بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(9) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
9-بیع سلم :
ثمن نقد اور سامان ادھار ہو تو اسے "بیع سلم” کہا جاتا ہے جیسے کہ اینٹ کی قیمت بھٹہ شروع ہونے سے پہلے ادا کردی جائے اور اینٹ بھٹہ چالو ہونے کے بعد کسی تاریخ میں حوالے کی جائے ۔
عقد سلم سے تاجر اور خریدار دونوں کا فائدہ وابستہ ہے کہ تاجر کو تجارت شروع کرنے کے لئے سرمایہ ہاتھ آجاتا ہے اور خریدار کو کم قیمت پر سامان مل جاتا ہے ۔
عقد سلم گرچہ غیر موجود کی بیع ہے لیکن لوگوں کی ضرورت کے پیش نظر اسے جائز قرار دیا گیا ہے،حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ سامان حوالگی کی مدت متعین کرکے سلم کا معاملہ کرنے کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے اور پھر اُنھوں نے قرآن حکیم کی یہ آیت تلاوت فرمائی:
ياأَيُّها الَّذِينَ آمَنُوا إِذا تَدايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلى أَجَلٍ مُسَمًّى فاكْتُبُوهُ۔(سورہ البقرة:282)
اے ایمان والو جب تم کسی معین میعاد کے لیے ادھار کا کوئی معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔(مصنف عبد الرزاق:14064. مصنف ابن أبي شيبة :22319.المستدرك على الصحيحين :3171)
اور انہی سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو دیکھا کہ وہاں کے لوگ دو تین سال کی مدت پر کھجور میں سلم کا معاملہ کر رہے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ أَسْلَفَ فِي شَيْءٍ فَفِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ، إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ .
جو کوئی کسی چیز میں سلم کا معاملہ کرنا چاہے تو وہ پہلے پیمانہ ،وزن اور ادائیگی کی مدت متعین کرلے ۔(صحیح بخاري: 2240 . صحیح مسلم :1604)
اس معاملے کے جائز ہونے کے لئے ضروری ہے کہ عقد کے وقت خریدار پوری قیمت ادا کردے اور جو چیز خریدی جارہی ہے اس کی جنس، نوع ، معیار ، کوالٹی اور مقدار اس طرح سے واضح کردی جائے کہ کوئی ابہام اور حوالگی کے وقت کسی تنازع کا خطرہ نہ رہے۔ چونکہ ایسا کرنا صرف انہی چیزوں میں ممکن ہے جو تول کر یا پیمانہ یا گز وغیرہ سے ناپ کر بیچی جاتی ہیں یا گن کر فروخت کی جاتی ہے لیکن ان کے افراد میں بہت زیادہ فرق نہیں ہوتا ہے جیسے کہ انڈا وغیرہ۔ اس لئے ان کے علاوہ میں بیع سلم جائز نہیں ہے لہذا جانور میں بیع سلم درست نہیں ہے ؛کیونکہ ان کے افراد میں بہت زیادہ تفاوت ہوتا ہے اور صفات وغیرہ بیان کرنے کے باوجود تحدید ممکن نہیں جس کی وجہ سے نزاع کا اندیشہ برقرار رہتا ہے ۔
یہ بھی ضروری ہے کہ وہ چیز مقررہ وقت پر عام بازار میں دستیاب ہو۔ایسی اشیاء جن کی پیداوار یا دستیابی یقینی نہ ہو اس میں سلم جائز نہیں ہے لہذا کسی خاص باغ کے پھل کے بارے میں معاملہ نہ کیا جائے؛ کیونکہ ایس صورت میں ممکن ہے اس باغ میں پھل نہ آئے جس کی وجہ سے مقررہ وقت پر وہ مبیع حوالے نہ کرسکے بلکہ صرف متعین خصوصیات کے سامان کی فراہمی پر سودا طے کیا جائے مثلاً یہ کہا جائے کہ اسے ایک ماہ کے بعد فلاں کوالٹی کا سیب فراہم کیا جائے ۔حضرت زید بن سعنہ قبول اسلام سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا:
هل لك أن تبيعَني تمرًا معلومًا في حائطِ بني فلانٍ إلى أجلِ كذا وكذا فقال: لا. يا يهوديُّ! ولكن أبيعُك تمرًا معلومًا إلى أجلِ كذا وكذا ولا تسمِّي حائطَ بني فلانٍ قلتُ نعم فبايعني ۔
کیا آپ فلاں صاحب کے باغ کا کھجور فلاں مدت کی ادائیگی پر فروخت کرنا چاہیں گے ؟
آپ ﷺ نے فرمایا: یا یہودی ! نہیں ۔لیکن متعین کھجور کو فلاں مدت کے لئے فروخت کر سکتا ہوں اور کسی کے باغ کی تخصیص نہیں ہوگی ۔انھوں نے کہا ٹھیک ہے اور اسی پر سودا طے ہوگیا ۔(صحیح ابن حبان 288.مستدرک حاکم 6547)
اور ادائیگی کی تاریخ (ڈیلیوری ڈیٹ)اور جگہ کا متعین کرنا بھی لازمی ہے ۔
متوازی سلم :
بیع سلم میں یہ درست ہے کہ سامان کی فراہمی کا ذمہ دار شخص کسی دوسرے سے سلم کا معاملہ طے کرلے مثلاً راشد نے کسی غلہ کے بیوپاری سے کہا کہ مجھے ایک ماہ بعد پانچ کنٹل گیہوں فراہم کردو اور دونوں کے درمیان سلم کا معاملہ طے پا جائے اور پھر وہ بیوپاری پھیری کرنے والے سے سلم کا معاملہ کرے کہ تم مجھے ایک ماہ میں فلاں تاریخ تک پانچ کنٹل گیہوں فراہم کردو اور ان دونوں میں سودا طے پا جائے تو ایسا کرنا درست ہے بشرطیکہ ہر عقد سلم دوسرے سے الگ اور مستقل ہو اور کسی ایک کے حقوق اور ذمہ داریاں دوسرے پر موقوف نہ ہوں مثلاً اگر پھیری کرنے والا متعین تاریخ میں غلہ فراہم نہ کرسکے تو بیوپاری کی ذمہ داری ختم نہیں ہوگی بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ کہیں سے بھی مقررہ تاریخ پر غلہ فراہم کرے ۔