بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(45) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
52-بالوں کی خرید وفروخت :
جانور کے بالوں کی تجارت اور استعمال جائز ہے نیز ان کو بال میں لگانا اور جوڑنا بھی درست تاکہ بال گھنے اور لمبے نظر آئیں (1)مشہور تابعی حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں:
لا بأسَ بالقرامِلِ۔
جانور کے بال کو جوڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔(سنن أبوداؤد 4171)
لیکن انسانی بالوں کو جوڑنا اور ان کو خریدنا اور بیچنا ناجائز ہے، اس پر چاروں اماموں کا اتفاق ہے (2)کیونکہ انسان ایک معزز و مكرم اور باوقار ہستی کا نام ہے اور اسے یا اس کے جسم کے کسی حصے کو سامان تجارت بنانے میں اس کی اہانت ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَ لَقَدۡ کَرَّمۡنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ وَ حَمَلۡنٰہُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِیۡلًا.
اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے آدم کی اولاد کو عزت بخشی ہے، اور انہیں خشکی اور سمندر دونوں میں سواریاں مہیا کی ہیں، اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا ہے، اور ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت عطا کی ہے۔
(سورہ الاسراء: 70)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان بحیثیت انسان قابل احترام ہے اور دنیا میں موجود معاش کے ذرائع اور وسائل پر تمام انسانوں کا حق ہے خواہ اس کا تعلق کسی بھی دین اور مذہب سے ہو چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہوگئے ۔صحابہ کرام نے عرض کیا : یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے ۔آپ نے فرمایا کیا وہ انسان نہیں ہے ؟۔الیست نفسا . (صحيح بخاری :125صحيح مسلم :961)
لہذا غیر مسلموں کے بال کی تجارت بھی درست نہیں ہے ۔(3)
اور علامہ ابن ہمام کہتے ہیں کہ حدیث میں ان لوگوں پر لعنت کی گئی ہے جو بال جوڑنے کا کام کرتے ہیں اور جو بال لگواتے ہیں لیکن جانوروں کے بال کو جوڑے میں لگانے کی اجازت دی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بطور زینت بال جوڑنے کی ممانعت نہیں ہے بلکہ صرف انسانی بال جوڑنے کی ممانعت ہے تاکہ انسان کا کوئی حصہ سامان تجارت نہ بنے ۔(4)
(1)و لا باس باتخاذ القراميل وهي ما يتخذ من الوبر ليزيد في قرون النساء اي في اصول شعرهن بالتكثير وفي ذوائبهن بالتطويل. (العنايه مع الفتح باب البيع الفاسد426/6)
(2)واتفق الفقهاء على عدم جواز الانتفاع بشعر الآدمي بيعا واستعمالا؛ لأن الآدمي مكرم لقوله سبحانه وتعالى: {ولقد كرمنا بني آدم}.فلا يجوز أن يكون شيء من أجزائه مهانا مبتذلا.(الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیہ 102/26.الفقہ الاسلامی وادلتہ 2680/4)
(3) والادمي مكرم شرعا وان كان كافرا وايراد العقد عليه وابتذاله به والحاقه بالجمادات اذلال له وهو غير جائز. (رد المحتار 58/5)
(4)(قوله ولا يجوز بيع شعر الإنسان) مع قولنا بطهارته (والانتفاع به؛ لأن الآدمي مكرم غير مبتذل فلا يجوز أن يكون شيء من أجزائه مهانا ومبتذلا) وفي بيعه إهانة، وكذا في امتهانه بالانتفاع، وقد قال – صلى الله عليه وسلم – فيما ثبت عنه في الصحيحين «لعن الله الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة» ، فالواصلة هي التي تصل الشعر بشعر النساء، والمستوصلة المعمول بها بإذنها ورضاها، وهذا اللعن للانتفاع بما لا يحل الانتفاع به؛ ألا ترى أنه رخص في اتخاذ القراميل وهو ما يتخذ من الوبر ليزيد في قرون النساء للتكثير، فظهر أن اللعن ليس للتكثير مع عدم الكثرة وإلا لمنع القراميل، ولا شك أن الزينة حلال، قال الله تعالى {قل من حرم زينة الله التي أخرج لعباده} [الأعراف: 32] فلولا لزوم الإهانة بالاستعمال لحل وصلها بشعور النساء أيضا.”(فتح القدیرمیں 426/6:كتاب البيوع،باب البيع الفاسد.)