بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(57) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
64-تھرڈ پارٹی انشورنس (Third Party Insurance):
تھرڈ پارٹی انشورنس میں بیمہ کرانے والے کی گاڑی سے کسی دوسرے شخص کو جانی، جسمانی ، یا مالی نقصان پہنچنے کی صورت میں بیمہ کمپنی اس کی طرف سے تاوان ادا کرتی ہے ۔
جیسے کسی شخص نے اپنی موٹر سائیکل کا انشورنس کرایا ہے اور اس کے ذریعے کسی شخص کا اکسیڈنٹ ہوگیا یا اس کی گاڑی کا نقصان ہوا تو بیمہ کمپنی اس تیسرے شخص کو تاوان ادا کرے گی۔
غرضیکہ کہ اس معاملے میں تین فریق ہوتے ہیں:
1-فرسٹ پارٹی: گاڑی کا مالک .2-سکنڈ پارٹی: بیمہ کمپنی. 3- تھرڈ پارٹی: وہ شخص جسے گاڑی کے ذریعے نقصان پہونچا ہے. اور اسی تیسرے فریق کی خاطر قانونی ذمہ داری کی ادائیگی کے لئے اس قسم کا انشورنس کرایا جاتا ہے اس لئے اسے تھرڈ پارٹی انشورنس کہا جاتا ہے ۔
خود اس کی گاڑی کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی بیمہ کی اس صورت میں نہیں کی جاتی ہے بلکہ اس کے لئے اون ڈیمیج انشورنس (Own Damage Insurance) یا کمپری ہینسو انشورنس (Comprehensive Insurance) کی ضرورت ہوتی ہے، جو پالیسی کی شرائط کے مطابق تحفظ فراہم کرتی ہے۔
انشورنس کی اس صورت میں بھی سود اور جوا موجود ہے کیونکہ اگر اس کی گاڑی کے ذریعے کوئی حادثہ پیش آگیا تو کمپنی عام طور سے جمع کردہ پریمیم سے زیادہ رقم ادا کرتی ہے اور اگر حادثہ پیش نہیں آیا تو جمع شدہ رقم واپس نہیں ملتی ہے مثلاً
کسی نے اپنی گاڑی کا تھرڈ پارٹی انشورنس ایک سال کے لئے کروایا ہے اور پورے سال کوئی حادثہ نہیں ہوا، تو اس کی جمع کردہ رقم واپس نہیں ملتی۔ اور انشورنس کی مدت ختم ہونے پر پالیسی کی تجدید کرانی ہوتی ہے۔
نیز ضابطہ یہ ہے کہ جو کسی کو مالی یا جسمانی نقصان پہونچائے وہی اس کا ذمہ دار ہوگا چنانچہ قرآن حکیم میں ہے :
وَ لَا تَکۡسِبُ کُلُّ نَفۡسٍ اِلَّا عَلَیۡہَا ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی.
اور جو کوئی شخص کوئی کمائی کرتا ہے، اس کا نفع نقصان کسی اور پر نہیں، خود اسی پر پڑتا ہے۔ اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی اور کا بوجھ نہیں اٹھائے گا.(سورہ الأنعام :164)
اور انشورنس کمپنی نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہے پھر وہ تاوان کیوں ادا کرے گی؟ ۔
اور اسے اسلام کے نظام دیت پر قیاس کرنا بھی درست نہیں ہے کیونکہ دیت کوئی عقدِ معاوضہ(Onerous Contract )نہیں ہے اور نہ ہی خاندان یا ہم پیشہ افراد سے کوئی رقم اس شرط کے ساتھ وصول کی جاتی ہے کہ ہم میں سے کسی کو متعین مدت میں حادثہ پیش آنے کی صورت میں تمام لوگوں کی طرف سے جمع کردہ رقم کے ذریعے اس کی تلافی کی جائے اور حادثہ نہ ہونے کی صورت میں مثلاً خاندان کا سربراہ اسے چٹ کر جائے گا ۔
واضح رہے کہ بھارتی قانون کے مطابق گاڑی کا انشورنس کروانا لازمی ہےاس کے بغیر کوئی گاڑی سڑک پرنہیں آسکتی ہے اس لئے بدرجہ مجبوری انشورنس کرانے کی گنجائش ہے اور حادثہ پیش آجانے کی صورت میں اتنی ہی رقم استعمال کرنے اجازت ہے جتنی اس نے جمع کی ہے اور زائد رقم کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنا ضروری ہے الا یہ کہ وہ غریب و نادار ہو تو خود بھی رکھ سکتا ہے ۔