بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(11) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
11-بیع مکروہ:
ارکان و شرائط اور صفات کے اعتبار سے عقد بیع میں کوئی کمی نہ ہو البتہ کسی خارجی وجہ سے شریعت نے اس سے منع کیا ہو تو اسے بیع مکروہ کہا جاتا ہے ۔اور مکروہ سے مراد کراہت تحریمی ہے جو حرام سے قریب تر ہوتی ہے ۔
اس طرح کی بیع میں معصیت شامل ہوتی ہے اس لئے ہر فریق کو اسے ختم کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن اگر کوئی ایسا نہ کرے تو عدالت مداخلت نہیں کرسکتی ہے اس کے برعکس بیع فاسد کو ختم کرنے میں عدالت مداخلت کرسکتی ہے ۔(دیکھئے: فقہ البیوع946/2)
12-بازار کی آزادی میں مداخلت:
بازار کی آزادی میں مداخلت درست نہیں ہے بلکہ طبعی قوانین اور طلب و رسد (Supply and demand) کے اعتبار سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہئے اور اس میں کسی طرح کی مصنوعی دخل اندازی نہیں کرنا چاہئے ۔چنانچہ حضرت انس سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ جب مہنگائی کافی بڑھ گئی تو صحابہ کرام نے عرض کیا:
يَا رَسُولَ اللَّهِ، غَلَا السِّعْرُ، فَسَعِّرْ لَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُطَالِبُنِي بِمَظْلِمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ ".
یا رسول اللہ ﷺ ! مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے اس لئے نرخ متعین کر دیجئے ۔آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ ہی قیمتوں کو مقرر کرنے والا ہے۔تنگی اور فراخی دینے والا،گرانی اور ارزانی پیدا کرنے والا وہی ہے، اور وہی رزق عطا کرنے والا ہے۔ اور میں یہ چاہتا ہوں کہ جب میں اللہ سے ملاقات کروں تو تم میں سے کوئی شخص خون یا مال کے معاملے میں مجھ پر کسی ظلم کا دعویٰ کرنے والا نہ ہو۔(سنن ابوداؤد :3451)
اور حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا:
سَعِّرْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : ” إِنَّمَا يَرْفَعُ اللَّهُ وَيَخْفِضُ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَيْسَ لِأَحَدٍ عِنْدِي مَظْلِمَةٌ.
یا رسول اللہ! ریٹ مقرر کر دیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ ہی قیمتوں میں اتار چڑھا پیدا کرتا ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملوں کہ مجھ سے کسی کو کسی ظلم کی شکایت نہ ہو۔(مسند أحمد: 8852سنن أبو داؤد :3450)
نبی کریم ﷺ نے ریٹ متعین کرنے سے اس لئے اجتناب فرمایا کہ قیمتوں میں اضافہ فطری معاشی اسباب کی بنا پر تھا، نہ کہ تاجروں کے ظلم یا ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے۔لھذا اگر تاجر من مانی کرنے اور قیمتوں سے کھیلنے لگیں اور ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی وجہ سے مہنگائی بڑھنے لگے تو پھر حکومت ریٹ فکس اور عوام کے مفاد میں مناسب اقدامات کرسکتی ہے ۔
بازار کو طبعی حالت پر برقرار رکھنے کے لئے ذخیرہ اندوزی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنِ احْتَكَرَ طَعَامًا أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَقَدْ بَرِئَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى، وَبَرِئَ اللَّهُ تَعَالَى مِنْهُ.
جو کوئی کھانے کی چیزوں کو چالیس دن تک ذخیرہ کر کے رکھے تو اللہ تعالی اس سے بری ہیں اور وہ اللہ تعالی سے بری ہے۔(مسند احمد: 4880)
اور ایک دوسری حدیث میں ہے:
الجالبُ مرزوقٌ والمحتكر ملعونٌ۔
دوسری جگہ سے بازار میں مال لے کر آنے والے کو رزق دیا جاتا ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے پر لعنت بھیجی جاتی ہے۔(سنن ابن ماجہ:2153.مسند دارمی:2586)
اور حضرت معمر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ ۔
خطا کار ہی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے ۔ (صحیح مسلم: 1605)
اور اسی بنیاد پر اس سے منع کیا گیا ہے کہ کوئی شہری دیہاتی کے سامان کو فروخت کرے یعنی کوئی دیہاتی اپنا سامان فروخت کرنے کے لئے شہر میں لے آئے اور اپنے حساب سے کچھ نفع رکھ کر اسے فروخت کرنا چاہے تو کوئی شہری اس سے کہے کہ تم یہاں کے ریٹ سے ناواقف ہو؛ اس لئے سامان میرے حوالے کردو، میں زیادہ نفع پر بیچ دوں گا یعنی یہ شخص بازار کے مصنوعی نرخ کو برقرار رکھنا چاہتا ہے؛ کیونکہ اگر دیہاتی خود فروخت کرتا تو بھی اپنا نفع رکھ کر بیچتا لیکن وہ بازار کے موجودہ ریٹ سے کم ہوتا اس طرح سے قیمتیں طبعی طور پر گھٹی بڑھتی رہتیں اور لوگوں کا فائدہ ہوتا اور فطری عوامل اور طبعی مقابلہ کی وجہ سے بازار میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا۔چنانچہ حضرت انس کہتے ہیں:
نُهِينَا أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ، أَوْ أَبَاهُ.
