بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

سلسله(4)

مزاح و تفریح سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

4-مزاحیہ ڈرامے:

 

ڈرامے اور تمثیلی مکالمات میں کچھ لوگ فرضی طور پر کسی کی شکل بنا کر آپس میں گفتگو کرتے ہیں اور ان کے کردار کو ادا کرتے ہیں ۔

تفریح طبع کے لئے اس طرح کا تمثیلی مزاح جائز ہے بشرطیکہ اس کے ذریعے کسی متعین شخص کا مذاق نہ اڑایا جائے اور نہ کسی ناجائز اور غیر اخلاقی واقعہ کو پیش کیا جائے اور نہ مرد و عورت کا اختلاط ہو، مفتی محمد تقی صاحب عثمانی لکھتے ہیں:

ترويح القلب وتفريجه وكذا تمرين البدن من الارتفاقات المباحة والمصالح البشرية التي لا تمنعها الشريعة السمحة براسها نعم تمنع الغلو والانهماك بحيث يضر المعاش والمعاد ۔

"دل کو راحت اور فرحت پہنچانا، اسی طرح ورزش کرنا، یہ سب جائز فائدے اور انسانی مصالح میں سے ہیں جنہیں آسان شریعت ایک سرے سے خارج نہیں کرتی۔ ہاں! شریعت اس میں غلو اور اس درجہ انہماک سے روکتی ہے جس سے دنیا اور آخرت دونوں کو نقصان پہنچے۔” (تکملہ فتح الملہم 4/434)

اور فقیہ ملت حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی لکھتے ہیں:

تفریح کے لیے ان امور کی رعایت کے ساتھ مزاحیہ ڈرامہ جائز ہے اور اگر اس کا مقصد کسی اچھے کام کی ترغیب یا کسی برائی سے روکنا تو یہ ایک مستحسن اور بہتر عمل ہے کیونکہ یہ نیکی کی طرف دعوت اور برائی سے روکنے کی ایک صورت ہے۔

چنانچہ فقہ اکیڈمی انڈیا نے اپنے بیسویں فقہی سیمینار میں درج ذیل فیصلہ کیا ہے:

اچھے کاموں کی ترغیب اور معاشرہ کے مفاسد پر تنقید کے لیے تمثیلی مکالمات اسٹیج کیے جا سکتے ہیں بشرطیکہ ان میں موسیقی، کردار کشی، مرد و زن کا اختلاط یا انبیاء، ملائکہ اور صحابہ کی تمثیل نہ ہو نیز غیر شرعی اور غیر اخلاقی امور سے پاک ہوں۔(جدید فقہی مسائل 219/2)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے