بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(12) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
13-جھوٹ اور دھوکہ دہی:
تجارت میں جس چیز کی سب سے زیادہ اہمیت ہے وہ ہے اخلاق و کردار کی پاکیزگی ، سچائی، معاملات کی صفائی ، شفافیت اور ایمانداری ۔
کاروبار میں دھوکہ دہی ،جھوٹ اور بدیانتی کی وجہ سے صرف آخرت تباہ نہیں ہوتی ہے بلکہ دنیاوی اعتبار سے بھی بربادی مقدر بن جاتی ہے، تجارت سے برکت ختم ہوجاتی ہے ، بے اعتباری اور بدنامی حصے میں آتی ہے اور آخر کار پورا سرمایہ ڈوب جاتا ہے۔
حضرت ابوذر غفاری سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ". قَالَ : فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مِرَارٍ. قَالَ أَبُو ذَرٍّ : خَابُوا، وَخَسِرُوا، مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : ” الْمُسْبِلُ ، وَالْمَنَّانُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ ".
تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ روزِ قیامت نہ تو بات کریں گے اور نہ اُن کی طرف (رحمت) کی نظر سے دیکھیں گے اور نہ ہی اُن کو پاک کریں گے ، اور اُ ن کے لئے دردناک عذاب ہے،حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا ،حضرت ابوذر نے عرض کیا: وہ لوگ تو ہلاک و برباد ہوگئے ، یا رسول اللہ ﷺ! وہ کون لوگ ہوں گے؟آپﷺ نے فرمایا : ’’اپنے کپڑوں کو ٹخنوں سے نیچے ٹکانے والے ، اور احسان جتلانے والے ، اور اپنے سامان کو جھوٹی قسم کے ذریعہ بیچنے والے ‘‘۔(صحیح مسلم :106)
اور حضرت حکیم بن حزام کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا – أَوْ قَالَ : حَتَّى يَتَفَرَّقَا – فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا ".
خریدو فروخت کرنے والوں کو معاملہ ختم کرنے کا اختیار رہتا ہے جب تک کہ وہ دونوں جدا نہیں ہو جاتے اگر وہ دونوں سچائی سے کام لیں اور عیب بیان کر دیں تو سودے میں برکت ہوتی ہے اور اگر وہ دونوں جھوٹ بولیں اور عیب کو چھپائیں تو سودے کی برکت اٹھا لی جاتی ہے۔(صحیح بخاري: 2082. صحیح مسلم: 1532)
اور حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا، فَقَالَ ” مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ ؟ ” قَالَ : أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ : ” أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ، كَيْ يَرَاهُ النَّاسُ، مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلہ کے ڈھیر کے پاس سے گزرے آپ نے اس کے اندر ہاتھ ڈال کر دیکھا تو نمی محسوس ہوئی فرمایا:غلے والے! یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا: بارش کی وجہ سے نمی پیدا ہو گئی ہے. فرمایا: پھر اس کو غلے کے اوپر کیوں نہیں رکھا تاکہ لوگ دیکھ لیتے؟ جو دھوکہ بازی کرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔(صحیح مسلم 102)
دھوکہ دہی کی ایک شکل یہ ہے کہ ایک شخص کو خریداری کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن گراہک کو دھوکہ دینے کے لئے وہ سامان کی قیمت بڑھا چڑھا کے لگا دیتا ہے تاکہ وہ اسے خرید لے حدیث میں اسے نجش کہا گیا ہے حضرت عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں:
نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّجْشِ .
نبی کریم ﷺ نے نجش سے منع فرمایا ہے.
(صحیح بخاري:2142)