بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله( 8) دوا علاج سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

8-شراب سے علاج:

 

شراب کو علاج کے لئے بھی استعمال کرنا جائز نہیں ہے چنانچہ حضرت وائل کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک صاحب نے خمر کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے منع فرمایا ،انھوں نے عرض کیا کہ ہم اسے دوا کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا :

   إِنَّهُ لَيْسَ بِدَوَاءٍ، وَلَكِنَّهُ دَاءٌ ".

  وہ دوا نہیں بلکہ بیماری ہے۔ (صحیح مسلم: 1984)

  امام نووی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ اس میں صراحت ہے کہ خمر دوا نہیں ہے لہذا بطور دوا اسے استعمال کرنا حرام ہے گویا کہ بلا وجہ اسے تناول کر رہا ہے، ہمارے اصحاب (شافعیہ) کے یہاں یہی صحیح ہے۔ اسی طرح سے پیاس بجھانے کے لئے بھی اسے پینا حرام ہے الا یہ کہ لقمہ اٹک جائے اور اسے نگلنے کے لئے خمر کے علاوہ کوئی دوسری چیز موجود نہ ہو تو اس کے ذریعے لقمہ نگلنا ضروری ہے (تاکہ جان بچ سکے )اس لئے کہ اس وقت خمر سے شفاء یابی یقینی ہے برخلاف بطور دوا استعمال کرنا کہ اس میں شفاء یقینی نہیں ہے ۔(حاشیہ نووی علی صحیح مسلم ۔رقم الحدیث:1984)

 حاصل یہ ہے کہ فاقہ کشی سے جان جانے کا اندیشہ ہو تو مردار وغیرہ کھانے سے اور شراب کے ذریعے لقمہ نگلنے سے جان کی حفاظت یقینی ہے لیکن اس  بات کا یقین نہیں ہے کہ  واقعی شراب سے مرض کا ازالہ ہو جائیگا بلکہ رسول اللہ ﷺ نے تو فرمایا ہے کہ یہ بجائے خود بیماری ہے ، دوا نہیں ، لہٰذا اس سے علاج کا طریقہ متعین نہیں ہے۔

‏‏ اور علامہ مبارکپوری لکھتے ہیں :

بعض لوگوں نے دوا کے طور پر شراب پینے کی اجازت دی ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ عرینہ کے لوگوں کو اونٹ کے پیشاب سے علاج کرنے کی رخصت دی ہے حالانکہ پیشاب حرام ہے البتہ بعض بیماریوں میں اس سے فائدہ ہوتا ہے اس لئے آپ ﷺ نے اس کو پینے کی رخصت مرحمت فرمائی ۔

علامہ خطابی اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے پیشاب اور خمر کو برابر قرار دیا حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے دونوں کے درمیان فرق کیا ہے اور ایک کو صراحتاً جائز قرار دیا اور دوسرے سے واضح الفاظ میں منع کیا ہے اور جن دو چیزوں کے درمیان حدیث میں فرق کیا گیا ہے انہیں یکساں قرار دینا صحیح نہیں ہے ۔(تحفۃ الاحوذی ۔رقم الحدیث:2046)

  واضح رہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک انگور اور کھجور کی شراب کو خمر کہتے ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں ہے:

  الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ ؛ النَّخْلَةِ، وَالْعِنَبَةِ.

  کھجور اور انگور کے درخت سے خمر بنتا ہے۔

 (صحيح مسلم 1985)

   اور ان کے یہاں اس کی معمولی مقدار بھی حرام ہے گرچہ اس سے نشہ نہ ہو اور وہ ناپاک ہے، ان دو کے علاوہ دوسری نشہ اور چیزیں پاک ہیں ۔

  اور ان کے علاوہ دوسرے اماموں کے نزدیک ہر طرح کی نشہ آور  چیز ناپاک اور حرام ہے خواہ کم مقدار پینے کی وجہ سے نشہ نہ ہو چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.

ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور حرام ہے۔ (صحیح مسلم :2003)

  آج کل دوا اور خوشبو میں استعمال ہونے والی الکحل عام طورپر انگور اور کھجور سے نہیں بنائی جاتی ہے اس لئے امام ابوحنیفہ ؒ کے قول کے مطابق بعض علماء اس کے استعمال کی اجازت دیتے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے