بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(15) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
17-جمعہ کی اذان کے وقت خرید وفروخت:
جمعہ کی اذان کے وقت خرید وفروخت یا ایسا کوئی کام کرنا جو مسجد جانے کے لئے رکاوٹ بنے ان لوگوں کے لئے جائز نہیں ہے جن پر جمعہ فرض ہے ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ.
اے ایمان والو ! جب جمعہ کے دن نماز کے لئے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو، اور خریدو فروخت چھوڑ دو ۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم سمجھو۔(سورہ الجُمعۃ :9)
تفسیر:
جمعہ کی پہلی اذان کے بعد جمعہ کے لئے روانہ ہونے کے سوا کوئی اور کام جائز نہیں، نیز جب تک نماز جمعہ ختم نہ ہوجائے خرید وفروخت کا کوئی معاملہ جائز نہیں ہے، اللہ کے ذکر سے مراد جمعہ کا خطبہ اور نماز ہے۔
(آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)
خرید وفروخت کی ممانعت پہلی اذان سے متعلق ہے یا دوسری اذان سے ؟ اس میں فقہاء کرام کے درمیان اختلاف ہے ۔مالکیہ ،شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک اس سے دوسری اذان مراد ہے ؛کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں صرف یہی اذان ہوتی تھی اور پہلی اذان کا اضافہ حضرت عثمان غنی کے ذریعے ان کی عہد خلافت میں ہوا ۔لھذا آیت کا مصداق یہی اذان ہے ۔
نیز اس آیت میں کہا گیا ہے کہ جب جمعہ کی اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر (خطبہ اور نماز) کی طرف لپک کر جاؤ یعنی جس اذان کے بعد خطبہ و نماز ہو اس اذان کو سنتے ہی تیزی سے مسجد کی طرف جاؤ اور ظاہر ہے کہ خطبہ و نماز دوسری اذان کے بعد ہوتی ہے ۔
حنفیہ میں سے امام طحاوی اسی کے قائل ہیں اور فتاوی عتابی میں اسی کو مختار اور جوامع الفقہ میں اسی کو صحیح قرار دیا ہے۔(البنایہ 91/3)اور علامہ کاسانی یہی رائے ہے ۔(البدائع270/1)
اس کے برخلاف امام ابوحنیفہ کے شاگرد حضرت حسن بن زیاد کہتے ہیں کہ اس سے مراد پہلی اذان ہے ؛ کیونکہ منبر والی اذان کا اعتبار کرنے میں سنت نماز اور خطبہ چھوٹ جائے گا بلکہ اگر مسجد دور ہو تو نماز چھوٹنے کا خطرہ ہے اور عام طور پر فقہاء حنفیہ نے اسی کو زیادہ صحیح قرار دیا ہے ۔(العنایہ مع الفتح 421/1۔المحیط البرہانی 474/2 الموسوعة الفقهية الكويتية 224/9)
پہلی اذان مراد لینے میں پریشانی یہ ہے کہ وہ آدھے گھنٹے پہلے ہوتی ہے اور نماز ختم ہوتے ہوتے ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے اور اس قدر طویل وقت تک کاروبار بند رکھنا بڑا دشوار ہے، مفتی سعید احمد پالنپوری صاحب اس کے جواب میں لکھتے ہیں:
سوال :اذان جمعہ کے بعد کاروبار اور دیگر مشاغل ترک کر کے مسجد جانا فرض ہے ۔۔۔مگر عام طور پر پہلی اذان کے بعد لوگ مشاغل ترک نہیں کرتے اور گنہگار ہوتے ہیں پس کیوں نہ دوسری اذان کو آیت کا مصداق قرار دیا جائے تاکہ لوگ گنہگار نہ ہوں ۔
جواب: یہ خرابی مسلمانوں کے اپنے عمل کی بنا پر پیدا ہوئی ہے اور اس کا علاج بھی مسلمانوں کے پاس ہے. ہمارے دیار میں جو آدھا گھنٹہ پہلے اذان دی جاتی ہے وہ غلط طریقہ ہے، دس منٹ پہلے پہلی اذان دینی چاہیے تاکہ لوگ فورا مشاغل ترک کر کے مسجد کی طرف چل پڑیں، غرض ہمارے پاس اس کا کوئی علاج نہیں ،لوگ خود ہی اس کا علاج کر سکتے ہیں۔(تحفۃ الالمعی 389/2)
اگر مختلف اوقات میں اذان ہو تو محلے کی یا قریب تر مسجد کی اذان مراد ہوگی ۔اور اسی وقت کاروبار بند کرکے مسجد جانا ضروری ہوگا ۔اور مولانا عبد الحی فرنگی محلی کے شاگرد مولانا فتح محمد تائب صاحب لکھنوی لکھتے ہیں:
اگر متعدد مساجد میں نماز جمعہ ادا کی جاتی ہو تو جس مسجد میں جمعہ ادا کرنے کا ارادہ ہو اس مسجد کی اذان کے ساتھ خرید و فروخت ترک کر دے ۔(عطر ہدایہ/162)
18-مسجد میں خرید و فروخت:
مسجد بنانے کا مقصد نماز ، ذکر اور تلاوت قرآن ، اس لئے وہاں خرید وفروخت کرنا اور دوسرے دنیاوی کام انجام دینا درست نہیں ہے ۔حضرت ابو ھریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيعُ أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ فَقُولُوا لَا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ وَإِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَنْشُدُ فِيهِ ضَالَّةً فَقُولُوا لَا رَدَّ اللَّهُ عَلَيْكَ۔
جب تم کسی کو مسجد میں خرید وفروخت کرتے ہوئے دیکھو تو کہو اللہ تعالیٰ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے اور جب تم کسی کو مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے دیکھو تو کہو اللہ تمہارا سامان واپس نہ کرے ۔(جامع ترمذی: 1321)
اور حضرت عمرو بن شعیب کی سند سے منقول ہے :
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ ضَالَّةٌ ، وَأَنْ يُنْشَدَ فِيهِ شِعْرٌ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت اور گمشدہ چیز کا اعلان کرنے اور اشعار پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
(سنن أبو داؤد: 1079)
اور ایک حدیث میں ہے کہ کسی دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ان هذه المساجد لا تصلح شيء من هذا البول ولا القذر انما هي لذكر الله عز وجل والصلاه وقراءۃ القرآن ۔(صحيح مسلم:285)
مسجد میں پیشاب کرنے یا گندگی پھیلانے کی گنجائش نہیں ہے بلکہ مسجد تو اللہ کے ذکر ،نماز اور تلاوت قرآن کے لئے ہے۔
امام نووی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں گندگی، شور و شغف اور خرید و فروخت کرنے یا کسی بھی مالی معاملے کی اجازت نہیں ہوگی۔
(فيه صيانه المساجد وتنزيهها عن الاقذار والقذی والبصاق ورفع الاصوات والخصومات والبيع والشراء وسائر العقود وما في معنى ذلك ۔المنهاج:3/191)