بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(43) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

50-حلال جانور کے حرام اجزاء کی خرید وفروخت:

 

    ذبح کردہ حلال جانور کا پتہ، نر اور مادہ کے اعضاء تناسل ،پیشاب کی تھیلی ۔کپورے اور غدود کا کھانا مکروہ تحریمی ہے ۔کیونکہ قرآن حکیم میں ہے :

    وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ۔

    اور ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال اور گندی چیزوں کو حرام قرار دے گا۔(سورہ الأعراف:157)

    مذکورہ چیزیں گندی اور گھناؤنی سمجھی جاتی ہیں اور طبیعت ان کو کھانے کے لئے آمادہ نہیں ہوتی ہے۔

   اور حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں:

    كان رسولُ اللهِ ﷺ يكرَهُ مِن الشّاةِ سَبْعًا المرارةَ والمَثانةَ والمحياةَ والذَّكَرَ والأُنثيَيْنِ والغُدَّةَ والدَّمَ ۔۔۔

    رسول اللہ ﷺ بکری کی سات چیزوں سے کراہت محسوس کرتے تھے:پتہ ،پیشاب کی تھیلی،نر اور مادہ کے اعضاء تناسل، خصیہ ، غدود اور خون ۔(المعجم الأوسط: 9480. ضعیف۔)

   اور حضرت مجاہد کی مرسل روایت میں ہے:

  کَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ مِنَ الشَّاةِ سَبْعًا: الدَّمَ، وَالْحَيَاءَ، وَالْأُنْثَيَيْنِ، وَالْغُدَّ، وَالذَّكَرَ، وَالْمَثَانَةَ، وَالْمَرَارَةَ.

    رسول اللہ ﷺ بکری کے سات اعضاء کھانے کو پسند نہیں کرتے تھے: خون، مادہ جانور کی پیشاب گاہ،دونوں خصیہ، غدود، نر جانور کی پیشاب گاہ ، مثانہ  اور پتہ۔( مصنف عبد الرزاق: 8802، السنن الکبری ٰ للبیہقیی 7/10۔ ضعیف)

    چونکہ خون کی حرمت قرآن سے ثابت ہے   اس لئے تمام ائمہ اسے حرام کہتے اور بقیہ صرف امام ابوحنیفہ کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے اور دیگر ائمہ کے یہاں جائز مگر ناپسندیدہ ہے۔علامہ ابن قدامہ حنبلی قربانی میں خصی جانور کے جواز کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

   اور اس لئے کہ خصی بنانے میں ایک ناگوار اور ناپسندیدہ حصے کو زائل کرنا ہے اور اس کی وجہ سے گوشت عمدہ اور جانور فربہ ہوجاتا ہے ۔(المغني371/13)

    اور دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ غدود کھانا مکروہ ہے کیونکہ حضرت مجاہد سے منقول روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اسے مکروہ سمجھتے تھے اور اس لئے بھی کہ طبیعت اسے کھانے سے گھن محسوس کرتی اور گندگی شمار کرتی ہے ،میرا خیال ہے کہ امام احمد نے اسے وجہ سے اسے مکروہ کہا ہے ،نہ کہ مذکورہ حدیث کی بنیاد پر ؛ کیونکہ انھوں نے مذکورہ روایت کو منکر قرار دیا ہے ۔(المغنی 352/13)

   فقہ حنفی میں بھی ایک قول کے مطابق ان چیزوں کو کھانا مکروہ تنزیہی ہے (1)

لیکن صرف انسانوں کے لئے ان چیزوں کا کھانا مکروہ ہے اور کتے اور بلی وغیرہ کو کھلانے میں کوئی کراہت نہیں ہے ۔اور چونکہ ان کا ایک جائز مصرف موجود ہے اس لئے ان کی خریدوفروخت میں کوئی حرج نہیں ہے۔(2)

 

(1)کرہ تحریما وقیل: تنزیہاً، والأول أوجہ، من الشاۃ، سبع: الحیاء، والخصیۃ، والغدّۃ، والمثانۃ، والمرارۃ، والدم المفسوح، والذکر للأثر الوارد في کراہیۃ ذلک۔ (الدر المختار مع الرد 478/10 ط:زکریا)

وَأَمَّا بَيَانُ مَا يَحْرُمُ أَكْلُهُ مِنْ أَجْزَاءِ الْحَيَوَانِ الْمَأْكُولِ فَاَلَّذِي يَحْرُمُ أَكْلُهُ مِنْهُ سَبْعَةٌ: الدَّمُ الْمَسْفُوحُ، وَالذَّكَرُ، وَالْأُنْثَيَانِ، وَالْقُبُلُ، وَالْغُدَّةُ، وَالْمَثَانَةُ، وَالْمَرَارَةُ لِقَوْلِهِ عَزَّ شَأْنُهُ ﴿وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ﴾ [الأعراف: ١٥٧] وَهَذِهِ الْأَشْيَاءُ السَّبْعَةُ مِمَّا تَسْتَخْبِثُهُ الطِّبَاعُ السَّلِيمَةُ فَكَانَتْ مُحَرَّمَةً.

وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ – رضي الله عنه – أَنَّهُ قَالَ: كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ – ﷺ – مِنْ الشَّاةِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَيَيْنِ وَالْقُبُلَ وَالْغُدَّةَ وَالْمَرَارَةَ وَالْمَثَانَةَ وَالدَّمَ فَالْمُرَادُ مِنْهُ كَرَاهَةُ التَّحْرِيمِ بِدَلِيلِ أَنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ الْأَشْيَاءِ السِّتَّةِ وَبَيْنَ الدَّمِ فِي الْكَرَاهَةِ، وَالدَّمُ الْمَسْفُوحُ مُحَرَّمٌ، وَالْمَرْوِيُّ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ – رحمه الله – أَنَّهُ قَالَ: الدَّمُ حَرَامٌ وَأَكْرَهُ السِّتَّةَ أَطْلَقَ اسْمَ الْحَرَامِ عَلَى الدَّمِ الْمَسْفُوحِ وَسَمَّى مَا سِوَاهُ مَكْرُوهًا؛ لِأَنَّ الْحَرَامَ الْمُطْلَقَ مَا ثَبَتَتْ حُرْمَتُهُ بِدَلِيلٍ مَقْطُوعٍ بِهِ، وَحُرْمَةُ الدَّمِ الْمَسْفُوحِ قَدْ ثَبَتَتْ بِدَلِيلٍ مَقْطُوعٍ بِهِ وَهُوَ النَّصُّ الْمُفَسَّرُ مِنْ الْكِتَابِ الْعَزِيزِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى عَزَّ شَأْنُهُ ﴿قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا﴾ [الأنعام: ١٤٥] إلَى قَوْلِهِ عَزَّ شَأْنُهُ ﴿أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ﴾ [الأنعام: ١٤٥] وَانْعِقَادُ الْإِجْمَاعِ أَيْضًا عَلَى حُرْمَتِهِ فَأَمَّا حُرْمَةُ مَا سِوَاهُ مِنْ الْأَشْيَاءِ السِّتَّةِ فَمَا ثَبَتَتْ بِدَلِيلٍ مَقْطُوعٍ بِهِ بَلْ بِالِاجْتِهَادِ أَوْ بِظَاهِرِ الْكِتَابِ الْعَزِيزِ الْمُحْتَمِلِ لِلتَّأْوِيلِ أَوْ الْحَدِيثِ لِذَلِكَ فَصَلَ بَيْنَهُمَا فِي الِاسْمِ فَسَمَّى ذَلِكَ حَرَامًا وَذَا مَكْرُوهًا وَاَللَّهُ عَزَّ اسْمُهُ أَعْلَمُ.(بدائع الصنائع61/5)

(2)وَفِي التَّنْجِيسِ أَنَّ الْمُخْتَارَ لِلْفَتْوَى جَوَازُ بَيْعِ لَحْمِ الْمَذْبُوحِ مِنْ السِّبَاعِ، وَكَذَا الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ لِأَنَّهُ طَاهِرٌ وَيُنْتَفَعُ بِهِ فِي إطْعَامِ سِنَّوْرَةٍ.(مجمع الانهر 108/2)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے