بسم اللّه الرحمن الرحيم۔
غیر مسلم کو تحفے میں شراب دینا:
ولی اللہ مجید قاسمی ۔
اگر کسی کا غیر مسلم دوست شراب یا اس جیسی کوئی دوسری حرام چیز بطورِ ہدیہ پیش کرے تو خوش اسلوبی کے ساتھ قبول کرنے سے انکار کردینا چاہئے اور اگر کسی طور پر اس کے پاس شراب وغیرہ آجائے اسے ضائع کردینا ضروری ہے اور یہ سوچ کر اسے کسی غیر مسلم کو بطور تحفہ دینا درست نہیں ہےکہ وہ اس کے دین یا عرف کے مطابق جائز ہے۔ اور اس طرح سے مال کے ضیاع اور اسراف سے بچا جاسکتا ہے نیز وہ نہ تو خود اسے استعمال کر رہا ہے اور نہ کسی مسلمان کو حرام میں مبتلا کر رہا ہے۔کیونکہ ایسا کرنے میں حرام اور معصیت کے کام میں تعاون ہے اور جس طرح سے حرام کا ارتکاب حرام ہے اسی طرح سے اس میں تعاون بھی ناجائز ہے چنانچہ متعدد سندوں سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شراب کے سلسلے میں مختلف لوگوں پر لعنت کی ہے۔ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ، وَشَارِبَهَا وَسَاقِيَهَا، وَبَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا، وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا، وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ ".
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے لعنت بھیجی ہے شراب پر اور اس کے پینے والے ،پلانے والے ۔بیچنے والے ،خریدنے والے ۔رس کو نکالنے والے ۔نکلوانے والے اور شراب کو اٹھانے والے پر اور جس کے لئے اٹھاکر لے جایا جارہا ہے اس پر . (ابوداؤد :3674)
امام ابوداؤد نے اس حدیث کو نقل کرکے اس پر کوئی کلام نہیں کیا ہے بلکہ خاموشی اختیار کی ہے اور انھوں نے وضاحت کی ہے کہ جس حدیث پر وہ سکوت اختیار کریں ان کی نگاہ میں وہ لائق استدلال ہے ۔
اور حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ اس حدیث کو ابن سکن نے صحیح قرار دیا ہے اور امام ترمذی اور ابن ماجہ نے اسے حضرت انس کے حوالے سے نقل کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں.(التلخیص الحبیر 136/4)
شیخ البانی ،شعیب ارناؤط،بن باز اور بن عثیمین وغیرہ نے بھی حدیث کو صحیح کہا ہے ۔
الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ ابن عمر کی اس روایت کو امام احمد بن حنبل اور ابن ماجہ نے بھی نقل کیا ہے .(دیکھئے مسندِ احمد بن حنبل4787 سنن ابن ماجہ 3380)
اور مسند احمد کے محقق علامہ شعیب ارناؤط نے لکھا ہے :
صحيح بطرقه و شواهده.وهذا اسناد حسن.
یہ حدیث محدث وکیع کو جن راویوں کے ذریعے پہنچی ہے ان کے نام اور اور ان کے بارے میں ابن حجر عسقلانی کی رائے درج ذیل ہے :
1-عبد العزیز بن عمر بن عبدالعزیز ۔صدوق یخطی۔(تقریب)
2-ابوطعمہ ۔مقبول و لم يثبت ان مكحولا رماه بالكذب.(تقريب)
3-الغافقي مقبول.(تقريب)
اسی طرح کی ایک حدیث امام ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت انس کے حوالے سے نقل کی ہے(جامع ترمذي: 1295سنن ابن ماجہ: 3381)
اور گزر چکا ہے کہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس کے راویوں کو ثقہ کہا ہے۔اورشیخ البانی نے اس حدیث کو حسن ، صحیح قرار دیا ہے ۔
اور اس کے راویوں کے بارے میں حافظ ابنِ حجر عسقلانی کا کلام درج ذیل ہے :
1-عبد الله بن منير.ثقة حافظ.(تقريب.)
2-أبو عاصم.ثقة ثبت.(تقريب.)
3-شبيب صدوق يخطي. (تقريب.)
حافظ ابن حجر عسقلانی نے راویوں کی چھان بین میں ساٹھ سال سے زیادہ وقت لگایا ہے، اس فن سے ان کو شغف اور یہی ان کا اہم مشغلہ تھا اور اور انھوں نے جرح و تعدیل پر لکھی گئی کتابوں کا "تقریب التہذیب ” کے نام سے خلاصہ تیار کیا ہے گویا کہ یہ اس سے پہلے پانچ صدیوں میں لکھی گئی کتابوں کا نچوڑ ہے جس میں انھوں نے نہایت زرف نگاہی ،باریک بینی اور اعتدال و توازن کے ساتھ راویوں پر جنچا تلا حکم لگایا ہے اور یہ کتاب تقریباً تئیس سالوں تک ان کے سامنے رہی جس میں وہ حذف واضافہ کرتے رہے۔
انھوں نے اس کتاب میں راویوں کے کل بارہ درجات متعین کئے ہیں اور ذکر کردہ راویوں کا تعلق دوسرے درجے سے لے کر چھٹے درجے تک ہے اور ڈاکٹر ولید بن حسن عانی کی تحقیق کے مطابق دوسرے درجے کے راوی کی حدیث صحیح لذاتہ ۔تیسرے درجے کے راوی کی حدیث دوسرے مرتبہ کی صحیح لذاتہ ۔چوتھے درجے کے راوی کی حدیث تیسرے مرتبہ کی صحیح لذاتہ اور پانچویں درجے کے راوی کی حدیث پہلے مرتبہ کی حسن لذاتہ اور چھٹے درجے کے راوی کی حدیث یعنی مقبول کی حدیث دوسرے مرتبہ کی حسن لذاتہ اور لین الحدیث کی تیسرے مرتبہ کی حسن لذاتہ ہوتی ہے۔(دیکھئے منہج دراسۃ الاسانید والحکم علیہا)
حاصل یہ ہے کہ ان چھ درجات میں سے کسی بھی راوی کی حدیث ضعیف نہیں ہوتی ہے اس لئے مذکورہ حدیث کو ضعیف کہنا فن حدیث سے ناواقفیت کی دلیل ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول روایت کے الفاظ یہ ہیں:
سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ” أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَعَنَ الْخَمْرَ، وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا، وَشَارِبَهَا، وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ، وَبَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا، وَسَاقِيَهَا وَمُسْتَقِيَهَا ". ( أخرجه أحمد: 2897، وابن حبان :5356، والطبراني 12/233 :12976)
اس حدیث کے بارے میں امام منذری کہتے ہیں کہ امام احمد نے اسے صحیح سند کے ساتھ نیز ابن حبان نے اسے صحیح ابن حبان میں نقل کیا ہے اور حاکم نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے ۔{اور علامہ ذہبی نے ان کی تائید کی ہے ۔}(الترغيب175/3)
اور شعیب ارناؤط کہتے کہ حدیث صحیح لغیرہ ہے اور یہ سند حسن ہے ۔
واضح رہے کہ علامہ ابن تیمیہ نے اپنی متعدد کتابوں میں شراب کے سلسلے میں متعدد لوگوں پر لعنت کی حدیث کو صحیح ،ثابت اور اس کی سند کو جید قرار دیا ہے ۔(دیکھئے:رفع الملام /64 )نیز ابن الملقن نے بھی اس کی سند کو جید کہاہے۔( خلاصة البدر المنير 319/2) اور محدث أحمد شاكر نے مسند احمد کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔( تخريج المسند لشاكر 70/8)بلکہ صالح بن مهدي المقبلي (ت 1108هـ) نے اس روایت کو معنی کے اعتبار سے متواتر کہا ہے .(متواتر معنى كما قال في المقدمة. المصابيح في الأحاديث المتواترة:613 )
یاد رہے کہ روایت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ برائی کے کاموں میں کسی بھی نوعیت کا تعاون ممنوع ہے اور اس طرح کی حدیث سود کے سلسلے میں بھی ہے چنانچہ حضرت جابر سے روایت ہے :
لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ. وَقَالَ : ” هُمْ سَوَاءٌ ".(صحیح مسلم:1598)
رسول اللہ ﷺ نے لعنت بھیجی ہے سود کھانے اور کھلانے والے پر ۔سودی معاملہ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر اور کہا یہ سب ایک جیسے ہیں ۔
اور یہ احادیث درحقیقت قرآن حکیم کی اس آیت کی تفصیل اور تشریح ہیں :
وَ تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی ۪ وَ لَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ۔
اور نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو، اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔(سورہ المائدة :2)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حرام پر اعانت حرام ہے تو جس طرح سے حرام کا ارتکاب جائز نہیں ہے ایسے ہی اس میں تعاون بھی درست نہیں ہے اور حرام چیز کسی کو دینے میں ایک طرح سے اس میں تعاون ہے۔
اور مذکورہ روایت اور آیت کی روشنی میں فقہاء کرام کے یہاں متفقہ ضابطہ یہ ہے :
"ما حَرُمَ أخذُه حَرُمَ إعطاؤُه” .
جس چیز کا لینا حرام ہے اسے کسی کو دینا بھی حرام ہے۔
اس قاعدے کی تشریح کرتے ہوئے فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ جن چیزوں کے لینے اور اس نفع حاصل کرنے کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اسے کسی کو دینا بھی حرام ہے خواہ بطور تحفہ مفت میں دے یا کسی چیز کے عوض میں ۔اس لئے کہ اسے دوسرے کو دینا گناہ اور معصیت میں تعاون ہے اور یہ قاعدہ ایک دوسرے قاعدے کی تکمیل کرنے والا ہے جس میں کہا گیا ہے:
ما ادی الی الحرام فھو حرام ۔
جو چیز حرام تک پہونچائے وہ بھی حرام ہے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ شراب جیسی حرام چیز اگر کوئی غیر مسلم کسی مسلمان کی گفٹ کرے تو نرمی اور خوش اسلوبی کے ساتھ اس سے معذرت کرلے اور اس کے سامنے حکمت بھرے انداز میں اس سے متعلق اسلامی تعلیمات و ہدایات بیان کرے کہ اس طرح کے واقعات اسلام کی خوبیوں کی وضاحت کے لئے بہترین مواقع میں شمار ہوتے ہیں اور امید ہے کہ یہ اس کے لئے اسلام کی طرف پیش قدمی کا ذریعہ بن جائے گا ۔
اور اگر کسی طرح سے شراب وغیرہ اس کے پاس آجائے تو اسے ضائع کردے کیونکہ اسلام کی نگاہ میں وہ مال نہیں ہے اس لئے مال کو ضائع کرنا نہیں سمجھا جائیگا اور یہ سوچ نہایت غلط اور اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت کی علامت ہے کہ اس میں اسراف سے بچاؤ بھی ہے اور کوئی شرعی قباحت بھی نہیں ۔کیونکہ اسراف اس وقت ہوگا جبکہ کسی مال کو بے مصرف اور غلط جگہ پر خرچ کیا جائے لیکن اگر کوئی چیز شریعت کی نگاہ میں مال ہی نہ ہو تو یہ کہنا نہایت غلط ہوگا کہ اسے ضائع کرنے میں اسراف ہے اور کسی غیر مسلم کو گفٹ کے طور پر دینے میں اسراف سے بچاؤ ہے جیسے کہ اگر کسی مسلمان کے پاس بت موجود ہو تو اس سے یہ کہنا صحیح نہیں ہوگا کہ اسے کسی غیر مسلم کو دے دو کہ اسے ضائع کرنے میں اسراف اور بطور گفٹ دینے میں اسراف سے بچاؤ ہے اور اس میں کوئی شرعی قباحت بھی نہیں ہے ۔بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے کہ اسے کسی غیر مسلم کو بطور گفٹ دینا ایک قبیح عمل ہے اور اس بات کی علامت ہے کہ دینے والے کے ذہن میں شراب کی قباعت و شناعت نہیں ہے۔صحابہ کرام کے سامنے جب شراب کی حرمت آگئی تو انھوں نے فورا اسے ضائع کردیا اور اس موقع پر کسی نے یہ سوچا تک نہیں کہ اسے کسی غیر مسلم دوست کو بطور تحفہ دے دینا چاہئے حالانکہ یہ امکان تھا کہ اس تحفہ کی وجہ سے وہ اسلام دشمنی میں کچھ نرم پڑجائے چنانچہ حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى حَرَّمَ الْخَمْرَ، فَمَنْ أَدْرَكَتْهُ هَذِهِ الْآيَةُ وَعِنْدَهُ مِنْهَا شَيْءٌ فَلَا يَشْرَبْ، وَلَا يَبِعْ ". قَالَ : فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ بِمَا كَانَ عِنْدَهُ مِنْهَا فِي طَرِيقِ الْمَدِينَةِ فَسَفَكُوهَا.(صحیح مسلم: 1578)
اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام قرار دیا ہے تو جس کے پاس اللہ کا یہ فرمان پہونچ جائے اور اس کے پاس شراب موجود ہو تو وہ اسے نہ تو پئے اور نہ فروخت کرے ۔یہ سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے پاس موجود شراب کو مدینہ کی گلیوں میں بہا دیا ۔
اور حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں:
إِنَّ رَجُلًا أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا ؟ ". قَالَ : لَا. فَسَارَّ إِنْسَانًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” بِمَ سَارَرْتَهُ ؟ ". فَقَالَ : أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا. فَقَالَ : ” إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا ". قَالَ : فَفَتَحَ الْمَزَادَةَ حَتَّى ذَهَبَ مَا فِيهَا. (صحیح مسلم: 1579)
رسول اللہ ﷺ کو ایک شخص نے شراب سے بھرا ہوا ایک مشکیزہ بطور ہدیہ پیش کیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا:کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دے دیا ہے؟اس نے کہا: نہیں۔ پھر اس نے ایک شخص سے آہستہ سے کوئی بات کہی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے اس سے کیا کہا؟”اس نے کہا: میں نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اسے بیچ دے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس ذات نے اس کے پینے کو حرام کیا ہے، اسی نے اس کے بیچنے کو بھی حرام قرار دیا ہے۔یہ سن کر اس شخص نے مشکیزہ کا منہ کھول دیا یہاں تک کہ اس میں جو کچھ تھا سب بہہ گیا ۔
اور حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ نے عرض کیا کہ کچھ یتیموں کو ترکہ میں شراب ملی ہے آپ ﷺ نے فرمایا اسے بہا دو۔(جامع ترمذی: 3675)
بلکہ بعض احادیث میں ہے کہ نبیذ کے بارے میں بھی اگر نشہ کا شبہہ ہوجاتا یا اس میں تیزی آجاتی تو آنحضرت ﷺ اسے ضائع کردیتے چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْبَذُ لَهُ الزَّبِيبُ فِي السِّقَاءِ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ، وَالْغَدَ، وَبَعْدَ الْغَدِ، فَإِذَا كَانَ مَسَاءُ الثَّالِثَةِ شَرِبَهُ، وَسَقَاهُ، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ أَهَرَاقَهُ.(صحیح مسلم 2004)
“رسول اللہ ﷺ کے لیے مشکیزے میں کشمش ڈال کر نبیذ تیار کیا جاتا تھا، پھر آپ اسے اسی دن پیتے، اگلے دن اور اس کے بعد والے دن بھی پیتے تھے۔ جب تیسرے دن کی شام ہوتی تو اسے خود بھی پی لیتے اور دوسروں کو بھی پلا دیتے، اور اگر کچھ باقی بچ جاتا تو اسے بہا دیتے تھے۔”
علامہ نووی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبیذ بنانا جائز ہے، اور جب تک نبیذ میٹھا ہو، اور اس میں کوئی تبدیلی اور جوش و ابال نہ آئے اس کا پینا بھی جائز ہے، اور اس پر پوری امت کا اجماع ہے۔
رہا یہ کہ تین دن کے بعد اسے خادم کو پلا دینا یا بہا دینا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تین دن کے بعد اس کے بدل جانے ( نشہ آور ہوجانے) کا اندیشہ ہوتا ہے اور اس لئے رسول ﷺ تین دن کے بعد اس سے پرہیز فرماتے تھے۔
اور جو یہ کہا گیا ہے تین دن کے بعد خادم کو پلا دیتے یا بہا دیتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی خادم کو پلا دیتے تھے اور کبھی بہا دیتے تھے اور یہ نبیذ کی حالت کے اختلاف کی وجہ سے ہوتا تھا۔اگر اس میں کوئی تبدیلی وغیرہ یعنی نشہ کی ابتدائی علامات ظاہر نہ ہوتیں تو خادم کو پلا دیتے تھے اور اسے ضائع نہیں کرتے تھے، کیونکہ مال کو ضائع کرنا جائز نہیں، البتہ خود احتیاطاً اسے نہیں پیتے تھے۔
اور اگر اس میں نشہ کی ابتدائی علامات یا کوئی تبدیلی ظاہر ہو جاتی تو اسے بہا دیتے تھے، کیونکہ جب وہ نشہ آور ہو جائے تو حرام اور ناپاک ہو جاتا ہے، اس لیے اسے بہا دیا جائے گا ہے اور خادم کو بھی نہیں پلایا جائے گا، کیونکہ نشہ آور چیز نہ خود پینا جائز ہے اور نہ کسی اور کو پلانا۔اور نبی کریم ﷺ کا تین دن سے پہلے اسے پینا اس حالت میں ہوتا تھا جب اس میں نہ کوئی تبدیلی ہوتی تھی، نہ تبدیلی کی ابتدائی علامات اور نہ ہی کوئی شک ہوتا تھا۔واللہ اعلم۔