ہمیں اس بات سے منع کیا گیا ہے اس شہری دیہاتی کے لیے فروخت کرے اگرچہ وہ اس کا بھائی یا اس کا باپ ہی کیوں نہ ہو۔
(صحیح بخاري:2161.صحیح مسلم:1523 واللفظ له).
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ؛ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقِ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ ۔
کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے۔ لوگوں کو چھوڑ دو کہ اللہ ان کو ایک دوسرے کے ذریعے رزق دے ۔(صحیح مسلم: 1522)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں:
نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ . قَالَ : فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ : حَاضِرٌ لِبَادٍ ؟ قَالَ : لَا يَكُنْ لَهُ سِمْسَارًا.
تجارتی قافلوں کے مال کو منڈی کے باہر خریدنے سے ،اور شہری کا دیہاتی کے سامان کو فروخت کرنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے ۔راوی کہتا ہے کہ میں نے ابن عباس سے پوچھا کہ شہری دیہاتی کے سامان کو نہ بیچے اس کا کیا مطلب ہے ؟فرمایا کہ اس کے لئے دلال نہ بنے ۔(صحیح بخاري : 2158 . صحیح مسلم :1521واللفظ له)
مصنوعی مداخلت کی ایک شکل تجارتی قافلوں کا سامان بازار میں آنے سے پہلے خریدنا ہے تاکہ مارکٹ پر کچھ ساہوکاروں کا قبضہ برقرار رہے اور وہ باہر سے آنے والے سامان کو خرید کر شہر والوں کو من مانی قیمت پر فروخت کریں ۔حدیث میں اس طرز عمل سے منع کیا گیا ہے چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر کہتے:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُتَلَقَّى السِّلَعُ حَتَّى تَبْلُغَ الْأَسْوَاقَ۔
رسول اللہ ﷺ نے سامان کو خریدنے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ وہ بازار میں پہنچ جائے ۔(صحیح مسلم: 1517)
اور ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لَا تَلَقَّوُا الْجَلَبَ ، فَمَنْ تَلَقَّاهُ فَاشْتَرَى مِنْهُ فَإِذَا أَتَى سَيِّدُهُ السُّوقَ فَهُوَ بِالْخِيَارِ ".
تجارتی قافلوں سے آگے بڑھ کر ملاقات نہ کرو،اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے اور ان سے کوئی سامان خرید لیتا ہے اور پھر سامان کا مالک بازار میں آتا ہے تو اسے اختیار ہوگا ۔(صحیح مسلم :1519)
کیونکہ مارکیٹ میں سامان کے نہ آنے کی وجہ سے مصنوعی نرخ برقرار رہے گا اس لئے کہ نرخ کا تعلق بازار میں سامان کی آمد اور اس کی مانگ اور کھپت سے ہوتا ہے ۔
تجارتی قافلوں سے آگے بڑھ کر ملاقات کرنے سے ممانعت کی ایک دوسری وجہ دھوکہ دہی ہے یعنی اس کا سامان کم دام میں خرید لیا جائے اور بازار کی قیمت کے بارے میں اسے دھوکہ میں رکھا جائے اس لئے حدیث کے آخر میں کہا گیا ہے کہ اگر مارکیٹ میں آنے کے بعد اسے دھوکہ دہی کے بارے میں پتہ چلے تو وہ معاملہ کو ختم کر سکتا ہے ۔
لہذا اگر قافلے والوں کے سامان کی خریداری میں دھوکہ دہی نہ ہو یا اس کی وجہ سے اس بازار سے متعلق لوگوں کو کوئی نقصان نہ ہو بلکہ قیمتیں طبعی حالت میں برقرار رہیں تو پھر منڈی میں سامان آنے سے پہلے خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