بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(32) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

39-گڑیا کی خرید وفروخت:

 

    عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ لِي صَوَاحِبُ يَلْعَبْنَ مَعِي، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ يَتَقَمَّعْنَ مِنْهُ، فَيُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ، فَيَلْعَبْنَ مَعِي.

   حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی میری کچھ سہلیاں بھی  میرے ساتھ کھیلتی تھیں لیکن جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں آتے وہ چھپ جاتی تھیں۔ اللہ کے رسول انہیں میرے پاس بھیجتے تو وہ میرے ساتھ کھیلتی تھیں

(صحيح بخاري:6130،صحیح مسلم 2440)

     قاضی عیاض مالکی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کا گڑیوں سے کھیلنا جائز ہے اور جن حدیثوں میں تصویروں کی ممانعت ہے گڑیوں کو اس سے خاص کر لیا گیا ہے ؛ کیونکہ اس سے عورتوں کو بچپنے ہی میں اپنی ذات کے سلسلے میں اور خانہ داری اور اولاد کی پرورش اور تربیت کے تعلق  سے مشق ہو جائے گی. جمہور علماء اسی بات کے قائل ہیں بچیوں کے لیے گڑیوں سے کھیلنا جائز ہے ۔

(المنہاج حدیث: 2440)

    حنفیہ بھی اسی کے قائل ہیں چنانچہ علامہ شامی لکھتے ہیں:

   امام ابو یوسف سے منقول ہے کہ گڑیا بیچنا اور بچوں کا اس سے کھیلنا جائز ہے ۔۔۔امام ابویوسف کی طرف اس قول کی نسبت سے یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ امام ابوحنیفہ کی رائے اس کے برخلاف ہے کیونکہ ممکن ہے کہ ان سے اس مسئلے میں کوئی قول منقول نہ ہو ۔

(عن ابي يوسف يجوز بيع اللعبة وان يلعب بها الصبيان… نسبته الى ابي يوسف لا تدل على ان الامام يخالفه لاحتمال ان لا يكون في المسالة قول.الدرمع الرد505/7. ط: الأشرفية ديوبند )

   ‏‏اور حضرت عائشہ سے منقول ایک دوسری روایت میں ہے:

     قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ – أَوْ خَيْبَرَ – وَفِي سَهْوَتِهَا سِتْرٌ، فَهَبَّتْ رِيحٌ فَكَشَفَتْ نَاحِيَةَ السِّتْرِ عَنْ بَنَاتٍ لِعَائِشَةَ ؛ لُعَبٍ، فَقَالَ : ” مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ ؟ ". قَالَتْ : بَنَاتِي. وَرَأَى بَيْنَهُنَّ فَرَسًا لَهُ جَنَاحَانِ مِنْ رِقَاعٍ ، فَقَالَ : ” مَا هَذَا الَّذِي أَرَى وَسْطَهُنَّ ؟ ". قَالَتْ : فَرَسٌ. قَالَ : ” وَمَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ ؟ ". قَالَتْ : جَنَاحَانِ. قَالَ : ” فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ ؟ ". قَالَتْ : أَمَا سَمِعْتَ أَنَّ لِسُلَيْمَانَ خَيْلًا لَهَا أَجْنِحَةٌ ؟ قَالَتْ : فَضَحِكَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ ۔

     رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک یا خیبر سے واپس آئے تو میرے طاق پر پردہ پڑا ہوا تھا۔ ہوا چلی جس نے پردے کا ایک حصہ کھول دیا۔ جس کی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گڑیا سامنے آگئی. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا عائشہ یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: میری گڑیا ہے. اور آپ نے ان کے بیچ میں گھوڑا دیکھا جس کے اوپر کاغذ کے دو پر لگے ہوئے تھے فرمایا یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: گھوڑا ہے. پھر آپ نے فرمایا اس گھوڑے کے اوپر یہ کیا لگے ہوئے ہیں؟ میں نے عرض کیا دو پر ہیں . آپ نے فرمایا :گھوڑے کے بھی پر ہوتے ہیں؟ حضرت عائشہ نے عرض کیا :کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان علیہ السلام کے گھوڑوں کے پر  ہوتے تھے. وہ کہتی ہیں کہ یہ سن کر آپ ہنس پڑے یہاں تک کہ دندان مبارک نمایاں ہوگئے.( أبو داؤد:4932)

    لیکن ظاہر ہے کہ اس سے مراد چھوٹے موٹے اور قدرے غیر واضح کھلونے مراد ہیں اس لئے بڑے بڑے کھلونوں کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ ان کی خرید و فروخت درست ہوگی ؛کیونکہ وہ بت اور مجسمہ کے حکم میں ہیں۔ (دیکھئے :فقہ البیوع 308/1)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے