بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(3) دوا علاج سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
3-ناواقفیت کے باجود علاج:
ناواقف اور نا اہل ڈاکٹر نے کسی کا علاج کیا اور مریض اس کی جہالت سے نا آشنا ہے تو اس علاج کے نتیجے میں پہنچنے والے نقصان کا یہ شخص ذمہ دار ہوگا، چنانچہ حدیث نبوی ہے :جس ڈاکٹر نے کسی قوم کا علاج کیا حالانکہ وہ پہلے سے اس فن میں مشہور نہیں تھا اور اس کے نتیجہ میں کوئی نقصان ہوجائے تو وہ ضامن ہوگا۔( أَيُّمَا طَبِيبٍ تَطَبَّبَ عَلَى قَوْمٍ لَا يُعْرَفُ لَهُ تَطَبُّبٌ قَبْلَ ذَلِكَ فَأَعْنَتَ فَهُوَ ضَامِنٌ ". ابوداؤد :4587)
علامہ ابن قیم اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں:اگرمریض نے اسے ڈاکٹر سمجھ کر علاج کی اجازت دی ہے تو اس علاج سے پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار ڈاکٹر ہوگا، یہی حکم اس وقت بھی ہے جب اس کے لیے کوئی دوا تجویز کرے کہ وہ اسے استعمال کرے اور مریض نے اس خیال سے کہ یہ شخص واقف ہونے اور اس فن میں مہارت کی وجہ سے رہنمائی کر رہاہے یہاں تک کہ وہ اس دوا کی وجہ سے ہلاک ہوجائے تو طبیب اس کا ضامن ہوگا، حدیث اس سلسلہ میں ظاہر اور بالکل صریح ہے۔(زادالمعاد140/4)
لیکن چونکہ اس میں ایک گونہ مریض کی رضا اور اجازت بھی شامل ہے اس لیے ہلاکت کی وجہ سے اس سے قصاص نہیں لیاجائے گا بلکہ خوں بہا واجب ہے اور اس رقم کی ادائیگی میں اس کے خاندان والے یا شریک کار (عاقلہ) بھی شامل ہوں گے، علامہ خطابی کا بیان ہے:
’’جب ڈاکٹر زیادتی کربیٹھے اور اس کی وجہ سے مریض ہلاک ہوجائے تو وہ ضامن ہوگا، میں نہیں جانتا کہ اس مسئلہ میں کوئی اختلاف ہے اور جو شخص ایسے علم یا عمل کو اختیار کئے ہوئے ہے جس سے وہ واقف نہیں تو ایسا شخص زیادتی کرنے والا ہے ، لہٰذا اگر اس کے فعل سے کوئی ہلاک ہوجائے یا کوئی عضو تلف ہوجائے تو وہ خوں بہا کا ضامن ہوگا اور اس سے قصاص ساقط ہے ، کیونکہ یہ علاج مریض کی اجازت سے خالی نہیں اور نا اہل ڈاکٹر کے جرم کا تاوان اکثر فقہاء کے نزدیک اس کے متعلقین (عاقلہ) پر ہے۔‘‘(حوالہ سابق 139/4)
حنفیہ کا بھی یہی مذہب ہے کیونکہ ان کے یہاں جو شخص قتل کا بالواسطہ ذریعہ بنا ہو (متسبب) تو خوں بہا اس کے متعلقین پر واجب ہوتا ہے۔(ہدایہ مع فتح القدیر 299/10)
ناواقف ڈاکٹر پر صرف تاوان کا واجب ہونا مریض کے حق کی وجہ سے ہے ، لیکن اگر قاضی مناسب سمجھے تو اس کی تنبیہ اور سرزش و فہمائش بھی کرسکتاہے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو اور کوئی اس طرح کے علاج پر اقدام نہ کرے۔ علامہ ابن رشد فرماتے ہیں؛
’’اور اگر وہ اس کا اہل نہ ہو تو اس کی پٹائی کی جائے اور قید میں ڈال دیاجائے اور اس پر تاوان واجب ہے، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تاوان صرف اسی کے مال سے لیاجائے گا اور کہا گیا ہے کہ اس کے متعلقین بھی اس میں شریک ہوں گے۔‘‘(بدایۃ المجتہد233/2)
اگر مریض ڈاکٹر کی جہالت سے واقف ہے اور اس کے باوجود علاج کی اجازت دے دیتاہے تو ڈاکٹر نقصان کا ذمہ دار نہ ہوگا۔(وان علم المجنی علیہ انہ جاہل واذن لہ فی طبہ لم یضمن۔ زاد المعاد 140/1)