنانچہ اگر کوئی اس مسافت کو تین دن سے کم مدت میں طے کرلیتا ہے تو اس پر سفر کے احکام جاری ہونگے ۔
جیسا کہ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک اصل اعتبار مسافت کا ہے اس لئے ان کے یہاں ہموار اور پہاڑی اور سمندری راستے کا حکم یکساں ہے ۔
والمسافة في البحر كالمسافة في البر.
(الفقہ الاسلامی وادلتہ 1343/2)
یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی تیز رفتار سواری مثلاً ٹرین یا ہوائی جہاز یا پانی کے جہاز سے ایک گھنٹے یا اس بھی کم میں اس مسافت کو طے کرلیتا ہے تو وہ قصر کریگا چنانچہ علامہ دسوقی مالکی لکھتے ہیں:
من كان يقطع المسافة بسفره قصر ولو كان يقطعها في لحظة بطيران ونحوه. (حاشيه الدسوقي على الشرح الكبير 358/1)
اور علامہ نووی شافعی کہتے ہیں:
يقصر المسافر ولو قطع المسافة في ساعة.
(مغني المحتاج 264/1).
اور علامہ بہوتی حنبلی لکھتے ہیں:
يقصر المسافر الرباعية الى ركعتين اجماعا ولو قطع المسافة في ساعة ؛ لانه صدق عليه انه يسافر أربعة برد. (كشاف القناع 325/1)
حنفیہ کے یہاں بھی تین دن کی مسافت کا اعتبار درمیانی رفتار سے پیدل یا باربردار اونٹ کے ذریعے چلنے کا ہے اس لئے اگر کوئی تیز رفتار سواری کے ذریعے اس مدت کی مسافت کو کم وقت میں طے کرلیتا ہے تو وہ قصر کریگا چنانچہ علامہ کاسانی لکھتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک :
ان المسافر لو سار الى موضع في يوم او يومين وانه بسير الابل والمشي المعتاد ثلاثة ايام فانه يقصر اعتبارا للسير المعتاد.(البدائع392/1)

بڑے شھروں میں مسافت سفر:

سفر میں قصر کے حکم کا مقصد مشقت و دقت اور وحشت و اجنبیت ہے اور ظاہر ہے کہ آج کے بڑے شہر پہلے کے ایک ملک کی طرح اور اس کے محلے شھر کی طرح ہیں ،ایک محلے سے نکل کر دوسرے محلے میں وہ بالکل اجنبی ہوجاتا ہے اور ٹریفک کیوجہ سے جو پریشانی اور دشواری ہوتی ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے لہذا شہر کے اندر بھی اگر مسافت سفر ہے تو شریعت کی طرف جو آسانی ملی ہوئی ہے اسے اختیار کرنا چاہئے۔
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : { لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا } ، فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ، فَقَالَ : عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : ” صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ ".(صحيح مسلم:686)
بڑے شھروں میں اگر ایک سرے سے دوسرے سرے تک مسافت قصر ہو تو اس پر سفر شرعی کا اطلاق ہوگا اور شھر کے جس محلے میں قیام ہے اس کے حدود سے نکلنے کے بعد وہ مسافر شمار ہوگا چنانچہ فتاویٰ دار العلوم دیوبند میں ہے :
سوال نمبر: 35190
سوال:شہرکی آبادی بہت دور تک پھیل گئی ہے اور جس شہر کا سفر ہے اس شہر کی آبادی بھی بہت دور تک پھیل گئی ہے تو اب سوال یہ ہے کہ آبادی سے نکلنے اور دوسرے شہر کی آبادی میں داخل ہونے تک کلو میٹر کا اعتبار ہوگا یا اپنے گھر سے اس شہر میں اپنی منزل تک پہنچنے تک کے کلو میٹر کا اعتبار ہوگا شرعی سفر میں؟اسی طرح ممبئی کے ہمارے متعلقین آخری کنارے سے شہر کے دوسرے کنارے پہنچنے تک جو شرعی سفر کی مقدار کلومیٹر طے کر لیتے ہیں، وہ بھی سوال کرتے رہتے ہیں۔ براہ کرم، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں ۔
جواب نمبر: 35190
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(ل): 1812=542-12/1432 شہر یا گاوٴں کے فنا سے نکلتے وقت سفر کا آغاز مانا جائے گا، البتہ جو شہر بہت ہی بڑے ہیں، جیسے دلی ممبئی وغیرہ تو ان میں ہر علاقہ کا جو زون اور سیکٹر بنا ہوتا ہے اس سے تجاوز کرنے پر سفر کی ابتداء ہوجائے گی۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند۔

اور مسافت سفر کی ابتدا اس محلے اور جگہ سے ہوگی جہاں سے سفر شروع کیا ہے .
علامہ ابن رشد مالکی لکھتے ہیں:
واما الموضع الرابع وهو اختلافهم في الموضع الذي منه يبدا المسافر بقصر الصلاة فان مالكا قال في المؤطا لا يقصر الصلاة الذي يريد السفر حتى يخرج من بيوت القرية ولا يتم حتى يدخل اول بيوتها وقد روي عنه انه لا يقصر اذا كانت قرية جامعة حتى يكون منها بنحو ثلاثة اميال وذلك عنده اقصى ما تجب فيه الجمعة على من كان خارج المصر في احدى الروايتين عنه وبالقول الاول قال الجمهور .
اور چوتھا مقام وہ ہے جس میں ان کا اختلاف اس جگہ کے بارے میں ہے جہاں سے مسافر نماز قصر کرنا شروع کرے۔ چنانچہ امام مالکؒ نے موطا میں فرمایا ہے کہ جو شخص سفر کا ارادہ رکھتا ہو وہ اس وقت تک نماز قصر نہ کرے جب تک بستی کے گھروں سے باہر نہ نکل جائے، اور جب واپس آئے تو اس وقت تک پوری نماز نہ پڑھے جب تک بستی کے پہلے گھروں میں داخل نہ ہو جائے۔
اور امام مالکؒ سے یہ بھی منقول ہے کہ اگر وہ آبادی بہت سی بستیوں پر مشتمل ہو تو وہ اس وقت تک قصر نہ کرے جب تک کہ وہ اپنی بستی سے تقریباً تین میل کے فاصلے پر نہ پہنچ جائے، کیونکہ ان کے نزدیک یہی وہ آخری حد ہے جہاں تک شہر سے باہر رہنے والوں پر جمعہ واجب ہوتا ہے، ان سے مروی ایک روایت کے مطابق۔اور پہلا قول ہی جمہور علماء کا ہے۔ (بداية المجتهد168/1)
اور علامہ نووی لکھتے ہیں:
فان سكن واديا و سافر في عرضه فلا بد من مجاوزة عرض الوادي نص علي الشافعي .قال الاصحاب: وهذا على الغالب في اتساع الوادي فان افرط السعة لم يشترط الا مجاوزة القدر الذي يعد موضع نزوله او موضع المحلة التي هوفيها كما لو سافر في طول الوادي.
لہذا اگر کوئی شخص کسی وادی میں رہتا ہو اور وادی کی چوڑائی کی سمت سفر کرے تو اس کے لیے وادی کی چوڑائی کو پار کرنا ضروری ہے، اس بات کی صراحت امام شافعیؒ نے کی ہے۔
اصحاب (شافعیہ) کہتے ہیں: یہ حکم وادی کی عمومی چوڑائی سے متعلق ہے۔ لیکن اگر وادی حد سے زیادہ وسیع ہو تو پھر صرف اس قدر حصے کو پار کرنا شرط ہوگا جو اس کے رہائش کی جگہ یا اس محلہ کی جگہ شمار ہوتا ہو جس میں وہ رہتا ہے، جیسے اس صورت میں جب وہ وادی کی لمبائی کی سمت سفر کرے۔( روضة الطالبين380/1)
علامه ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں:
وان كان للبلد محال كل محلة منفردة عن الاخرى كبغداد فمتى خرج من محلته ابيح له القصر اذا فارق محلته. و ان كان بعضها متصلا ببعض لم يقصر حتى فارق جميعها.
اور اگر کسی شہر کے مختلف محلے ہوں اور ہر محلہ دوسرے سے الگ الگ ہو، جیسے بغداد، تو جب آدمی اپنے محلے سے نکل جائے تو اس کے لیے نماز قصر کرنا جائز ہو جاتا ہے۔
اور اگر شہر محلے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہوں تو وہ اس وقت تک قصر نہیں کرے گا جب تک تمام محلّوں سے باہر نہ نکل جائے۔(المغني: 113/2)
اور مفتی نظام الدین صاحب لکھتے ہیں:
ان عبارتوں سے معلوم ہوتاہے کہ جن بڑے شہروں میں میلہا میل تک مسلسل محلے اور آبادیاں پھیلی ہوئی ہوں جیسے بمبئی کلکتہ وغیرہ ان شہروں میں جب کوئی شخص موجودہ کیلومیٹر کے حساب سے سوا ستہتر کلومیٹر یااس سے بھی زیادہ مسافت تک جانے کی نیت سے اپنے مقام سے چلے تو اس شہر کے تمام محلوں اور آبادیوں کے باہر جانے کے بعد قصر شروع کرنے کا یہ حکم دینا صحیح نہ ہوگا۔ مزاج شرع وشارح علیہ السلام کے خلاف ہوگا بلکہ ایسے شہروں میں حکم شرع ان عبارات فقہیہ کی روسے یہ ہوگا کہ اگر ایسے محلہ اور آبادی سے متصل اس کا فناء یا ربضہ ہوں تواس فناء یا ربضہ سے باہر نکلنے کے بعد مسافر شمار ہوجائے گا۔ اور اگر اس آبادی سے اس کا فناء یاربضہ متصل نہ ہوتو اس محلہ کی آبادی سے باہر نکلتے ہی مسافر شمار ہوکر اس پر قصر فی الصلوٰۃ کا حکم متوجہ ہوجائے گا——-اور اگر کوئی بہت احتیاط برتے تو اتنا ہو سکتا ہے کہ اپنی ابادی یا محلہ سے اتنی دور جانے پر اپنی کو بالیقین مسافر شمار کرے جتنے دور جانے پر اس کو اجنبیت لاحق ہو جائے اور جامع مسجد اور بڑی مسجد میں جن میں نمازیوں کی کثرت ہوتی ہے چونکہ ان کے مستقل نمازیوں کا قیام ذرا دور تک بھی ہوتا ہے بلکہ مختلف چند محلوں تک بھی ہو سکتا ہے اس لیے ایسی بڑی مسجدوں کا ربضہ و تابع اور فنا ان مصلیوں کی جائے قیام تک شمار ہوگا جہاں تک کے مستقل نمازی اس مسجد میں برابر آتے ہوں اور ان کے حدود سے باہر نکلنے پر حد مسافرت شروع ہو کر اس کے بعد سے قصر فی الصلاۃ کا حکم بالیقین متوجہ ہو جائے گا اس لیے کہ ان مصلیوں کی برابر آمد و رفت سے اس حلقے تک مسافرت میں وحشت و اجنبیت نہیں پیدا ہوگی اور جب ان روایات کے ساتھ متون حدیث اور ان کی چند شروح بھی پیش نظر رکھ لی جائیں تو اس مسافرت کا راز و منشا یہی اجنبیت و وحشت ہی ہے۔
(نظام الفتاوی168/6-169)
اور دوسرے شہر کے جس محلے اور مقام تک جانا ہے وہاں تک سفر کی مسافت شمار ہوگی،جہاں سے شہر کی آبادی شروع ہوتی ہے وہاں سے نہیں، گویا کہ دونوں شہروں کی آخری اور ابتدائی آبادی ان شہروں کی آبادی کی طرح ہے جو سفر کے دوران آتے ہیں۔

دو شہروں کی آبادی ایک دوسرے سے مل جائے:
ایسے دو شہر جو عرفی اور قانونی لحاظ سے دو مستقل شہر شمار ہوتے ہوں لیکن کثرت آبادی کی وجہ سے رفتہ رفتہ ایک دوسرے سے مل گئے ہوں تو ایک دوسرے سے متصل اور پیوست ہونے کے باوجود وہ دو الگ الگ شہر شمار ہونگے ۔
اور ان میں سے کسی ایک کا باشندہ اگر دوسرے شہر کی طرف سے سفر شرعی کے لئے روانہ ہوتا ہے تو اپنی آبادی سے نکلنے کے بعد مسافر شمار ہوگا گرچہ وہ دوسرے متصل شہر کی آبادی میں ہو، کیونکہ سفر شرعی کے لئے اپنے شہر کی آبادی سے نکلنے کا اعتبار ہے نیز اس شہر کے تابع جو آبادیاں ہیں ان سے نکلنا بھی ضروری ہے اس لئے کہ وہ بھی اس شہر کےحکم میں ہوتی ہیں لیکن جو آبادیاں یا شہر اس کے تابع نہ ہوں بلکہ اس کی مستقل حیثیت ہو تو ان سے باہر نکلنا قصر وغیرہ کے لئے شرط نہیں ہے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
”قال محمدرحمه اللہ تعالى:يقصر حين يخرج من مصره و يخلف دور المصر، كذا في المحيط امام محمد رحمہ اللہ تعالی نے کہا: کوئی شخص جب اپنے شہر سے نکل جائے اور اس کے شہر کے گھروں پیچھے چھوڑ دے تو اس وقت وہ قصر شروع کرے گا ، ایسا ہی محیط میں ہے ۔ (الفتاوى الهندية ، 139/1 دار الفکر، بیروت)
اور تتارخانیہ میں ہے:
”وفی الغياثية:والمعتبر من الخروج أن یجاوز المصر وعمراناتہ هو المختار وعليه الفتوى۔۔۔۔۔فعرفنا أن الشرط أن یتخلف عن عمرانات المصر لا غیر“.
اور غیاثیہ میں ہے:شہر سے باہر نکلنے میں اعتبار اس کا ہے کہ شہر اور اس کی آبادی سے نکل جائے۔ یہی مختار ہے اور اسی پر فتوی ہے۔۔۔۔اس سے معلوم ہوا کہ شرط شہر کی آبادی کو پیچھے چھوڑنا ہے، نہ کہ اس کے علاوہ کسی اور چیز کو (فتاوی تاتار خانیہ 494/2.مطبوعہ کوئٹہ)
واضح رہے کہ فقہاء کرام نے قصر وغیرہ کے لئے شہر سے متصل بستیوں سے خروج کو بھی ضروری قرار دیا ہے چنانچہ علامہ ابن ہمام لکھتے ہیں:
” إن كان بينه وبين المصر أقل من قدر غلوة ولم يكن بينهما مزرعة يعتبر مجاوزة الفناء أيضا، وإن كان بينهما مزرعة أو كانت المسافة بينه وبين المصر قدر غلوة يعتبر مجاوزة عمران المصر هذا، وإذا كانت قرية أو قرى متصلة بربض المصر لا يقصر حتى يجاوزها“­
اگر شہر کی فناء اور شہر کے درمیان ایک غلوہ (چار سو گز)کی مقدار سے کم فاصلہ ہے اور دونوں کے درمیان کھیتی کی زمین نہیں ہے، تو اس فناء سے بھی آگے گزر جانے کا اعتبار ہوگا اور اگر درمیان میں کھیتی ہے یا فناء شہر اور شہر کے درمیان ایک غَلوہ سے زیادہ فاصلہ ہے تو شہر کی آبادی سے باہر ہوجانے کا اعتبار ہے اور اگر شہر کے اطراف کے ساتھ ایک یا زیادہ بستیاں متصل ہیں تو اب وہ قصر نہیں کرسکتا جب تک وہ ان بستیوں سے آگے نہ نکل جائے۔ (فتح القدير33/2. دار الفکر، بیروت)
تو اس سے مراد وہ بستی ہے جو شہر کے تابع ہو اور اس کی مستقل حیثیت نہ ہو اور اس طرح کی بستیاں شہر کے حکم میں ہوتی ہیں ۔
اور مذکورہ صورت میں دونوں شہر کی حیثیت مستقل ہے ،اور ان میں سے کوئی کسی کے تابع نہیں ہے ۔چنانچہ علامہ شامی لکھتے ہیں:
”أشار إلی أنہ یشترط مفارقۃ ما کان من توابع موضع الإقامۃ کربض المصر وھو ما حول المدینۃ من بیوت و مساکن فإنہ فی حکم المصر وکذاالقری المتصلۃ بالربض فی الصحیح بخلاف البساتین ولو متصلۃ بالبناء لأنھا لیست من البلدۃ ولو سکنھا أھل البلدۃ فی جمیع السنۃ أو بعضھا“
اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو چیزیں محل اقامت کے تابع ہیں ان سے خروج بھی شرط ہے جیسے کہ ربض شہر ۔اور ربض شہر ،شہر کے اردگرد کے گھروں اور رہائش گاہوں کو کہا جاتاہے ۔
اسی طرح سے صحیح قول کے مطابق ربض شہر سے متصل دیہاتوں سے باہر نکلنا بھی شرط ہے ۔اس کے برخلاف باغات شہر میں شامل نہیں ہیں گرچہ وہ شہر کی عمارتوں سے متصل ہوں اور اگرچہ شہر والے وہاں سال بھر یا سال کے کچھ حصے میں وہاں رہتے ہوں۔( ردالمحتار121/2 مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
اور صاحب نہر لکھتے ہیں:
لا) يتم إذا نوى الإقامة (بمكة ومنى) ونحوهما من مكانين كل منهما أصل بنفسه…. بخلاف ما إذا كان أحدهما تبعًا للآخر، كالقرية إذا قربت من المصر بحيث تجب الجمعة على ساكنها، لأنها في حكم المصر ۔ (النهر الفائق346/1، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
جیسے کوفہ اور حیرہ کی آبادی بالکل متصل تھی ۔ (دیکھئے:المبسوط للسرخسی،باب قطاع الطریق ۔201/9 .فتح القدیر، 431/5)
اور دونوں کی آبادی کے ایک دوسرے میں ضم ہونے کے باوجود اگر کوئی شخص حیرہ سے سفر کرے اور کوفہ سے گزرے تو وہ وہاں مسافر شمار ہوگا۔
(’’قال: خراساني قدم الكوفة فأقام بها شهرا ثم خرج منها إلى الحيرة فوطن نفسه على إقامة خمسة عشر يوما ثم خرج منها يريد خراسان ويمر بالكوفة، فإنه يصلي ركعتين)؛ لأن وطنه بالكوفة كان وطنا مستعارا فانتقض بمثله۔۔۔حين توطن بالحيرة خمسة عشر يوما كان هذا وطنا مستعارا له فانتقض به وطنه بالكوفة والتحق بمن لم يدخلها قط فلهذا يصلي بها ركعتين ۔المبسوط للسرخسی،باب صلوۃ المسافر253/1)

آبادی کی وسعت کی وجہ سے مسافت سفر باقی نہ رہے:

جس محلے سے سفر شروع کیا جارہا ہے اور اور اس مقام تک جہاں جانا ہے دونوں کے درمیان اگر اڑتالیس میل کی مسافت ہے تو قصر وغیرہ کیا جاسکتا ہے گرچہ آبادی کے پھیل جانے کی وجہ سے دونوں شہروں کے درمیان سفر شرعی کی مسافت باقی نہ رہے ،لھذا ایسے دو شہر جن کے درمیان پہلے مسافت سفر تھی لیکن آبادی کی وسعت کی وجہ سے وہ مسافت باقی نہیں رہی پھر قصر کا حکم برقرار رہے گا ۔

دوران سفر وطن اصلی سے گزرنا:

اگر کوئی مسافر دوران سفر بس یا ٹرین کے ذریعے وطن اصلی کے درمیان سے یا وطن اصلی کی حدود سے گزرے تو وہ مسافر باقی نہیں رہے گا لہذا اگر اس کے بعد کی مسافت سفر شرعی کی مسافت سے کم ہے تو وہ قصر نہیں کرےگا اور اگر وطن اصلی کے بعد والی مسافت سفر شرعی کے بقدر ہے تو وطن اصلی سے روانہ ہونے کے بعد قصر کرےگا لیکن اگر وطن اصلی کی حدود کے بجائے اس کے محاذات اور سامنے سے گزرے تو وہ مسافر باقی رہے گا ۔
البتہ ہوائی جہاز کے ذریعے گزرنے میں وطن اصلی کی حدود یا درمیان سے گزرنا نہیں پایا جاتا ہے بلکہ ایک طرح سے محاذات سے گزرنا ہوتا ہے اس لئے وہ مسافر باقی رہےگا ۔
اس سے متعلق فقہی عبارتیں درج ذیل ہیں:
"وإذا دخل المسافر مصره أتم الصلاة ‌وإن ‌لم ‌ينو ‌الإقامة فيه سواء دخله بنية الاجتياز أو دخله لقضاء الحاجة كذا في الجوهرة النيرة.”
(الھندیۃ ۔كتاب الصلاة، الباب الخامس عشر في صلاة المسافر،142/1 ط:دار الفکر)
"(قوله ‌حتى ‌يدخل ‌موضع ‌مقامه) أي الذي فارق بيوته سواء دخله بنية الاجتياز أو دخله لقضاء حاجة لأن مصره متعين للإقامة فلا يحتاج إلى نية جوهرة، ودخل في موضع المقام ما ألحق به كالربض كما أفاده القهستاني (قوله إن سار إلخ) قيد لقوله حتى يدخل إي إنما يدوم على القصر إلى الدخول إن سار ثلاثة أيام.”
۔۔۔۔فلو كان العمران من الجانبين فلابد من مجاوزته. ولو حاذاه من احد جانبيه فقط لا يضره كما في قاضيخان وغيره ۔
(‌‌رد المحتار ۔كتاب الصلاة، ‌‌باب صلاة المسافر124/2 ط:سعيد)

وطن اقامت سے سفر پر روانہ ہونا:

اگر کوئی شخص وطن اقامت سے سفر شرعی پر چلا جائے اور وطن اقامت واپسی پر پندرہ دن قیام کا ارادہ نہیں ہے تو کیا وہ مقیم شمار ہوگا یا مسافر؟ علماء دیوبند کے درمیان اس مسئلے میں اختلاف ہے ،بعض حضرات کے نزدیک وطن اقامت سفر شرعی سے باطل ہوجاتا ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر جائے اقامت پر سامان وغیرہ موجود ہے اور دوبارہ لوٹ کر آنے کا ارادہ ہے تو دو ایک دن رہنے کے ارادے سے بھی واپس آۓ تو وہ پوری نماز پڑھے گا ۔دونوں طرح کی فتاوے ملاحظہ ہوں:

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ:
۱- زید کی جائے ملازمت اس کے گھر سے تقریباً سو کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے‘ وہاں اس کے کمرے میں اس کا ذاتی بستر ‘ چار پائی اور دیگر سامان موجود ہے‘ وہ کبھی تو پندرہ دن کی نیت کر کے وہاں رہتا ہے اور کبھی پندرہ دن سے کم‘ اب اگراس کی پندرہ دن سے کم کی نیت ہے‘ تووہاں نمازیں پوری پڑھے یا قصر کرے؟علمائے کرام سے سن رکھا تھا کہ کسی کی وطن اقامت میں پندرہ دن سے کم رہنے کی نیت ہے تواس کے لئے وہاں قصر نماز ہوگی۔ اب ایک مفتی صاحب نے بتایا کہ وطن اقامت میں اگر اس کا ایک کمرہ ہے اور اس کی چابی بھی اس کے پاس ہے تو اگر کسی بھی وقت اس نے وہاں پندرہ دن رہنے کی نیت کرلی تو مقیم ہو جائے گا۔ وطن اقامت‘ وطن اصلی میں آنے جانے کی وجہ سے باطل نہ ہوگا۔ وطن اصلی سے وطن اقامت میں آتے ہی وہ مقیم ہوجائے گا‘ اگرچہ وطن اقامت میں اس نے پندرہ دن سے کم رہنے کی نیت کی ہو‘ اس عالم دین نے علامہ شامی اور چند دیگر عصر حاضر کے علماء کا زبانی طور پر حوالہ دیا ہے، آپ سے گذارش ہے کہ آپ وطن اقامت کے بارے میں مفتی بہ قول کو مع حوالہ جات تحریر فرمائیں اور یہ بھی تحریر فرمائیں کہ وطن اقامت کون کونسی شرائط کی بناء پر باطل نہ ہوگا ۔
۲- ایک دینی طالب علم جو کم ازکم ایک سال تک کسی مدرسہ میں قیام کا ارادہ رکھتا ہو‘ اور وہ ایک بار پندرہ دن سے زائد کی نیت سے مذکورہ مدرسہ میں قیام کرچکا ہے ۔ اب اگر وہ مدرسہ میں پندرہ دن سے کم کی نیت سے آئے تو کیا مدرسہ میں قصر نماز پڑھے یا پوری ؟ جب کہ وہ مدرسہ کے جس کمرہ میں رہتا ہے اس کے مشترکہ تالے کی ایک چابی اس کے پاس ہے‘ اس کا ذاتی بستر‘ چار پائی‘ پیٹی اور کپڑوں کا بیگ وغیرہ مدرسہ میں ہوتا ہے ۔
۳- اب تک اگروہ طالب علم پندرہ دن سے کم رہنے کی صورت میں قصر نمازیں پڑھتا اور پڑھاتا رہا تو اس کی ان گذشتہ نمازوں کا کیا حکم ہوگا؟
از راہ کرم جواب عنایت فرمائیں‘ اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا وآخرت کی کامیابی سے سرفراز فرمائیں۔
مستفتی:دوست محمد متعلم موقوف علیہ
الجواب ومنہ الصدق والصواب
واضح رہے کہ وطن اقامت کے بارے میں فقہ حنفی کی کتابوں سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وطن اقامت سے بنیت سفر نفس خروج ہی وطن اقامت کے لئے مبطل ہے‘ جیساکہ ”الدر المختار“ ج:۲‘ص:۱۳۲ باب صلاة المسافر میں ہے:
”(و)یبطل (وطن الاقامة بمثلہ و) بالوطن الاصلی (و) بانشاء (السفر)“۔
اور فتاویٰ ہندیہ الباب الخامس عشر‘ ج:۱‘ ص:۱۴۲ میں ہے:
”ووطن الاقامة یبطل بوطن الاقامة وبانشاء السفر وبالوطن الاصلی ہکذا فی التبیین“۔
اسی طرح حلبی کبیر :
”فصل فی صلاة المسافر : ص:۵۴۴‘ ط:
سہیل اکیڈمی میں ہے۔ مذکورہ بالا عبارات فقہیہ سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ مقیم آدمی اگر بنیت سفر وطن اقامت سے چلا جائے تو دو بارہ جب اس وطن اقامت میں پندرہ دن سے کم کی نیت کرکے آئے گا تو وہ مسافر رہے گا اور قصر نماز پڑھے گا‘ لیکن ان عبارات فقہیہ کی صحیح مراد سمجھنے کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ عبارات فقہیہ پر غور کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وطن اقامت سے محض سفر کرنا ہی وطن اقامت کے لئے مبطل نہیں ہے یعنی وطن اقامت محض سفر کرنے سے باطل نہیں ہوتا‘ بلکہ سفر بصورت ارتحال مبطل ہے یعنی یہ بطلان اس وقت ہوگا جب کہ وطن اقامت سے جاتے وقت اپنا سامان وغیرہ بھی ہمراہ لیجاکر وطن اقامت کو بالکلیہ ختم کردے‘ جس سے یہ سمجھا جائے کہ مذکورہ شخص کا ارادہ فی الحال دو بارہ یہاں آنے کا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وطن اصلی سفر سے باطل نہیں ہوتا‘ کیونکہ وطن اصلی سے سفر کرنا وطن اصلی کے چھوڑنے پر دلالت نہیں کرتا‘ بلکہ اہل وعیال وغیرہ کی موجودگی اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جانے والا اس مقام پر دوبارہ واپس آنے کے قصد وارادہ سے جارہا ہے‘ لہذا اگر وطن اصلی سے جانے والا کوئی شخص اہل وعیال سمیت چلا جائے اور کسی دوسری جگہ کو وطن اصلی بنالے اور پہلے والے وطن اصلی کو بالکلیہ ختم کردے تو ایسی صورت میں پہلے والے وطن اصلی کی وطنیت بھی ختم ہوجاتی ہے‘ یہ بات کتب فقہ میں مصرح ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بطلان وطن کا مدار ترک وطن یا اعراض عن التوطن پر ہے‘ محض خروج بنیت سفر پر نہیں‘ پس جس خروج سے بھی ترک توطن کا عزم کرلیا اور وہاں سے نکل پڑا اور اس وطن کی رہائش بالکلیہ ختم کردی‘ یا کسی دوسری جگہ کو وطن اصلی بنالیا‘ تو وہ وطن باطل ہو جائے گا‘ خواہ یہ وطن اصلی ہو یا وطن اقامت ہو۔ البتہ ان دونوں وطنوں سے سفر کرنے میں عام طور پرایک فرق ہوا کرتا ہے جس کی وجہ سے ان دونوں وطنوں کے متعلق حکم مختلف ہوا کرتا ہے‘وہ یہ کہ : وطن اصلی سے سفر عام حالات میں بدوں ارادہ ترک وطن ہوتا ہے یعنی کسی حاجت وغیرہ کے لئے سفر کرنا پڑتا ہے پھر واپس اسی وطن پر آنا ہوتا ہے اور یہ سفر بصورت ارتحال نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف وطن اقامت سے سفر عموماً بارادہٴ ترک وطن ہوتا ہے‘ کیونکہ اصلی رہائش تو کسی اور جگہ ہوتی ہے‘ یہاں ضرورت کے لئے قیام تھا‘ ضرورت پوری ہونے پر یہاں سے جانا ہوتا ہے‘ اس فرق کے پیش نظر یہ کہا گیا ہے کہ سفر وطن اقامت کے لئے مبطل ہے‘ پس متون کی تعبیر سفر کے اسی فرد مطلق کے بارے میں ہوگی‘ تمام سفروں کے بارے میں نہیں ہوگی ”بدائع“ کی تعلیل سے یہی معلوم ہوتا ہے ‘ ملاحظہ ہو:
”وینقض بالسفر ایضا‘ لان توطنہ فی ہذا المقام لیس للقرار‘ ولکن لحاجة‘ فاذا سافر منہ یستدل بہ علی قضاء حاجتہ فصار معرضا عن التوطن بہ فصار ناقضا لہ دلالة“۔ (کتاب الصلاة فصل: والکلامہ فی صلاة المسافر: ط: سعید)
امام کاسانی کی مذکورہ تعلیل سے یہی بات ظاہر ہوتی ہے کہ وطن اقامت کو باطل کرنے والے سفر سے مراد یہ ہے کہ اب یہاں رہائش کی حاجت نہ رہے اور جانے والا اس مقام کی وطنیت کو ختم کردے اور یہ اس سفر میں ہوتا ہے جو کہ بصورت ارتحال ہوتا ہے اور وطن اقامت میں کچھ بھی نہ رہے۔ اس کے برخلاف جس شہر یا جگہ میں کامل رہائش ہے‘ رہائش کی نیت بھی ہے اور رہائش کا سامان بھی وہی ہیں‘ اگرچہ وہ اس کا وطن اصلی نہیں ہے تو یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس شخص نے اپنا وطن اقامت ختم نہیں کیا۔ صاحب بحر نے تصریح کی ہے کہ بقاء ثقل یعنی سامانِ رہائش وغیرہ کے باقی رہنے سے وطن اقامت باقی رہتا ہے‘ اگرچہ دوسری جگہ سفر اختیار کرلے۔ صاحب بحر کی عبارت ملاحظہ ہو:
”وفی المحیط: ولوکان لہ اہل بالکوفة واہل بالبصرة‘ فمات اہلہ بالبصرة لاتبقی وطنا لہ‘ وقیل: تبقی وطنا‘ لانہا کانت وطنا لہ بالاہل والدار جمیعا فبزوال احدہما لایرتفع الوطن‘ کوطن الاقامة یبقی ببقاء الثقل وان اقام بموضع آخر“۔ (باب المسافرج:۲‘ ص:۱۳۶‘ ط: سعید)
۱- لہذا صورت مسئولہ میں اگر زید اپنے گھر سے سو کلو میٹر دور‘ جائے ملازمت میں رہائش پذیر ہے‘ جائے ملازمت میں اس کا کمرہ ‘ ذاتی سامان جیسے بستر‘ چار پائی وغیرہ موجود ہے تو اس صورت میں اگر ایک دفعہ جائے ملازمت میں پندرہ دن اقامت کرچکا ہے‘ جیساکہ سوال میں تصریح ہے تو جب تک زید اس جگہ ملازمت کو چھوڑ کر موجودہ رہائش بالکل ختم نہیں کرتا‘ اس وقت تک جب بھی وطن اقامت (جائے ملازمت) آئے تو چاہے ایک ہی دن کے لئے آئے‘ وہ مقیم ہی رہے گا اور پوری نماز پڑھے گا‘ قصر نہیں کرے گا۔
۲- کوئی طالب علم اگر کسی مدرسہ میں ایک سال یا اس سے زائد مدت تک پڑھنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس مدرسہ میں اس کا سامان وغیرہ موجود ہے اور ایک مرتبہ اس مدرسہ میں پندرہ دن کی اقامت بھی کر چکا ہے تو مدرسہ اس طالب علم کا وطن اقامت بن چکا ہے‘ لہذا جب تک یہ طالب علم مذکورہ مدرسہ سے مستقل نہیں چلاجاتا‘ اس وقت تک جب بھی اس مدرسہ میں سفر وغیرہ سے آئے گا تو مدرسہ آنے کے بعد خواہ پندرہ دن سے کم ہی کیوں نہ ہو‘ وہ مقیم ہی شمار ہوگا اور مذکورہ مدرسہ میں قصر نماز نہیں پڑھے گا‘ بلکہ پوری نماز پڑھے گا۔
۳- مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مذکورہ طالب علم مذکورہ مدرسہ میں مقیم شمار ہوگا اور مقیم کے لئے چار رکعت والی نمازوں میں مکمل چار رکعت پڑھنا واجب اور ضروری ہے‘ اگر مقیم آدمی بجائے چار رکعت کے قصر نماز پڑھے تو اس کی نماز بوجہ ناقص ہونے کے ادا نہ ہوگی۔ اسی طرح مقیم امام اگر چار کے بجائے دو رکعت پڑھائے یعنی نماز قصر پڑھائے تو جب امام کی نماز درست نہیں ہوئی تو مقتدیوں کی نمازیں بھی ادا نہیں ہوئیں۔ ایسی پڑھی گئیں تمام نمازوں کا اعادہ واجب اور ضروری ہے‘ ورنہ فرض ذمہ میں باقی رہے گا‘جیساکہ حدیث شریف میں ہے:
”عن عائشة زوج النبی ﷺ قالت: فرضت الصلاة رکعتین فی الحضر والسفر فاقرت صلاة السفر وزیدت فی صلاة الحضر“۔ (مسلم شریف‘ ج:۱‘ ص:۲۴۱‘ ط: قدیمی)
دوسری حدیث شریف میں ہے:
”عن ابن عباس قال ان اللہ فرض الصلاة علی لسان نبیکم علی المسافر رکعتین وعلی المقیم اربعاوفی الخوف رکعة“۔ (حوالہ بالا)
اور فتاویٰ شامی میں ہے:
”بل التضمین ان صلاة الامام متضمنة لصلاة المقتدی ولذا اشترط عدم مغایرتہما فاذا صحت صلاة الامام‘ صحت صلاة المقتدی‘ لانہ متی فسدالشئ فسد ما فی ضمنہ“۔ (کتاب الصلاة‘ باب الامامة ج:۱‘ ص:۵۹۱‘ ط:سعید)
لہذا مذکورہ طالب علم نے حالت اقامت میں پوری نماز پڑھنے کی بجائے جو نمازیں قصر پڑھی ہیں اور اسی طرح جو نمازیں امام بن کر پڑھائی ہیں تو ایسی تمام نمازوں کا اعادہ امام اور مقتدی پر لازم ہے۔ اعادہ کے لئے اگر ممکن ہوسکے تو فرداً فرداً اطلاع کردی جائے یا بصورت دیگر عام اعلان کے ذریعہ ایسے مقتدیوں کو پڑھی گئی نمازوں کا اعادہ کرنے کا کہہ د یا جائے۔
الجواب صحیح الجواب صحیح
صالح محمد کاروڑی محمد داؤد
کتبہ
عبد الواحد ایاز
متخصص فی الفقہ الاسلامی
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

احسن الفتاوی میں اسی طرح کی ایک تحریر مفتی عبد السّتار صاحب کی لکھی ہوئی موجود ہے اور مولانا رشید احمد صاحب لدھیانوی نے ان کی تائید کی ہے ۔(دیکھئے:احسن الفتاوی 108/4)
اور خیر الفتاوی میں ہے:
مستقل وطن اقامت سفر سے باطل نہیں ہوتا۔687/2.
میرے خیال میں یہی زیادہ راجح ہے ۔

سوال نمبر: 166850

عنوان:وطن اقامت مطلق سفر شرعی سے باطل ہوجاتا ہے
سوال:آپ کے ایک فتوی کی عبارت یہ ہے جس جگہ آدمی محض ملازمت کی وجہ سے قیام پذیر ہو، وہاں اس کی مستقل قیام اور رہائش کی نیت نہ ہو تو وہ وہ جگہ ملازم کے لیے وطن اصلی نہیں ہوگی خواہ وہ شخص وہاں معہ اہل وعیال مقیم ہو یا اہل وعیال کے بغیر تنہا مقیم ہو؛ البتہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی صورت میں وہ وطن اقامت ہوگی اور وطن اقامت مطلق سفر شرعی سے باطل ہوجاتا ہے خواہ اس جگہ دوبارہ واپسی کا ارادہ ہو یا نہ ہو، نیز معہ جملہ سازو وسامان سفر کیا جائے یا کچھ سامان کے ساتھ یا تنہا بغیر سامان کے سفر کیا جائے ، بہر صورت مطلق سفر شرعی سے وطن اقامت باطل ہوجاتا ہے ، راجح اور مفتی بہ قول یہی ہے اور کتب فقہ کے متون میں ایسا ہی ہے ؛ اس لیے صورت مسئولہ میں حامد جب بھی جائے ملازمت سے سفر شرعی پر جائے گا تو اس کا وطن اقامت باطل ہوجائے گا اور آئندہ اگر پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت سے جائے ملازمت پر آتا ہے تو وہ مقیم ہوگا ورنہ مسافر ہی رہے گا۔اکابر علمائے دیوبند کا یہی مسلک اور عمل ہے اور اصول افتا کی روشنی میں بھی یہی صحیح اور درست ہے (امداد المفتین، ص: ۳۲۱، ۳۲۲، سوال: ۲۵۱، مطبوعہ: مکتبہ دار العلوم کراچی، فتاوی محمودیہ ۷:۴۹۱ – ۴۹۴، سوال: ۳۵۸۸- ۳۵۹۱،مطبوعہ: ادارہ صدیق ڈابھیل، فتاوی رحیمیہ جدید، ۵: ۱۷۷، سوال: ۲۲۵، مطبوعہ: دار الاشاعت کراچی، وغیرہ )۔ اور ایک دوسرے دارالافتاء کا فتویٰ مندرجہ ذیل ہے وطن اقامت کے بارے میں فقہ حنفی کی کتابوں سے بظاہر معلوم ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔(اس کے بعد جامعہ بنوریہ کا مذکورہ فتوا نقل کیا گیا ہے)تو اس مسئلہ پر حتمی فتویٰ دلائل اور عبارت کے ساتھ تحریر فرمائیں۔
جواب نمبر: 166850

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa:256-67T/N6/1440

زیر بحث مسئلہ میں دار الافتا دار العلوم دیوبند کا حتمی فتوی وہی ہے، جو آپ نے سوال میں اوپر نقل فرمایا ہے۔ اور یہ فتوی متعلقہ تمام فقہی عبارات اور اکابر کے فتاوی مد نظر رکھ کر ہی لکھا گیا ہے۔ اور شروع سے اب تک تمام اکابر علمائے دیوبند کا یہی موقف اور معمول بہ ہے ۔ اور اگر آپ کو محیط کے جزئیہ سے اشتباہ ہورہا ہے تو معلوم ہونا چاہیے کہ محیط کے جزئیہ کا صحیح مطلب وہ ہے، جو حضرت مفتی محمود صاحب نے فتاوی مفتی محمود (۱۰: ۳۷۸، مطبوعہ: پاکستان) میں ذکر فرمایا ہے۔ اور جزئیہ کے اس مفہوم کی تائید اِس سے بھی ہوتی ہے کہ علامہ ابن نجیم مصری نے البحر الرائق (۱: ۲۳۹، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند)اور داماد آفندی نے مجمع الانہر (۱: ۲۴۳، مطبوعہ: دار الکتب العلمیة بیروت)میں اس جزئیہ کو نقل کرنے کے باوجود جب وطن اقامت کے مبطلات پر پہنچے تو مطلق سفر شرعی کو وطن اقامت کا مبطل قرار دیا، اسے کسی قید کے ساتھ مقید نہیں کیا ۔ اور صاحب النہر الفائق نے تو اس جزئیہ سے پہلے کی عبارت محیط سے نقل فرمائی اور اس جزئیہ کو مکمل ترک کردیا (النہر الفائق، ۱: ۳۴۹، مطبوعہ: دار الکتب العلمیہ بیروت)۔ اور علامہ ابن عابدین شامی نے بھی صاحب النہر کی اتباع میں ایسا ہی کیا ہے (شامی، ۲: ۶۱۴، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند)۔
اور اگر کسی کو مفتی صاحب موصوف کا بیان کردہ مطلب تسلیم نہ ہو تو دوسرا جواب یہ ہے کہ اس جزئیہ میں محیط سے محیط رضوی مراد ہے اور محیط رضوی میں ظاہر الروایہ، نوادر اور فتاوی وغیرہ سب طرح کے مسائل مخلوط جمع کیے گئے ہیں(حاشیہ شرح عقود رسم المفتی جدید محقق، ص: ۲۵۰)۔اور بہ ظاہر یہ نوادر یا فتاوی کا جزئیہ معلوم ہوتاہے ،اور اکابر علمائے دیوبند کا موقف کتب متون کا جزئیہ ہے، جن میں ظاہر الروایہ کے مسائل بیان کیے جاتے ہیں، اور ظاہر الروایہ کا کوئی مسئلہ نوادر یا فتاوی کے جزئیہ سے مقید نہیں کیا جاسکتا؛ اس لیے محیط کے اس جزئیہ سے متون میں آئے ہوئے مطلق سفر شرعی کو کسی دوسری قید کے ساتھ مقید کرنا درست نہ ہوگا۔
نیز وطن اقامت،محض نیت اقامت سے وطن ہوتا ہے اور سفر شرعی بہر صورت اقامت کی ضد ہے خواہ سازوسامان کے ساتھ کیا جائے اور آئندہ نہ آنے کے قصد کے ساتھ یا سازوسامان کے بغیر اور آئندہ واپس آنے کے قصد کے ساتھ؛ اس لیے مطلق سفر شرعی وطن اقامت کو باطل کردیتا ہے۔

قال في الخیریة: وحیث علم أن القول ھو الذي تواردت علیہ المتون فھو المعتمد المعمول بہ؛ إذ صرحوا بأنہ إذا تعارض ما في المتون والفتاوی فالمعتمد ما في المتون، وکذا یقدم ما في الشروح علی ما في الفتاوی انتھی، وفي فصل الحبس من البحر: والعمل علی ما في المتون ؛ لأنہ إذا تعارض ما في المتون والفتاوی فالمعتمد ما في المتون کما في أنفع الوسائل، وکذا یقدم ما في الشروح علی ما في الفتاوی انتھی الخ (شرح عقود رسم المفتي، ص: ۳۴۴، ۳۴۵)، وینبغي أن یزید: ”وبضدہ“ کبطلان وطن الإقامة أو السکنی بالسفر فإنہ في البحر علل لذلک بقولہ: ”لأنہ ضدہ“ (رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ۲: ۶۱۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

وطن کی قسمیں:

فقہاء کرام نے وطن کی تین قسمیں بیان کی ہیں:وطن اصلی ،وطن اقامت ،وطن سکونت ۔

وطن اصلی:

