بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(5) دوا علاج سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
5-بے اجازت علاج:
جرمانہ اور تاوان سے بری ہونے کے لئے یہ بھی لازمی ہے کہ ڈاکٹر مریض کی اجازت سے علاج کرے۔ اور اگر وہ اجازت دینے کی پوزیشن میں نہ ہو مثلاً پاگل،بے ہوش یا نابالغ ہے تو اس کے سرپرستوں سے اجازت لینا واجب ہے ، اس اجازت میں کسی بھی طرح کا ذہنی اور نفسیاتی دباؤ نہ ہو، اگر اس نے ایسا نہیں کیا اور بے اجازت علاج شروع کردیا اور اس علاج سے فائدہ کے بجائے نقصان ہوا تو ڈاکٹر ذمہ دار ہوگا، گرچہ وہ علاج اس کی نظر میں ضروری ہی کیوں نہ ہو۔ مشہور محقق اور بالغ نظر فقیہہ علامہ ابن نجیم مصری حنفی لکھتے ہیں:
’’دونوں روایتوں کے مجموعہ سے پتہ چلتا ہے کہ تاوان واجب نہ ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں ، حد سے آگے نہ بڑھنا اور اجازت کا ہونا، اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں شرطیں نہیں پائی گئیں تو تاوان واجب ہے۔(البحر الرائق 29/8)
اس مسئلے میں بھی تقریباً تمام فقہاء کا اتفاق ہے۔(دیکھئے کتاب الام للامام الشافعی 176/6)، امام احمد کے متبعین کا بھی یہی خیال ہے۔( وان ختن صبیا بغیر اذن ولیہ فسرت جنایتہ ضمن لانہ قطع غیر ماذون۔ المغنی 313/5،)، لیکن علامہ ابن قیم حنبلی کو اس سے اختلاف ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ یہ ڈاکٹر کا احسان ہے اور احسان کرنے والے پر کوئی الزام نہیں، لہٰذا اس کی طرف سے علاج میں کوئی لاپرواہی نہ ہوئی ہو تو اسے ضامن قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں۔(زاد المعاد 141/4)
تاوان کے واجب ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف اس صورت میں ہے جب کہ مریض اجازت دینے کی پوزیشن میں ہو یا اس کے سرپرست موجود ہوں، اگر وہ اجازت دینے کا اہل نہیں مثلاً بے ہوش ہو اور جائے حادثہ پر اس کے متعلقین اور رشتہ دار موجود نہ ہوں اور نہ ہی ان سے ربط قائم کیا جاسکتا ہو تو اس صورت میں اگر آپریشن یا علاج ضروری ہو کہ اس کے بغیر مریض کی زندگی یا جسم کے کسی حصہ کو خطرہ لاحق ہے، علاج کے بغیر کوئی چارہ نہیں تو اس وقت بے اجازت علاج درست ہے اور ناکامی کی صورت میں وہ ذمہ دار نہ ہوگا، کیونکہ ہر انسان کا فریضہ ہے کہ وہ دوسرے کو نقصان اور ہلاکت سے بچانے کی بھرپور کوشش کرے، یہ اس کی ذمہ داری ہے اور اس کے واجبات میں شامل ہے، ایک انسانی جان کی کس قدر وقعت ہے اور اس سلسلہ میں وہ کس درجہ ماخوذ ہوگا؟ اس کا اندازہ اس مسئلہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ علامہ ابن قدامہ حنبلی نے لکھاہے:
’’اگرکوئی اس حالت میں پہنچ گیاکہ دوسرے کا کھانا اور پانی لئے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتاہے اور دوسرے سے اس نے مانگا لیکن دوسرے شخص نے اس کھانے سے اس وقت بے نیاز ہونے کے باوجود انکار کردیا اور اس کی وجہ سے یہ شخص مرگیا تو دوسرا جس سے کھانا مانگا تھا ضامن ہوگا ، نیز وہ فرماتے ہیں کہ کسی کو ہلاک ہوتے ہوئے دیکھ کر قدرت کے باوجود بچانے کی کوشش نہیں کی تو وہ گنہ گار ہوگا بلکہ بعض فقہاء کے یہاں ایک فرض سے غفلت کی بناپر تاوان بھی واجب ہے۔‘‘(المغنی238/8)
گویا ڈاکٹر اس حالت میں شریعت کی طرف سے اجازت یافتہ ہوتا ہے نیز دلالتا سرپرستوں کی طرف سے بھی اجازت ہوتی ہے کہ اگر وہ موقع پر موجود ہوتے تو ضرور اجازت دے دیتے۔