بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(44) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

51-کیڑے مکوڑے کی تجارت:

 

    بہت سے کیڑے مکوڑے پرانے زمانے میں بھی اور موجودہ دور میں بھی متعدد فوائد کے حامل ہوتے ہیں جیسے کہ علامہ شامی وغیرہ نے لکھا ہے کہ قرمز نامی کیڑے سے رنگ بنایا جاتا ہے اور یہ بڑا قیمتی مال شمار ہوتا ہے،جونک کی ذریعے خون چوس کر علاج کیا جاتا ہے ،شہد کی مکھی سے شہد حاصل کیا جاتا ہے ۔ریشمی کیڑا ریشم بناتا ہے لہٰذا ان کی تجارت درست ہے ،اسی طرح سے سانپ سے دوا بنائی جاتی ہے لہذا اس کی خرید وفروخت بھی جائز ہے اور ضابطہ یہ بیان کیا ہے کہ خشکی اور سمندر کے جس جانور کی کھال یا ہڈی سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے اس کی بیع درست ہے ۔بلکہ ہندیہ میں ہے کہ خنزیر کے علاوہ تمام جانوروں کی خرید وفروخت جائز ہے۔ (دیکھئے:رد المحتار 5/ 68، ط: سعید.فقه البيوع :279/1)

   موجودہ دور میں اژدھا اور گوہ کے چمڑے سے قیمتی جوتے،چپل اور بیلٹ وغیرہ بنائے جاتے ہیں ۔ مرغیوں اور پرندوں‌ کی غذا کے لئے میل ورم(Mealworm) نامی کیڑے کی افزائش کی جاتی ہے اور بڑے ہونے پر انہیں فروخت کردیا جاتا ہے ۔

   ان میں سے زیادہ تر میں بہنے والا خون نہیں ہوتا ہے اس لئے وہ پاک ہوتے ہیں لہذا اگر وہ قابل انتفاع ہوں تو اس کی خرید و فروخت اور جانوروں کی غذا میں استعمال کرنا درست ہے ۔چنانچہ علامہ جزیری لکھتے ہیں:

   کیڑے مکوڑے اور رینگنے والے جانوروں کی بیع درست ہے جیسے کہ سانپ بچھو جب کہ وہ لائق انتفاع ہوں اور اس معاملے میں ضابطہ یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس میں شرعی اعتبار سے حلال نفع موجود ہو ، اس کی خرید و فروخت جائز ہے ۔(الفقہ علی المذاہب الاربعۃ209/2)

  البتہ انسان کے لئے ان کا کھانا جائز نہیں ہے کہ کیڑے مکوڑے خبیث اور گندے جانوروں میں شمار ہوتے ہیں علامہ کاسانی کہتے ہیں کہ کیڑے مکوڑے کی حرمت کے سلسلے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے صرف سانڈا کے بارے میں اختلاف ہے کہ امام شافعی اسے جائز کہتے ہیں.(بدائع 36/5)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے