بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(38) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
45-حکومت کی طرف سے فراہم کردہ مکان فروخت کرنا :
غریب و نادار اور معذور لوگوں کے لئے حکومت مفت زمین اور مکان فراہم کرتی ہے لیکن ان کو فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے یا ایک مخصوص مدت گزرنے کے کے بعد ہی بیچنے کی گنجائش ہوتی ہے ۔ اور اس سے پہلے اسے ٹرانسفر کرنے،کرایہ پر دینے یا فروخت کرنے کی ممانعت ہوتی ہے اور مقررہ مدت مثلاً دس سال گزرنے اور متعلقہ سرکاری محکمے سے ملکیت کو باضابطہ طور پر فری ہولڈ (Freehold) کرانے کے بعد ہی قانونی طور پر فروخت کیا جا سکتا ہے۔
اس پابندی کی مصلحت اور مقصد یہ ہے کہ اگر فروخت کرنے یا کرایہ پر اٹھانے کی اجازت دے دی جائے تو وہ اسے بیچ کرکے دوبارہ جھگی جھوپڑی بنا کر اس میں آباد ہوجائیں گے اور حکومت کا "سب کے لئے مکان” فراہم کرنے کا مقصد پورا نہیں ہوگا اور غیر قانونی بستیاں ختم نہیں ہوں گی جس کے نتیجے میں صحت اور ماحولیاتی مسائل جنم لیں گے۔
غرضیکہ وہ اس کا مالک نہیں ہوتا ہے بلکہ بطور عاریت صرف رہائش کے لئے اسے دیا گیا ہے اور کسی چیز کو بیچنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کا مالک ہو لهذا اسے بیچنا اور اس کا عوض لینا حلال نہیں ہے۔(1)چنانچہ حدیث میں ہے :
وَلَا بَيْعَ إِلَّا فِيمَا تَمْلِكُ ".
خرید وفروخت صرف انہیں چیزوں میں ہے جس کے تم مالک ہو ۔( سنن أبو داؤد :2192) بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ خریدار کو عوض لوٹا کر کے گھر واپس لے اور اگر اس گھر کی ضرورت نہیں تو حکومت کے حوالے کردے۔
علاوہ ازیں اس طرح کے مکانات کو فروخت کرنا امانت میں خیانت اور دھوکہ دہی ہے اور شریعت میں دھوکہ اور فراڈ کرنے سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
من غشَّنا فليس منّا، والمكرُ والخداعُ في النَّارِ.
جو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور دھوکہ و مکاری کا انجام جہنم ہے ۔
(صحيح ابن حبان:5559)
(1) وأن يكون مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه فلا ينعقد بيع الكلإ ولو في أرض مملوكة له ولا بيع ما ليس مملوكا له وإن ملكه بعده.(الہندیہ 3/3)
ليس للمستعير أن يؤاجر المستعار من غيره، وإن كانت الإعارة تمليكا عندنا، كذا في الظهيرية.(الہندیہ 364/4)