بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(8)کھیل کود سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
10- جہاد میں معین و مددگار ہونے کی حیثیت سے کشتی لڑنا بھی جائز ہے ، خود آپ ﷺ نے کشتی لڑی ہے ، حضرت محمدبن علی کہتے ہیں کہ رکانہ نامی ایک شخص نے نبی ﷺ سے کشتی لڑنے میں مقابلہ کیا، جسے آپ ﷺ نے پچھاڑ دیا۔(ابوداؤد 4078.ترمذی :1784)۔اور یہی واقعہ ان کے قبول اسلام کا سبب بنا (الاصابہ فی تمییز الصحابہ 497/2)
اور مشہور واقعہ ہے کہ حضرت رافع بن خدیج کو جنگ احد میں شرکت کی اجازت مل گئی لیکن حضرت سمرہ بن جندب کو کم عمری کی وجہ سے واپس کردیا گیا ،انھوں نے عرض کیا کہ جنھیں آپ نے اجازت دی ہے میں انھیں کشتی میں پچھاڑ سکتا ہوں ،آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مقابلہ کرو ۔چنانچہ انھوں نے انہیں ہرا دیا اور ان کو بھی جہاد میں شریک ہونے کی اجازت مل گئی (مستدرک حاکم: 2387)
اور اس میں معاوضہ مقرر کرنا بھی جائز ہے ، حضرت سعید بن جبیر سے مرسلاً روایت ہے کہ رکانہ کے ساتھ مقابلہ میں آپ نے معاوضہ مقرر کیا تھا۔(کتاب المراسیل /14 لابی داؤد۔مصنف عبد الرزاق: 20909)،
اور فقہ حنفی کے مشہور عالم علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:
وکذا المصارعۃ علی ھذا التفصیل وانما جاز لان فیہ حثا علی الجہاد۔
اور اسی تفصیل کے مطابق کشتی میں بھی معاوضہ مقر ر کرنا جائز ہے ، اس لیے کہ اس کے ذریعہ جہاد پر ابھارا جاتاہے۔(رد المحتار 259/5)
البتہ فری اسٹائل کشتی اور مکا بازی کی بالکل اجازت نہیں ہے جس میں مد مقابل کی کوئی رعایت نہیں ہوتی ہے بلکہ بالقصد اسے نقصان پہونچایا جاتا ہے اور جس کی وجہ سے بسا اوقات موت واقع ہوجاتی ہے یا وہ زندگی بھر کے لئے اپاہج ہوجاتا ہے.لہذا وحشت و بربریت پر مشتمل اس پر خطر اور اذیت ناک کھیل کی کی ہرگز گنجائش نہیں ہے ۔
کراٹے کا حکم بھی کشتی سے مختلف نہیں ، صحیح مقصد کے تحت سیکھنا اور سکھانا جائز ہے اور انعامی مقابلہ بھی کیا جاسکتا ہے ۔