بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(39) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
46-فلیٹ بننے سے پہلے فروخت کرنا :
موجودہ دور میں فلیٹ وغیرہ کے بننے اور وجود میں آنے سے پہلے ہی اس کی خرید وفروخت شروع ہوجاتی ہے، البتہ ایک نقشہ تیار کر دیا جاتا ہے جس میں فلیٹ کی لمبائی، چوڑائی، کمرے اور ہال وغیرہ کی تعداد متعین اور دوسری تفصیلات اس طرح واضح کردی جاتی ہے اگر اس کے مطابق تعمیر کی جائے تو اختلاف اور نزاع کی گنجائش نہیں رہتی ہے ۔
ظاہر ہے کہ یہ ایک غیر موجود چیز کی خرید وفروخت ہے اس لئے اصلا اسے جائز نہیں ہونا چاہئے ،البتہ غیر موجود کا سودا کرنے سے بعض صورتیں مستثنیٰ ہیں جن میں سے ایک عقد استصناع ہے جس کی تفصیل گزر چکی ہے ۔اس لئے اسے استصناع پر محمول کرتے ہوئے جائز قرار دیا جاسکتا ہے(1) لیکن بکنگ کرانے والا اس وقت تک اس کا مالک نہیں ہوگا جب تک کہ وہ اس پر قبضہ نہ کرلے لہذا اسے کسی دوسرے کے ہاتھ فروخت کرنا صحیح نہیں ہے ؛کیونکہ کسی ایسی چیز کو بیچنا درست نہیں ہے جس کا انسان مالک نہ ہو.۔(دیکھئے فقہ البیوع 321/1)
گرچہ فلیٹ کی قیمت کا ایک حصہ پیمنٹ کردینے کی وجہ سے قانونی اعتبار سے فلیٹ بکنگ کرنے والوں کی ملکیت سمجھی جاتی ہے۔ لہذا قانونی اجازت اور کاغذات کی بنیاد پر اسے دوسرے اور تیسرے کے ہاتھ بیچنا اور اس کے لئے بروکری کرنا اور کمیشن لینا ناجائز اور اس کے آمدنی حرام ہے۔
(1)وان استصنع شیئاً من ذالک بغیر اجل جاز استحسانا للاجماع الثابت بالتعامل فیہ والقیاس لایجوز لانہ بیع المعدوم والصحیح انہ یجوز بیعاً ۔۔۔( الھدایۃ100/3)