بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(49) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
56-فائنانس (Finance) پر خریداری:
مکان یا گاڑی وغیرہ کی خریداری میں عام طور پر بینک یا فائناس کمپنی کا واسطہ
ہوتا ہے ۔خریدار کی طرف سے بینک ایک مشت پوری رقم گاڑی کے مالک کے حوالے کردیتا ہے اور پھر خریدار سے قسط وار (Instalment) وصول کرتا ہے جو عام طور پر گاڑی کے مالک کو ادا کردہ رقم سے زیادہ ہوتی ہے ۔
دوسرے الفاظ میں بینک یا فائنانس کمپنی خریدار کو قرض دیتا ہے جسے اس کی طرف سے گاڑی کے مالک کے حوالے کردیا جاتا ہے اور پھر اس قرض سے زیادہ وصول کیا جاتا ہے ۔
اس کی دو شکلیں معروف ہیں ایک یہ کہ بعض سامانوں پر زیرو انٹریسٹ ہوتا یعنی کوئی اضافی رقم نہیں دینی ہوتی ہے بلکہ سامان کی خریداری میں ادا کردہ رقم کے بقدر ہی قسط وار ادا کرنا ہوتا البتہ وقت پر قسط ادا نہ کرنے کی صورت میں لیٹ چارج ادا کرنے کی شرط ہوتی ہے اور معاملہ طے کرتے ہوئے اس شرط کا ذکر کیا جاتا ہے ۔اس سلسلے کی تفصیل گزر چکی ہے ۔
دوسری شکل یہ ہے کہ فائنانس کمپنی اس کی طرف سے ادا کردہ رقم سے زائد رقم وصول کرتی ہے اور یہی شکل زیادہ رائج ہے اور ظاہر ہے کہ قرض پر مشروط اضافہ سود ہے جس کی کتاب و سنت میں سخت ممانعت اور شدید قباحت بیان کی گئی ہے ۔اس لئے فائنانس پر گاڑی وغیرہ خریدنا درست نہیں ہے ۔
البتہ اگر نقد خریدنے کی صورت میں انکم ٹیکس وغیرہ کی ادائیگی کرنی پڑتی ہو تو دفع ظلم کے طور پر اس طرح کے سودی معاملات کی گنجائش ہوگی چنانچہ دار العلوم دیوبند کا فتوا ہے :
” اگر کسی شخص کے پاس گاڑی خریدنے کے لیے دیگر اخراجات سے زائد مطلوبہ مقدار میں رقم موجود ہو ؛ لیکن وہ ٹیکس ادا کردہ نہ ہو ، یعنی حکومت کی نظر میں غیر قانونی ہو، جس کی بنا پر اگر نقد گاڑی خریدی جائے تو انکم ٹیکس کے حوالے سے متعلقہ محکمہ کی طرف سے مختلف پریشانیوں کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں محض انکم ٹیکس کے مسائل سے بچنے کے لیے بینک یا فائنانس کمپنی کے واسطے سے ادھار قسطوں پر گاڑی خریدنے کی گنجائش ہوگی؛ کیوں کہ یہاں بینک یا فائنانس کمپنی سے سودی قرض لے کر جو گاڑی خریدی جارہی ہے، اس کا بنیادی مقصد انکم ٹیکس کے مسائل سے بچنا ہے، جو دفع ظلم کی شکل ہے؛ لہٰذا اس صورت میں إن شاء اللّٰہ گناہ نہ ہوگا(دیکھئے: فتاوی نظامیہ اوندرویہ ۱: ۲۳۳، ۲۳۴، مطبوعہ: تھانوی آفسیٹ پرنٹرس ، دیوبند، مسائل سود، مرتبہ حضرت مولانا مفتی حبیب الرحمن صاحب خیرآبادی دامت برکاتہم العالیہ ص ۲۴۴، ۲۴۵، مطبوعہ: حراء بک ڈپو، دیوبند)۔
(جواب نمبر: 601966.
Fatwa:364-71T/N=5/1442)
اسی طرح سے اگر گاڑی کی خریداری ضرورت و حاجت کا درجہ اختیار کرلے کہ اس کے بغیر مفوضہ ذمے داری ادا کرنا یا معاش حاصل کرنا دشوار تر ہو تو فائنانس کے ذریعے گاڑی لینا درست ہے چنانچہ فقہاء نے لکھا ہے:
يَجُوزُ لِلْمُحْتَاجِ الِاسْتِقْرَاضُ بِالرِّبْحِ۔
ضرورت مند کے لئے سودی قرض لینا جائز ہے ۔(البحر الرائق 137/6)