جہاں والدین مستقل طور پر رہتے ہیں جس کی تعبیر عام طور پر جائے ولادت سے کی جاتی ہے کہ عموما وطن اصلی ہی میں پیدائش ہوتی ہے یا جہاں شادی کرکے مستقل رہنے کی نیت کرلی ہو یا کسب معاش کے لئے یا کسی اور وجہ سے کہیں مستقل رہنے کا ارادہ ہے گرچہ اس کے اہل و عیال کا قیام دوسری جگہ ہو تو وہ وطن اصلی ہے ۔

علامہ ابن نجیم لکھتے ہیں:
"‌والوطن ‌الأصلي هو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده، وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها.”
(البحرالرائق ،باب صلوة المسافر147/2ط: دارالكتاب الاسلامي)

علامہ حصکفی لکھتے ہیں:
’’( الوطن الأصلي ) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه‘‘.
اس کی شرح میں علامہ شامی کہتے ہیں:
(قوله أو توطنه) أي عزم على القرار فيه وعدم الارتحال وإن لم يتأهل، فلو كان له أبوان ببلد غير مولده وهو بالغ ولم يتأهل به فليس ذلك وطنا له إلا إذا عزم على القرار فيه وترك الوطن الذي كان له قبله شرح المنية(رد المحتار علي الدر المختار ، كتا ب الصلاة ، مطلب في الوطن الأصلي ووطن الإقامة2/ 131 ط: سعيد)
اور علامہ عبدالرحمن جزیری لکھتے ہیں:
ثم ان الموطن عندهم ينقسم الى قسمين اصلي وهو الذي ولد فيه الانسان او له فيه زوج في عصمته او قصد ان يرتزق فيه وان لم يولد به ولم يكن له به زوج.(كتاب الفقه على المذاهب الاربعه 426/1)
حاصل یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی جگہ مستقل قیام کا اردہ رکھتا ہے تو وہ اس کے لئے وطن اصلی ہے خواہ وہ اس کی جائے ولادت ہو یا جائے ملازمت یا سسرال ۔خواہ وہاں ذاتی مکان موجود ہو یا نہ ہو یعنی کسی جگہ کے وطن اصلی ہونے کے لئے مکان یا زمین جائداد یا اہل وعیال کا وہاں قیام کا ہونا شرط نہیں ہے بلکہ اصل چیز مستقل قیام کا ارادہ ہے اس لئے اگر کسی جگہ ذاتی مکان تو ہے مگر وہاں مستقل رہنے کی نیت نہیں ہے تو محض مکان کی وجہ سے وہ وطن اصلی شمار نہیں ہوگا ۔
علامہ شامی لکھتے ہیں:
(قوله أو تأهله) أي تزوجه. قال في شرح المنية: ولو تزوج المسافر ببلد ولم ينو الإقامة به فقيل لا يصير مقيما، وقيل يصير مقيما؛ وهو الأوجه ولو كان له أهل ببلدتين فأيتهما دخلها صار مقيما، فإن ماتت زوجته في إحداهما وبقي له فيها دور وعقار قيل لا يبقى وطنا له إذ المعتبر الأهل دون الدار كما لو تأهل ببلدة واستقرت سكنا له وليس له فيها دار وقيل تبقى.قوله او توطنه اي عزم على القرار فيه وعدم الارتحال وان لم يتاهل. اهـ.(ردالمحتار131/2)
اور علامہ ابن نجیم لکھتے ہیں:
الا ترى انه لو تاهل ببلده لم يكن له فيها عقار صارت وطنا له (البحر الرائق239/2)
اور موسوعہ فقیہ میں ہے:
ومما تقدم يتبين ان الوطن الاصلي يتحقق عند اغلب الفقهاء بالاقامة الدائمة على نية التابيد سواء اكان في مكان ولادته ام في مكان اخر ويلحق بذلك مكان الزوجة.(267/27)
اور علامہ وہبہ زحیلی لکھتے ہیں:
الوطن الاصلي وهو موطن ولادة الانسان او موطن تاهله اي تزوجه من قصده التعيش به لا الارتحال عنها او مكان توطن فيه اي عزم على القرار فيه وعدم الارتحال عنه وان لم يتاهل به.(الفقه الاسلامي158/2)
وطن اصلی ایک سے زائد ہوسکتا ہے یعنی کوئی شخص متعدد جگہوں پر رہنے کے لئے گھر بنالے یا ایک سے زائد جگہ پر شادی کرکے بیوی کو وہیں رکھے اور موقع بموقع وہاں آتا جاتا رہے ۔
محض شادی سے سسرال وطن اصلی نہیں ہوگا چنانچہ اللہ کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر حضرت میمونہ سے مکہ میں نکاح کیا اور اس کے باوجود قصر کرتے رہے حضرت انس کہتے ہیں:
خرجنا مع النبي من المدينة الى مكة وكان يصلي ركعتين ركعتين حتى رجعنا الى المدينة (صحيح بخاري147/1)
اور فتاوی قاضی خاں میں ہے :
ان كان ذلك وطنا اصليا بان كان مولده وسكن فيه او لم يكن مولده ولكنه تاهل به وجعله دارا. (فتاوى قاضي خان على هامش الهنديه65/1)
اور مولانا ظفر احمد عثمانی لکھتے ہیں:
کسی شہر میں محض نکاح کر لینے سے وہ وطن اصلی نہیں ہو جاتا بلکہ اہل کا وہاں رکھنا اور وہاں سے منتقل نہ کرنا شرط ہے۔(امداد الاحکام 696/1)
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے مکہ میں نکاح کیا تھا اور اپنی اہلیہ کو وہیں رکھنے کا ارادہ تھا اس لیے انہوں نے حج کے موقع پر پوری نماز پڑھی اور جب لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تو انہوں نے فرمایا:
يا ايها الناس اني تاهلت بمكة منذ قدمت واني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من تاهل في بلد فليصل صلاة المقيم( مسند احمد351/1)
اور ہدایہ کی شرح کفایہ میں ہے:
ولو كان له اهل ببلدة فاستحدث في بلدة اخرى اهلا اخر كان كل واحد منهما وطنا اصليا له روي انه كان لعثمان اهل بمكة واهل بالمدينه وكان يتم الصلاه بهما جميعا.(الكفاية17/2).
لیکن اگر کوئی شخص وطن اصلی کو مستقل طور پہ چھوڑ دے اور دوسری جگہ جا کر بس جائے تو پہلا وطن اصلی باطل ہو جائے گا اور اگر وہ مسافت سفر پر ہے تو وہاں آنے پر مسافر شمار ہوگا جیسے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلے مکہ وطن تھا لیکن اپ نے اسے ترک کر دیا اور مدینے کو اپنا وطن بنا لیا اور اس کے بعد جب اپ مکہ اتے تو قصر کیا کرتے تھے چنانچہ الکفایہ میں ہے:
الا ترى ان مكة كانت وطنا اصليا لرسول الله صلى الله عليه وسلم ثم لما هاجر منها الى المدينه باهله وتوطن ثمة انتقض وطنه في مكة حتى قال عليه الصلاه والسلام عام حجة الوداع اتموا صلاتكم يا اهل مكة فانا قوم سفر.(الكفاية 17/2)
اور اگر وطن اصلی کو ترک نہ کرے یا ترک کردے لیکن کسی دوسری جگہ پر وطن اصلی کی حیثیت سے اقامت اختیار نہ کرے تو ایسی صورت میں وطن اصلی باقی رہے گا۔
لانه لو انتقل منه قاصدا غيره ثم بدأ له ان يتوطن في مكان آخر فمر بالاول اتم لانه لم يتوطن غيره ( رد المحتار على الدر المختار ٦١٤/٢ )
الوطن الأصلي لا ينتقض الا بالانتقال عنه واستيطان آخر ( فتح القدير ٤١/٢ )

وطن اقامت:

وطن اقامت وہ ہے جہاں کوئی پندرہ دن اور پندرہ رات اقامت کی نیت کرلے اگر اس سے کچھ کم ہے تو وہ مقیم نہیں سمجھا جائے گا بلکہ مسافر شمار ہوگا ۔
علامہ کاسانی رقم طراز ہیں:
وهو ان يقصد الانسان ان يمكث في موضع صالح للاقامه خمسة عشر يوما او اكثر.(البدائع 280/1)
علامہ شامی لکھتے ہیں:
"(فيقصر إن نوى) الإقامة (في أقل منه) أي في نصف شهر (قوله في أقل منه) ظاهره ولو بساعة واحدة وهذا شروع في محترز ما تقدم ط.”(کتاب الصلاۃ باب صلاۃ المسافر 125/2،ط،ایچ ایم سعید)
وطن اقامت وطن اصلی اور وطن اقامت سے باطل ہو جاتا ہے یعنی اگر کوئی شخص وطن اقامت سے وطن اصلی آجائے اور پھر دوبارہ اس جگہ جائے اور 15 دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو وہ وہاں مسافر شمار نہیں ہوگا اسی طرح سے وہاں سے دوسری جگہ چلا جائے اور وہاں 15 دن ٹھہرنے کا ارادہ ہو پھر دوبارہ وطن اقامت میں ائے اور 15 دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو وہ مسافر نہیں سمجھا جائے گا۔

وطن سکونت:

وطن سکونت وہ جگہ ہے جہاں پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہو ۔
مبسوط للسرخسی میں ہے:
"فالحاصل أن الأوطان ثلاثة. وطن قرار ويسمى ‌الوطن ‌الأصلي وهو أنه إذا نشأ ببلدة أو تأهل بها توطن بها. ووطن مستعار وهو أن ينوي المسافر المقام في موضع خمسة عشر يوما وهو بعيد عن وطنه الأصلي ووطن سكنى وهو أن ينوي المسافر المقام في موضع أقل من خمسة عشر يوما أو خمسة عشر يوما وهو قريب من وطنه الأصلي، ثم ‌الوطن ‌الأصلي لا ينقضه إلا وطن أصلي مثله، والوطن المستعار ينقضه ‌الوطن ‌الأصلي ووطن مستعار مثله والسفر لا ينقضه وطن السكنى لأنه دونه، ووطن السكنى ينقضه كل شيء إلا الخروج منه لا على نية السفر.”
(كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، اقتداء المسافر بالمقيم في الصلاة،107/2 ، ط:دار المعرفة)

اور علامہ کاسانی لکھتے ہیں:

"(ووطن) الإقامة ينتقض بالوطن الأصلي؛ لأنه فوقه، وبوطن الإقامة أيضا؛ لأنه مثله، والشيء يجوز أن ينسخ بمثله، وينتقض بالسفر أيضا؛ لأن توطنه في هذا المقام ليس للقرار ولكن لحاجة، فإذا سافر منه يستدل به على قضاء حاجته فصار معرضا عن التوطن به، فصار ناقضا له دلالة، ولا ينتقض وطن الإقامة بوطن السكنى؛ لأنه دونه فلا ينسخه.”

(كتاب الصلاة، فصل بيان ما يصير المسافر به مقيما103/1، ط:دار الكتب العلمية)

جائے پیدائش سے منتقل ہوکر دوسری جگہ مستقل رہائش اختیار کرنا:

جیسا کہ گزر چکا ہے کہ وطن اصلی کا مدار مستقل رہائش کی نیت پر ہے ۔لہذا اگر کوئی شخص مستقل رہنے کے ارادے سے گاؤں سے شہر آجائے اور گاؤں میں مستقل رہنے کا ارادہ نہیں ہے البتہ وہاں موجود زمین ،جائداد اور مکان وغیرہ کی دیکھ ریکھ کے لئے سال میں دو ایک مرتبہ جاتا ہے یا چھٹی کے موقع پر فیملی کو لے کر آتا ہے تو وہ اس کا وطن اصلی باقی نہیں رہے گا اور دوسری جگہ مستقل رہائش کی نیت سے اس کی وطنیت ختم ہوگئی ہے البتہ اگر گاؤں میں بھی رہنے کا ارادہ ہے تو اس کی وطنیت برقرار رہے گی ۔
اس سے متعلق فقہی عبارتیں درج ذیل ہیں:
ثم الأوطان ثلاثة وطن أصلي وهو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها۔۔۔ فالوطن الأصلي ينتقض بمثله لا غير. وهو أن يتوطن الإنسان في بلدة أخرى وينقل الأهل إليها من بلدته فيخرج الأول من أن يكون وطنا أصليا له حتى لو دخل فيه مسافرا لا تصيرصلاته أربعا(بدائع الصّنائع،کتاب الصّلوۃ،باب صلوۃ المسافر،103/1، دارالكتب العلمية)
( الوطن الأصلي ) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه(یبطل بمثلہ)إذا لم يبق له بالأول أهل فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما.وقال الشامی تحتہ: أي وإن بقي له فيه عقار. قال في النهر : ولو نقل أهله ومتاعه وله دور في البلد لا تبقى وطنا له وقيل تبقى كذا في المحيط وغيره(الدّرالمختارمع ردّالمحتار،کتاب الصّلوۃ،باب صلوۃالمسافر،ج 131/2، سعيد)
( ويبطل الوطن الأصلي بمثله۔۔۔)وفي المجتبى نقل القولين فيما إذا نقل أهله ومتاعه وبقي له دور وعقار ثم قال وهذا جواب واقعة ابتلينا بها وكثير من المسلمين المتوطنين في البلاد ولهم دور وعقار في القرى البعيدة منها يصيفون بها بأهلهم ومتاعهم فلا بد من حفظها أنهما وطنان له لا يبطل أحدهما بالآخر۔(البحرالرائق،كتاب الصلوة،باب المسافر،147/2، دارالكتاب الاسلامي)

اقامت کی نیت کے سلسلے میں اولاد کا حکم:

نابالغ بچہ وطنیت اور اقامت کی نیت میں باپ کے تابع ہوگا ۔اور بالغ اولاد اس معاملے میں خود مختار ہوگی اور اس کی نیت کا اعتبار ہوگا ۔لہذا اگر کوئی جگہ باپ کے لئے وطن اصلی ہے لیکن بالغ اولاد کا وہاں رہنے کا ارادہ نہیں ہے تو وہ ان کے لئے وطن اصلی شمار نہیں ہوگا ۔
فلو كان له ابوان ببلد غير مولده وهو بالغ ولم يتاهل به فليس ذلك وطنا له الا اذا عزم على القرار فيه وترك الوطن الذي كان له قبله.( رد المحتار 132/2)
شہریت کے حصول کے بغیر مستقل رہائش کی نیت:

اگر کسی جگہ مستقل رہائش کی نیت ہے گرچہ وہاں کی شہریت حاصل نہیں ہے تو اسے وطن اصلی شمار کیا جائے گا اس سے متعلق فقہی عبارتیں گزر چکی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اصل اعتبار مستقل رہائش کی نیت کا ہے خواہ ملازمت یا ذریعے معاش کی وجہ سے مقیم ہو یا جائے پیدائش ہو یا وہاں نکاح کرکے رہنے کا ارادہ ہو۔
اور حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول ہے :
اذا قدمت على اهل لك او مال فصل صلاة المقيم لانه مقيم الذي فيه اهله فأشبه البلد الذي سافر منه (المغنى133/2)

 

 

 

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے